اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 965
عبدالرحمٰن بن لبیبۃ الطائفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صلوٰۃ وسطٰی کے متعلق سوال کیا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم
کو قرآن پڑھ کر سناتا ہوں تا کہ معلوم ہو جائے کہ صلوٰۃ وسطٰی کونسی نماز ہے؟ سنو! کیا اللہ عزوجل نے
اپنی کتاب میں نہیں فرمایا ہے ”اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ“ (آفتاب ڈھلنے کے بعد نماز قائم
کرو) یہ ظہر کی نماز ہے ”اِلٰى غَسَقِ اللَّيْلِ“ (رات کی تاریکی شروع ہونے کے وقت نماز قائم کرو)
یہ مغرب کی نماز ہے ”وَمِنْ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَاءِ ثَلٰثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ“ (تمہاری خلوت کے تین
وقت ہیں منجملہ ان کے نماز عشاء کے بعد کا وقت بھی ہے) یہ عتمہ یعنی عشاء کی نماز ہوئی اور اللہ تعالیٰ
نے فرمایا ہے ”إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا“ (بے شک صبح کی نماز فرشتوں کے حاضر ہونے
کا وقت ہے) یہ فجر کی نماز ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”حَفِظُوا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ
الْوُسْطٰى وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ“ (حفاظت کرو سب نمازوں کی عموماً اور بیچ والی نماز کی خصوصاً اور
کھڑے رہو اللہ کے سامنے عاجز بنے ہوئے) یہ صلوٰۃ وسطیٰ عصر ہی ہے۔ صدر کی مذکورہ آیتوں میں
ظہر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کا ذکر آچکا ہے اب رہی نماز عصر تو اس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا
ہے اسطرح ثابت ہوا کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہی ہے۔)
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)