اردو
علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں کہ ایک انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کو غمگین دیکھا ان انصاری کی عادت یہ تھی کہ جب وہ کھانا کھاتے تو ان کے ساتھ (شام کے کھانے
پر) اور لوگ بھی جمع ہو جاتے تھے (اس روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین دیکھ کر وہ غمزدہ ہوئے
اور واپس چلے گئے اور کھانا چھوڑ دیا اور جو اجتماع ان کے پاس ہوتا تھا وہ بھی نہ ہوا اور وہ (اپنے محلہ
کی) مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگ گئے ان کو اسی حالت میں اونگھ آ گئی، خواب میں ایک شخص آیا اور ان
سے کہا کہ کیا تم جانتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں غمگین ہوئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ
نہیں! اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے بارے میں غمگین ہوئے ہیں تو تم
خدمت اقدس میں جاؤ اور عرض کر دو کہ بلال کو حکم دیں کہ وہ اذان دیں اور اس شخص نے ان انصاری کو
یہ اذان سکھا دی:
پھر ان کو اس شخص نے اذان کے یہی الفاظ تکبیر کیلئے بھی سکھائے اور آخر میں ”قَدْ قَامَتِ
الصَّلٰوةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ. اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ کہا اور اذان و اقامت کے
الفاظ وہی تھے جو اب لوگوں کی اذان و اقامت کے الفاظ ہوتے ہیں، وہ انصاری آئے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھ گئے اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ان
انصاری نے آپ سے عرض کیا کہ میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر لیجئے
اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی یہی خواب دیکھ کر آئے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا جواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان فرمایا، پھر ان انصاری نے اجازت طلب کی اور خدمت
اقدس میں پہنچے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسی
طرح کا خواب مجھ کو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے سنایا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال (رضی اللہ
عنہ) کو حکم دیا کہ اسی طرح اذان دیں۔
(اس کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کی ہے اور طبرانی نے بھی اوسط میں اپنی
سند سے اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کی ہے۔
اور ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور کی روایت میں ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اقامت اس طرح ہے: