اردو
اسود بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابومحذورہ
رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تکبیر کہا کرتے
تھے، اور اس کو کس طرح ختم کرتے تھے؟ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں تکبیر کے الفاظ دو
دو دفعہ اذان کی طرح کہا کرتا تھا اور تکبیر لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ پر ختم کرتا تھا۔
(اس کی روایت ابوشیخ نے کی ہے۔)
طبرانی نے الاوسط میں ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے ایک ایک کلمہ کو ”اللّٰهُ اَكْبَرُ اللّٰهُ اَكْبَرُ“ سے شروع فرما کر
آخر تک سکھائے ہیں اور اس میں ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے ترجیع کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
امام ابن الہمام رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ
Note 2
ف: ترجیع یہ ہے کہ ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کو پست آواز سے ادا کرے پھر اس کے بعد یہی الفاظ ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کو بلند آواز سے کہے ترجیع اسی کو کہتے ہیں اور یہ ترجیع احناف کے پاس جائز نہیں ہے جس کی تائید ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے اور اسی طرح حضرت بلال اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذان سے بھی ترجیع ثابت نہیں۔ (شرح وقایہ، عمدۃ الرعایہ، ہدایہ اور مرقات۔)