Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب ایمان کے بیان میں

Hadith 91

(تقدیر پر ایمان لانے کے بیان میں)

In this book

Current reading

کتاب ایمان کے بیان میں

(تقدیر پر ایمان لانے کے بیان میں)

Zujajat al-Masabih 91Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 101
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں میں دو کتابیں لے کر نکلے اور فرمایا تم جانتے ہو کہ یہ دو کتابیں کیا ہیں؟ ہم نے کہا: یارسول اللہ! آپ کے بتلائے بغیر ہم نہیں جان سکتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھے ہاتھ کی کتاب کے متعلق فرمایا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے اس میں جنتیوں اور ان کے باپ دادا اور قبیلوں کے نام ہیں اور پھر آخر میں سب کی جملہ تعداد بتلا دی گئی ہے، پس ان میں نہ کبھی اضافہ کیا جائے گا اور نہ کمی، پھر اس کتاب کی نسبت جو بائیں ہاتھ میں تھی فرمایا: رب العالمین کی طرف سے یہ ایک کتاب ہے اس میں دوزخیوں اور ان کے آباء و قبائل کے نام ہیں جس کے آخر میں سب کی جملہ تعداد درج کر دی گئی ہے ان میں نہ تو کبھی اضافہ کیا جائے گا اور نہ کمی، پس صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! پھر عمل کیوں کیا جائے، جب کہ معاملہ ایسا ہے کہ اس سے فراغت ہو چکی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افراط و تفریط کے بغیر عمل کے پابند رہو، اور نیک اعمال کے ذریعہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے رہو، اس لئے کہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوگا خواہ اس نے کیسا ہی عمل کیا ہو، اور دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوگا اگرچہ کہ اس نے کیسا ہی عمل کیا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا وہ اس طرح کہ آپ نے ان کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا (یعنی یہ ایسا امر ہے کہ جس سے فراغت ہوچکی) پھر فرمایا: تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوگیا، ایک گروہ جنت کے واسطے ہے اور ایک گروہ دوزخ کے واسطے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2141 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.