English
It is narrated from Abu Mahdhurah (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) taught me the Adhan, and I called it. Then, when I finished, he gave me 1 a pouch containing some silver.
العربية
Typed, pending editorial approval
٩٣٥ - وَعَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ ﷺ الْأَذَانَ فَأَذَنْتُ، ثُمَّ أَعْطَانِي1 حِيْنَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ صُرَّةً فِيْهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَعَقَدَ تَرْجَمَةً عَلَى الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ، وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ أَيْضًا.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1046
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم مجھ کو اذان سکھاتے گئے اور میں اذان دیتا گیا، پھر جب میں اذان دینے سے فارغ ہوا تو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی عطا فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی۔
(اس کی روایت ابن حبان نے کی ہے، اور باب کا عنوان اذان پر اُجرت لینے کا جواز رکھا ہے
۔ اور اس کی روایت نسائی نے بھی کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 632 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Explanation of the statement: "He gave me...": Scholars have differed regarding taking payment for the Adhan, Iqamah, and leading prayer. Imam Shafi'i disliked it, while Abu Hanifah and his companions prohibited it, citing the hadith of 'Uthman ibn Abi Al-'As: "Appoint a Mu'adhdhin who does not take payment for his Adhan." This was the opinion of the early scholars. However, later scholars permitted it, using this hadith as evidence. The detailed discussion is found in Bazl Al-Majhud, and it should be referred to.
Note 1
(۱) قوله : ثم أعطاني إلخ : اختلف العلماء في أخذ الأجر على الأذان والإقامة والإمامة، فكرهه الشافعي ، ومنعه أبو حنيفة له وأصحابه واستدلوا بحديث عثمان بن أبي العاص: واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرًا، وهذا قول المتقدمين. وأما المتأخرون منهم فأفتوا بجوازه، واستدلوا بهذا الحديث والتفصيل مذكور في بذل المجهود»، فليراجع.
Note 1
ف: علماء نے اذان، اقامت اور امامت پر اُجرت لینے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے اذان، اقامت اور امامت پر اُجرت لینا مکروہ قرار دیا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ان کے شاگردوں نے بھی ان پر اُجرت لینا ممنوع قرار دیا ہے اور اس پر عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کیونکہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ ایسے شخص کو مؤذن بناؤ جو اذان دینے پر اجرت نہ لیتا ہو۔ یہ متقدمین احناف کا قول ہے لیکن متاخرین احناف نے اجرت کے جائز ہونے پر فتویٰ دیا ہے اور ابن حبان کی اس حدیث سے جو ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، استدلال کرتے ہیں۔ (اس مسئلہ کی تفصیل بذل المجہود میں مذکور ہے ملاحظہ ہو۔)12