Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 949

بَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ

Zujajat al-Masabih 949Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٤٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَا بَيْنَ1 الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 342 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

What lies between the east and the west is the Qiblah

(1) Explanation of the statement: "What lies between the east and the west is the Qiblah": The apparent meaning is that this refers to the Qiblah of the people of Madinah, as it lies between the east and the west. This hadith supports the opinion that the Qiblah is determined by direction. For the people of Makkah, it is the exact direction of the Ka'bah, while for others, it is the general direction. This is mentioned in Al-Mirqat and Ad-Durr Al-Mukhtar.

Note 1

(۱) قوله ما بين المشرق والمغرب قبلة والظاهر أنها قبلة أهل المدينة؛ فإنها واقعة بين المشرق والمغرب، وهذا الحديث يؤيد القول بالجهة، يعني للمكي إصابة عينها ولغيره - أي غير معاينها - إصابة جهتها. «المرقاة» و«الدر المختار ملتقط منهما.

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مدینہ منورہ کے رہنے والوں کا قبلہ جانب جنوب، مشرق اور مغرب کے درمیان ہے، اس لئے کہ مدینہ منورہ مشرق اور مغرب کے درمیان واقع ہے۔ واضح ہو کہ استقبال قبلہ میں دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ عین کعبہ کی جانب رخ کرنا فرض ہے اگر عین کعبہ کی جانب رخ کرنا کعبۃ اللہ کے نگاہ سے غائب ہونے کی وجہ سے دشوار ہے تو عین کعبہ کی جانب رخ کرنے کی نیت کرنا ضروری ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جو لوگ مکہ مکرمہ میں رہتے ہوں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ عین کعبہ کی جانب رخ کریں اور اسی طرح مدینہ منورہ میں رہنے والوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ بھی عین کعبہ کی نیت کریں کیوں کہ مدینہ منورہ کا قبلہ بذریعہ وحی متعین ہوا ہے البتہ وہ لوگ جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سوا دوسرے مقامات پر رہتے ہوں، ان کیلئے عین کعبہ کی جانب رخ کرنے کی نیت ضروری نہیں بلکہ ان کے لئے سمت کعبہ کی جانب رخ کرنے کی نیت کرنا کافی ہے اور اسی پر فتویٰ ہے اور اس حدیث سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے، کیوں کہ اس حدیث میں وارد ہے کہ ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے“ اور اسی سے سمت قبلہ کی نیت کے کافی ہونے کی دلیل حاصل ہوتی ہے۔ (نہایہ، ہدایہ، درمختار، مرقات۔)12