Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 953

Chapter on Mosques and Places of Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Mosques and Places of Prayer

Zujajat al-Masabih 953Volume 1

English

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that he said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Whoever comes to this mosque of mine, only coming for good—to learn or teach—he is like a Mujahid in the cause of Allah. Whoever comes for any other reason is like a man looking at the property of others."

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٥٣ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَنْ جَاءَ لَغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَة الرَّجُلِ يَنْظُر إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهِ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1069
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری اس مسجد میں صرف کسی نیک کام (مثلاً نماز، اعتکاف، زیارت، تلاوت اور ذکر کے) سیکھنے یا سکھانے کیلئے (یا ان پر عمل کرنے کیلئے آیا ہو) تو وہ شخص مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو شخص ان چیزوں کے سوا کسی اور چیز کیلئے آتا ہو تو وہ شخص اس آدمی کی طرح ہے جو دوسروں کے سامان کو صرف دیکھتا ہے (اور اس سے کچھ بھی نفع نہیں اٹھاتا)۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 227 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 742 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 742

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ جو شخص مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نیک کام کیلئے نہیں آتا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دوسروں کے سامان کو دیکھتا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ شخص آخرت میں ان لوگوں کے اجر و ثواب کو دیکھے گا جنہوں نے مسجد نبوی میں خیر کے کام کئے تھے تو اس نے اس مسجد میں کار خیر نہ کر کے حصول اجر کا جو موقع ضائع کر دیا اس پر حسرت کرے گا اور رنجیدہ ہوگا کہ میں کیوں ایسی دولت سے محروم رہا۔(اشعۃ اللمعات)12۔