English
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I was not commanded to elevate mosques." Ibn 'Abbas said, "You will decorate them just as the Jews and Christians decorated theirs."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 448 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 718 (unverified) 94% confidence
Mishkat (candidate) 718
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے ”مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ“ (اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے مسجدوں کو بلند کرنے، ان کو آراستہ کرنے، اور ان میں نقش و نگار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے) اس حدیث کے پیش نظر ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ مسجدوں کی تعمیر کے وقت ان کی بلندی، آرائش اور نقش و نگار میں اعتدال کا لحاظ رکھنا اور غلو سے پرہیز کرنا مسنون ہے؛ کیوں کہ ان چیزوں میں غلو کرنے سے فتنہ اور فخر و مباہات میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ واضح ہو کہ ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول سے مسجدوں کی بلندی، آرائش اور سونے کے نقش و نگار میں غلو سے ممانعت ظاہر ہو رہی ہے نہ کہ نفس فعل سے، اس لئے مسجدوں کی بلندی، آرائش اور سونے کے نقش و نگار سے زینت فی نفسہ مباح ہے جس کی تفصیل ذیل میں آ رہی ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی قسم کی زیادتی نہیں فرمائی، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باوجود کثرت مال کے طول و عرض میں کسی قدر اضافہ فرمایا لیکن مسجد کی تجدید ان ہی اشیاء سے فرمائی جن اشیاء سے مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تیار کی گئی تھی، یعنی مسجد کی دیواریں پختہ اینٹ سے ستون کھجور کے تنوں سے اور چھت کھجور کی شاخوں سے اور بلندی وہی تھی جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تھی۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کافی اضافہ فرمایا اور دیواروں کو اینٹ کے بجائے منقوش پتھروں اور گچ سے اور ستونوں کو بھی کھجور کے تنوں کی بجائے منقش پتھر سے، اور چھت کو کھجور کی شاخوں کی بجائے ساگوانی لکڑی سے تعمیر فرمایا۔ الغرض ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی، تزئینت اور نقش و نگار کا لحاظ محض اس وجہ سے نہیں کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما کو بعد کے آنے والے مسلمانوں کیلئے اس دنیا میں اعتدال، زہد اور کفایت شعاری کی تعلیم دینی مقصود تھی۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک بن مروان پہلا شخص ہے جس نے مسجدوں کو سونے کے نقش و نگار سے آراستہ کیا اور یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا آخری زمانہ تھا اور اس زمانہ کے علماء نے فتنے کے اندیشہ سے ولید کے مسجدوں کو نقش و نگار میں غلو کرنے پر تنبیہ نہیں فرمائی۔ ابن منیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے جب اپنے گھروں کی تعمیر میں بلندی، آراستگی اور سونے کے نقش و نگار سے زینت کا رواج شروع کیا تو مسجدوں کی تعمیر میں بھی ان چیزوں کا لحاظ مباح قرار دیا گیا تا کہ عوام کی نظروں میں مسجدیں حقیر معلوم ہونے نہ لگیں۔ امام الائمہ حضرت ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے کہ مساجد کی تعظیم کے پیش نظر مسجدوں کی تعمیر میں ان کی بلندی، پختگی، آراستگی اور سونے کے نقش و نگار سے زینت دی جا سکتی ہے بشرطیکہ بیت المال اور اموال وقف پر یہ صرف عائد نہ کیا جائے۔ علامہ نسفی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب ”الکافی شرح الوافی“ میں فرماتے ہیں ”وزينة مسجد شىء عظيم و فى ذالك ترغيب الناس فى الجماعة وتعظيم بيت الله“ (مسجد کی زینت بڑے عظمت کی چیز ہے کہ اس سے نہ صرف لوگوں میں جماعت کی ترغیب ہوتی ہے کہ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعظیم کا سبب ہے)۔ مسجد کی زینت کے جواز میں حضرات امام اعظم رحمة اللہ علیہ کے قول کی تائید کئی وجوہ سے ہوتی ہے، اولاً خود اس حدیث کے الفاظ ”ما امرت“ سے مسجد کی زینت کی تائید ہوتی ہے اگر مسجدوں کی بلندی، پختگی، آراستگی وغیرہ کی صریحاً ممانعت مقصود ہوتی تو حدیث میں ”ما امرت“ (مجھے حکم نہیں دیا گیا) کی بجائے ”نُهِيْتُ“ (مجھے منع کیا گیا ہے) ارشاد ہوتا کیوں کہ عدم حکم سے عدم جواز ثابت نہیں ہوتا اور اس طرح خود حدیث سے بھی مسجد کی بلندی اور زینت کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ ثانیاً مسجد کی پختگی، آراستگی نقش و نگار پر سب سے قوی دلیل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل ہے جس کی تفصیل ابھی اوپر گذر چکی ہے، کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ“ الخ (تم میری اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت کو لازم کر لو جو ہدایت یافتہ ہیں ...... الخ) ثالثاً یہ کہ مسجد کی بلندی پختگی، آراستگی اور نقش و نگار پر عمل قرونِ اولیٰ سے جاری ہے جو دراصل پوری امت کا تعامل ہے جس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے: ”مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ” (جو عمل مسلمانوں کو محبوب ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو بھی محبوب ہے) تو اس حدیث ”مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ“ الخ کے پیش نظر اجماع امت سے مسجدوں کی بلندی، پختگی، آراستگی اور نقش و نگار کا جواز حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ نمود و نمائش سے دور رہ کر خالص رضا، الٰہی کے حصول کی غرض سے یہ کام کئے جائیں۔12 (یہ مضمون کچھ اضافہ کے ساتھ ”عمدۃ القاری“ سے لیا گیا ہے۔)