اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1100
عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو خصی بن جانے کی اجازت دیجئے (تاکہ عورتوں کی خواہش دل سے نکل جائے
کیونکہ اسی خواہش کی وجہ سے انسان نیکی سے دور ہو کر دنیا میں پھنس جاتا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص ہمارے طریقہ پر نہیں ہے جو (کسی کو) خصی بنائے اور نہ وہ شخص جو
خود خصی بنے، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے (اسی لئے روزہ رکھنے سے شہوت انسان کو بے قابو
نہیں کرتی ہے، بخلاف خصی ہونے کے کہ اس سے شہوت ہی ختم ہوجاتی ہے) عثمان بن مظعون رضی
اللہ عنہ نے کہا کہ حضور، ہم کو سیاحت کی اجازت دیں (تاکہ تمام عالم میں پھرنے سے عبرت حاصل
کرسکیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے (کہ
جس میں سیر عالم کے ساتھ ساتھ اشاعت اسلام بھی ہوتی ہے) عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا
کہ ہم کو راہب بن جانے کی اجازت دیجئے (جس سے ہم گوشہ نشین ہوکر دنیا سے دور ہوجائیں)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی رہبانیت نماز کے انتظار میں مسجدوں میں
بیٹھنا ہے (اس لئے کہ یہ ایسی رہبانیت ہے جس میں تعلیم و تَعَلُّم جاری رہنے کے علاوہ دنیا میں رہنے
کے باوجود دنیا سے دور رہتے ہیں۔)
(اس کی روایت بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔)