Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 993

بَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ

Zujajat al-Masabih 993Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۹۳ - وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ (رضي الله عنه) قَالَ : نَهَى رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيْهِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُوْدُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ وَصَاحِبُ جَامِعِ الأُصُولِ فِيْهِ عَنْ حَكِيمٍ ، وَفِي الْمَصَابِيحِ عَنْ جَابِرٍ .
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 449 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسجد میں اشعار نہ پڑھے جائیں، واضح ہو کہ یہ ممانعت ایسے اشعار سے متعلق ہے جن میں فحش اور بیہودہ کلام، فسق و فجور اور لہو و لعب کی باتیں بیان کی گئی ہوں، اس کے برعکس ایسے اشعار جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت، سچے مضامین اور وعظ و نصیحت مذکور ہوں مسجد میں پڑھے جا سکتے ہیں کیوں کہ شاعر اسلام حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس قسم کے اشعار سنایا کرتے تھے۔ چنانچہ ترمذی اور بخاری کی روایتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ” كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصِبُ لِحَسَّانَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ مِنْبَرًا فِى الْمَسْجِدِ فَيَقُوْمُ عَلَيْهِ وَيَهْجُو الْكُفَّارَ ۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کیلئے مسجد نبوی میں منبر رکھتے جس پر وہ کھڑے ہوتے اور مشرکین کی جواباً ہجو فرمایا کرتے۔) اس کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: ”قَالَ : مَرَّ عُمَرُ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ فِى الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيْهِ ، وَفِيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلٰى أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي، اللّٰهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ. قَالَ: نَعَمْ”. (سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں سے گزرے اور حسان رضی اللہ عنہ اس وقت اشعار پڑھ رہے تھے عمر رضی اللہ عنہ، حسان رضی اللہ عنہ کو گھور کر دیکھنے لگے تو حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اشعار پڑھا کرتا تھا جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی مسجد میں سنا کرتے تھے جو آپ سے بہتر تھے (یہ کہہ کر) حضرت حسان، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کہ میں مسجد نبوی میں اشعار سنایا کرتا تھا یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ اے حسان (رضی اللہ عنہ) تم میری طرف سے (مشرکین کا) جواب دو (اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے) اے اللہ آپ روح القدس یعنی جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ حسان (رضی اللہ عنہ) کی مدد فرمائیے تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایسا ہی فرمایا ہے۔) ترمذی اور بخاری کی ان دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ سے مسجد میں اشعار سنا کرتے اور حسان رضی اللہ عنہ اشعار پڑھا کرتے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں نعتیہ اشعار پڑھنا جائز ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد میں شعر پڑھنے کے جواز پر ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان (باب الشعر فی المسجد) ہے اور اس عنوان کے تحت ایسی ہی حدیث بیان فرمائی ہے جو سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے ابھی اوپر نقل کی گئی ہے، اس حدیث کے فوائد میں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ان الشعر الحق لايحرم فى المسجد، والذى يحرم فيه ما فيه الخناء والزور، والكلام الساقط”. (علامہ عینی فرماتے ہیں کہ سچے مضامین والے اشعار کا مسجد میں پڑھنا حرام نہیں ہے البتہ مسجد میں ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے جن میں فحش، جھوٹ اور بیہودہ باتیں بیان کی گئی ہوں۔) علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو فوائد میں آگے چل کر کئی محدثین اور فقہاء کا قول نقل کیا ہے جن میں حضرت سعید بن المسیب، امام شعبی، امام ابن سیرین، امام ثوری، امام اوزاعی، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ ہیں، ان سب حضرات کا مسجد میں سچے مضامین والے اشعار کے پڑھنے کے جواز پر یہ قول ہے: ”ولا بأس بانشاد الشعر الذى ليس فيه هجاء ولانكب عرض احد من المسلمين ولافحش“۔ مسجد میں ایسے اشعار کے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جن میں مسلمانوں کی ہجو، آبرو ریزی اور فحش باتیں بیان نہ کی گئی ہوں)۔(یہ پورا مضمون عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔)12