And the statement of Allah, the Mighty, the Exalted: Allah does not hold you accountable for the unintentional in your oaths, but He holds you accountable for what your hearts have earned. And Allah is Forgiving, Forbearing (Al-Baqarah: 225).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6628 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 7391 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
He swore: No, by the One who turns the hearts
(1) The statement: “He swore: No, by the One who turns the hearts” indicates that swearing by Allah, the Exalted, or by one of His names, even if it is a shared name that has become customary to swear by, is permissible according to the school of thought. This includes names like the Most Merciful, the Compassionate, the Forbearing, the All-Knowing, the Master of the Day of Judgment, the Pursuer, the Victor, and the Truth, whether definite or indefinite. In “Al-Mujtaba,” it is stated: If one intends by shared names something other than an oath, such as a religion or an attribute customarily sworn by among His attributes, the Exalted—whether an attribute of essence that has no opposite, like the might of Allah, His majesty, grandeur, dominion, power, greatness, or ability, or an attribute of action that can have an opposite, like anger or pleasure—then oaths are based on custom. What is customarily sworn by is an oath, and what is not is not an oath. One does not swear by an attribute not customarily sworn by among His attributes, the Exalted, such as His mercy, knowledge, pleasure, anger, wrath, punishment, curse, law, religion, limits, description, or “Glory be to Allah,” and the like, due to the absence of custom. This applies specifically to attributes, unlike names, where custom is not considered, as previously mentioned. This is taken from “Ad-Durr al-Mukhtar” and “Radd al-Muhtar.” In “Rahmat al-Ummah,” it is stated: They agreed that an oath by Allah is binding, and by all His beautiful names, such as the Most Merciful, the Compassionate, the Living, and by all attributes of His essence, such as the might of Allah and His majesty, except that Abu Hanifah excluded the knowledge of Allah, not considering it an oath. In “Al-Inayah,” it is stated: The name here refers to a word indicating the essence described by an attribute, such as the Most Merciful and the Compassionate, and the attribute refers to verbal nouns derived from describing Allah with names of His actions, such as mercy, knowledge, and might. In the commentary on “Al-Kanz” by Zayla’i and “Burhan Sharh Mawahib ar-Rahman,” it is stated: The scholars of Iraq mentioned that swearing by attributes of essence is an oath, but not by attributes of action. The scholars of Transoxiana stated that custom is considered, so any attribute customarily sworn by, whether an attribute of essence like ability or an attribute of action like creation and provision, is an oath. What is not customarily sworn by, whether an attribute of essence or action, is not an oath. This is the correct view. The conclusion is that swearing by Allah’s names is undoubtedly an oath, while swearing by His attributes depends on custom, and swearing by anything other than Allah is absolutely not an oath.
Note 1
1 (قولہ: یحلف لا و مقلب القلوب الخ (قسم کھاتے تو اکثر فرماتے ”لا و مقلب القلوب“، نہیں،
دلوں کو پھیرنے والے کی قسم) اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مذہب مختار کی بناء پر اللہ کی اور اس کے ناموں میں
سے کسی نام کی، اگرچہ کہ وہ مشترک ہو، اور عرف میں اس کی قسم کھائی جاتی ہو یا نہ ہو، جیسے رحمن و رحیم، حلیم و علیم، مالک
یوم الدین، الطالب الغالب اور الحق، جو الف لام کے ساتھ ہو، بغیر الف لام کے نہیں ہے قسم ہو جاتی ہے۔ اور کتاب المجتبیٰ
میں ہے اگر اسماء مشترکہ سے قسم سے ہٹ کر کسی چیز کی نیت کرے تو دیانۃً قبول کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے صفات میں
سے کسی ایسی صفت سے قسم کھائے کہ جس کی عام طور پر قسم کھائی جاتی ہے اور اس کی صفت ذاتی ہو یعنی اس کی ضد اس میں
نہیں پائی جاتی جیسے اللہ کی عزت، جلال، کبریائی، ملکوت، جبروت، عظمت اور قدرت کی قسم کھائے تو بھی قسم ہو جاتی
ہے۔ یا اس کی فعلی صفت کی (یعنی جس کی ضد اس میں پائی جاتی ہے) قسم کھائے جیسے غضب اور رضا کی، تو ایسی صورت
میں قسموں کا دارومدار عرف پر ہے اور ان صفات میں جو قسموں کے لئے معروف ہیں تو ان کی قسم ہوتی ہے۔ اور جو اس
کے لئے معروف نہیں ہیں ان کی قسم نہیں ہوتی۔
اور اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے ایسی صفت کی قسم نہیں ہوتی جو قسم کے لئے معروف نہیں ہے یعنی عرف میں
ان کی قسم نہیں کھائی جاتی جیسے اللہ کی رحمت اس کا علم، اس کی رضا، اس کا غضب، اس کی ناراضگی، اس کا عذاب، اس کی
لعنت، اس کی شریعت، اس کا دین، اس کے حدود، اس کی صفت، سبحان اللہ اور اس جیسے دیگر صفات کی قسم نہیں ہوگی۔
یہ حکم صفات کے ساتھ خاص ہے اسماء ذات کے ساتھ نہیں کیونکہ اسماء ذات میں عرف کا اعتبار نہیں ہوتا جیسا کہ اس کا
بیان گزر چکا ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)
کتاب رحمۃ الامہ میں ہے کہ علماء کا اتفاق ہے اس بات پر کہ اسم جلالہ سے اور اس کے تمام اسماء حسنیٰ سے قسم
منعقد ہو جاتی ہے جیسے الرحمن، الرحیم، الحی اور اس کے تمام صفات ذاتیہ سے بھی قسم منعقد ہو جاتی ہے۔ جیسے ”اللہ تعالیٰ
کی عزت اور اس کے جلال کی قسم“، لیکن امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کے علم کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ آپ
اس کو قسم نہیں سمجھتے (انتهى) اور کتاب عنایہ میں ہے۔ یہاں اللہ کے اسم سے مراد وہ لفظ ہے جو ایسی ذات پر دلالت کرتا
ہو جو کسی صفت سے متصف ہو۔ جیسے الرحمن، الرحیم۔ اور صفت سے مراد وہ مصادر ہیں جو اسماء صفاتیہ کو اللہ تعالیٰ کی
ذات سے متصف کرنے پر حاصل ہوتے ہیں جیسے رحمت، علم، عزت وغیرہ ۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ امام زیلعی کی شرح کنز میں اور مواہب الرحمن کی شرح ”برہان“ میں ہے کہ علماء عراق
نے بیان کیا ہے کہ صفات ذاتیہ کی قسم ہوتی ہے اور صفات فعلیہ کی نہیں۔
علماء ماوراء النہر نے بیان کیا ہے کہ قسم میں عرف کا اعتبار ہے۔ جس صفت سے عام طور پر قسم کھائی جاتی ہو خواہ
صفت ذاتی ہو جیسے قدرت، خواہ صفت فعلی ہو جیسے پیدا کرنا اور رزق دینا، یہ قسم ہوں گے اور عرف میں جن سے قسم کھائی نہیں
جاتی خواہ وہ صفت ذاتی ہو یعنی اس سے قسم مقصود نہیں ہوتی اور یہی صحیح ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے
ساتھ قسم بلا شبہ قسم ہے اور اس کے صفات کی قسم کھانے میں عرف کا اعتبار ہے اور غیر اللہ کی قسم مطلقاً قسم نہیں ہے۔ 12
1 (قولہ: واستغفر الله (اور میں اللہ سے مزید عظمت کی سرفرازی مانگتا ہوں) یہ بظاہر قسم نہیں ہے لیکن چونکہ
آپ نے کلام کو تاکید کے ساتھ فرمایا ہے اسی لئے یہ قسم کی صورت ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”واستغفر الله“ میں واؤ قسم کا
ہو اور قسم بہ (جس کی قسم کھائی جا رہی ہو) محذوف ہو یعنی لا والله (نہیں اللہ کی قسم) پھر استغفر الله سے کلام کی
ابتداء ہو۔ استغفر الله سے مراد اگر معاملہ اس کے خلاف ہے تو میں مغفرت چاہتا ہوں یا استغفر الله کے بعد ”من
الحلف“ محذوف ہو یعنی ”قسم سے میں اللہ کی جناب میں استغفار کرتا ہوں“ کیونکہ قسم نہ کھانا ہی افضل ہے سوائے
اس کی ضرورت ہو۔ کیونکہ یہ قسم اصل میں عرضہ (نشانہ) ہے اور عرضہ سے منع کیا گیا اسی لئے بعض حضرات قسم کھانے
سے رکتے ہیں اگرچہ وہ سچے ہوں اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قسم ثابت ہے، وہ صرف ضرورت کے
لئے ہے یعنی حکم کو موکد کرنے کے لئے یا بیان جواز کی غرض سے ہے اسی لئے کہا گیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے جب قسم کا ارادہ فرمایا تو قسم کے بجائے ”لا واستغفر الله“ فرمایا، قسم نہیں کھائی۔ (مرقات ملخصاً)
1؎ (قولہ : ان الله ينهاكم ان تحلفوا بآبائكم الخ (اللہ تعالیٰ تم کو اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع
کرتا ہے) حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ موطا میں فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کسی آدمی کے لئے اپنے باپ کی
قسم کھانا مناسب نہیں جو آدمی قسم کھانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے اور قسم کو پوری کرے یا پھر قسم کھانے سے
خاموش رہے اور مرقات میں ہے کہ جس قسم سے منع کیا گیا ہے وہ غیر اللہ کی قسم ہے اور باپ دادا کا خصوصیت سے ذکر اس
لئے ہے کہ باپ دادا کی قسم کھانا اولاد کی عادت ہوتی ہے ہدایہ میں ہے جو کوئی آدمی غیر اللہ جیسے نبی اور کعبہ وغیرہ کی قسم
کھائے گا تو وہ قسم کھانے والا آثم نہیں ہوگا کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”من كان منكم حالفا
فليحلف بالله او ليذر“ (تم میں سے جو قسم کھائے وہ اللہ کی قسم کھائے یا چھوڑ دے) اسی طرح سے جب قرآن
مجید کی قسم کھائے (تو قسم کھانے والا آثم نہیں ہوگا) کیونکہ یہ قسم متعارف نہیں ہے۔ (آثمی)۔
صاحب ہدایہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی قسم غیر اللہ کی قسم کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت
صفات کی قسم کی ہے کیونکہ اس کی علت قسم کے لئے غیر معروف ہونا بیان کیا گیا ہے اور اگر یہ پہلی قسم سے ہوتی تو اس کی علت
مذکورہ ممانعت یا اس کے سوا کوئی اور وجہ ہوتی۔ کیونکہ عرف کا اعتبار صرف صفات مشترکہ میں ہوتا ہے اور دوسروں میں نہیں۔
علامہ کمال نے فرمایا ان دنوں (یعنی موجودہ دور میں) یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ قرآن کی قسم متعارف ہے اس لئے قرآن کی
قسم کھانا قسم ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)۔ اور نیل الاوطار میں ہے کہ اس باب کی احادیث شریفہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ
غیر اللہ کی قسم منعقد نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس سے منع کیا جانا نہی عنہ (جس سے روکا گیا ہے) کے فساد پر دلالت کرتا ہے اور جمہور
کا یہی مذہب ہے۔ بعض حنابلہ نے فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانے سے بھی قسم منعقد ہو جاتی ہے اور کفارہ
بھی واجب ہوتا ہے (ردالمحتار میں اسی طرح ہے)
2؎ (قولہ : لا تحلفوا بالطواغى الخ (تم نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ اپنے باپ دادا کی) عرب اپنی جاہلیت
کے زمانہ میں بتوں کی اور اپنے باپ دادا کی قسم کھاتے تھے تو ان کو اس سے منع کیا گیا تاکہ وہ اپنی گفتگو اور محاورات میں
متنبہ رہیں کہ کہیں ان کی عادت کے مطابق ان کی زبان اس میں سبقت نہ کر جائے۔ (مرقات)۔
1؎(قولہ: من حلف بالا مانة الخ (جو کوئی امانت کی قسم کھائے) یہاں امانت کی نسبت اللہ کی طرف نہیں ہے بلکہ
مطلق ہے۔ فلیس منا (وہ ہم میں سے نہیں) اس میں کراہت معلوم ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے
صفات کی قسم کھانے کی اجازت ہے اور امانت، اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور
اس کے فرض کردہ امور میں سے ہے اور اس سے (یعنی اللہ کے فرائض و احکام کی قسم سے) منع کیا گیا ہے کیونکہ اس
میں اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کے ساتھ برابری معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے وعید بھی مراد ہو کیونکہ
اس نے غیر اللہ کی قسم کھائی ہے۔ اور بالاتفاق اس سے کفارہ متعلق نہیں ہوسکتا۔
اور ”امانة الله“ (امانت کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرکے) کی قسم کھانے میں اختلاف ہے۔ امام شافعی
رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہے اور اس میں کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے
فرمایا ہے کہ یہ قسم ہے اس کو توڑنے سے کفارہ لازم آئے گا۔ اور کتاب البدائع میں ہے کہ ”امانة الله“ کہہ کر قسم
کھانے میں ہمارے پاس روایات مختلف ہیں۔ ”کتاب الاصل“ میں ہے کہ یہ قسم ہے۔ اور ابن سماعۃ، امام ابو یوسف
رحمہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہوگی۔ امام طحاوی نے ہمارے اصحاب سے روایت کی ہے کہ یہ قسم نہیں
ہے اور امام طحاوی کے مذکورہ بیان کی وجہ یہ ہے کہ ”امانة الله“ اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ امور ہیں جن کے ذریعہ بندے
اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ
يَّحْمِلْنَهَا“۔ (33۔ سورۃ الاحزاب، آیت نمبر:72)”بیشک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش
کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا“ اس لئے کہ (امانة اللہ کی قسم کھانا)۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اللہ بزرگ و برتر کے نام سے ہٹ کر بے ہنر قسم نہیں کھلائے گی اور کتاب الاصل میں جو کچھ بیان
کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امانت جس کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے قسم کھاتے وقت تو اس سے اللہ تعالیٰ کی
صفت مراد ہوتی ہے کہ ہم نہیں دیکھتے کہ ”الامین“ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے اور یہ امانت سے مشتق ہے۔
خصوصاً قسم کے موقع پر جب مطلق ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت مراد ہوتی ہے۔ ردالمحتار اور خانیہ میں
ہے کہ امانة الله قسم ہے اور امام طحاوی نے ذکر کیا ہے یہ قسم نہیں ہوگی اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت ایسی ہی
ہے اور فتح القدیر میں ہے کہ ہمارے پاس اور امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ کے پاس یہ قسم ہے اور شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے
پاس نیت کا اعتبار ہے کیونکہ امانت کی تفسیر عبادات سے کی گئی ہے، ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ حرف قسم کے بعد
جب امانت کا ذکر ہو تو قسم کا مراد لیا جانا ہی غالب ہے اس لئے ضروری ہے کہ عام عادت کی بناء پر اس کو نیت پر
موقوف نہ رکھا جائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خانیہ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ قابل اعتماد اور صحیح ہے۔
1؎ (قوله: من حلف بملة غير الاسلام الخ (جو کوئی اسلام کے سوا کسی مذہب کی قسم کھائے) اس عبارت
میں کلمہ ”غير الاسلام“ ”ملت کی صفت ہے مثلاً وہ کہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ یہودی یا نصرانی یا اسلام سے بری
ہے۔ کیا اس کا کلام شریعت کی اصطلاح میں قسم ہے اور کیا ایسی قسم پوری نہ کرنے سے کفارہ لازم آتا ہے؟! امام نخعی، امام
اوزاعی، امام ثوری اور امام ابو حنیفہ کے اصحاب، امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کے پاس یہ قسم ہے اور اس کو توڑنے سے کفارہ
واجب ہوتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور ابو عبید نے فرمایا ہے کہ یہ قسم نہیں ہے اور اس میں کفارہ بھی نہیں ہے۔ لیکن اس
طرح کہنے والا گنہگار ہے چاہے اس نے سچ کہا ہو یا جھوٹ۔ اور یہ حضرات رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے
استدلال کرتے ہیں کہ جو کوئی لات و عزیٰ کی قسم کھائے اس کو لا اله الا الله (کلمہ شہادت پڑھنا چاہئے)۔ اس حدیث
شریف میں کفارہ کا ذکر نہیں ہے، ہم یہ کہیں گے کہ اس میں کفارہ کا ذکر نہ کرنے سے کفارہ واجب ہونے کی نفی لازم نہیں
آتی۔ ہماری دلیل مذکورہ حدیث ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظہار کرنے والوں پر کفارہ واجب فرمایا ہے۔ اور یہ
(ظہار) ناپسندیدہ بات اور غلط ہے اور ان اشیاء کی قسم بھی ناپسندیدہ اور غلط ہے۔ صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ ہم نے یہ بات
حلال کو حرام کرنے پر قیاس کرتے ہوئے کہی ہے۔ کیونکہ اس کا قسم ہونا نص سے ثابت ہے اور وہ اس لئے ہے کہ حضور
علیہ الصلاۃ والسلام حضرت ماریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے اوپر حرام کر لئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ“۔ (66۔ سورۃ التحریم، آیت نمبر:1) ”اے نبی جو چیز اللہ تعالیٰ نے
آپ کے لئے حلال کی ہے اسے اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہو۔
اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے: ”قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ“۔ ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔(66 التحریم، آیت نمبر:2) بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر فرمایا
ہے۔ اور اس کی تائید علامہ محمد احسن صدیقی صاحب نانوتوی کے قول سے بھی ہوتی ہے۔ جس کو آپ نے کنز کے حاشیہ
میں مختلف شروح کے حوالوں سے فرمایا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمایا جو کوئی آدمی
یہودیت کی قسم کھائے تو یہ قسم میں شمار ہے یہاں منتقی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ جس کو انہوں نے
زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اسی لئے درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ آدمی کا اس طرح کہنا بھی
قسم میں شمار ہوتا ہے۔ ”اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ یہودی ہے یا نصرانی ہے“ یا یہ کہے کہ ”میرے نصرانی ہو جانے یا
کافروں کے ساتھ شریک ہونے پر تم گواہ رہو“ یا یہ کہے کہ (اگر وہ ایسا کرے گا تو) وہ کافر ہے ایسی صورت میں اگر وہ
قسم توڑے گا تو اس مسئلہ میں حلال کو حرام کرنے کے مسئلہ پر قیاس کرتے ہوئے کفارہ لازم آئے گا کیونکہ جب اس
نے شرط کو کفر کی علامت قرار دیا اور اس کے قطعی طور متحقق ہونے کا عقیدہ رکھا ہے۔ اور اس کے متحقق ہونے کا حکم لگانا کسی
دوسری وجہ سے بھی ممکن ہے اس لئے ہم اس کو قسم قرار دیتے ہیں۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ یہ مستقبل کی بات ہو۔
اب رہا ماضی کا صیغہ جیسے اگر میں ایسا کیا تھا تو کافر ہوں، یہودی ہوں اور اسی طرح سے حال کا صیغہ کہہ جاتے ہوئے
بھی کہ ایسا نہیں ہوا ہے (قسم کھا رہا ہے) تو وہ ”یمین غموس“ ہے اس میں کفارہ نہیں ہے صرف توبہ ہے البتہ اس
کے کفر کے بارے میں اختلاف ہے لیکن قول اصح یہ ہے کہ قسم کھانے والا کافر نہیں ہوتا خواہ فعل ماضی کے ساتھ اس کو
متعلق کیا ہو یا مستقبل کے ساتھ بشرطیکہ اس کے اعتقاد میں یہ قسم ہو اور اگر وہ (قسم کھانے والا) ناواقف ہو یا وہ یہ سمجھتا
ہے یمین غموس میں یا مستقبل میں شرط کے پائے جانے کی صورت میں کافر ہو جاتا ہے۔ تو ایسی دونوں صورتوں میں یعنی
یمین غموس اور یمین منعقدہ میں کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ کفر سے راضی ہے۔ یمین غموس میں اسی وقت کافر ہو جائے گا
اور یمین منعقدہ میں شرط پر عمل کرنے کی صورت میں کافر ہو جائے گا۔ جیسا کہ البحر الرائق میں اس کی صراحت ہے۔
اور جان لو اس بات کو کہ صحیحین میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو
کوئی آدمی اسلام کے سوا کسی مذہب کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا“ ”ظاہر ہے کہ یہ
ارشاد غالب احوال کی بناء پر ہے کیونکہ عموماً جو کوئی اس طرح کی قسمیں کھاتا ہے تو وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس طرح کی
قسم توڑنے پر کفر لازم آ جاتا ہے۔ اگر یہ بات ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جو لوگ اس طرح کہنے پر مطلق کفر کے قائل ہیں، یہ
حدیث شریف ان کی دلیل ہے۔
1(قولہ: ومن قتل نفسه بحديدة الخ (جو آدمی اپنے آپ کو کسی دھاری دار چیز سے ہلاک یعنی خودکشی
کر لے) فقہاء کرام اور اہل سنت و جماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو کوئی آدمی ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اپنے آپ کو قتل کرے گا یعنی خودکشی کرے گا) تو اس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔
حضرت امام اعظم اور امام محمد رحمہا اللہ نے فرمایا کہ اس کو غسل دیا جائے اور اس پر نماز پڑھی جائے گی اور اسی پر فتوی ہے
اگرچہ اس کا گناہ (خودکشی کا) کسی دوسرے کو قتل کرنے سے بڑھ کر ہے۔
حضرت کمالؒ نے حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو ترجیح دی ہے کہ اس کو غسل دیا جائے گا لیکن
اس پر نماز (جنازہ) نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ مسلم شریف میں ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک ایسے
شخص (جنازہ) کو لایا گیا جس نے خودکشی کرلی تھی آپ ﷺ نے اس پر نماز نہیں پڑھی۔ بحر الرائق میں ہے کہ (ان
اقوال کی) تصحیح میں اختلاف ہے لیکن امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو حدیث شریف کی تائید حاصل ہے۔ لیکن
میں کہتا ہوں کہ حدیث شریف میں اس پر کوئی دلالت نہیں ہے کیونکہ اس حدیث شریف میں صرف یہ ہے کہ حضور علیہ
الصلوٰۃ والسلام نے اس پر نماز نہیں پڑھی۔ ظاہر یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دوسروں کو اس جیسے (برے) عمل سے روکنے
کے لئے نماز نہیں پڑھی جیسا کہ آپ ﷺ قرض دار پر نماز پڑھنے سے بھی رک گئے تھے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ
صحابہ میں سے کسی نے ان پر نماز نہیں پڑھی کیونکہ آپ ﷺ کی اور دوسروں کی نماز کے درمیان میں کوئی برابری نہیں
ہے (بہت بڑا فرق ہے)۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
”إِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ“ (9۔ التوبۃ؛ آیت نمبر:103) ”آپ ﷺ کی دعا ان کے لئے باعث
سکون ہے“ پھر (یہ بھی) یاد رکھو کہ یہ سب اس آدمی کے بارے میں ہے جو اپنے آپ کو عمداً قتل کرے۔ اب رہا یہ کہ اگر اس کا یہ
عمل غلطی سے ہو تو اس پر نماز پڑھی جائے گی۔ اس میں (کسی کو) اختلاف نہیں ہے جیسا کہ اس کی صراحت کفایہ اور اس کے سوا
عمدۃ القاری، درمختار اور ردالمحتار میں ہے۔
1؎ (قولہ: من قال اني بريء من الاسلام الخ ابن ہمامؒ نے فرمایا کہ اس کا کہنا وهو بريء من الاسلام
ان فعل كذا ہے (اگر وہ ایسا کرے گا تو اسلام سے بری ہے) اور یہ ہمارے پاس قسم ہے اور اسی طرح هو بريء من
الصلوة والصوم (وہ نماز سے بری ہے، روزہ سے بری ہے) کہنا بھی قسم ہے۔ (مرقات)
1) قوله: و ليس على ابن آدم نذر فيما لا يملك (اور انسان پر جس چیز کا وہ مالک نہیں ہے اس
میں نذر متحقق نہیں ہوتی) اس کی تحقیق ان شاءاللہ باب فی النذر یعنی منتوں کے باب میں آئے گی۔
1(قولہ: فلیتصدق (اس کو صدقہ کرنا چاہئے) اسی صورت میں صدقہ کا حکم فقہاء کے پاس استحباب پر
محمول ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ صدقہ کرنے کا ارادہ کرنے والا جب صدقہ نہ کرے تو اس پر صدقہ وغیرہ کی کوئی چیز
واجب نہیں بلکہ اس کے لئے (اس کی نیت کی وجہ سے) نیکی لکھ دی جائے گی۔ (عمدۃ القاری)
2(قولہ: فرأى غيرها خيرا منها: الخ (کوئی دوسری، بہتر چیز دیکھے) صاحب ہدایہ نے فرمایا ہے اگر
کوئی آدمی کسی گناہ پر قسم کھائے مثلاً نماز نہیں پڑھے گا یا اپنے والد سے بات نہیں کرے گا یا فلاں کو قتل کرے گا تو ایسے
آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی قسم توڑ دے۔
ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسے آدمی پر قسم توڑنا اور کفارہ دینا واجب ہے اور درالمختار میں ہے کہ یہ
بات بعید نہیں کہ فقہاء کے قول ”اولیٰ“ سے مراد وجوب ہی ہو۔ اور کتاب ”مجمع“ میں اپنے قول ”ترجح البر کو“
(یعنی نیکی کو اختیار کرنا قابل ترجیح ہے) بیان کیا ہے۔ اور صاحب ہدایہ صاحب کنز اور ان کے علاوہ دیگر علماء کا قول بھی
اسی کے قریب ہے اور جو کوئی آدمی کسی گناہ پر قسم کھائے تو اس کو قسم توڑنا چاہئے اور بلا شبہ قسم توڑنا واجب ہے جیسا کہ تم
کو معلوم ہوا کیونکہ لفظ ”ینبغی“ سے ان علماء نے وجوب مراد لیا ہے باوجودیکہ اس کا اکثر استعمال غیر وجوب میں
ہے۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ تم کہتے ہو مسلمان کے لئے نماز پڑھنا زیادہ۔۔۔ بقیہ آگے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔مناسب ہے (یعنی اس پر نماز واجب ہے)۔
3(قولہ: فليأت الذى هو خير وليكفر عن يمينه (جو چیز بہتر ہے اس کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا
کفارہ دے) یہ بات آپ کو معلوم ہونی چاہئے کہ کفارہ کی تین حالتیں ہیں۔
1۔ قسم سے پہلے (کفارہ دینا)۔ یہ بالاتفاق کفارہ نہیں ہے۔
2۔ قسم کھانے اور اس کے توڑنے کے بعد (کفارہ دینا)۔ یہ تو بالاتفاق کفارہ ہوتا ہے۔
3۔ قسم کھانے کے بعد اور قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینا۔ اس میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ امام شافعی، امام
مالک، امام احمد رحمہم اللہ اس کو جائز قرار دیا ہے۔ البتہ امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس اس میں تفصیل ہے۔ وہ یہ
فرماتے ہیں کہ قسم توڑنے سے پہلے روزہ کے ذریعہ کفارہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ کفارہ میں غلام کو آزاد کرنا، کھانا
کھلانا، یا کپڑے دینا قسم توڑنے سے پہلے جائز ہے۔ جیسا کہ سال گزرنے سے پہلے پیشگی زکوٰۃ ادا کرنا جائز ہے لیکن
رمضان شریف کے آنے سے پہلے اس کے روزے رکھنا جائز نہیں ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ اور آپ کے
اصحاب نے فرمایا کہ قسم توڑنے سے پہلے کسی بھی قسم کا کفارہ نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ اگر قسم توڑنے سے پہلے کفارہ
دیدے اور کفارہ دینے کے بعد قسم توڑے تو دوبارہ کفارہ دینا پڑے گا۔ یعنی اس قسم میں جو مستقبل سے متعلق ہے کفارہ کے
واجب ہونے کا وقت قسم توڑے جانے کا وقت ہے۔ پس کفارہ ہمارے پاس قسم توڑنے کے بعد ہی واجب ہوتا ہے۔
اور حضرت امام شافعی اور دوسرے ائمہ رحمہم اللہ کے پاس کفارہ کے وجوب کا وقت قسم کے پائے جانے کا وقت
ہے۔ اس لئے ان کے پاس قسم کے منعقد ہوتے ہی اس کو توڑے بغیر (بھی) کفارہ واجب ہوجاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان
کے پاس قسم کفارہ کا سبب ہے اور قسم توڑنا اس کے لئے شرط ہے، اس لئے سبب پائے جانے کے بعد کفارہ ادا کرنا درست
ہے کیونکہ کفارہ کی نسبت قسم کی طرف کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ذٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ“۔ (5۔ المائدہ، آیت نمبر:89)(یہ
تمہارے قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ) اور یہ آیت سبب ہے کیونکہ درحقیقت واجبات کی نسبت ان کے اسباب
کی طرف کی جاتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے پر كفارة القتل، كفارة الظهار، كفارة الافطار۔ (یعنی کفارہ واجب
ہے اور اس کے اسباب قتل، ظہار افطار یعنی روزہ توڑنا وغیرہ ہیں)۔
اور ہمارے پاس قسم توڑنا کفارہ کے وجوب کا سبب ہے۔ اور قسم شرط ہے کیونکہ قسم اس کو پورا کرنے کے ارادہ
سے ہوتی ہے۔ اور اس چیز کو پورا کرنے کی غرض سے جس پر قسم کھا رہا ہے۔ اور۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔اپنی قسم میں سچائی کو ظاہر کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اور اس کا شرعاً حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ
کے اس ارشاد کے بناء پر ہے کہ فرمایا: ”وَاحْفَظُوْا أَيْمَانَكُمْ“ (5۔المائدۃ، آیت نمبر:89)(اپنے قسموں کی
حفاظت کرو)۔ اس لئے قسم کفارہ کے لئے سبب نہیں بنتی کیونکہ سبب کا کم سے کم مرتبہ یہ ہے کہ وہ مفضی الى
الحکم (کسی چیز کے حکم کا باعث یا اس تک لے جانے والی ہوتی ہے) اور اس کے لئے ذریعہ ہو۔ اور قسم یہاں اس
کے لئے مانع ہے تو وہ سبب کیسے بنے گی۔ لہذا اتم مفضى الى الکفارة (کفارہ کا باعث) نہیں ہوگی بلکہ کفارہ کا
باعث قسم توڑنا ہے جبکہ وہ قسم کے بعد پایا جائے تو قسم کو توڑنا سبب ہوگا اور قسم اس کے واجب ہونے کے لئے شرط ہوگی
پس قسم توڑنے سے پہلے پیشگی کفارہ ادا کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس سے سبب کا مقدم ہونا لازم آئے گا۔
آیت کریمہ میں جو اضافت مذکور ہے وہ شرط کی طرف ہے اور شرط کی طرف اضافت شرعی احکام میں جائز اور
ثابت ہے جیسے احرام اور صدقۂ فطر کے کفارہ میں ہے۔ یہاں بالفرض قسم کا سبب ہونا تسلیم کر لیا جائے تو اس میں کوئی
شک نہیں کہ قسم کا توڑنا وجوب کی شرط ہے کیونکہ یہ بات قطعی ہے کہ کفارہ اس سے پہلے واجب نہیں ہوتا۔ ورنہ محض قسم
سے کفارہ واجب ہو جائے گا۔ اور کوئی مشروط اپنی شرط سے پہلے پایا نہیں جاتا تو کفارہ بھی اس سے پہلے واجب نہیں ہوگا
اور وجوب اپنے ثبوت سے پہلے یا ثبوت کے بعد کسی ایسے فعل سے جو واجب ہونے سے پہلے کیا گیا ہے ساقط نہیں ہوتا۔
اب رہا حدیث شریف تو اس میں متعدد روایتیں ہیں ایک روایت میں ”فلیات الذى هو خیر
ولیکفر عن یمینه“ پس چاہئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کرے) ہے۔ اور ایک
روایت ”فلیات الذى هو خیر ثم لیکفر یمینه“ (جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کرے) ہے۔ اور ایک روایت
”فلیات الذى هو خیر ثم لیکفر بِیَمِیْنِهِ“ (جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کر کے پھر اپنی قسم کا کفارہ دے) ہے۔
یہ ساری روایتیں ان کے خلاف ہیں جو قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے سے کفارہ ساقط ہونے کے قائل ہیں۔ اور اس
میں ان کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اگر کفارہ محض قسم ہی سے واجب ہوتا تو حضور علیہ والصلوۃ السلام جس
چیز پر قسم کھائی جاری اس کا ذکر کئے بغیر ہی یوں ارشاد فرماتے ”من حلف على یمین فلیکفر“ (جو کوئی کسی چیز پر
قسم کھائے تو وہ کفارہ دے) مگر اس کے برخلاف یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ چیز جس پر قسم کھائی گئی ہے اچھی نہ ہو تو قسم
توڑ کر کفارہ دینے کا حکم فرمایا۔
کسی ایسی چیز پر قسم جس کا توڑنا اس کو پورا کرنے سے بہتر ہے اس کو آپ ﷺ نے توڑ کر کفارہ دینے کا
خصوصیت سے حکم فرمایا اس لئے کہ کفارہ قسم توڑنے سے ہے نہ کہ محض قسم کھانے سے۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ لہذا قسم کو توڑنے بغیر محض قسم کھانے سے کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ ونیز یہ روایتیں بھی ہمارے
لئے حجت ہیں کیونکہ حرف واو کے ساتھ آئی ہیں جو تقدیم و تاخیر کا فائدہ کئے بغیر مطلق جمع کے لئے ہے خواہ کفارہ کا ذکر
مقدم ہو یا مؤخر ہو اس میں قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کے لئے جواز نہیں ہے۔ اسی طرح بعض روایتیں جن میں ذکر ہے
فليات بالذي هو خير ثم ليكفر عن يمينه وہ کام کرلے جو بہتر ہے پھر اپنی قسم کا پہلے کفارہ دے‘‘، البتہ سنن
ابوداؤد شریف اور سنن نسائی میں جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں ’’اذا حلفت على يمين فكفر عن يمينك ثم
ائت الذي هو خير‘‘ جب تم کسی چیز پر قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ دو پھر وہ کام کرو جو اس سے بہتر ہے۔
اگر یہ حدیث درجۂ صحت میں ہے تو اس کی تاویل یہ ہے کہ لفظ ’’ثم‘‘ اس حدیث میں واو کے معنی میں ہے اس
طرح سے مختلف روایتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ لفظ ’’ثم‘‘ کا ’’واو‘‘ کے معنی میں استعمال ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد
ہے کہ فرمایا: ’’أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ . ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا‘‘۔ (یا خاک نشین محتاج کو کھانا کھلاتا اور ان
لوگوں میں ہوتا جو ایمان لے آئے (90۔ البلد، آیت نمبر:17/16) اس میں لفظ ’ثم‘ واو کے معنی میں ہے کیونکہ
اعمال صالحہ ایمان سے پہلے معتبر نہیں اور اسی لئے قسم توڑنے سے پہلے کفارہ واجب نہیں ہوتا اور اگر ایسا ہی ہوتا جیسا
انہوں نے کہا ہے تو پہلے کفارہ واجب ہوجاتا پھر قبل حکم میں اس کے بعد قسم توڑنا ہوتا کیونکہ اس کا حکم اس کے بعد آیا
ہے۔ اور اگر پہلے یا بعد کسی طرح کفارہ دینے کا اختیار دیا جائے تو ’’ثُمَّ‘‘ کے معنی پر عمل نہیں ہوگا۔ نیز (ہماری دلیل)
یہ بھی ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اس کی تمام قسموں کا نام کفارہ ہے۔ اس طرح ان کے پاس قسم توڑنے کے
بعد کفارہ کو اس کی تمام قسموں پر محمول کیا گیا ہے اور قسم توڑنے سے پہلے یہ لفظ صرف بعض قسموں کے لئے مختص کیا گیا
ہے جس کی وجہ سے لفظ کفارہ کے ظاہری معنی تین وجہ سے چھوٹ رہے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3265 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
No, and I seek Allah’s forgiveness
(1) The statement: “No, and I seek Allah’s forgiveness” in its apparent form is not an oath, but it resembles an oath in that it emphasizes speech. It can be said that the “and” is for swearing, and the object of the oath is omitted, meaning “No, by Allah,” then he began with the statement “I seek Allah’s forgiveness,” meaning if the matter is contrary to that. Or it could mean: “And I seek Allah’s forgiveness from swearing,” as it is preferable to avoid swearing except when necessary, for it is inherently risky and prohibited. Thus, some refrained from swearing even if truthful. What is established from him (ﷺ) was due to the need to emphasize a ruling or clarify permissibility. Hence, it is said: When he intended to swear, he mentioned this instead of swearing and did not swear. [Summarized from “Al-Mirqat”]
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6646 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1646a (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1648 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Allah forbids you from swearing by your forefathers, etc.
(1) The statement: “Allah forbids you from swearing by your forefathers, etc.”: Muhammad said in “Al-Muwatta”: This is what we follow; no one should swear by his father, and whoever swears should swear by Allah, then fulfill it or remain silent. In “Al-Mirqat,” it is stated: The prohibition refers to anything other than Allah, and forefathers were specified because it was the custom of the descendants. In “Al-Hidayah,” it is stated: Whoever swears by other than Allah is not considered to have sworn, such as by the Prophet or the Ka’bah, due to the statement: “Whoever among you swears, let him swear by Allah or leave it.” Similarly, if one swears by the Qur’an, as it is not customary. This indicates that it is not from the category of swearing by other than Allah, but from the category of attributes, hence it is justified by the lack of custom. If it were from the first category, the reason would be the mentioned prohibition or another, as custom is considered only in shared attributes, not in others. Al-Kamal said: It is evident that swearing by the Qur’an is now customary, so it is an oath. This is taken from “Ad-Durr al-Mukhtar” and “Radd al-Muhtar.” In “Nayl al-Awtar,” it is stated: The hadiths of this chapter indicate that swearing by other than Allah is not binding, as prohibition implies the invalidity of the prohibited act, and this is the view of the majority. Some Hanbalis said: Swearing by our Prophet (ﷺ) is binding, and expiation is required. This is also in “Radd al-Muhtar.”
Note 2
Do not swear by idols, etc.
(2) The statement: “Do not swear by idols, etc.”: The Arabs in their pre-Islamic ignorance used to swear by them and by their forefathers, so they were forbidden from this to remain vigilant in their speech, lest their tongues slip into what they were accustomed to. [From “Al-Mirqat”]
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3253 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
Whoever swears by trustworthiness
(1) The statement: “Whoever swears by trustworthiness”: Meaning absolutely, without attributing it to Allah, is not one of us, indicating prohibition because it is commanded to swear by Allah and His attributes, and trustworthiness is not one of His attributes but a matter of His affairs and an obligation of His obligations. They were forbidden from it due to equating it with Allah’s names and attributes, the Exalted. Perhaps it refers to a warning against it, as it is swearing by other than Allah, and no expiation is required by consensus. There is disagreement regarding saying “By the trustworthiness of Allah.” Shafi’i said: It is not an oath, and no expiation is required for breaking it. Abu Hanifah said: It is an oath, and expiation is required for breaking it. In “Al-Bada’i,” it is stated: There are differing narrations among us regarding the oath by saying “By the trustworthiness of Allah.” In “Al-Asl,” it is stated that it is an oath. Ibn Sama’ah narrated from Abu Yusuf that it is not an oath. Tahawi narrated from our companions that it is not an oath. The reasoning for Tahawi’s view is that the trustworthiness of Allah refers to the obligations He has imposed on His servants, such as prayer, fasting, and others, as Allah, the Exalted, said: Indeed, We offered the Trust to the heavens and the earth and the mountains, but they declined to bear it (Al-Ahzab: 72). Thus, it is swearing by other than Allah’s name, the Mighty, the Exalted, so it is not an oath. The reasoning for “Al-Asl” is that trustworthiness attributed to Allah, the Exalted, in the context of an oath refers to His attribute. Do you not see that the Trustworthy is one of Allah’s names, derived from trustworthiness? Thus, when used absolutely, especially in the context of an oath, it refers to Allah’s attribute. In “Radd al-Muhtar,” it is stated: In “Al-Khaniyah,” “The trustworthiness of Allah” is an oath. Tahawi stated it is not an oath, and this is a narration from Abu Yusuf. In “Al-Fath,” it is stated: According to us, Malik, and Ahmad, it is an oath. According to Shafi’i, it depends on intention, as it is interpreted as referring to acts of worship. We say: The prevailing intention in the context of an oath prevails, so it does not depend on intention due to the dominant custom. This establishes that the relied-upon view is that of “Al-Khaniyah.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1363 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 110a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Whoever swears by a religion other than Islam, lying deliberately, is as he said
(1) The statement: “Whoever swears by a religion other than Islam, lying deliberately, is as he said”: “Other than Islam” is an attribute of “religion.” If he did such and such, he is a Jew, a Christian, or free from Islam. Is this type of speech called an oath in the custom of the Shariah? Is expiation required for breaking it? Nakha’i, Awza’i, Thawri, the companions of Abu Hanifah, Ahmad, and Ishaq held that it is an oath, and expiation is required for breaking it. Malik, Shafi’i, and Abu Ubayd said: It is not an oath, and there is no expiation, but the one who says it is sinful whether he is truthful or lying. They argued with the statement: “Whoever swears and says, ‘By al-Lat and al-Uzza,’ let him say, ‘There is no god but Allah,’” and no expiation is mentioned in the hadith. We say: The absence of mention does not necessitate the negation of expiation. Our evidence is this hadith mentioned in the book, as Allah, the Exalted, obligated expiation for one who makes a declaration of prohibition, which is an evil and false statement, and swearing by these things is evil and false. The author of “Al-Hidayah” said: We hold this by analogy to prohibiting the permissible, as it is an oath by the text, for he (ﷺ) prohibited Mariyah to himself, so Allah, the Exalted, revealed: O Prophet, why do you prohibit what Allah has made lawful for you? (At-Tahrim: 1), then said: Allah has ordained for you the dissolution of your oaths (At-Tahrim: 2). This is supported by what Allamah Muhammad Ahsan as-Siddiqi an-Nanotawi said in the margin of “Al-Kanz,” taken from its commentaries: Ibn Abbas said: Whoever swears by Judaism, it is an oath. It is also supported by what Bayhaqi narrated from Zayd ibn Thabit. Thus, it is stated in “Ad-Durr al-Mukhtar” and “Radd al-Muhtar”: Swearing by saying, “If I do such and such, I am a Jew, a Christian, bear witness that I am a Christian, a partner with the disbelievers, or a disbeliever,” requires expiation if he breaks it, by analogy to prohibiting the permissible. Since he made the condition a sign of disbelief, and he believed it obligatory to abstain, and it is possible to say it is obligatory for another reason, we consider it an oath. This applies to the future. As for the past, such as saying, “If I did such and such, I am a disbeliever or a Jew,” or the like, knowing it is contrary, it is a deliberate false oath with no expiation except repentance. There is disagreement regarding his disbelief. The correct view is that the one who swears does not become a disbeliever, whether it is about the past or the future, if he believes it is an oath. If he is ignorant and believes he becomes a disbeliever in a deliberate false oath or by fulfilling the condition in the future, he becomes a disbeliever in both cases—immediately in the deliberate false oath, and upon fulfilling the condition in the binding oath—due to his acceptance of disbelief, as clarified in “Al-Bahr.” It is established in the two Sahihs from him (ﷺ) that he said: “Whoever swears by a religion other than Islam, lying deliberately, is as he said.” It appears that this was stated in the context of the prevalent case, as the majority of those who swear such oaths are ignorant and believe that disbelief is necessary upon breaking it. If this is established, otherwise, the hadith is evidence for those who absolutely hold his disbelief.
Note 2
Whoever kills himself with a piece of iron will be tormented with it in the fire of Hell
(2) The statement: “Whoever kills himself with a piece of iron will be tormented with it in the fire of Hell”: The jurists and the people of the Sunnah unanimously agree that whoever kills himself does not exit Islam by that. Abu Hanifah and Muhammad said: He is washed and prayed over, and this is the fatwa, though his sin is greater than one who kills another. Kamal preferred the view of Abu Yusuf: “He is washed but not prayed over,” based on what is in “Muslim”: A man who killed himself was brought, and he (ﷺ) did not pray over him. In “Al-Bahr,” it is stated: The verification differs, but Abu Yusuf is supported by the hadith. I say: It may be said that the hadith does not indicate this, as it only states that he (ﷺ) did not pray over him. It appears he refrained as a deterrent to others from such an act, as he refrained from praying over a debtor, and it does not necessitate that no one among the companions prayed over him, as there is no equivalence between his prayer and that of others. Allah, the Exalted, said: Indeed, your prayer is a source of tranquility for them (At-Tawbah: 103). Know that this applies to one who kills himself intentionally. If it was by mistake, he is prayed over without disagreement, as clarified in “Al-Kifayah” and others, “Umdat al-Qari,” “Ad-Durr al-Mukhtar,” and “Radd al-Muhtar,” taken from them.
Note 3
Whoever says, ‘I am free from Islam,’ etc.
(3) The statement: “Whoever says, ‘I am free from Islam,’ etc.”: Ibn al-Humam said: Saying, “He is free from Islam if he does such and such,” is an oath according to us, and likewise if he says he is free from prayer and fasting. [From “Al-Mirqat”] The statement: “There is no vow for the son of Adam in what he does not possess” will be addressed, God willing, in the chapter on vows.
Note 1
شیخ الاسلام علامہ عینی نے فرمایا کہ مذکورہ قسم کھانے والے کی قسم منعقد ہو جائے گی۔ حلال کو
حرام کرنے پر قیاس کرتے ہوئے اس پر کفارہ لازم ہوگا۔ کیونکہ اس کا قسم ہونا نص سے ثابت ہے
اور اس لئے بھی کہ اللہ تبارک وتعالی نے ظہار کرنے والے پر کفارہ واجب فرمایا ہے جبکہ وہ (ظہار)
ناپسندیدہ اور جھوٹی بات ہے اور ان اشیاء کی قسم کھانا، ناپسندیدہ اور جھوٹ ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6047 (unverified) 94% confidence
Candidate: Sahih Muslim 110b (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 2
Let him give charity
(2) The statement: “Let him give charity”: The command to give charity is interpreted by the jurists as recommended, as evidenced by the fact that if one intends to give charity and does not, there is no obligation of charity or anything else, but a good deed is recorded for him. [From “Umdat al-Qari”]
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 7146 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1650a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
And sees something better than it, let him do what is better
(1) The statement: “And sees something better than it, let him do what is better”: The author of “Al-Hidayah” said: Whoever swears to commit a sin, such as not praying, not speaking to his father, or killing someone, should break it. Ibn al-Humam (may Allah be pleased with him) said: Meaning, it is obligatory for him to break his oath and expiate it. In “Radd al-Muhtar,” it is stated: It is not far-fetched that obligation is intended by their saying “it is preferable,” and it is expressed in “Al-Majma’” as “fulfilling righteousness is preferred.” This is supported by the statements in “Al-Hidayah,” “Al-Kanz,” and others: Whoever swears to commit a sin should break it, as breaking it is obligatory, as you have learned. They intended by “should” obligation, even though it is predominantly used for other than obligation, just as you say, “It is preferable for a Muslim to pray.”
Note 2
Let him do what is better and expiate his oath
(2) The statement: “Let him do what is better and expiate his oath”: Know that expiation has three states: First, before swearing, it does not suffice by consensus. Second, after swearing and breaking, it suffices by consensus. Third, after swearing but before breaking, there is disagreement regarding advancing expiation before breaking. Shafi’i, Malik, and Ahmad permitted it, except that Shafi’i said: If one expiates by fasting before breaking, it is not permissible, but freeing a slave, feeding, or clothing is permissible, just as advancing zakat before its time is permissible, but advancing the fast of Ramadan before its time is not. Abu Hanifah and his companions said: Expiation, with all its types, does not suffice before breaking, even if one expiates before breaking and then breaks, he must expiate again. Meaning, the time of obligation for expiation in a binding oath about the future is the time of breaking, so it is not obligatory except after breaking according to us. According to Shafi’i and others, its time is the time of the oath’s existence, so expiation is obligatory upon making the oath without breaking. The conclusion is that according to them, the oath is the cause of expiation, and breaking is a condition, so expiation is permissible after the cause is realized, as expiation is attributed to the oath. Allah, the Exalted, said: That is the expiation for your oaths when you have sworn (Al-Ma’idah: 89), which is an indication of causality, as obligations are attributed to their causes in reality, such as expiation for killing, expiation for declaration of prohibition, expiation for breaking the fast, and others. According to us, breaking is the cause of the obligation of expiation, and the oath is a condition, as the oath’s binding nature is based on intending fulfillment, doing what was sworn, and being truthful in swearing, which is commanded by Shariah, as Allah, the Exalted, said: And guard your oaths (Al-Ma’idah: 89). Thus, it is not a cause for expiation, as the least degree of a cause is that it leads to the ruling and is a path to it, but the oath prevents it, so how can it be a cause? The oath does not lead to expiation. What leads to it is breaking, if it occurs after the oath, so it is the cause, and the oath is a condition for obligation. Thus, advancing expiation before breaking is not permissible, as it is advancing before the cause. The attribution mentioned in the verse is to the condition, as attribution to the condition is permissible and established in Shariah, such as expiation for pilgrimage and charity of breaking the fast. Even if we grant that the oath is the cause, there is no doubt that breaking is a condition of obligation, as it is certain that expiation is not obligatory before it, otherwise it would be obligatory by the mere oath. The conditioned does not exist before its condition, so expiation does not occur as obligatory before it, nor does it remove the obligation before or at the time of its establishment by an act that was not obligatory before. As for the hadith, it is narrated with variations: “Let him do what is better and expiate his oath,” and “Then let him expiate his oath.” In all its narrations, it is evidence for us, not for them, because if expiation were obligatory by the oath itself, he would have said: “Whoever swears an oath, let him expiate,” without addressing what the oath was about. Breaking was required when it was better, followed by expiation. Since he specified the oath where breaking is better than fulfilling with breaking and expiation, it is specific to breaking, not the oath itself, even if it is by the oath’s establishment without breaking. These narrations with the letter “waw,” which is for absolute conjunction without precedence or delay, whether expiation is mentioned before or after, do not indicate advancing expiation before breaking as evidence for us. Likewise, what is narrated in some narrations: “Let him do what is better, then expiate his oath.” What is narrated in “Abu Dawud” and “Nasa’i” is: “If you swear an oath, expiate your oath, then do what is better.” If this hadith is authentic, its interpretation is that “then” means “and” to reconcile the different narrations. The evidence for the permissibility of “then” meaning “and” is Allah’s statement: Or a poor person in dust, then he is among those who believe (Al-Balad: 16-17), meaning “and he was before that,” as righteous deeds before faith are not considered. Thus, expiation is not obligatory before breaking. If it were as they say, expiation would be obligatory first, then breaking afterward, separated by the command for it. Saying that one is free to do it before or after negates the requirement of the command and the function of “then.” In Shafi’i’s view, expiation includes all its types. After breaking, the term applies to all, but before breaking, it is restricted to some, abandoning the apparent meaning for three reasons: First, calling it expiation when there is nothing to expiate, as expiation is for covering a sin like disbelief, and there is no sin before breaking. Second, diverting the command from obligation. It is answered that this is considering that breaking violates Allah’s sanctity outwardly or the swearer’s assumption that breaking entails sin. [Summarized from “Al-Luma’at”] Al-Barmawi said: “Sinful” is a comparative form implying participation, suggesting that giving expiation entails sin due to the lack of reverence for Allah’s name in breaking, and there is a customary connection between it and expiation. [From “Al-Mirqat”]
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1653a (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1653b (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
This is interpreted as applying to the one who demands it if he is wronged
(1) The statement: “This is interpreted as applying to the one who demands it if he is wronged”: Its detail is in “Radd al-Muhtar.” In “Al-Khaniyah,” it is stated: If a man demands an oath from another, and he swears intending something other than what the one demanding intends, such as divorce, emancipation, or the like, the intention of the swearer is considered if the swearer does not intend contrary to the apparent, whether he is the wrongdoer or wronged. If the oath is by Allah, the Exalted, and the swearer is wronged, the intention is his, but if he is the wrongdoer intending to nullify another’s right, the intention of the one demanding is considered. This is the view of Abu Hanifah and Muhammad. I say: Restricting it to when he does not intend contrary to the apparent indicates that the consideration of the swearer’s intention is in judgment, as there is no disagreement about considering his intention in faith. This clarifies the difference between this and the view of Khassaf, who holds that his intention is considered in judgment as well, and the fatwa is according to his view if the swearer is wronged, as you have learned. In “Al-Hindiyyah” from “Al-Muhit,” the statement of Ibrahim an-Nakha’i is mentioned, and our companions adopted it, and its essence is in “Ad-Durr al-Mukhtar”: They said: The intention is for the swearer if by divorce or emancipation, and likewise by Allah if he is wronged. If he is the wrongdoer, it is for the one demanding. There is no relevance to judgment in the oath by Allah.
Note 2
You were the most righteous and truthful of them
(2) The statement: “You were the most righteous and truthful of them”: Qadi Iyad narrated consensus that one who swears without being demanded and without a right attached to his oath has his intention considered, and his statement is accepted. If there is a right of another upon him, there is no disagreement that judgment is based on the apparent meaning of his oath, whether he swears voluntarily or by demand. [Summarized] If the consensus is established contrary to what the apparent hadith of Muslim suggests, it is relied upon. This can be supported by this hadith of Suwayd ibn Hanzalah mentioned in the chapter, as the Prophet (ﷺ) judged him as righteous in his oath, and he is not righteous except by considering his own intention, as he intended metaphorical brotherhood, while the one demanding intended literal brotherhood. Perhaps this is the basis of the consensus. [Summarized from “Nayl al-Awtar”]
Note 1
ابراہیم نخعیؒ نے ذکر کیا ہے کہ قسم کھانے والا مظلوم ہے تو قسم اس کی نیت کے مطابق ہوگی اور اگر قسم
کھانے والا ظالم ہے تو قسم کھلانے والے کی نیت کے مطابق ہوگی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4613 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
This verse was revealed, etc.
(1) The statement: “This verse was revealed, etc.”: Know that oaths are of three types: unintentional, deliberate false, and binding. The unintentional is when one swears about a past act, believing it to be true, but it is actually contrary. This is the Hanafi view, narrated from Ibn Abbas and Ata ibn Abi Rabah regarding the interpretation of unintentional, and it is mentioned in the texts, “Al-Hidayah,” and its commentaries. It was held by Rabiah, Malik, Layth, Hasan, Mujahid, Nakha’i, Zuhri, Sulayman ibn Yasar, Qatadah, Sudi, and Mukhawwal. Two narrations are from Ahmad. In “Al-Fath,” it is stated that Ibn al-Mundhir and others narrated it from Ibn Umar, Ibn Abbas, and others among the companions. According to Shafi’i, it is what has no binding intent, slipping from the tongue or spoken ignorantly, such as the Arabs’ saying: “No, by Allah,” and “Yes, by Allah,” for mere emphasis, narrated from Aishah regarding the interpretation of unintentional, and held by Sha’bi, Tawus, and Ikrimah. Zayla’i narrated that it was narrated from Abu Hanifah like Shafi’i’s view. In “Al-Ikhtiyar,” it is stated that Muhammad narrated it from Abu Hanifah. In “Al-Bada’i,” it is narrated first from our companions, then it is stated: What Muhammad mentioned following his narration from Abu Hanifah that the unintentional is what people say: “No, by Allah,” and “Yes, by Allah,” is interpreted according to us as referring to the past or present, and according to us, that is unintentional. The essence of the disagreement between us and Shafi’i is regarding an oath not intended by the swearer for the future. According to us, it is not unintentional, and expiation is required. According to him, it is unintentional, and there is no expiation. His statement: “It is interpreted according to us, etc.” is a report of what Muhammad mentioned, based on that narration from Abu Hanifah, intending to clarify the difference between it and Shafi’i’s view, as the future is unintentional according to him, not us. Our evidence is Allah’s statement: Allah does not hold you accountable for the unintentional in your oaths, but He holds you accountable for the oaths you have bound yourselves with (Al-Ma’idah: 89), contrasting the unintentional oath with the binding oath, distinguishing between them by accountability and its negation. Thus, the unintentional oath must be other than the binding oath to realize the contrast. An oath about the future is a binding oath, whether intended or not, because unintentional in language is a name for something without reality, as Allah, the Exalted, said: They hear therein no idle talk (Maryam: 62), meaning falsehood. This applies to what we said, which is swearing by what has no reality, but on the swearer’s belief that it is as he swore, while the reality is contrary. Likewise, what slips from the tongue without intention, but about the past or present, has no reality, so it is unintentional and has no ruling, thus it is not a binding oath, as it has a ruling. Do you not see that accountability is established for it, and expiation is required by the text? This indicates that the unintentional is what we said. Thus, it is narrated from Ibn Abbas regarding the interpretation of the unintentional oath: It is when a man swears a false oath, believing it to be true. It is clarified that Aishah’s statement and the statement of the Messenger of Allah (ﷺ): The unintentional oath is what people say: “No, by Allah,” and “Yes, by Allah,” refers to the past, not the future. The evidence is that she interpreted it as the past, narrated from Matar from a man who said: I and Ibn Umar entered upon Aishah, and I asked her about the unintentional oath. She said: A man’s statement: “We did such and such, by Allah,” and “We made such and such, by Allah.” Thus, that narration is interpreted according to this to reconcile the two narrations, as the ambiguous is interpreted by the clear. The conclusion is that the unintentional according to us is of two types: The first is what is mentioned in the texts, and the second is what is in this narration, so this narration clarifies the type omitted by the authors of the texts. In “Al-Fath,” it is explicitly stated that there is no accountability for the unintentional in both interpretations. [Taken from “Radd al-Muhtar” and “Al-Bada’i”]
Note 1
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ (تکیہ کلام کے طور پر) جاری ہے تو یہ ہمارے پاس ماضی یا حال پر محمول ہے اور یہ قسم لغو ہے۔
ثمرہ اختلاف ہمارے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان اس قسم کے بارے میں ہے جس میں قسم کھانے والا
مستقبل کا ارادہ نہیں کیا تو ایسی قسم ہمارے پاس لغو نہیں ہے البتہ اس میں کفارہ دینا ہے۔ اور شافعیہ کے پاس لغو ہے جس میں
کفارہ بھی نہیں ہے۔ تو صاحب بدائعؒ کا قول ”فذلك محمول عندنا الخ“، ”وما ذكر محمد، الخ“ کی خبر ہے۔
اور یہ اس روایت پر مبنی ہے جو امام اعظم رحمۃ اللہ سے منقول ہے اور اس سے ان کی مراد اس قول میں اور امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول میں فرق کو ظاہر کرنا ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ اگر یہ قسم مستقبل کے لئے ہو تو بھی امام شافعی
کے پاس لغو ہے اور ہمارے پاس مستقبل کی لغو تو لغو نہیں۔
اور ہماری دلیل اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ”لا يؤاخذ كم الله باللغو فى ايمانكم ولكن يؤاخذ
كم بما عقدتم الايمان (5المائدۃ89)(اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں سے جو لغو(بے معنی) ہوں ان پر تم سے
مؤاخذہ نہیں کرے گا البتہ ان قسموں پر مؤاخذہ کرے گا جس کے لئے تم نے پکا ارادہ کیا ہو۔)
اس میں لغو کو یمین منعقدہ کے مقابل میں ذکر کیا گیا ہے اور دونوں کے درمیان مؤاخذہ اور عدم مؤاخذہ سے
فرق کیا گیا ہے۔ اور اس مقابلہ کے اثبات کے لئے یمین لغو کا یمین کے مغائر ہونا ضروری ہے۔
اور مستقبل میں قسم یمین منعقدہ ہوگی خواہ بالارادہ ہو یا بلا ارادہ ہو کیونکہ لغت میں لغو ایسی چیز کو کہتے ہیں جو باطل
اور بے حقیقت ہو جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”لا يسمعون فيها لغوا“ (56الواقعہ25)(اس(جنت) میں وہ لغو
کلام نہیں سنیں گے) اس میں لغو، باطل کے معنی میں ہے اور یہی ہمارا قول ہے کہ یمین لغو وہ قسم ہے جس کی حقیقت نہیں
ہوتی بلکہ قسم کھانے والے کا ایک گمان ہوتا ہے کہ معاملہ ایسا ہی ہے حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہوتی ہے۔ اسی طرح
سے جو چیز زمانہ ماضی یا حال سے متعلق تکیہ کلام کے طور پر بلا ارادہ زبان پر جاری ہو جاتی ہے تو یہ جملہ ان چیزوں کے
ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی تو یہ لغو ہے۔ اس کے لئے کوئی حکم نہیں ہے اور یہ یمین منعقد نہیں ہوتی کیونکہ یمین
منعقدہ کے لئے حکم ہوتا ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ یمین منعقدہ میں مؤاخذہ اور کفارہ نص سے ثابت ہے تو اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ
یمین لغو وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یمین لغو کی یہ تفسیر مروی ہے کہ یمین لغو
یہ ہے کہ آدمی کسی جھوٹی بات پر یہ سمجھتے ہوئے قسم کھائے کہ وہ سچا ہے اور اس سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ
عنہا کے قول اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مفہوم کی وضاحت معلوم ہوتی ہے کہ یمین لغو وہ قسم ہے جو
لوگوں کی گفتگو ”لا والله، بلى والله“ زمانہ ماضی کے بارے میں جاری ہوتی ہے۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ نہ کہ مستقبل کے بارے میں۔ اس کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول ہے کہ آپ
نے بھی زمانہ ماضی سے اس کی تفسیر کی ہے۔ چنانچہ حضرت مطر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں
کہ انہوں نے کہا میں اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور میں
نے ان سے یمین لغو کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ کسی آدمی کا فعلنا والله كذا (خدا کی قسم ہم نے
ایسا عمل کیا) کہنا یمین لغو ہے۔ اور یہ روایت اس (ماضی) پر محمول کی جائے گی تاکہ دونوں روایتوں میں مطابقت
ہو جائے چونکہ مجمل مفسر پر محمول ہوتا ہے۔
بطور خلاصہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ لغو کی ہمارے پاس دو قسمیں ہیں۔
1۔ ایک وہ قسم ہے جس کا ذکر متون میں ہے۔
2۔ دوسری قسم وہ ہے جو اس روایت میں مذکور ہے۔ (یعنی ماضی یا حال میں لا والله، بلى والله کہنا) تو یہ روایت اس
قسم کا بیان ہو جائے گی جس کے بارے میں اصحاب متون نے سکوت اختیار کیا۔ اور فتح القدیر میں یمین لغو کی دونوں
وضاحتوں پر مؤاخذہ نہ ہونے کی صراحت موجود ہے۔ (ماخوذ از ردالمحتار اور بدائع) یمین غموس اور منعقدہ کی وضاحت اس
کے بعد آنے والی حدیث میں موجود ہے۔
1قوله يمين صابرة الخ (زبردستی جھوٹی قسم کھالینا) یمین صابرہ، یمین غموس ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی
گزرے ہوئے کام پر یہ جانتے ہوئے کہ یہ خلاف واقعہ ہے عمداً جھوٹی قسم کھائے۔
یمین منعقدہ:= آئندہ زمانہ میں کسی کام پر خواہ اس کا ارادہ رکھا ہو یا ارادہ نہ رکھا ہو قسم کھانا منعقدہ ہے۔
اور ہمارے پاس یمین منعقدہ میں اگر قسم توڑ دے تو اس پر کفارہ واجب ہے اور گنہگار ہوگا ورنہ (قسم نہ توڑے تو
کفارہ واجب نہیں ہے اور یمین لغو اور غموس میں اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ یمین غموس میں کفارہ نہیں ہے مگر بہت
بڑا گنہگار ہوگا۔ البتہ توبہ اور استغفار کرے اور یمین لغو میں بھی کفارہ نہیں ہے۔ اور اس میں معاف کئے جانے کی امید
ہے اور حضرت امام شافعی کے پاس منعقدہ میں جس طرح کفارہ واجب ہوتا ہے، یمین غموس میں بھی واجب ہوتا ہے اور یہ
حدیث شریف ہماری تائید کرتی ہے دلائل کے ساتھ مزید تحقیق تفسیرات احمدیہ اور فقہ کی کتابوں سے معلوم کی جاسکتی ہے (ماخوذ
از ہدایہ، ردالمحتار و تفسیرات احمدیہ)
1 قوله انهما قرآتا اُخ (ان دونوں کی قرأت) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تین چیزوں میں سے کسی چیز پر
قدرت نہ ہو تو مسلسل تین دن کے روزے رکھے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چونکہ نص مطلق ہے اس لئے
اس کو اختیار ہے خواہ الگ الگ رکھے یا مسلسل رکھے۔ اور ہماری دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
قرأت ہے ”فصيام ثلاثة ايام متتابعات“۔ اور یہ قرأۃ مشہور ہے اور کتاب اللہ کے مطلق پر خبر مشہور سے زیادتی جائز
ہے۔ اور یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ (ماخوذ از ہدایہ، بنایہ)
2 قوله: من حلف على يمين۔ اخ (اگر کسی بات پر کوئی آدمی قسم کھائے) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی
اپنی قسم کے ساتھ بلا فصل ان شاء اللہ کہے گا تو اس کی قسم باطل ہو جائے گی۔ اس سے وہ قسم خارج ہے جس میں آدمی اپنی
قسم کے بعد ان شاء اللہ فوری نہ کہا ہو اور یہ قسم باطل نہیں ہوتی کیونکہ استثناء کا عمل بلا فصل ہونے کی صورت میں ہوتا
ہے باالفصل ہو تو اس کا عمل نہیں ہوتا۔ (ماخوذ از شرح وقایہ، عمدۃ الرعایہ) اگر تم یہ کہو کہ حدیث مطلق ہے اس میں وصل
و فصل کا فرق نہیں کیا جائے گا تو اس کے جواب میں، میں کہوں گا کہ منصوص علیہ اور غیر منصوص علیہ دلائل سے معاملات کا
جو لزوم ثابت ہوتا ہے وہ سب اتصال کو واجب قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ ان شاء اللہ دیر سے کہنے کو جائز قرار دیا جائے تو
سارے معاملات (جیسے بیع، نکاح وغیرہ وغیرہ) کوئی چیز ذمہ لازم نہیں رہے گی اور اس میں جو فساد ہے کسی پر پوشیدہ نہیں۔
علامہ عینیؒ نے ایسا ہی کہا ہے۔ اور صدر الشریعہ نے استثناء باالاتصال کے عدم جواز پر ایک حدیث کا بھی ذکر کیا ہے۔
فليكفر عن يمينه (اپنی قسم کا کفارہ دے) اس حدیث شریف میں کفارہ کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ اور اگر بیان تغییر
یعنی استثناء منفصل جائز ہوتا تو کسی قسم میں کفارہ بالکل لازم ہی نہ ہوتا۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ کیونکہ اگر یہ جائز ہو جائے گا تو استثناء منفصل (ان شاءاللہ دیر سے کہنا) جائز ہو جائے گا تو قسم ہی
باطل ہو جائے گی۔ (تعلیق الممجد)۔ نیز امام بیہقی اور امام دارقطنی کی حدیث شریف جو کتاب میں مذکور ہے اس سے
بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور عمدۃ القاری میں ہے کہ استثناء سے یہاں مراد لفظ ان شاءاللہ ہے نحوی اصطلاحی استثناء
مراد نہیں ہے جیسے ”والله لأفعلن كذا ان شاء الله تعالى (اللہ کی قسم میں ضرور ایسا کروں گا ان شاءاللہ) یا والله
لا أفعلن كذا ان شاء الله“ (اللہ کی قسم میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا ان شاءاللہ) اور اس میں علماء کا اختلاف ہے۔
حضرت ابراہیم، حضرت حسن بصری، حضرت ثوری امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب، امام اوزاعی، حضرت
لیث اور جمہور علماء نے فرمایا کہ قسم کے ساتھ استثناء ہو تو اس کا متصل (بلا وقفہ) ہونا شرط ہے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ
علیہ فرمائے کہ کلام اول کے ساتھ استثناء ہو تو اس کا متصل ہونا شرط ہے۔ اور اس کا اتصال بالترتیب ہو۔ اور اگر دونوں
کے درمیان سکوت ہو تو استثناء ختم ہو جائے گا۔ سوائے اس کے کہ کسی چیز کو یاد کرنے کے لئے یا سانس لینے یا زبان کے
رک جانے یا آواز کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے ہو (ایسی صورت میں استثناء متصل رہے گا) طلاق اور عتاق میں استثناء
کے بارے میں اختلاف ہے۔ ابن ابی لیلیٰ، امام اوزاعیؒ۔ امام لیثؒ اور امام مالک رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس میں
استثناء جائز نہیں ہے۔ اسی طرح کی ایک روایت حضرت عبداللہ بن عباس اور ابن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے آئی ہے۔
طاؤس، نخعی، حسن اور ایک روایت میں عطاء اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب، امام شافعی اور ان کے اصحاب، اور امام
اسحاق رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اس میں) استثناء جائز ہے۔ (ختم شد)
اور البحر الرائق میں ہے کہ صاحب کنز کے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی اپنی قسم کے ساتھ اگر ان شاءاللہ
متصل کہے گا تو وہ قسم پوری کرے کیونکہ یہ قسم منعقدہ ہے۔ البتہ اس پر اس طرح کی قسم توڑنے کا کوئی گناہ نہیں ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے کوئی آگاہی نہیں ہے۔ اور یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور امام ابوحنیفہ اور امام
محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کے پاس تعلیق بالمشیت (قسم کے ساتھ ان شاءاللہ کہنا) قسم کو باطل کر دیتا ہے۔ اسی لئے کتاب ”تبیین“
میں ہے کہ ان کے قول ”بَرّ“ سے قسم کا منعقد نہ ہونا مراد ہے کیونکہ عدم حنث اور بر ایک ہی ہے اسی لئے عدم حنث پر
”بَرّ“ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ فقہاء کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ عبادات و معاملات کی ہر وہ چیز جس کا تعلق قول سے ہے
جب وہ ان شاءاللہ کے ساتھ متصل کہی جائے تو باطل ہو جاتی ہے برخلاف قلب سے تعلق رکھنے والی چیزوں کے جیسے
نیت وغیرہ ہے (ان شاءاللہ سے وہ باطل نہیں ہوتے)۔
1قولہ وَلْيُوْفُوا نُذُوْرَهُمْ - (اور وہ اپنی منتوں کو پورا کریں) یہ امر وجوب کے لئے ہے۔ اگرچہ یہ آیت
کریمہ ایک مخصوص نذر کے بارے میں آئی مگر عموماً اس سے مطلق نذر کو پورا کرنا واجب ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔
کیونکہ اس میں نذر پورا کرنے کا حکم ہے۔ اور ہمارے پاس نص اپنے مورد اور سبب کے ساتھ خاص نہیں ہوتی پس اس
سے ہر نذر کو پورا کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اور یہاں لفظ وجوب کو فرض کے مقابلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ
عام خص عنہ البعض ہے (یعنی اس عام کے بعض افراد کو اس حکم سے خاص کر دیا گیا ہے) جیسے گناہ کی نذر ماننا یا اطاعت
غیر مقصودہ کی نذر ماننا (یہ اس سے خارج ہو گئے) پس یہ عام ظنی ہوا اور اسی لئے اس پر لفظ وجوب کا جس میں احتمال
ہوتا ہے اطلاق کیا گیا۔
2قولہ لا تنذروا ..الخ (نذر مت مانو کیونکہ نذر تقدیر کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں دیتی۔ اس میں جو نذر
سے منع کیا جا رہا ہے وہ نذر کے پورا کرنے کی تاکید کے لئے ہے کہ نذر کرنے کے بعد اس کو پورا کرنے میں سستی نہ کی
جائے۔ اگر اس سے مراد نذر سے روکنا ہوتا تو نذر ماننا معصیت ہو جاتا اور اس کا حکم باطل ہو جاتا اور اس کو پورا کرنا
ساقط ہو جاتا اس حدیث شریف کے ذریعہ آپ نے یہ بتایا ہے کہ نذر ان کو نہ کوئی نفع دے سکتی ہے اور نہ کوئی ضرر کو ان
سے دور کر سکتی ہے۔ اور نہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کی ہوئی چیز کو رد کر سکتی ہے حضور پاک کا۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ فرمان ”نذر مت مانو“ اس بناء پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جب کسی چیز کو مقدر نہیں کیا
ہے تو تم اس کو نذر کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کا جو تم پر فیصلہ ہو چکا ہے ہٹا سکتے ہو پھر بھی جب تم نذر
مان لو تو اس کو پورا کرو کیونکہ تم جس چیز کی نذر مانے ہو وہ تمہارے لئے ضروری ہے۔
حدیث شریف میں نذر سے جو منع کیا گیا ہے دراصل اس میں اخلاص کے ساتھ نذر ماننے اور اس کو پورا کرنے
کی ترغیب ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے کہ ”تقدیر کے مقابلہ میں نذر کچھ کام نہیں دیتی“
نذر سے منع کرنے کی جو علت بیان فرمائی ہے اس سے اس خیال فاسد پر کہ نذر تقدیر کے مقابلہ میں کام دیتی ہے تنبیہ
فرمائی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ منع کرنے کا تعلق مطلق نذر سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ان کے اس خیال فاسد سے ہے کہ
”نذر تقدیر کو روک سکتی ہے“۔ (مرقات، لمعات) اسی لئے دارالمختار میں ہے: تم اس بات کو جانو کہ نذر شریعت میں تقرب کی
چیز ہے۔ اس لئے کہ اس سے لازم آنے والی عبادتیں نماز، روزہ، حج اور عتق وغیرہ سب تقرب کی چیزیں ہیں۔ اور اس کا
مشروع ہونا اس لئے ہے کہ اس کو پورا کرنے کے احکام دئے گئے ہیں۔ عمدۃ القاری میں ہے کہ اطاعت کی نذر کو پورا
کرنے پر اجماع ہو گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے
”اوفوا بالعقود“ معاملات کو تم پورا کرو
”يوفون بالنذر“ وہ نذر کو پورا کرتے ہیں
1قوله لانذر في معصية الخ : (گناہ کے کام میں نذر نہیں ہوتی) جانو اس بات کو کہ نذر اگر کسی طاعت کے
کام میں ہو تو وہ بالاتفاق لازم ہے۔ اور اگر معصیت میں ہو تو اس کو پورا کرنا جائز نہیں۔ البتہ نذر معصیت کے منعقد
ہونے کے بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے۔
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نذر معصیت بالکل منعقد نہیں ہوتی۔ اور نذر معصیت لغو ہے
جس میں کفارہ نہیں ہے۔ اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نذر معصیت بطور قسم منعقد ہو جاتی ہے مگر
اس کو پورا کرنا نہیں ہے بلکہ اس میں کفارہ دینا ہے۔
اور امام طحاویؒ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ آدمی جب معاصی کی نذر مانے مثلاً یہ کہے ”لله علي ان
اقتل فلانا“ ”اللہ تعالیٰ کے لئے میں فلاں کو قتل کر دوں گا“ تو اب یہ قسم ہے اور اس کو توڑ کر کفارہ دینا ضروری ہے۔ اس
کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جو اس باب میں مذکور ہیں۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ (ملخص از سندھی، کوکب دری، ردالمحتار، مرقات)۔ اور اگر اس مذہب کی مزید تفصیل چاہئے تو
العرف الشذی میں دیکھ لیں۔
صاحب مبسوط نے نقل کیا ہے کہ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: نذر معصیت پر کوئی چیز واجب نہیں کیونکہ
معاصی کی نذر ماننے سے نہ ان کو کرنا ضروری ہوتا ہے اور نہ کفارہ دینا ہے کیونکہ کفارہ قسم کی وجہ سے واجب ہونے والی
نیکی کا خلیفہ ہے یا وہ پھر اس چیز کا خلیفہ ہے جس کو نذر کی وجہ سے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ چیز تو نذر معصیت
میں پائی ہی نہیں جاتی۔
حکایت :۔ بیان کیا جاتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام شعبیؒ کے پاس گئے اور یہ مسئلہ (یعنی
گناہ کی نذر ماننے سے متعلق) ان سے دریافت کیا۔ امام شعبیؒ نے فرمایا کہ اس پر کوئی چیز واجب نہیں کیونکہ جس چیز کی
نذر کی گئی وہ معصیت ہے۔ تو حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کیا خطا معصیت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے
اس میں کفارہ کا حکم فرمایا ہے؟ امام شعبی حیران ہوگئے۔ اور فرمایا ”أنت من الأرأيين“ آپ تو اصحاب رائے یعنی
مجتہدین میں سے ہیں۔
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے اگر کوئی معصیت کی نذر مانے تو وہ درست نہیں ہے البتہ ایسی نذر ماننے سے کفارہ
لازم آتا ہے۔ اور نیل الاوطار میں لکھا ہے کہ نذر معصیت میں کفارہ کے واجب ہونے نہ ہونے کے بارے میں
اختلاف ہے۔ جمہور کے پاس کفارہ واجب نہیں ہے۔ اور امام احمدؒ، امام ثوریؒ، امام اسحٰقؒ اور بعض شافعیہ اور حنفیہ کے
پاس کفارہ ہے۔ اور امام ترمذیؒ نے اس بارے میں صحابہؓ کا اختلاف نقل فرمایا ہے۔ اور نذر معصیت کے حرام ہونے پر
سب کا اتفاق ہے۔ اور ان کا اختلاف تو صرف وجوب کفارہ کے بارے میں ہے۔
اور جو وجوب کفارہ کے قائل ہیں وہ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ب کی مذکورہ حدیث سے اور اس معنی میں دوسری آئی ہوئی حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں۔(انتهى)
اور ”لا نذر في معصية“ کے معنی یہ نہیں ہے کہ نذر بالکل منعقد نہیں ہوتی کیونکہ آپ کا یہ ارشاد بھی ہے
”اس کا کفارہ یمین کا کفارہ ہے“ پھر دونوں میں اس کی کوئی مناسبت نہیں رہتی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نذر کو
پورا کرنا نہیں ہے۔ بعض صحیح روایتوں میں وضاحت کے ساتھ یہ بات موجود ہے کہ معصیت کی نذر کو پورا کرنا نہیں
ہے۔(فتح الودود)
1؎۔قولہ”لا وفاء لنذر في معصية“(معصیت کی کسی نذر کو پورا کرنا نہیں ہے) کیونکہ نذر کے صحیح ہونے
اور اس کے پورا کرنے کے وجوب کے لئے چند شرطیں ہیں منجملہ ان کے یہ ہیں
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
And a deliberate false oath, etc.
(1) The statement: “And a deliberate false oath, etc.”: Meaning the deliberate false oath, which is when one swears about a past act, deliberately lying, knowing it is contrary. The binding oath is when one swears about a future act, intending or not intending that statement. According to us, if he breaks a binding oath, expiation is obligatory, and he sins, otherwise not. There is nothing obligatory in the unintentional or deliberate false oath, but he sins in the deliberate false oath, and there is no expiation except repentance and seeking forgiveness, and forgiveness is hoped for in the unintentional. According to Shafi’i, as expiation is obligatory in the binding oath, it is obligatory in the deliberate false oath. Our view is supported by this hadith. The verification with evidence is sought from “At-Tafsir al-Ahmadiyyah” and books of jurisprudence. [Taken from “Al-Hidayah,” “Radd al-Muhtar,” and “At-Tafsir al-Ahmadiyyah”]
(2) The statement: “They recited, etc.”: Meaning if he cannot afford any of the three things, he fasts for three consecutive days. Shafi’i said: He may choose to separate them or make them consecutive, due to the generality of the text. According to us, there is the recitation of Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him): Fasting for three consecutive days, which is like a well-known report, and it is permissible to add to the general text of the Book with it. This hadith also supports it. [Taken from “Al-Hidayah” and “Al-Binayah”]
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1531 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 2105 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 3
Whoever swears an oath, etc.
(3) The statement: “Whoever swears an oath, etc.”: Meaning whoever connects “If Allah wills” with his oath, it is nullified. This excludes when he says “If Allah wills” after his oath, disconnected, as it does not nullify his oath, because the exception only applies when connected, not disconnected. [Taken from the commentary on “Al-Wiqayah” and “Umdat ar-Ri’ayah”] If you say: The hadith in its generality does not distinguish between connected and disconnected. I say: The evidence from texts and others regarding the obligation of contracts necessitates connection, as permitting a disconnected exception would lead to nullifying all contracts, such as sales, marriages, and others, and the corruption in that is evident, as stated by Ayni. Sadr ash-Shari’ah mentioned in the evidence for prohibiting delay: The hadith “Let him expiate his oath” obligated expiation, so if a delayed exception were permissible, expiation would not be obligatory in any oath, as he could say delayed: “If Allah wills,” nullifying his oath. [From “At-Ta’liq al-Mumajjad”] This is also supported by the report of Bayhaqi and Darqutni mentioned in the book. In “Umdat al-Qari,” it is stated: The exception here refers to the phrase “If Allah wills,” not the technical exception, such as: “By Allah, I will do such and such, if Allah wills,” or he said: “By Allah, I will do such and such,” then “If Allah wills.” There is disagreement among the scholars. Ibrahim, Hasan, Thawri, Abu Hanifah, his companions, Awza’i, Layth, and the majority of scholars said: Its condition is that it is connected to the oath. Shafi’i said: The exception must be connected to the initial speech, meaning without separation, in a coherent manner. If there is a pause, it is disconnected, unless it is for recollection, breathing, or inability to speak, explaining his intent, or a break in voice. They also disagreed about the exception in divorce and emancipation. Ibn Abi Layla, Awza’i, Layth, and Malik said: The exception is not permissible, and it is narrated from Ibn Abbas and Ibn al-Musayyib. Tawus, Nakha’i, Hasan, Ata in a narration, Abu Hanifah, his companions, Shafi’i, his companions, and Ishaq said: The exception is permissible. In “Al-Bahr,” it is stated: The apparent statement of the author of “Al-Kanz”: If he connects “If Allah wills” with his oath, he is free, meaning the oath is binding but there is no breaking upon him due to the inability to know Allah’s will, the Exalted. This is the view of Abu Yusuf (may Allah be pleased with him). According to Abu Hanifah and Muhammad (may Allah be pleased with them), attaching to the will nullifies it. Thus, it is stated in “At-Tabyin”: He meant by “free” the lack of binding, as it entails no breaking, like being free, so he used it absolutely. The essence of the jurists’ statements is that everything attached to speech, the connected will nullifies it, whether worship or transaction, unlike what is attached to the heart, like intention.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “He swore: No, by the One who turns the hearts” indicates that swearing by Allah, the Exalted, or by one of His names, even if it is a shared name that has become customary to swear by, is permissible according to the school of thought. This includes names like the Most Merciful, the Compassionate, the Forbearing, the All-Knowing, the Master of the Day of Judgment, the Pursuer, the Victor, and the Truth, whether definite or indefinite. In “Al-Mujtaba,” it is stated: If one intends by shared names something other than an oath, such as a religion or an attribute customarily sworn by among His attributes, the Exalted—whether an attribute of essence that has no opposite, like the might of Allah, His majesty, grandeur, dominion, power, greatness, or ability, or an attribute of action that can have an opposite, like anger or pleasure—then oaths are based on custom. What is customarily sworn by is an oath, and what is not is not an oath. One does not swear by an attribute not customarily sworn by among His attributes, the Exalted, such as His mercy, knowledge, pleasure, anger, wrath, punishment, curse, law, religion, limits, description, or “Glory be to Allah,” and the like, due to the absence of custom. This applies specifically to attributes, unlike names, where custom is not considered, as previously mentioned. This is taken from “Ad-Durr al-Mukhtar” and “Radd al-Muhtar.” In “Rahmat al-Ummah,” it is stated: They agreed that an oath by Allah is binding, and by all His beautiful names, such as the Most Merciful, the Compassionate, the Living, and by all attributes of His essence, such as the might of Allah and His majesty, except that Abu Hanifah excluded the knowledge of Allah, not considering it an oath. In “Al-Inayah,” it is stated: The name here refers to a word indicating the essence described by an attribute, such as the Most Merciful and the Compassionate, and the attribute refers to verbal nouns derived from describing Allah with names of His actions, such as mercy, knowledge, and might. In the commentary on “Al-Kanz” by Zayla’i and “Burhan Sharh Mawahib ar-Rahman,” it is stated: The scholars of Iraq mentioned that swearing by attributes of essence is an oath, but not by attributes of action. The scholars of Transoxiana stated that custom is considered, so any attribute customarily sworn by, whether an attribute of essence like ability or an attribute of action like creation and provision, is an oath. What is not customarily sworn by, whether an attribute of essence or action, is not an oath. This is the correct view. The conclusion is that swearing by Allah’s names is undoubtedly an oath, while swearing by His attributes depends on custom, and swearing by anything other than Allah is absolutely not an oath.
Note 1
1 (قولہ: یحلف لا و مقلب القلوب الخ (قسم کھاتے تو اکثر فرماتے ”لا و مقلب القلوب“، نہیں، دلوں کو پھیرنے والے کی قسم) اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مذہب مختار کی بناء پر اللہ کی اور اس کے ناموں میں سے کسی نام کی، اگرچہ کہ وہ مشترک ہو، اور عرف میں اس کی قسم کھائی جاتی ہو یا نہ ہو، جیسے رحمن و رحیم، حلیم و علیم، مالک یوم الدین، الطالب الغالب اور الحق، جو الف لام کے ساتھ ہو، بغیر الف لام کے نہیں ہے قسم ہو جاتی ہے۔ اور کتاب المجتبیٰ میں ہے اگر اسماء مشترکہ سے قسم سے ہٹ کر کسی چیز کی نیت کرے تو دیانۃً قبول کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے کسی ایسی صفت سے قسم کھائے کہ جس کی عام طور پر قسم کھائی جاتی ہے اور اس کی صفت ذاتی ہو یعنی اس کی ضد اس میں نہیں پائی جاتی جیسے اللہ کی عزت، جلال، کبریائی، ملکوت، جبروت، عظمت اور قدرت کی قسم کھائے تو بھی قسم ہو جاتی ہے۔ یا اس کی فعلی صفت کی (یعنی جس کی ضد اس میں پائی جاتی ہے) قسم کھائے جیسے غضب اور رضا کی، تو ایسی صورت میں قسموں کا دارومدار عرف پر ہے اور ان صفات میں جو قسموں کے لئے معروف ہیں تو ان کی قسم ہوتی ہے۔ اور جو اس کے لئے معروف نہیں ہیں ان کی قسم نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے ایسی صفت کی قسم نہیں ہوتی جو قسم کے لئے معروف نہیں ہے یعنی عرف میں ان کی قسم نہیں کھائی جاتی جیسے اللہ کی رحمت اس کا علم، اس کی رضا، اس کا غضب، اس کی ناراضگی، اس کا عذاب، اس کی لعنت، اس کی شریعت، اس کا دین، اس کے حدود، اس کی صفت، سبحان اللہ اور اس جیسے دیگر صفات کی قسم نہیں ہوگی۔ یہ حکم صفات کے ساتھ خاص ہے اسماء ذات کے ساتھ نہیں کیونکہ اسماء ذات میں عرف کا اعتبار نہیں ہوتا جیسا کہ اس کا بیان گزر چکا ہے۔ (درمختار، ردالمحتار) کتاب رحمۃ الامہ میں ہے کہ علماء کا اتفاق ہے اس بات پر کہ اسم جلالہ سے اور اس کے تمام اسماء حسنیٰ سے قسم منعقد ہو جاتی ہے جیسے الرحمن، الرحیم، الحی اور اس کے تمام صفات ذاتیہ سے بھی قسم منعقد ہو جاتی ہے۔ جیسے ”اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کے جلال کی قسم“، لیکن امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کے علم کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ آپ اس کو قسم نہیں سمجھتے (انتهى) اور کتاب عنایہ میں ہے۔ یہاں اللہ کے اسم سے مراد وہ لفظ ہے جو ایسی ذات پر دلالت کرتا ہو جو کسی صفت سے متصف ہو۔ جیسے الرحمن، الرحیم۔ اور صفت سے مراد وہ مصادر ہیں جو اسماء صفاتیہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے متصف کرنے پر حاصل ہوتے ہیں جیسے رحمت، علم، عزت وغیرہ ۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ امام زیلعی کی شرح کنز میں اور مواہب الرحمن کی شرح ”برہان“ میں ہے کہ علماء عراق نے بیان کیا ہے کہ صفات ذاتیہ کی قسم ہوتی ہے اور صفات فعلیہ کی نہیں۔ علماء ماوراء النہر نے بیان کیا ہے کہ قسم میں عرف کا اعتبار ہے۔ جس صفت سے عام طور پر قسم کھائی جاتی ہو خواہ صفت ذاتی ہو جیسے قدرت، خواہ صفت فعلی ہو جیسے پیدا کرنا اور رزق دینا، یہ قسم ہوں گے اور عرف میں جن سے قسم کھائی نہیں جاتی خواہ وہ صفت ذاتی ہو یعنی اس سے قسم مقصود نہیں ہوتی اور یہی صحیح ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ قسم بلا شبہ قسم ہے اور اس کے صفات کی قسم کھانے میں عرف کا اعتبار ہے اور غیر اللہ کی قسم مطلقاً قسم نہیں ہے۔ 12 1 (قولہ: واستغفر الله (اور میں اللہ سے مزید عظمت کی سرفرازی مانگتا ہوں) یہ بظاہر قسم نہیں ہے لیکن چونکہ آپ نے کلام کو تاکید کے ساتھ فرمایا ہے اسی لئے یہ قسم کی صورت ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”واستغفر الله“ میں واؤ قسم کا ہو اور قسم بہ (جس کی قسم کھائی جا رہی ہو) محذوف ہو یعنی لا والله (نہیں اللہ کی قسم) پھر استغفر الله سے کلام کی ابتداء ہو۔ استغفر الله سے مراد اگر معاملہ اس کے خلاف ہے تو میں مغفرت چاہتا ہوں یا استغفر الله کے بعد ”من الحلف“ محذوف ہو یعنی ”قسم سے میں اللہ کی جناب میں استغفار کرتا ہوں“ کیونکہ قسم نہ کھانا ہی افضل ہے سوائے اس کی ضرورت ہو۔ کیونکہ یہ قسم اصل میں عرضہ (نشانہ) ہے اور عرضہ سے منع کیا گیا اسی لئے بعض حضرات قسم کھانے سے رکتے ہیں اگرچہ وہ سچے ہوں اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قسم ثابت ہے، وہ صرف ضرورت کے لئے ہے یعنی حکم کو موکد کرنے کے لئے یا بیان جواز کی غرض سے ہے اسی لئے کہا گیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قسم کا ارادہ فرمایا تو قسم کے بجائے ”لا واستغفر الله“ فرمایا، قسم نہیں کھائی۔ (مرقات ملخصاً) 1؎ (قولہ : ان الله ينهاكم ان تحلفوا بآبائكم الخ (اللہ تعالیٰ تم کو اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے) حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ موطا میں فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کسی آدمی کے لئے اپنے باپ کی قسم کھانا مناسب نہیں جو آدمی قسم کھانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے اور قسم کو پوری کرے یا پھر قسم کھانے سے خاموش رہے اور مرقات میں ہے کہ جس قسم سے منع کیا گیا ہے وہ غیر اللہ کی قسم ہے اور باپ دادا کا خصوصیت سے ذکر اس لئے ہے کہ باپ دادا کی قسم کھانا اولاد کی عادت ہوتی ہے ہدایہ میں ہے جو کوئی آدمی غیر اللہ جیسے نبی اور کعبہ وغیرہ کی قسم کھائے گا تو وہ قسم کھانے والا آثم نہیں ہوگا کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”من كان منكم حالفا فليحلف بالله او ليذر“ (تم میں سے جو قسم کھائے وہ اللہ کی قسم کھائے یا چھوڑ دے) اسی طرح سے جب قرآن مجید کی قسم کھائے (تو قسم کھانے والا آثم نہیں ہوگا) کیونکہ یہ قسم متعارف نہیں ہے۔ (آثمی)۔ صاحب ہدایہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی قسم غیر اللہ کی قسم کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت صفات کی قسم کی ہے کیونکہ اس کی علت قسم کے لئے غیر معروف ہونا بیان کیا گیا ہے اور اگر یہ پہلی قسم سے ہوتی تو اس کی علت مذکورہ ممانعت یا اس کے سوا کوئی اور وجہ ہوتی۔ کیونکہ عرف کا اعتبار صرف صفات مشترکہ میں ہوتا ہے اور دوسروں میں نہیں۔ علامہ کمال نے فرمایا ان دنوں (یعنی موجودہ دور میں) یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ قرآن کی قسم متعارف ہے اس لئے قرآن کی قسم کھانا قسم ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)۔ اور نیل الاوطار میں ہے کہ اس باب کی احادیث شریفہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ غیر اللہ کی قسم منعقد نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس سے منع کیا جانا نہی عنہ (جس سے روکا گیا ہے) کے فساد پر دلالت کرتا ہے اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ بعض حنابلہ نے فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانے سے بھی قسم منعقد ہو جاتی ہے اور کفارہ بھی واجب ہوتا ہے (ردالمحتار میں اسی طرح ہے) 2؎ (قولہ : لا تحلفوا بالطواغى الخ (تم نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ اپنے باپ دادا کی) عرب اپنی جاہلیت کے زمانہ میں بتوں کی اور اپنے باپ دادا کی قسم کھاتے تھے تو ان کو اس سے منع کیا گیا تاکہ وہ اپنی گفتگو اور محاورات میں متنبہ رہیں کہ کہیں ان کی عادت کے مطابق ان کی زبان اس میں سبقت نہ کر جائے۔ (مرقات)۔ 1؎(قولہ: من حلف بالا مانة الخ (جو کوئی امانت کی قسم کھائے) یہاں امانت کی نسبت اللہ کی طرف نہیں ہے بلکہ مطلق ہے۔ فلیس منا (وہ ہم میں سے نہیں) اس میں کراہت معلوم ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے صفات کی قسم کھانے کی اجازت ہے اور امانت، اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے فرض کردہ امور میں سے ہے اور اس سے (یعنی اللہ کے فرائض و احکام کی قسم سے) منع کیا گیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کے ساتھ برابری معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے وعید بھی مراد ہو کیونکہ اس نے غیر اللہ کی قسم کھائی ہے۔ اور بالاتفاق اس سے کفارہ متعلق نہیں ہوسکتا۔ اور ”امانة الله“ (امانت کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرکے) کی قسم کھانے میں اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہے اور اس میں کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ یہ قسم ہے اس کو توڑنے سے کفارہ لازم آئے گا۔ اور کتاب البدائع میں ہے کہ ”امانة الله“ کہہ کر قسم کھانے میں ہمارے پاس روایات مختلف ہیں۔ ”کتاب الاصل“ میں ہے کہ یہ قسم ہے۔ اور ابن سماعۃ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہوگی۔ امام طحاوی نے ہمارے اصحاب سے روایت کی ہے کہ یہ قسم نہیں ہے اور امام طحاوی کے مذکورہ بیان کی وجہ یہ ہے کہ ”امانة الله“ اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ امور ہیں جن کے ذریعہ بندے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَّحْمِلْنَهَا“۔ (33۔ سورۃ الاحزاب، آیت نمبر:72)”بیشک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا“ اس لئے کہ (امانة اللہ کی قسم کھانا)۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اللہ بزرگ و برتر کے نام سے ہٹ کر بے ہنر قسم نہیں کھلائے گی اور کتاب الاصل میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امانت جس کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے قسم کھاتے وقت تو اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت مراد ہوتی ہے کہ ہم نہیں دیکھتے کہ ”الامین“ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے اور یہ امانت سے مشتق ہے۔ خصوصاً قسم کے موقع پر جب مطلق ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت مراد ہوتی ہے۔ ردالمحتار اور خانیہ میں ہے کہ امانة الله قسم ہے اور امام طحاوی نے ذکر کیا ہے یہ قسم نہیں ہوگی اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت ایسی ہی ہے اور فتح القدیر میں ہے کہ ہمارے پاس اور امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ کے پاس یہ قسم ہے اور شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نیت کا اعتبار ہے کیونکہ امانت کی تفسیر عبادات سے کی گئی ہے، ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ حرف قسم کے بعد جب امانت کا ذکر ہو تو قسم کا مراد لیا جانا ہی غالب ہے اس لئے ضروری ہے کہ عام عادت کی بناء پر اس کو نیت پر موقوف نہ رکھا جائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خانیہ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ قابل اعتماد اور صحیح ہے۔ 1؎ (قوله: من حلف بملة غير الاسلام الخ (جو کوئی اسلام کے سوا کسی مذہب کی قسم کھائے) اس عبارت میں کلمہ ”غير الاسلام“ ”ملت کی صفت ہے مثلاً وہ کہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ یہودی یا نصرانی یا اسلام سے بری ہے۔ کیا اس کا کلام شریعت کی اصطلاح میں قسم ہے اور کیا ایسی قسم پوری نہ کرنے سے کفارہ لازم آتا ہے؟! امام نخعی، امام اوزاعی، امام ثوری اور امام ابو حنیفہ کے اصحاب، امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کے پاس یہ قسم ہے اور اس کو توڑنے سے کفارہ واجب ہوتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور ابو عبید نے فرمایا ہے کہ یہ قسم نہیں ہے اور اس میں کفارہ بھی نہیں ہے۔ لیکن اس طرح کہنے والا گنہگار ہے چاہے اس نے سچ کہا ہو یا جھوٹ۔ اور یہ حضرات رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے استدلال کرتے ہیں کہ جو کوئی لات و عزیٰ کی قسم کھائے اس کو لا اله الا الله (کلمہ شہادت پڑھنا چاہئے)۔ اس حدیث شریف میں کفارہ کا ذکر نہیں ہے، ہم یہ کہیں گے کہ اس میں کفارہ کا ذکر نہ کرنے سے کفارہ واجب ہونے کی نفی لازم نہیں آتی۔ ہماری دلیل مذکورہ حدیث ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظہار کرنے والوں پر کفارہ واجب فرمایا ہے۔ اور یہ (ظہار) ناپسندیدہ بات اور غلط ہے اور ان اشیاء کی قسم بھی ناپسندیدہ اور غلط ہے۔ صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ ہم نے یہ بات حلال کو حرام کرنے پر قیاس کرتے ہوئے کہی ہے۔ کیونکہ اس کا قسم ہونا نص سے ثابت ہے اور وہ اس لئے ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام حضرت ماریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے اوپر حرام کر لئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ” يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ“۔ (66۔ سورۃ التحریم، آیت نمبر:1) ”اے نبی جو چیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کی ہے اسے اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہو۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے: ”قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ“۔ ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔(66 التحریم، آیت نمبر:2) بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر فرمایا ہے۔ اور اس کی تائید علامہ محمد احسن صدیقی صاحب نانوتوی کے قول سے بھی ہوتی ہے۔ جس کو آپ نے کنز کے حاشیہ میں مختلف شروح کے حوالوں سے فرمایا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمایا جو کوئی آدمی یہودیت کی قسم کھائے تو یہ قسم میں شمار ہے یہاں منتقی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ جس کو انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اسی لئے درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ آدمی کا اس طرح کہنا بھی قسم میں شمار ہوتا ہے۔ ”اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ یہودی ہے یا نصرانی ہے“ یا یہ کہے کہ ”میرے نصرانی ہو جانے یا کافروں کے ساتھ شریک ہونے پر تم گواہ رہو“ یا یہ کہے کہ (اگر وہ ایسا کرے گا تو) وہ کافر ہے ایسی صورت میں اگر وہ قسم توڑے گا تو اس مسئلہ میں حلال کو حرام کرنے کے مسئلہ پر قیاس کرتے ہوئے کفارہ لازم آئے گا کیونکہ جب اس نے شرط کو کفر کی علامت قرار دیا اور اس کے قطعی طور متحقق ہونے کا عقیدہ رکھا ہے۔ اور اس کے متحقق ہونے کا حکم لگانا کسی دوسری وجہ سے بھی ممکن ہے اس لئے ہم اس کو قسم قرار دیتے ہیں۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ یہ مستقبل کی بات ہو۔ اب رہا ماضی کا صیغہ جیسے اگر میں ایسا کیا تھا تو کافر ہوں، یہودی ہوں اور اسی طرح سے حال کا صیغہ کہہ جاتے ہوئے بھی کہ ایسا نہیں ہوا ہے (قسم کھا رہا ہے) تو وہ ”یمین غموس“ ہے اس میں کفارہ نہیں ہے صرف توبہ ہے البتہ اس کے کفر کے بارے میں اختلاف ہے لیکن قول اصح یہ ہے کہ قسم کھانے والا کافر نہیں ہوتا خواہ فعل ماضی کے ساتھ اس کو متعلق کیا ہو یا مستقبل کے ساتھ بشرطیکہ اس کے اعتقاد میں یہ قسم ہو اور اگر وہ (قسم کھانے والا) ناواقف ہو یا وہ یہ سمجھتا ہے یمین غموس میں یا مستقبل میں شرط کے پائے جانے کی صورت میں کافر ہو جاتا ہے۔ تو ایسی دونوں صورتوں میں یعنی یمین غموس اور یمین منعقدہ میں کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ کفر سے راضی ہے۔ یمین غموس میں اسی وقت کافر ہو جائے گا اور یمین منعقدہ میں شرط پر عمل کرنے کی صورت میں کافر ہو جائے گا۔ جیسا کہ البحر الرائق میں اس کی صراحت ہے۔ اور جان لو اس بات کو کہ صحیحین میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو کوئی آدمی اسلام کے سوا کسی مذہب کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا“ ”ظاہر ہے کہ یہ ارشاد غالب احوال کی بناء پر ہے کیونکہ عموماً جو کوئی اس طرح کی قسمیں کھاتا ہے تو وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس طرح کی قسم توڑنے پر کفر لازم آ جاتا ہے۔ اگر یہ بات ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جو لوگ اس طرح کہنے پر مطلق کفر کے قائل ہیں، یہ حدیث شریف ان کی دلیل ہے۔ 1(قولہ: ومن قتل نفسه بحديدة الخ (جو آدمی اپنے آپ کو کسی دھاری دار چیز سے ہلاک یعنی خودکشی کر لے) فقہاء کرام اور اہل سنت و جماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو کوئی آدمی ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اپنے آپ کو قتل کرے گا یعنی خودکشی کرے گا) تو اس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔ حضرت امام اعظم اور امام محمد رحمہا اللہ نے فرمایا کہ اس کو غسل دیا جائے اور اس پر نماز پڑھی جائے گی اور اسی پر فتوی ہے اگرچہ اس کا گناہ (خودکشی کا) کسی دوسرے کو قتل کرنے سے بڑھ کر ہے۔ حضرت کمالؒ نے حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو ترجیح دی ہے کہ اس کو غسل دیا جائے گا لیکن اس پر نماز (جنازہ) نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ مسلم شریف میں ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک ایسے شخص (جنازہ) کو لایا گیا جس نے خودکشی کرلی تھی آپ ﷺ نے اس پر نماز نہیں پڑھی۔ بحر الرائق میں ہے کہ (ان اقوال کی) تصحیح میں اختلاف ہے لیکن امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو حدیث شریف کی تائید حاصل ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ حدیث شریف میں اس پر کوئی دلالت نہیں ہے کیونکہ اس حدیث شریف میں صرف یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس پر نماز نہیں پڑھی۔ ظاہر یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دوسروں کو اس جیسے (برے) عمل سے روکنے کے لئے نماز نہیں پڑھی جیسا کہ آپ ﷺ قرض دار پر نماز پڑھنے سے بھی رک گئے تھے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صحابہ میں سے کسی نے ان پر نماز نہیں پڑھی کیونکہ آپ ﷺ کی اور دوسروں کی نماز کے درمیان میں کوئی برابری نہیں ہے (بہت بڑا فرق ہے)۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ”إِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ“ (9۔ التوبۃ؛ آیت نمبر:103) ”آپ ﷺ کی دعا ان کے لئے باعث سکون ہے“ پھر (یہ بھی) یاد رکھو کہ یہ سب اس آدمی کے بارے میں ہے جو اپنے آپ کو عمداً قتل کرے۔ اب رہا یہ کہ اگر اس کا یہ عمل غلطی سے ہو تو اس پر نماز پڑھی جائے گی۔ اس میں (کسی کو) اختلاف نہیں ہے جیسا کہ اس کی صراحت کفایہ اور اس کے سوا عمدۃ القاری، درمختار اور ردالمحتار میں ہے۔ 1؎ (قولہ: من قال اني بريء من الاسلام الخ ابن ہمامؒ نے فرمایا کہ اس کا کہنا وهو بريء من الاسلام ان فعل كذا ہے (اگر وہ ایسا کرے گا تو اسلام سے بری ہے) اور یہ ہمارے پاس قسم ہے اور اسی طرح هو بريء من الصلوة والصوم (وہ نماز سے بری ہے، روزہ سے بری ہے) کہنا بھی قسم ہے۔ (مرقات) 1) قوله: و ليس على ابن آدم نذر فيما لا يملك (اور انسان پر جس چیز کا وہ مالک نہیں ہے اس میں نذر متحقق نہیں ہوتی) اس کی تحقیق ان شاءاللہ باب فی النذر یعنی منتوں کے باب میں آئے گی۔ 1(قولہ: فلیتصدق (اس کو صدقہ کرنا چاہئے) اسی صورت میں صدقہ کا حکم فقہاء کے پاس استحباب پر محمول ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ صدقہ کرنے کا ارادہ کرنے والا جب صدقہ نہ کرے تو اس پر صدقہ وغیرہ کی کوئی چیز واجب نہیں بلکہ اس کے لئے (اس کی نیت کی وجہ سے) نیکی لکھ دی جائے گی۔ (عمدۃ القاری) 2(قولہ: فرأى غيرها خيرا منها: الخ (کوئی دوسری، بہتر چیز دیکھے) صاحب ہدایہ نے فرمایا ہے اگر کوئی آدمی کسی گناہ پر قسم کھائے مثلاً نماز نہیں پڑھے گا یا اپنے والد سے بات نہیں کرے گا یا فلاں کو قتل کرے گا تو ایسے آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی قسم توڑ دے۔ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسے آدمی پر قسم توڑنا اور کفارہ دینا واجب ہے اور درالمختار میں ہے کہ یہ بات بعید نہیں کہ فقہاء کے قول ”اولیٰ“ سے مراد وجوب ہی ہو۔ اور کتاب ”مجمع“ میں اپنے قول ”ترجح البر کو“ (یعنی نیکی کو اختیار کرنا قابل ترجیح ہے) بیان کیا ہے۔ اور صاحب ہدایہ صاحب کنز اور ان کے علاوہ دیگر علماء کا قول بھی اسی کے قریب ہے اور جو کوئی آدمی کسی گناہ پر قسم کھائے تو اس کو قسم توڑنا چاہئے اور بلا شبہ قسم توڑنا واجب ہے جیسا کہ تم کو معلوم ہوا کیونکہ لفظ ”ینبغی“ سے ان علماء نے وجوب مراد لیا ہے باوجودیکہ اس کا اکثر استعمال غیر وجوب میں ہے۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ تم کہتے ہو مسلمان کے لئے نماز پڑھنا زیادہ۔۔۔ بقیہ آگے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔مناسب ہے (یعنی اس پر نماز واجب ہے)۔ 3(قولہ: فليأت الذى هو خير وليكفر عن يمينه (جو چیز بہتر ہے اس کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے) یہ بات آپ کو معلوم ہونی چاہئے کہ کفارہ کی تین حالتیں ہیں۔ 1۔ قسم سے پہلے (کفارہ دینا)۔ یہ بالاتفاق کفارہ نہیں ہے۔ 2۔ قسم کھانے اور اس کے توڑنے کے بعد (کفارہ دینا)۔ یہ تو بالاتفاق کفارہ ہوتا ہے۔ 3۔ قسم کھانے کے بعد اور قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینا۔ اس میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ امام شافعی، امام مالک، امام احمد رحمہم اللہ اس کو جائز قرار دیا ہے۔ البتہ امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس اس میں تفصیل ہے۔ وہ یہ فرماتے ہیں کہ قسم توڑنے سے پہلے روزہ کے ذریعہ کفارہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ کفارہ میں غلام کو آزاد کرنا، کھانا کھلانا، یا کپڑے دینا قسم توڑنے سے پہلے جائز ہے۔ جیسا کہ سال گزرنے سے پہلے پیشگی زکوٰۃ ادا کرنا جائز ہے لیکن رمضان شریف کے آنے سے پہلے اس کے روزے رکھنا جائز نہیں ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ اور آپ کے اصحاب نے فرمایا کہ قسم توڑنے سے پہلے کسی بھی قسم کا کفارہ نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ اگر قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دیدے اور کفارہ دینے کے بعد قسم توڑے تو دوبارہ کفارہ دینا پڑے گا۔ یعنی اس قسم میں جو مستقبل سے متعلق ہے کفارہ کے واجب ہونے کا وقت قسم توڑے جانے کا وقت ہے۔ پس کفارہ ہمارے پاس قسم توڑنے کے بعد ہی واجب ہوتا ہے۔ اور حضرت امام شافعی اور دوسرے ائمہ رحمہم اللہ کے پاس کفارہ کے وجوب کا وقت قسم کے پائے جانے کا وقت ہے۔ اس لئے ان کے پاس قسم کے منعقد ہوتے ہی اس کو توڑے بغیر (بھی) کفارہ واجب ہوجاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان کے پاس قسم کفارہ کا سبب ہے اور قسم توڑنا اس کے لئے شرط ہے، اس لئے سبب پائے جانے کے بعد کفارہ ادا کرنا درست ہے کیونکہ کفارہ کی نسبت قسم کی طرف کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ذٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ“۔ (5۔ المائدہ، آیت نمبر:89)(یہ تمہارے قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ) اور یہ آیت سبب ہے کیونکہ درحقیقت واجبات کی نسبت ان کے اسباب کی طرف کی جاتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے پر كفارة القتل، كفارة الظهار، كفارة الافطار۔ (یعنی کفارہ واجب ہے اور اس کے اسباب قتل، ظہار افطار یعنی روزہ توڑنا وغیرہ ہیں)۔ اور ہمارے پاس قسم توڑنا کفارہ کے وجوب کا سبب ہے۔ اور قسم شرط ہے کیونکہ قسم اس کو پورا کرنے کے ارادہ سے ہوتی ہے۔ اور اس چیز کو پورا کرنے کی غرض سے جس پر قسم کھا رہا ہے۔ اور۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔اپنی قسم میں سچائی کو ظاہر کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اور اس کا شرعاً حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بناء پر ہے کہ فرمایا: ”وَاحْفَظُوْا أَيْمَانَكُمْ“ (5۔المائدۃ، آیت نمبر:89)(اپنے قسموں کی حفاظت کرو)۔ اس لئے قسم کفارہ کے لئے سبب نہیں بنتی کیونکہ سبب کا کم سے کم مرتبہ یہ ہے کہ وہ مفضی الى الحکم (کسی چیز کے حکم کا باعث یا اس تک لے جانے والی ہوتی ہے) اور اس کے لئے ذریعہ ہو۔ اور قسم یہاں اس کے لئے مانع ہے تو وہ سبب کیسے بنے گی۔ لہذا اتم مفضى الى الکفارة (کفارہ کا باعث) نہیں ہوگی بلکہ کفارہ کا باعث قسم توڑنا ہے جبکہ وہ قسم کے بعد پایا جائے تو قسم کو توڑنا سبب ہوگا اور قسم اس کے واجب ہونے کے لئے شرط ہوگی پس قسم توڑنے سے پہلے پیشگی کفارہ ادا کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس سے سبب کا مقدم ہونا لازم آئے گا۔ آیت کریمہ میں جو اضافت مذکور ہے وہ شرط کی طرف ہے اور شرط کی طرف اضافت شرعی احکام میں جائز اور ثابت ہے جیسے احرام اور صدقۂ فطر کے کفارہ میں ہے۔ یہاں بالفرض قسم کا سبب ہونا تسلیم کر لیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ قسم کا توڑنا وجوب کی شرط ہے کیونکہ یہ بات قطعی ہے کہ کفارہ اس سے پہلے واجب نہیں ہوتا۔ ورنہ محض قسم سے کفارہ واجب ہو جائے گا۔ اور کوئی مشروط اپنی شرط سے پہلے پایا نہیں جاتا تو کفارہ بھی اس سے پہلے واجب نہیں ہوگا اور وجوب اپنے ثبوت سے پہلے یا ثبوت کے بعد کسی ایسے فعل سے جو واجب ہونے سے پہلے کیا گیا ہے ساقط نہیں ہوتا۔ اب رہا حدیث شریف تو اس میں متعدد روایتیں ہیں ایک روایت میں ”فلیات الذى هو خیر ولیکفر عن یمینه“ پس چاہئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کرے) ہے۔ اور ایک روایت ”فلیات الذى هو خیر ثم لیکفر یمینه“ (جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کرے) ہے۔ اور ایک روایت ”فلیات الذى هو خیر ثم لیکفر بِیَمِیْنِهِ“ (جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کر کے پھر اپنی قسم کا کفارہ دے) ہے۔ یہ ساری روایتیں ان کے خلاف ہیں جو قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے سے کفارہ ساقط ہونے کے قائل ہیں۔ اور اس میں ان کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اگر کفارہ محض قسم ہی سے واجب ہوتا تو حضور علیہ والصلوۃ السلام جس چیز پر قسم کھائی جاری اس کا ذکر کئے بغیر ہی یوں ارشاد فرماتے ”من حلف على یمین فلیکفر“ (جو کوئی کسی چیز پر قسم کھائے تو وہ کفارہ دے) مگر اس کے برخلاف یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ چیز جس پر قسم کھائی گئی ہے اچھی نہ ہو تو قسم توڑ کر کفارہ دینے کا حکم فرمایا۔ کسی ایسی چیز پر قسم جس کا توڑنا اس کو پورا کرنے سے بہتر ہے اس کو آپ ﷺ نے توڑ کر کفارہ دینے کا خصوصیت سے حکم فرمایا اس لئے کہ کفارہ قسم توڑنے سے ہے نہ کہ محض قسم کھانے سے۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ لہذا قسم کو توڑنے بغیر محض قسم کھانے سے کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ ونیز یہ روایتیں بھی ہمارے لئے حجت ہیں کیونکہ حرف واو کے ساتھ آئی ہیں جو تقدیم و تاخیر کا فائدہ کئے بغیر مطلق جمع کے لئے ہے خواہ کفارہ کا ذکر مقدم ہو یا مؤخر ہو اس میں قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کے لئے جواز نہیں ہے۔ اسی طرح بعض روایتیں جن میں ذکر ہے فليات بالذي هو خير ثم ليكفر عن يمينه وہ کام کرلے جو بہتر ہے پھر اپنی قسم کا پہلے کفارہ دے‘‘، البتہ سنن ابوداؤد شریف اور سنن نسائی میں جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں ’’اذا حلفت على يمين فكفر عن يمينك ثم ائت الذي هو خير‘‘ جب تم کسی چیز پر قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ دو پھر وہ کام کرو جو اس سے بہتر ہے۔ اگر یہ حدیث درجۂ صحت میں ہے تو اس کی تاویل یہ ہے کہ لفظ ’’ثم‘‘ اس حدیث میں واو کے معنی میں ہے اس طرح سے مختلف روایتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ لفظ ’’ثم‘‘ کا ’’واو‘‘ کے معنی میں استعمال ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ فرمایا: ’’أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ . ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا‘‘۔ (یا خاک نشین محتاج کو کھانا کھلاتا اور ان لوگوں میں ہوتا جو ایمان لے آئے (90۔ البلد، آیت نمبر:17/16) اس میں لفظ ’ثم‘ واو کے معنی میں ہے کیونکہ اعمال صالحہ ایمان سے پہلے معتبر نہیں اور اسی لئے قسم توڑنے سے پہلے کفارہ واجب نہیں ہوتا اور اگر ایسا ہی ہوتا جیسا انہوں نے کہا ہے تو پہلے کفارہ واجب ہوجاتا پھر قبل حکم میں اس کے بعد قسم توڑنا ہوتا کیونکہ اس کا حکم اس کے بعد آیا ہے۔ اور اگر پہلے یا بعد کسی طرح کفارہ دینے کا اختیار دیا جائے تو ’’ثُمَّ‘‘ کے معنی پر عمل نہیں ہوگا۔ نیز (ہماری دلیل) یہ بھی ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اس کی تمام قسموں کا نام کفارہ ہے۔ اس طرح ان کے پاس قسم توڑنے کے بعد کفارہ کو اس کی تمام قسموں پر محمول کیا گیا ہے اور قسم توڑنے سے پہلے یہ لفظ صرف بعض قسموں کے لئے مختص کیا گیا ہے جس کی وجہ سے لفظ کفارہ کے ظاہری معنی تین وجہ سے چھوٹ رہے ہیں۔