Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals · Chapter 7

(اس باب میں یہ بیان ہے کہ میت پر کس طرح رونا جائز ہے اور کس طرح کا

36 narrations · In source reading order

Hadith 2210

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2585
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان کا عجب حال ہے (ہر حال میں وہ اللہ ہی کا رہتا ہے) اگر اس کو بھلائی اور نعمت پہنچتی ہے تو ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہہ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر کوئی بلا اور مصیبت پہنچتی ہے تو اس بلا، اور مصیبت کا ثواب اس کے پیش نظر ہو جاتا ہے، اس وجہ سے وہ ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہتا ہے (یا اس کو یہ خیال آتا ہے کہ یہ بلا، اور مصیبت دنیوی امور میں آئی ہے دین کو میرے اللہ نے بچا رکھا ہے اور دین پر کوئی مصیبت نہیں آئی ہے، اس لئے الحمدللہ کہتا ہے یا یہ خیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ مجھ پر یہ مصیبت بھیجا، اس سے کوئی اور بڑی مصیبت میں مجھکو مبتلا نہیں کیا، اس لئے الحمدللہ کہتا ہے اور ”إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ کہہ کر صبر کرتا ہے مسلمان کا جو کام ہوتا ہے وہ اللہ کی خوشنودی اور اس کو راضی کرنے کے لئے ہوتا ہے اس لئے) اس کو ہر کام میں اجر و ثواب ملتا ہے (مثلاً) اگر وہ اپنی بیوی کے منھ میں نوالہ دے (اور دیتے وقت یہ نیت کرے کہ اس کا حق جو میرے ذمہ ہے، اس کی ادائی کے لئے دے رہا ہوں، اگرچہ کہ اس میں اس کو حظ نفس حاصل ہو رہا ہے لیکن وہ دنیا کے ذریعہ حظ نفس حاصل نہ کر کے حلال ذریعہ سے اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنی بیوی کے منھ میں نوالہ دے کر حظ نفس حاصل کر رہا ہے، اس لئے اس کو اپنی بیوی کے منھ میں نوالہ دینے سے بھی اجر ملتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]

Hadith 2211

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2586
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آ پڑے (کسی کے مرنے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہے دوسرا مسلمان اس کے پاس جا کر یا خط لکھ کر) اس کو تسلی دیا اور صبر کی تلقین کیا (جس سے اس کا غم غلط ہو) تو اس تسلی دینے والے کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا کہ مصیبت زدہ کو ملتا ہے۔ اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1073 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1602 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2212

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2587
ابو برزدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ کسی عورت کا بچہ مر گیا اور وہ بہت ہی غم زدہ ہے جو مسلمان اس کی تعزیت کرے اور دلاسہ دے تو تعزیت دینے والے کو (اعزاز کے طور پر) جنت میں جنتی خلعت پہنائی جائے گی۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1074 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2213

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2588
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اتفاق۔ مرقات میں ایسا ہی مذکور ہے۔12۔ سے مسجد میں) تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کے شہید ہونے کی خبر آئی، اس خبر کے سننے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غم کے آثار ظاہر ہوئے، ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں دروازہ کے دراڑ سے دیکھ رہی تھی کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ حضرت جعفر کے گھر کی عورتیں (نوحہ کر کے اور چیخ و پکار کر کے) رو رہی ہیں، آپ اس شخص سے فرمائے کہ تم جاؤ اور ان کو (نوحہ اور چیخ اور پکار کرنے سے) منع کرو، وہ شخص چلا گیا اور دوبارہ حاضر ہو کر عرض کیا کہ وہ عورتیں میری بات نہیں مانتیں ہیں (اور نوحہ کر کے برابر رو رہی ہیں) حضور دوبارہ اسی شخص کو فرمائے کہ جاؤ اور ان کو نوحہ کر کے) رونے سے منع کرو تو (وہ شخص چلا گیا اور تیسری بار حاضر ہو کر) عرض کیا کہ حضور! بخدا یہ عورتیں ہمارے قابو سے باہر ہو گئی ہیں (اور نوحہ کر کے رونے سے باز نہیں آ رہی ہیں) ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ مجھے خیال پڑتا ہے کہ حضور نے اس وقت اس شخص سے فرمایا تھا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی ڈال دو (اس سے حضور اپنی ناراضگی کا اظہار فرمائے) پھر حضرت عائشہ اپنے آپ سے فرمائے (یہ عجیب شخص ہے) خدا اس کو ذلیل کرے نہ تو حضور کے حکم کی تعمیل کر کے عورتوں کو نوحہ کرنے سے روک سکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بار بار عرض کر کے تکلیف دینا بھی نہ چھوڑا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1299 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 935a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He sat down, visibly sad.

(1) The statement: "He sat down, visibly sad." Al-Baqali said: "There is no harm in sitting for condolences for three days in a house or mosque. The Prophet (ﷺ) sat when Ja'far and Zayd ibn Harithah were killed, and people came to console him. Offering condolences on the first day is best. Sitting in the mosque for three days for condolences is disliked, but in other places, it is permissible for men for three days, though avoiding it is better. It is disliked for the consoler to offer condolences a second time." This is mentioned in Al-Bahr Ar-Ra'iq. In Al-Alamgiriyyah, it is said: "There is no harm for the bereaved to sit in their house or mosque for three days, and people come to console them. However, sitting at the door of the house or spreading carpets and standing at crossroads, as done in non-Arab lands, is among the worst practices." This is mentioned in Az-Zahirah and Al-Binayah. Ali Al-Qari said: "The apparent meaning of the Hadith is that his sitting in the mosque was for condolences, but Ibn Al-Humam said: 'It is permissible to sit for a calamity for three days, though it is disliked in the mosque.' This may be understood as specific to him, to show its permissibility, or his sitting in the mosque was coincidental." In Radd Al-Muhtar, quoting Al-Imdad: "Many of our later scholars said: 'It is disliked to gather at the bereaved's house, and it is disliked for him to sit in his house until people come to console him. Rather, after the burial, people should disperse and attend to their affairs, and the bereaved should attend to his.'"

Note 1

قوله

(۱) قوله: جلس يعرف فيه الحزن: قال البقالي: ولا بأس بالجلوس للعزاء ثلاثة أيام في بيت أو مسجد، وقد جلس رسول الله ﷺ لما قتل جعفر وزيد بن حارثة، والناس يأتون ويُعزونه. والتعزية في اليوم الأول أفضل، والجلوس في المسجد ثلاثة أيام للتعزية مكروه، وفي غيره: جاءت الرخصة ثلاثة أيام للرجال، وتركه أحسن. ويكره للمعزي أن يُعزي ثانيا. قاله في البحر الرائق». وفي العالمگيرية»: ولا بأس لأهل المصيبة أن يجلسوا في البيت أو في مسجد ثلاثة أيام، والناس يأتونهم ويعزونهم. ويكره الجلوس على باب الدار، وما يصنع في بلاد العجم من فرش البسط والقيام على قوارع الطرق من أقبح القبائح. كذا في «الظهيرية» انتهى. وكذا في «البناية». وقال علي القاري: ظاهر الحديث أن جلوسه في المسجد كان للعزاء، لكن قال ابن الهمام: يجوز الجلوس للمصيبة ثلاثة أيام، وهو خلاف الأولى ويكره في المسجد. فلعله محمول على الاختصاص، أو لبيان الجواز، أو كان جلوسه في المسجد اتفاقيا انتهى. وفي رد المحتار» ناقلا عن الإمداد»: وقال كثير من متأخري أئمتنا: يكره الاجتماع عند صاحب البيت، ويكره له الجلوس في بيته حتى يأتي إليه من يعزي، بل إذا فرغ ورجع الناس من الدفن فليتفرقوا، ويشتغل الناس بأمورهم وصاحب البيت بأمره.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتفاق سے مسجد میں تشریف فرما تھے، جب کہ حضرت جعفر وغیرہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی، اس لئے ردا المحتار میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے انتقال پر قصداً مسجد میں یا گھر میں بیٹھے تا کہ لوگ اس کی تعزیت کریں تو یہ مکروہ ہے، بلکہ لوگ جب دفن سے فارغ ہو جائیں تو صاحب میت کے گھر جمع نہ ہوں بلکہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں اور اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائیں اور میت کے ورثاء بھی اپنے گھر چلے جائیں اور اپنے کاموں میں مصروف ہو جائیں۔12

Hadith 2214

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2589
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے شہادت کی خبر پہنچی تو حضور نے (اپنے گھر والوں) سے فرمایا: تم جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کر کے بھیجو کیوں کہ جعفر کی موت سے ان پر ایسی مصیبت آئی ہے جس کی وجہ سے ان کو کھانا تیار کرنے کا موقع نہیں ہے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 998 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3132 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1610 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2215

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2590
امام بخاری سے تعلیقاً روایت کی گئی ہے، جب حسن مثنیٰ ابن حسن بن علی رضی اللہ عنہم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیوی آپ کی قبر کے پاس ایک سال تک ڈیرہ لگا کر بیٹھی رہیں
mentioned in a suspended (Mu'allaq) narration: "When Al-Hasan ibn Al-Hasan ibn Ali (may Allah be pleased with him) died, his wife set up a tent over his grave for a year, then removed it.
Commentary and footnotes (1)

Note 1

(میت کو دفن کرنے کے بعد اہل میت کو اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوجانا چاہئے، حضرت حسن مثنیٰ کی بیوی ایسا نہ کرکے ایک سال تک قبر کے پاس بیٹھی رہیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہ آیا، چونکہ یہ خاندان نبوت سے تعلق رکھتی تھیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ کردیا اور ہاتف غیبی کے ذریعہ ان کا یہ کام ناپسند ہونا ظاہر فرما دیا) ایک سال کے بعد جب انہوں نے ڈیرہ اٹھایا تو ایک ہاتف غیبی نے یہ ندا دی کہ حسن مثنیٰ کی بیوی ان کی قبر کے پاس ایک سال تک جو بیٹھی رہیں تو کیا حسن مثنیٰ پھر ان کو مل گئے؟ دوسرے ہاتف غیبی نے اس کا جواب اس طرح دیا (حسن مثنیٰ ان کو پھر ملے تو نہیں) ’’یہ خود تھک کر مایوس چلے گئیں‘‘۔