Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The prohibition is without necessity
(1) The statement: "The prohibition is without necessity": Bukhari titled a chapter in his Sahih: “On one who cauterizes or is cauterized, and the virtue of not cauterizing.” Al-Hafiz said: It seems he meant cauterization is permissible for need, but preferable to avoid if not essential, and it applies whether one does it themselves or for others. Bukhari cited Jabir’s hadith: If any of your medicines hold healing, it is in a cut of the cupping tool or a sting of fire, but I dislike cauterization. Al-Hafiz elaborated on narrations permitting and prohibiting it, then said: The prohibition is understood as dislike or less preferable, based on the collective hadiths. Some said it was specific to Imran, who had hemorrhoids in a dangerous spot, so the Prophet (ﷺ) forbade cauterizing it, but when it worsened, he cauterized it, and it failed. Ibn Qutaybah said: Cauterization is of two types: for the healthy to prevent illness, which is meant by “Whoever cauterizes is not relying on Allah,” as it seeks to defy fate, which cannot be defied; and for treating wounds or severed limbs, which is permissible. If cauterization is for a tolerable condition, it is less preferable due to inflicting pain with fire for something uncertain. The reconciliation: the act indicates permissibility, but not acting does not indicate prohibition; rather, avoiding it is better, and the prohibition is either advisory or for cases where it is not the only path to healing. Thus, in the margin of Al-Kawkab Ad-Durri.
Note 1
قوله
(١)قوله: والنهي من غير ضرورة داعية إليه إلخ: بوب البخاري في صحيحه (باب من اكتوى أو كوى غيره، وفضلمن لم يكتو) قال الحافظ: كأنه أراد أن الكي جائز للحاجة، وأن الأولى تركه إذا لم يتعين، وأنه إذا جاز كان أعم من أنيباشر الشخص ذلك بنفسه أو بغيره لنفسه أو لغيره. وذكر البخاري فيه حديث جابر مرفوعًا:(إن كان في شيء منأدويتكم شفاء، ففي شرطة محجم أو لدغة بنار، وما أحب أن أكتوي). وبسط الحافظ في روايات الباب إباحةً ونهيًا، ثمقال: والنهي محمول على الكراهة أو على خلاف الأولى؛ لما يقتضيه مجموع الأحاديث. وقيل: إنه خاص بعمران؛ لأنهكان به الباسور، وكان موضعه خطرا، فنهاه عن كيّه، فلما اشتد عليه كواه، فلم ينجح. وقال ابن قتيبة: الكي نوعان،كيّ الصحيح؛ لئلا يعتل، فهذا الذي قيل فيه: لم يتوكل من اكتوى؛ لأنه يريد أن يدفع القدر، والقدر لا يدافع،والثاني: كيّ الجراح إذا اعتل، أي فسد، والعضو إذا قطع، فهو الذي يشرع التداوي به، فإن كان الكي لأمر محتمل فهوخلاف الأولى؛ لما فيه من تعجيل التعذيب بالنار لأمر غير محقق. وحاصل الجمع: أن الفعل يدل على الجواز، وعدمالفعل لا يدل على المنع، بل يدل على أن تركه أرجح من فعله، وأما النهي عنه فإما على سبيل الاختيار والتنزيه، وإماعما لا يتعين طريقا إلى الشفاء. كذا في هامش (الكوكب الدري).
Note 1
ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری نے کہا: ممانعت ایسی صورت میں ہے جب کہ اس کی ضرورت 1
لاحق نہ ہو۔ اور اس توجیہ سے تمام روایات کو جمع کیا جا سکتا ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا داغ لینا بھی
درست ہو جاتا ہے ورنہ ان سے حضور علیہ وآلہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کی ممانعت کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے۔
اور جب داغ لینا جائز ہوا تو وہ شخص خود ہی داغ لے یا کوئی دوسرا اس کو داغ دے یا یہ کسی
دوسرے کو داغ دے یہ سب صورتیں جائز ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس میں سیدنا جابر رضی اللہ
تعالیٰ عنہ سے ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے ”ان كان في شيء من ادويتكم شفاء ففي
شرطة محجم او لدغة بنار، و ما احب ان اكتوى“۔ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں
شفاء ہے تو سینکھی کے نشتر میں ہے یا آگ سے داغ میں ہے اور میں داغ کو پسند نہیں کرتا۔ اور حافظ
نے اس باب کی روایات میں اس کے جواز اور عدم جواز سے متعلق تفصیل سے بیان کیا ہے پھر انہوں
نے کہا ہے کہ تمام احادیث اس بات کے متقاضی ہیں کہ نہی کو کراہیت یا خلاف اولیٰ پر محمول کیا جائے
اور اس بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ممانعت حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے خاص ہے
کیونکہ ان کو بواسیر تھی اور اس پر خطرہ کی جگہ ہوتی ہے اس لئے آپ ﷺ نے داغ لینے سے منع فرمایا
اور جب اس میں شدت ہو گئی تو وہ داغ لینے اور کامیاب نہیں ہوئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2055 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3489 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
Whoever cauterizes
(1) The statement: "Whoever cauterizes": Meaning excessively pursuing health measures to the point of cauterization without compelling necessity. Thus, in Al-Mirqat.
Note 2
has disavowed reliance
(2) The statement: "has disavowed reliance": Means of removing harm are divided into: certain, like water for thirst or bread for hunger; probable, like bloodletting, cupping, laxatives, or treating cold with heat and vice versa, which are evident medical means; and speculative, like cauterization and charms. For certain means, abandoning them is not reliance but forbidden if death is feared. For speculative means, reliance requires abandoning them, as the Prophet (ﷺ) described the reliant thus. For probable means, like evident medical treatments, using them does not negate reliance, unlike speculative means, and abandoning them is not forbidden, unlike certain means, but may be preferable in some cases or for some people, placing it between the two. Thus, in Al-Fusul Al-Imadiyyah, chapter 34, and Al-Alamgiriyyah.
Note 1
قوله
(١) قوله: من اكتوى: أي بالغ في أسباب الصحة إلى أن أكتوي من غير ضرورة ملجئة. كذا في (المرقاة).
Note 2
قوله
(٢) قوله: فقد برئ من التوكل: اعلم بأن الأسباب المزيلة للضرر تنقسم إلى مقطوع به، كالماء المزيل لضرر العطش،والخبز المزيل لضرر الجوع، وإلى مظنون كالفصد والحجامة وشرب المسهل، وسائر أبواب الطب، أعني معالجةالبرودة بالحرارة، ومعالجة الحرارة بالبرودة، وهي الأسباب الظاهرة في الطب، وإلى موهوم كالكي والرقية.وأما المقطوع به فليس تركه من التوكل، بل تركه حرام عند خوف الموت، وأما الموهوم فشرط التوكلتركه؛ إذ به وصف رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم المتوكلين، وأما الدرجةالمتوسطة وهو المظنونة، كالمداواة بالأسباب الظاهرةعند الأطباء، ففعله ليس مناقضا للتوكل، بخلاف الموهوم، وتركه ليس محظورا، بخلاف المقطوع به، بل قد يكونأفضل من فعله في بعض الأحوال، وفي حق بعض الأشخاص فهو على درجة بين الدرجتين. كذا في(الفصولالعمادية) في الفصل الرابع والثلاثين. كذا في(العالمكيرية).
Note 1
ابن قتیبہ نے کہا ہے کہ داغ کی دو قسمیں ہیں (1) تندرست آدمی کا داغ لینا تاکہ بیمار نہ ہواور
اس بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ داغ لینے والا توکل نہیں کیا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ تقدیر کو دفع کرے اور
تقدیر دفع نہیں کی جاسکتی۔ دوسری قسم (2) جراح کا داغ لینا جب کوئی بیماری آئے یعنی فاسد مادّہ جمع
ہوجائے اور کوئی عضو کاٹ دیا جائے تو ایسی صورت میں داغ سے علاج کرنا مشروع ہے۔ اور شخص کسی
احتمال کی وجہ سے داغ دینا، تو یہ خلاف اولی ہے کیونکہ اس میں ایک غیر محقق کام کے لئے آگ سے
پیشگی تکلیف دینا ہے۔ اور ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کام کا کرنا اس کے جواز پر دلالت کرتا
ہے اور کسی کام کا نہ کرنا منع پر دلالت نہیں کرتا بلکہ وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کو نہ کرنا اس کو
کرنے کے مقابلہ میں قابل ترجیح ہے اور اب رہا اس سے جو منع کیا گیا ہے وہ یا تو کراہت تنزیہی کی
بناء پر ہے یا ایسی صورت سے متعلق ہے جس میں شفاء یقینی نہ ہو۔ (حاشیہ کوکب دری)
Note 2
1 قولہ: من اکتوی: (جس شخص نے داغ لیا) یعنی تندرستی کے اسباب کو اختیار کرنے میں اس قدر مبالغہ کیا کہ
شدید ضرورت کے بغیر داغ لیا۔ (مرقات)
2 قولہ: فقد برئ من التوکل (وہ توکل سے بری ہے) تم اس بات کو جانو کہ ضرر کو دور کرنے کے اسباب کی
چند قسمیں ہیں (1) ایک قطعی ہے جس کے بارے میں یقین کرسکتے ہیں جیسے پانی جو پیاس کی تکلیف کو دور کرتا
ہے اور روٹی جو بھوک کی تکلیف کو دور کرتی ہے اور (2) ظنی یعنی جس کے بارے میں گمان کیا جاسکتا ہے جیسے
فصد یعنی رگ کو کھولنا اور پچھنا لگانا اور جلاب کی دوا پینا اور دیگر طبّی علاجات، مثلاً سردی کا گرمی سے اور گرمی کا
سردی سے علاج کرنا اسی قسم سے ہیں اور یہ علاج معالجہ کے ظاہری اسباب ہیں (3) اور تیسری قسم موہوم ہے
جیسے داغ دینا اور دم کرنا ہے۔ اب رہا جو قسم قطعی ہے اس کو چھوڑنا توکل نہیں ہے بلکہ اس کو چھوڑنے سے موت
کا اندیشہ ہوتو اس کو چھوڑنا حرام ہے اور جو قسم موہوم ہے تو توکل کے لئے اس کو چھوڑنا شرط ہے کیونکہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو متوکلین کی صفت فرمایا ہے اب رہا درمیانی درجہ وہ جو ظنی ہے جیسے حضرات اطباء کا
اسباب ظاہری سے علاج کرنا تو اس کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے برخلاف اس قسم کے جو موہوم ہے۔
اور اس کو چھوڑنا بھی ممنوع نہیں ہے برخلاف اس قسم کے جو قطعی ہے۔ بلکہ بعض حالات میں اور بعض اشخاص
کے حق میں بھی اس کو چھوڑنا افضل ہوتا ہے اور اس کا درجہ دوسری دو قسموں کے درمیان میں ہے اور یہ کتاب
’’فصول عمادیہ‘‘ کی 34 ویں فصل میں ہے (عالمگیریہ)
1 قولہ: فابردوها بالماء (اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو) امام نووی نے کہا بردوھا بالماء تم اس کو پانی سے ٹھنڈا
کرو۔ اس میں اس کا طریقہ اور اس کی حالت کا کوئی بیان نہیں ہے۔ اور اطباء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ
صفراوی بخار والے کو نہایت ٹھنڈا پانی پلا کر ٹھنڈا کیا جائے اور اس کو برف بھی پلاتے ہیں اور اس کے ہاتھ پیر کو
ٹھنڈے پانی سے دھوتے ہیں۔ یہ بات بعید نہیں ہے کہ آپ ﷺ کی مراد اسی قسم کا بخار اور اسی طرح کا دھونا ہو
جس طرح ان اطباء نے کہا ہے۔ پس اعتراض کرنے والے بے دین ملحد کے لئے سوائے اس کی کھری ہوئی
جھوٹ کے کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ (مرقات)
1 قوله: بما كان فى القرآن (قرآن میں جو ہے اس سے اور اللہ کے ذکر سے دم کرنے میں کوئی حرج
نہیں) یعنی قرآن مجید کی آیتوں اور اس کے حروف سے اور اسی طرح مطلق ذکر سے بھی وہ عربی زبان میں
ہو یا غیر عربی میں جب کہ اس کے معنی اچھے ہوں اور اسی طرح قرآن مجید یا غیر قرآن مجید کو کسی چیز پر لکھنا
اور اس کو دھو کر مریض کو پلانا بھی جائز ہے اور شفاء کی آیتیں جو قرآن مجید میں آئی ہیں۔ اور سارا قرآن مجید
شفاء ہے۔ اور اس باب میں سورۃ فاتحہ کی نہایت تاثیر ہے اور مجرب ہے، اب رہا وہ جس کے معنی معلوم نہ
ہوں اس طرح کہ الفاظ نادر ہوں اور معنی معلوم نہ ہو تو اس سے تعویذ کرنا جائز نہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے وہ کفر یا
شرک کا ایسا کلمہ ہو جس کو اکثر تعویذ کرنے والے اور اس کو استعمال کرنے والے کرتے ہیں۔ مگر یہ کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کو پیش کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس کی اجازت دی ہو۔ اس بحث کی
مزید تفصیلات مدارج النبوۃ، مواہب لدنیہ اور اس کی شرح اور حصن حصین اور اس کی شرح میں ہے اور تعلیق
ممجد میں ہے۔
1 قولہ: عن النشرة الخ (نشرہ جاہلیت کے الفاظ سے) صاحب بذل المجهود نے کہا ہے اس سے مراد اہل جاہلیت کا
وہ خاص قسم کا جھاڑ پھونک کرنا مراد ہے جس کے ذریعہ سے وہ علاج کرتے اور سمجھتے تھے کہ ان کی بیماری سے وہ
شفاء دے گا اور اس میں شرکیہ الفاظ ہوتے تھے۔
1 قوله: الا تعلمين هذه رقية النملة (تم پھسلیوں پر ظاہر ہونے والی پھنسیوں نمل کی تعویذ کیوں نہیں سکھاتیں)
صاحب بذل المجہود نے کہا ہے کہ نملہ نون کو زیر اور میم کو سکون کے ساتھ ہے وہ پھنسیاں ہیں ایک پہلو یا دونوں
پہلوؤں میں نکلتی ہیں۔ اور رقية النملة پھسلیوں کے پھنسیوں کی تعویذ ایک کلام تھا جس کو عرب عورتیں استعمال
کرتی تھیں اور ہر سننے والا جانتا تھا کہ یہ کلام نہ ضرر پہنچاتا ہے اور نہ نقصان، اور اس تعویذ میں یوں کہا جاتا تھا۔
العروس تحتفل وتختضب وتكتحل و كل شيء تفعل غير ان لاتعصى الرجل (دلہن خوشی مناتی
ہے مہندی لگاتی ہے سرمہ لگاتی ہے اور ہر چیز کر سکتی ہے مگر وہ مرد کی نافرمانی نہیں کر سکتی)۔
2 قوله: كما علمتيها الكتابة (جس طرح تم نے ان کو لکھنا سکھایا) اس حدیث شریف میں دلیل ہے کہ
عورتوں کو لکھنا سکھانا جائز ہے اب رہا یہ حدیث شریف کہ ”لا تعلموهن الكتابة“ ”تم ان کو لکھنا مت سکھاؤ
تو یہ مجہول ہے ایسے آدمی کے بارے میں جو ان کو لکھنا سکھانے میں فساد کا اندیشہ کرتا ہے۔ (بذل المجہود)
1 قولہ: لا رقية الا من عين او حمة (تعویذ نہیں ہوتی مگر نظر کی وجہ سے یا ڈنک کے زہر سے) شرح السنہ
میں ہے کہ اس میں ان دونوں کے سوا باقی سے تعویذ کرنے کے جواز کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ تمام بیماریوں میں
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تعویذ کرنا جائز ہے۔ اور اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے لئے تعویذ
سب سے زیادہ بہتر اور نافع ہے جیسا تم کہتے ہو لا فتى الا على لا سيف الا ذو الفقار (نوجوان تو علی رضی اللہ تعالیٰ
عنہ ہیں اور تلوار تو ذو الفقار ہے۔ (مرقات)
2 قولہ: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الرقية الخ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
اجازت دی تعویذ کرنے کی) علامہ تورپشتی نے کہا ہے کہ رخصت (کسی چیز کی اجازت دینا) اس کا تصور منع
کئے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دم کرنے سے پہلے منع فرمائے تھے کیونکہ اس میں
جاہلیت کے زمانے کے الفاظ ہوتے تھے اس لئے لوگ دم کرنے سے رک گئے تھے۔ اور جب اس میں جاہلیت
کے الفاظ نہیں رہے تو آپ نے اس کی اجازت دے دی۔ (مرقات)
1 قولہ: فغسل له عامر (تو عامر نے ان کے لئے اپنے اعضاء کو دھویا) صاحب رد المحتار نے بھی اس کا ذکر کیا
ہے۔
1 قولہ: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اذهب البأس الخ (اے لوگوں کے پروردگار تو
تکلیف کو دور کر دے) صاحب تعلیق مجد نے کہا ہے یہ دعائیں جو اس روایت میں آئی ہیں اور اس جیسی دوسری
دعائیں جو حدیث شریف کی کتابوں میں مذکور ہیں اور بہت سی دعائیں جو روحانی الٰہی علاجات کے بطور
صاحب مواہب وغیرہ نے جمع کیا بہت مفید ہیں بلکہ طبعی علاجات کا بھی اثر پوری طرح اس کے بغیر نہیں ہوتا
اور میں اس کا فائدہ اٹھایا ہوں اور مجھے متعدد مرتبہ مہلک بیماریاں لاحق ہوئی تھیں اطباء ان کے علاج سے عاجز
آگئے تھے تو میں ان دعاؤں کے ذریعہ علاج کیا تو ایسا ہو گیا کہ میں بندھن سے کھل گیا۔ اس پر اللہ کا شکر ہے
جس کا ایمان کامل ہو اور اعتقاد بھی اچھا ہو تو وہ بھی ایسا پائے گا جیسا میں پایا ہوں۔ (تعلیق مجد)
1 قولہ: فانه مستحب (تو وہ مستحب) تم اس بات کو جانو کہ تعویذ کی چند قسمیں ہیں ان میں سے بعض بزرگوں
سے منقول ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ پانی پر دم کرنے پھر مریض کا اس
سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں۔
2 قولہ: التميمة الخ (تعویذ) شمنی میں ابن اثیر سے منقول ہے کہ ”تمائم“ ”تميمة“ کی جمع ہے۔ وہ منکے
ہوتے تھے جن کو عرب اپنی اولاد پر لٹکایا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اس کے ذریعہ نظر سے بچتے ہیں۔ تو اسلام
نے اس کو باطل کر دیا۔ حمٰی اور حافظہ کے بازو پر تعویذیں باندھنا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ لپٹے
ہوئے ہوں۔ (ماخوذ از ردالمحتار)
3 قولہ: ما ابالى ما اتيت الخ (مجھے پروا نہیں جو میں کروں) ابن ملک نے کہا یعنی مجھ پر شطرنج کرنا حرام ہے
اور اسی طرح تریاق پینا اور تعویذیں لٹکانا دونوں مجھ پر حرام ہے۔
٤٣٩٣ - وَعَنْ جَابِرِ رضي الله عنه قَالَ: رُمِيَ أُبَيَّ يَوْمَ الْأَحْرَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم رَوَاهُ مُسْلِمْ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5723 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 5724 (unverified) 94% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2210a (unverified) 93% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2212 (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
cool it with water
(1) The statement: "cool it with water": Al-Nawawi said: “Cool it with water” does not specify the method or condition. Physicians agree that for bilious fever, the patient is cooled with very cold water, given ice, and their limbs are washed with cold water. It is likely the Prophet (ﷺ) meant this type of fever and washing as they described, leaving no room for heretics to fabricate lies. Thus, in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(١) قوله: فأبردوها بالماء: قال النووي: (أبردوها بالماء) ليس فيه ما يبين صفته وحالته، والأطباء يسلمون أن الحمىالصفراوية يبرد صاحبها بسقي الماء البارد الشديد البرودة، ويسقونه الثلج، ويغسلون أطرافه بالماء البارد، فلا يبعد أنه صلي الله عليه واله وسلم أراد هذا النوع من الحمي والغسل نحو ما قالوه، فلم يبق للمحلد المعترض إلا اختراعه الكذب. كذا في(المرقاة).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2200 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
with Allah’s remembrance or Quran
(1) The statement: "with Allah’s remembrance or Quran": Meaning its verses and letters, or any remembrance, provided it is in Arabic or another known language. It is permissible to write Quran or other words, wash them, and give them to the sick to drink. The healing verses of the Quran—and the entire Quran is healing—especially Surah Al-Fatihah, have a profound effect. Unknown or strange words are not permissible for charms, as they may contain disbelief or polytheism, common in many charm practices, unless presented to the Prophet (ﷺ) and approved. Further details are in Madarij An-Nubuwwah, Al-Mawahib Al-Ladunniyyah and its commentary, and Al-Hisn Al-Hasin and its commentary. Thus, in At-Ta’liq Al-Mumajjad.
Note 1
قوله
(١) قوله: بما كان في القرآن: أي بآياته وحروفه كذا مطلق الذكر بشرط أن يكون بلسان عربي أو غيره، ويعرف معناه،وكذا يجوز أن يكتب شيء من القرآن أو غيره على شيء، ويغسل به ويسقى المريض. ولآيات الشفاء الواردة في القرآن-والقرآن كله شفاء - ولسورة الفاتحة في هذا الباب تأثير بليغ مجرب، وأما ما كان لا يعرف معناه، بأن يكون فيهألفاظ مجهولة المعنى غريبة المبني، فلا يجوز أن يرقى به؛ لاحتمال أن يكون فيه كلمة كفر أو شرك مما يتضمنه رقىأكثر أرباب الرقى، إلا أن يكون عُرض على النبي صلي الله عليه واله وسلم وأجازه. وزيادة التفصيل في هذا البحث في (مدارج النبوة)و(المواهب اللدنية) وشرحه و(الحصن الحصين) وشرحه. كذا في (التعليق الممجّد).
Note 1
امام محمد رحمہ اللہ نے موطا میں فرمایا اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں قرآن میں جو ہے اس سے
اور اللہ کے ذکر سے دم کرنے میں کوئی حرج1 نہیں لیکن کسی ایسے کلام سے جو سمجھ میں نہ آتا ہو تعویذ
کرنا مناسب نہیں ہے۔
٤٤٠١ - وَعَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم عَنِ 2 النُّشْرَةِ فَقَالَ: (هُوَ مِنْ عَمَلِالشَّيْطَانِ). رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3868 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
about nushrah
(2) The statement: "about nushrah": Refers to a type used by pre-Islamic people, claiming it healed their illnesses, but it contained polytheistic words. Thus, in Bazl al-Majhood.
Note 2
قوله
(٢) قوله: عن النشرة إلخ: قال في (بذل المجهود): وإنما أراد بها النوع الذي كان أهل الجاهلية يعالجون به، ويزعمونأنه يشفيهم من مرضهم، ويكون فيها من الألفاظ الشركية.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3887 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
the charm for namlah
(1) The statement: "the charm for namlah": In Bazl al-Majhood: Namlah refers to sores on the side(s). The charm for namlah was words used by Arab women, known to listeners as harmless and ineffective, like: The bride adorns, dyes, and applies kohl, doing everything, but does not disobey the man.
Note 2
as you taught her writing
(2) The statement: "as you taught her writing": This indicates the permissibility of teaching women to write. The hadith “Do not teach them writing” applies to cases where corruption is feared. Thus, in Bazl al-Majhood.
Note 1
قوله
(١) قوله: ألا تعلمين هذه رقية النملة: قال في (بذل المجهود): النملة بفتح النون وسكون الميم، وهي قروح تخرج فيالجنب أو الجنبين، ورقية النملة كلام كانت لنساء العرب تستعمله يعلم كل من سمعه أنه كلام لا يضر ولا ينفع، وهيأن يقال: العروس تحتفل وتختضب وتكتحل وكل شيء تفتعل، غير أن لا تعصي الرجل.
Note 2
قوله
(٢) قوله: كما علمتيها الكتابة: فيه دليل على جواز تعلم النساء الكتابة، وأما حديث:(لا تعلموهن الكتابة) فمحمولعلى من يخشى في تعليمها الفساد. كذا في (بذل المجهود).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2057 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 3884 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3513 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
No charm except for the evil eye or venom
(1) The statement: "No charm except for the evil eye or venom": In Sharh As-Sunnah: This does not negate the permissibility of charms for other conditions with Allah’s remembrance. It means no charm is more beneficial than for these two, like saying: No hero but Ali, no sword but Dhulfiqar. Thus, in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(١) قوله: لا رقية إلا من عين أو حمة: في (شرح السنة) لم يرد به نفي جواز الرقية من غيرهما، بل تجوز الرقية بذكر اللّٰهتعالى في جميع الأوجاع، ومعنى الحديث: لا رقية أولى وأنفع من رقيتهما، كما تقول: لا فتى إلا علي، ولا سيف إلا ذوالفقار. كذا في (المرقاة).
٤٤١٠- وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: رَخَّصَ1 رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ.رَوَاهُ مُسْلِمُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2196a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
permitted charms
(1) The statement: "permitted charms": Al-Turbashti said: Permission follows prohibition. The Prophet (ﷺ) forbade charms due to possible pre-Islamic words, so people stopped. He then permitted them if free of such words. Thus, in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(١) قوله: رخص رسول اللّٰه وَا يم في الرقية إلخ: قال التوربشتي: الرخصة إنما تكون بعد النهي، وكان صلي الله عليه واله وسلم قد نهى عنالرقى؛ لما عسى أن يكون فيها من الألفاظ الجاهلية، فانتهى الناس عن الرقى، فرخص لهم فيها إذا عريت عن الألفاظالجاهلية. كذا في (المرقاة).
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
what the Messenger of Allah said
(1) The statement: "what the Messenger of Allah said": In At-Ta’liq Al-Mumajjad: These supplications and similar ones in hadith books, compiled by the author of Al-Mawahib and others, are highly beneficial divine remedies. Natural medicines are incomplete without them. I have experienced their benefit. I faced deadly illnesses that baffled doctors, treated them with these, and was as if released from bonds. Praise be to Allah. Those with perfect faith and sound belief will find what I found.
Note 2
are recommended
(2) The statement: "are recommended": Some charms are transmitted from the predecessors. Aisha said there is no harm in seeking protection in water for treatment. Mujahid said there is no harm in writing Quran, washing it, and giving it to the sick. Ibn Abbas ordered a man to write two Quranic verses and words for a woman with difficult labor, wash them, and give her to drink. Sa’id bin Al-Musayyib was asked about small papers with Quran hung on women or children and said: No harm if wrapped in leather, iron, or sewn. Blowing (nafth) is in authentic hadiths. Thus, in Al-Musawwa.
Note 1
قوله
(١) قوله: كان رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم يقول: اذهب البأس إلخ: قال في (التعليقالممجّد): وهذه الأدعية الواردة في هذهالرواية وأمثالها مما هو مذكور في كُتُب الحديث، وجمع كثيرا منها صاحب (المواهب) وغيره من الأدوية الروحانيةالآلهية نافعة جدا، بل لا أثر للأدوية الطبعية تاما بدونها. وقد جربت نفعها وأخذت بحظها. وقد عرض لي مراتأمراض مهلكة أعجزت الأطباء، فعالجت بهذه، فكأني نشطت من عقال، وقال: ولله الحمد على ذلك، ومن كمل أيمانهوحسن اعتقاده وجد مثل ما وجدته.
Note 2
قوله
(٢) قوله: فإنه مستحب: اعلم أن للرقية أنواعا، بعضها مأثورة عن السلف، فقد روي عن عائشة أنها كانت لا ترىبأسا أن يعوذ في الماء، ثم يعالج به المريض. وقال مجاهد: لا بأس أن يكتب القرآن، ويغسله، ويسقيه المريض، وأمر ابنعباس رجلًا أن يكتب لا مرأة يعسر عليها الولادة آيتين من القرآن وكلمات، ثم يغسل وتسقى، وسئل سعيد بن المسيبعن الصحف الصغار يكتب فيها القرآن يعلق على النساء والصبيان، فقال: لا بأس بذلك إذا جعل في كبر من ورق أوحديد أو يخزر عليه. وقد روي النفث في الأحاديث المرفوعة. كذا في (المسوى).
Note 1
صاحب مسوّٰی نے کہا کہ دم کرنے سے متعلق احادیث مختلف ہیں ان سب کو جمع کرنے کا
طریقہ یہ ہے کہ ان کو الگ الگ احوال پر محمول کیا جائے۔ جس میں شرک کی کوئی چیز ہو، یا سرکش
شیاطین کا ذکر ہو، یا وہ عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں ہو اور اس کے معانی معلوم نہ ہوں تو وہ منع
ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اس میں جادو یا کفر شامل ہو۔ لیکن جو تعویذ قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی
ہو تو وہ مستحب 1 ہے۔ (مسوی)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The disliked amulet
(1) The statement: "The disliked amulet": In Ash-Shalbi from Ibn Al-Athir: Amulets are beads the Arabs hung on their children, believing they warded off the evil eye, which Islam abolished. There is no harm in tying charms on the arm for the side or menstruating women if wrapped. Cited from Radd al-Muhtar.
Note 1
قوله
(١) قوله: التميمة إلخ: وفي (الشلبي) عن ابن الأثير: التمائم جمع تميمة، وهي خزرات كانت العرب تعلقها علىأولادهم، يتقون بها العين في زعمهم، فأبطلها الإسلام. ولا بأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذاكانت ملفوفة. التقطته من (رد المحتار).
Note 1
درمختار اور مجتبیٰ میں ہے: تعویذ مکروہ 2 ہے جو عربی زبان کے سوا میں ہو۔
مجاہد نے کہا ہے کہ قرآن مجید کو لکھنے، اس کو دھو کر اور مریض کو پلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک شخص کو ایک عورت کے لئے جس کی زچگی مشکل ہو گئی تھی قرآن
مجید کی دو آیتیں اور چند کلمات لکھنے پھر اس کو دھو کر عورت کو پلانے کا حکم دیا۔ حضرت سعید بن مسیب
سے ان چھوٹی تعویذوں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں قرآن لکھا جا کر عورتوں اور بچوں پر لٹکایا
جاتا ہے تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے وہ کسی چاندی یا لوہے کے پتر میں لکھا جائے یا
اس پر کندہ کیا جائے اور مرفوع احادیث شریفہ میں دم کرنا بھی مروی ہے۔ (مسوی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3869 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
I care not what I do
(1) The statement: "I care not what I do": Ibn Al-Malik said: This means composing poetry, drinking theriac, or hanging amulets is forbidden for me. For the nation, amulets and poetry are not forbidden if free of lies, slandering Muslims, or sins. Likewise, theriac without forbidden ingredients like snake meat or wine is permissible. Thus, in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(١) قوله: ما أبالي ما أتيت إلخ: قال ابن الملك: يعني أن إنشاء الشعر حرام علي، وكذا شرب الترياق وتعليق التمائمحرامان علي، وأما في حق الأمة، فالتمائم وإنشاء الشعر غير حرام إذا لم يكن فيه كذب ولا هجو مسلم أو شيء منالمعاصي، وكذا الترياق الذي ليس فيه محرم شرعا من لحوم الأفاعي والخمر ونحوه. كذا في (المرقاة).
Note 1
اب رہا امت کے حق میں تو تعویذیں اور شعر نظم کرنا حرام نہیں ہے جب کہ اس میں جھوٹ اور
کسی مسلمان کی ہجو اور گناہ کی کوئی شئی نہ ہو اسی طرح اس تریاق کا حکم ہے جس میں سانپوں کا گوشت
اور شراب اور اس جیسی چیزوں میں سے شرعاً کوئی حرام چیز نہ ہو۔ (مرقات)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "The prohibition is without necessity": Bukhari titled a chapter in his Sahih: “On one who cauterizes or is cauterized, and the virtue of not cauterizing.” Al-Hafiz said: It seems he meant cauterization is permissible for need, but preferable to avoid if not essential, and it applies whether one does it themselves or for others. Bukhari cited Jabir’s hadith: If any of your medicines hold healing, it is in a cut of the cupping tool or a sting of fire, but I dislike cauterization. Al-Hafiz elaborated on narrations permitting and prohibiting it, then said: The prohibition is understood as dislike or less preferable, based on the collective hadiths. Some said it was specific to Imran, who had hemorrhoids in a dangerous spot, so the Prophet (ﷺ) forbade cauterizing it, but when it worsened, he cauterized it, and it failed. Ibn Qutaybah said: Cauterization is of two types: for the healthy to prevent illness, which is meant by “Whoever cauterizes is not relying on Allah,” as it seeks to defy fate, which cannot be defied; and for treating wounds or severed limbs, which is permissible. If cauterization is for a tolerable condition, it is less preferable due to inflicting pain with fire for something uncertain. The reconciliation: the act indicates permissibility, but not acting does not indicate prohibition; rather, avoiding it is better, and the prohibition is either advisory or for cases where it is not the only path to healing. Thus, in the margin of Al-Kawkab Ad-Durri.
Note 1
(١)قوله: والنهي من غير ضرورة داعية إليه إلخ: بوب البخاري في صحيحه (باب من اكتوى أو كوى غيره، وفضلمن لم يكتو) قال الحافظ: كأنه أراد أن الكي جائز للحاجة، وأن الأولى تركه إذا لم يتعين، وأنه إذا جاز كان أعم من أنيباشر الشخص ذلك بنفسه أو بغيره لنفسه أو لغيره. وذكر البخاري فيه حديث جابر مرفوعًا:(إن كان في شيء منأدويتكم شفاء، ففي شرطة محجم أو لدغة بنار، وما أحب أن أكتوي). وبسط الحافظ في روايات الباب إباحةً ونهيًا، ثمقال: والنهي محمول على الكراهة أو على خلاف الأولى؛ لما يقتضيه مجموع الأحاديث. وقيل: إنه خاص بعمران؛ لأنهكان به الباسور، وكان موضعه خطرا، فنهاه عن كيّه، فلما اشتد عليه كواه، فلم ينجح. وقال ابن قتيبة: الكي نوعان،كيّ الصحيح؛ لئلا يعتل، فهذا الذي قيل فيه: لم يتوكل من اكتوى؛ لأنه يريد أن يدفع القدر، والقدر لا يدافع،والثاني: كيّ الجراح إذا اعتل، أي فسد، والعضو إذا قطع، فهو الذي يشرع التداوي به، فإن كان الكي لأمر محتمل فهوخلاف الأولى؛ لما فيه من تعجيل التعذيب بالنار لأمر غير محقق. وحاصل الجمع: أن الفعل يدل على الجواز، وعدمالفعل لا يدل على المنع، بل يدل على أن تركه أرجح من فعله، وأما النهي عنه فإما على سبيل الاختيار والتنزيه، وإماعما لا يتعين طريقا إلى الشفاء. كذا في هامش (الكوكب الدري).
Note 1
ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری نے کہا: ممانعت ایسی صورت میں ہے جب کہ اس کی ضرورت 1 لاحق نہ ہو۔ اور اس توجیہ سے تمام روایات کو جمع کیا جا سکتا ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا داغ لینا بھی درست ہو جاتا ہے ورنہ ان سے حضور علیہ وآلہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کی ممانعت کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے۔ اور جب داغ لینا جائز ہوا تو وہ شخص خود ہی داغ لے یا کوئی دوسرا اس کو داغ دے یا یہ کسی دوسرے کو داغ دے یہ سب صورتیں جائز ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس میں سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے ”ان كان في شيء من ادويتكم شفاء ففي شرطة محجم او لدغة بنار، و ما احب ان اكتوى“۔ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں شفاء ہے تو سینکھی کے نشتر میں ہے یا آگ سے داغ میں ہے اور میں داغ کو پسند نہیں کرتا۔ اور حافظ نے اس باب کی روایات میں اس کے جواز اور عدم جواز سے متعلق تفصیل سے بیان کیا ہے پھر انہوں نے کہا ہے کہ تمام احادیث اس بات کے متقاضی ہیں کہ نہی کو کراہیت یا خلاف اولیٰ پر محمول کیا جائے اور اس بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ممانعت حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے خاص ہے کیونکہ ان کو بواسیر تھی اور اس پر خطرہ کی جگہ ہوتی ہے اس لئے آپ ﷺ نے داغ لینے سے منع فرمایا اور جب اس میں شدت ہو گئی تو وہ داغ لینے اور کامیاب نہیں ہوئے۔