Hadith 1153
Volume 1English
Prayer · Chapter 13
103 narrations · In source reading order
English
English
Mishkat (candidate) 856
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
علامہ عینی رحمہ اللہ نے شرح بخاری میں اس حدیث شریف کے بیان میں کہا ہے کہ اس کی روایت صحابہ کرام کی ایک جماعت نے کی ہے جن کے نام یہ ہیں، جابر بن عبداللہ ابن عمر، ابوسعید خدری، ابوہریرہ، ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم۔ علاوہ ازیں امام حارثی رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کتاب کشف الاسرار میں یہ روایت لکھی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں دس جلیل القدر صحابہ مقتدی کے لئے بڑی شدت سے قرأت خلف الامام کی ممانعت فرماتے تھے ان کے نام یہ ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، سعید بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔ اس بارے میں علامہ عابد سندی مدنی رحمہ اللہ نے شرح مسند امام اعظم رضی اللہ عنہ میں لکھا ہے کہ قرأت خلف الامام کی ممانعت مذکورہ دس صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہوچکی ہے جن کا رد کسی صحابی نے نہیں کیا، حالانکہ اس وقت صحابہ کرام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی اور اس کثرت کے باوجود کسی صحابی کا ان دس صحابہ پر رد نہ کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ کا قرأت خلف الامام کی ممانعت پر سکوت حقیقت میں تمام صحابہ کرام کا اجماع سکوتی ہے جو شرعاً لائق حجت ہے۔
English
ف(1): حدیث مذکور سے یہ ثابت ہوگیا کہ مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ مقتدی قرأت نہیں کررہا ہے بلکہ مقتدی بھی قرأت کررہا ہے اس لئے کہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے، جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا اس طرح جب مقتدی کا قرأت کرنا شرعاً ثابت ہوگیا تو پھر مقتدی امام کی قرأت کے علاوہ خود بھی قرأت کرے تو اس سے ایک نماز میں دو قرأتیں ثابت ہو جائیں گی جو شرعاً ناجائز ہے۔ اس کو امام ابن الہمام رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ ف(2): مذکورہ حدیث میں جو ذکر ہے کہ ”امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے اس کے متعلق ہمارے علماء نے کہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت کا بدل اور قائم مقام ہے، اگر مقتدی امام کے پیچھے خود بھی قرأت کرے تو مقتدی کی قرأت جو اصل ہے وہ اور امام کی قرأت جو مقتدی کی قرأت کے قائم مقام ہے دونوں کا جمع کرنا لازم آئے گا جو جائز نہیں ہے، جیسا کہ وضو اور تیمم دونوں کا ایک ساتھ جمع کرنا ناجائز ہے اس لئے کہ وضو اصل ہے اور تیمم اس کا قائم مقام۔ (ابن الہمام۔)
English
English
English
English
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
English
English
English
English
English
English
Mishkat (candidate) 855
Confidence and text similarity are not editorial verification.
محمد نے کی ہے۔ اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے متعلق کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے، اور امام طحاوی نے بھی اس حدیث کی اسی طرح روایت کی ہے اور امام مالک نے بھی اس کی روایت کی ہے، اور امام مالک نے اس حدیث کی جو روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے ”وَإِذَا صَلّٰى وَحْدَهٗ فَلْيَقْرَءْ“، یعنی مقتدی کو امام کی قرأت کافی ہے ہاں اگر وہ مسبوق ہو تو باقی نماز میں قرأت کیا کرے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما قرأت خلف الامام نہیں کرتے تھے اور آپ کی شان یہ ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا کرتے تھے اور اپنے زمانہ میں اسی وجہ سے اتباع سنت میں سب سے زیادہ مشہور تھے اس لئے آپ کا قرأت خلف الامام نہ کرنا عین سنت ہے۔
English
English
English
English
English
ف: امام جصاص رازی رحمہ اللہ کی احکام القرآن میں قرأت خلف الامام کرنے والے کے متعلق تہدیداً منقول ہے ”اچھا ہے کہ اس کے دانت توڑ دیئے جائیں“ اور امام مزنی رحمہ اللہ نے بھی قرأت خلف الامام کرنے والے کے متعلق تہدیداً کہا یہ کہ ”مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے منہ کو مٹی سے بھر دیا جائے“۔
English
English
English
English
English
ف: واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیثوں میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قرأت خلف الامام کرنے والے کے بارے میں مختلف تحدیدیں مذکور ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قرأت خلف الامام کرنے والے کے منہ میں پتھر ہو، دوسری حدیث میں یوں مذکور ہے کہ ایسے شخص کا منہ مٹی سے بھر دیا جائے، ایک اور حدیث یہ ہے کہ منہ میں انگارا رکھ لینا قرأت خلف الامام کرنے سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان احادیث میں قرأت خلف الامام کرنے والے پر جو تحدیدیں مذکور ہیں، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کے بارے میں صحابہ کرام کا اجماع ہو چکا تھا صحابہ کرام کے اس اجماع پر صدری وہ تمام حدیثیں مؤید ہیں جن میں قرأت خلف الامام نہ کرنے کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ علاوہ ازیں اس بارے میں نقلی دلیلوں کے سوا امام طحاوی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل بھی گزر چکی ہے جس میں قیاس کے ذریعہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کو ثابت کیا گیا ہے۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: "That the Bismillah is not part of Al-Fatihah"—this will be further elaborated in the Book of Virtues of the Quran in the second chapter.
(۱) قوله : أن التسمية ليست من الفاتحة: سيأتي تحقيقه في كتاب فضائل القرآن في الباب الثاني.
ف: علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کے دو حصے کے ہیں پہلا حصہ جو ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ○ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ○ مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ○ کی تین آیتوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے مختص کر رکھا ہے اور دوسرا حصہ جو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ○ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ○ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ ○ کے تین آیتوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ سے مخصوص فرمایا اور ”اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ“ کو ان دونوں حصوں کی درمیانی آیت قرار دیا اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے بندہ کے درمیان مشترک رکھا۔ اس طرح سورہ فاتحہ کی سات آیتیں ہو گئیں۔ علامہ حلبی رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کا پہلا حصہ جو تین آیتوں پر مشتمل ہے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ رب العالمین سے شروع فرمایا ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سے شروع نہیں فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اگر ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہ فاتحہ کو الحمد للہ رب العالمین سے شروع فرمانے کی بجائے ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سے شروع فرماتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا نہیں کیا تو صراحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے۔ تفصیل مذکورہ سے جب یہ ثابت ہو گیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے تو لازمی طور پر یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‘ دوسری سورتوں کا بھی جزو نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ اور دوسری سورتوں کا جزو نہ ہونے کے بارے میں صرف دو ہی مذہب ہیں ایک مذہب یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ اور دیگر تمام سورتوں کا جزو ہے اور دوسرا مذہب یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اور اسی طرح دوسری سورتوں کا بھی جزو نہیں۔ ان دو مذہبوں کے سوا تیسرا مذہب کسی نے اس طرح اختیار نہیں کیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا تو جزو نہ ہو اور دوسری سورتوں کا جزو ہو۔ صدر کی حدیث اور دلائل مذکورہ سے جن کو علامہ حلبی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں تو لازماً یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کسی اور سورت کا بھی جزء نہیں اور یہی مذہب حنفی ہے۔ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے قطعیت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں اور یہ حدیث ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کے سورہ فاتحہ کا جزء نہ ہونے پر ایسی واضح دلیل ہے کہ جس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی، علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کے سورہ فاتحہ کا جزء نہ ہونے پر اس حدیث سے زیادہ، بہتر اور واضح دلیل مجھے نہیں ملی۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے اس حدیث کی روایت امام محمد دارقطنی اور بیہقی نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کی ہے اور اس حدیث کی سند سب سے احسن ہے اور اس کے متعلق امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے۔ اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو حنیفہ تو ابو حنیفہ ہی ہیں ان کا کیا کہنا، اور موسیٰ بن عائشہ کوفی نہ صرف ثقہ اور معتبر ہیں بلکہ بخاری اور مسلم کے راویوں میں سے ہیں، اور عبداللہ بن شداد شام کے بڑے محدث اور ثقہ ہیں اس طرح اس سند کی مذکور الصدر تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (علامہ عینی کی تحقیق یہاں ختم ہوئی۔)