On his authority, from the Prophet ﷺ, he said: "Whoever prays behind the imam, the recitation of the imam suffices for him." [Narrated by Muhammad, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi from our Imam Abu Hanifa, and this is the best of its chains]
Ibn Al-Humam declared it authentic according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim.
Al-Ayni said: "It is an authentic hadith. As for Abu Hanifa, he is Abu Hanifa. Musa bin A’isha Al-Kufi is among the trustworthy and reliable narrators, included in the books of Al-Bukhari and Muslim. Abdullah bin Shaddad is one of the senior and reliable scholars of Sham. This is a sound hadith."
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے امام کے پیچھے نماز پڑھی تو یقیناً امام کی قرأت اسی کی قرأت
ہے اس حدیث کی روایت امام محمد دارقطنی اور بیہقی نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کی ہے
اور اس حدیث کی سند سب سے احسن ہے اور اس کے متعلق امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے
کہ اس حدیث کے راوی بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے۔
اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو حنیفہ تو ابو حنیفہ ہی ہیں ان کا کیا کہنا،
اور موسیٰ بن عائشہ کوفی نہ صرف ثقہ اور معتبر ہیں بلکہ بخاری اور مسلم کے راویوں میں سے ہیں، اور
عبداللہ بن شداد شام کے بڑے محدث اور ثقہ ہیں اس طرح اس سند کی مذکور الصدر تحقیق سے ثابت ہوا
کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (علامہ عینی کی تحقیق یہاں ختم ہوئی۔)
On the authority of Abu Sa’id Al-Khudri, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever has an imam, the recitation of the imam is his recitation." [Narrated by Ibn Adi in Al-Kamil and At-Tabarani in Al-Awsat while it is narrated by Al-Daraqutni from Ibn Umar, and by At-Tahawi and Ahmad from Jabir]
Ahmad bin Mani’ also narrated from Jabir a similar hadith in his Musnad. Sheikh Ibn Al-Humam said: "The chain of Ahmad bin Mani's hadith is authentic according to the conditions of Muslim."
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اسی کی قرأت ہے۔ (اب
مقتدی کو نہ سورہ فاتحہ کی قرأت کی ضرورت ہے نہ کسی اور سورت کی۔) (اس کی روایت ابن عدی نے
کامل میں اور طبرانی نے الاوسط میں کی ہے۔)
اور دارقطنی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے
اور طحاوی اور امام احمد نے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت کی ہے۔
اور احمد بن منیع نے اپنی مسند میں جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے
اور امام ابن الہمام نے کہا ہے کہ امام احمد بن منیع کی اس حدیث کی سند مسلم کی شرط کے موافق ہے اس
لئے یہ حدیث مسلم کی حدیثوں کی طرح صحیح ہے۔
On the authority of Abdullah bin Shaddad bin Al-Had, he said: The Messenger of Allah ﷺ led the Asr prayer, and a man behind him recited, so the person next to him nudged him. When they finished the prayer, the man asked: "Why did you nudge me?" He replied: "The Messenger of Allah ﷺ was in front of you, and I disliked that you recite behind him." The Prophet ﷺ heard this and said: "Whoever has an imam, his recitation is his recitation." ]Narrated by Muhammad and Al-Daraqutni[
Al-Hakim also narrated it in his Mustadrak, and Al-Bayhaqi narrated something similar.
Al-Ayni said in his commentary on Al-Bukhari regarding this hadith: "A group of companions narrated it, including Jabir bin Abdullah, Ibn Umar, Abu Sa’id Al-Khudri, Abu Huraira, Ibn Abbas, and Anas bin Malik."
Sheikh Al-Abid As-Sindi mentioned in his explanation of Imam Abu Hanifa’s Musnad: "When the ten companions mentioned established this ruling and no one among them objected, despite the presence of many companions, it amounted to a silent consensus."
عبداللہ بن شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
(ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی عبداللہ بن شداد کہتے ہیں ایک شخص نے
(باوجود مقتدی ہونے کے) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیچھے قرأت کی تو اس شخص کے بازو والے
نے اس کو انگلی سے ٹوچا دیا، جب نماز پڑھ لی تو اس شخص نے کہا کہ آپ نے مجھے نماز میں کیوں ٹوچا دیا
تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے امام تھے تو میں نے بُرا سمجھا کہ آپ
(مقتدی ہو کر) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیچھے نماز میں قرأت کریں، اس گفتگو کو حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے سن لیا اور فرمایا کہ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اسی کی قرأت ہے۔
(اس کی روایت امام محمد اور دارقطنی نے کی ہے اور حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے بھی اسی
طرح کی روایت کی ہے۔)
علامہ عینی رحمہ اللہ نے شرح بخاری میں اس حدیث شریف کے بیان میں کہا ہے کہ اس کی
روایت صحابہ کرام کی ایک جماعت نے کی ہے جن کے نام یہ ہیں، جابر بن عبداللہ ابن عمر، ابوسعید
خدری، ابوہریرہ، ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم۔
علاوہ ازیں امام حارثی رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کتاب کشف الاسرار
میں یہ روایت لکھی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں دس جلیل القدر صحابہ مقتدی کے لئے بڑی شدت
سے قرأت خلف الامام کی ممانعت فرماتے تھے ان کے نام یہ ہیں:
حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی
طالب، عبدالرحمن بن عوف، سعید بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمر، عبداللہ
بن عباس رضی اللہ عنہم۔
اس بارے میں علامہ عابد سندی مدنی رحمہ اللہ نے شرح مسند امام اعظم رضی اللہ عنہ میں لکھا ہے
کہ قرأت خلف الامام کی ممانعت مذکورہ دس صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہوچکی ہے جن کا رد کسی صحابی
نے نہیں کیا، حالانکہ اس وقت صحابہ کرام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی اور اس کثرت کے باوجود کسی صحابی کا
ان دس صحابہ پر رد نہ کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ کا قرأت خلف الامام کی ممانعت پر سکوت
حقیقت میں تمام صحابہ کرام کا اجماع سکوتی ہے جو شرعاً لائق حجت ہے۔
On the authority of Abdullah bin Umar, from the Prophet ﷺ, he said: "Whoever has an imam, his recitation is his recitation." ]Narrated by Al-Daraqutni[
In At-Taleeq Al-Mumjid, it is mentioned: "This is the summary of the discussion on the chains of this hadith. It is concluded that some of its chains are authentic or good, without any significant flaws. Some chains are sound but mursal (with a missing link), though accepted. Others are weak but become strengthened when combined, raising them to the level of Hasan. This shows that the statement of Ibn Hajar in his Takhrij Ahadith Al-Rafi’i—that all its chains are defective—is not entirely accurate. Similarly, Al-Bukhari’s statement in Risalat Al-Qira’ah Khalf Al-Imam that this hadith is not established among the scholars of Hijaz and Iraq due to its mursal and interrupted chains also contains some weaknesses."
Our scholars said: "This hadith indicates that the follower’s recitation is fulfilled by the imam’s recitation. If the follower were to recite as well, it would mean having two recitations in one prayer, which is not legislated." Ibn Al-Humam added: "The hadith shows that the imam’s recitation substitutes for the follower’s recitation, so if the follower recited too, it would mean combining the original and the substitute, which is impermissible—like combining wudu and tayammum."
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اسی کی قرأت ہے۔
(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
ف(1): حدیث مذکور سے یہ ثابت ہوگیا کہ مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے، اس سے یہ
نہ سمجھا جائے کہ مقتدی قرأت نہیں کررہا ہے بلکہ مقتدی بھی قرأت کررہا ہے اس لئے کہ امام کی قرأت
مقتدی کی قرأت ہے، جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا اس طرح جب مقتدی کا قرأت کرنا شرعاً
ثابت ہوگیا تو پھر مقتدی امام کی قرأت کے علاوہ خود بھی قرأت کرے تو اس سے ایک نماز میں دو قرأتیں
ثابت ہو جائیں گی جو شرعاً ناجائز ہے۔ اس کو امام ابن الہمام رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔
ف(2): مذکورہ حدیث میں جو ذکر ہے کہ ”امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے اس کے متعلق
ہمارے علماء نے کہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت کا بدل اور قائم مقام
ہے، اگر مقتدی امام کے پیچھے خود بھی قرأت کرے تو مقتدی کی قرأت جو اصل ہے وہ اور امام کی قرأت
جو مقتدی کی قرأت کے قائم مقام ہے دونوں کا جمع کرنا لازم آئے گا جو جائز نہیں ہے، جیسا کہ وضو اور
تیمم دونوں کا ایک ساتھ جمع کرنا ناجائز ہے اس لئے کہ وضو اصل ہے اور تیمم اس کا قائم مقام۔ (ابن
الہمام۔)
On the authority of Ibn Umar, he said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about recitation behind the imam, and he replied: "The imam recites." ]Narrated by Al-Bayhaqi[
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے قرأت خلف الامام کے متعلق سوال کیا گیا تو حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ امام تو قرأت
کرتا ہی ہے (پھر مقتدی کو قرأت کی کیا ضرورت ہے)۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
On his authority: The Messenger of Allah ﷺ forbade reciting behind the imam. ]Narrated by Al-Bayhaqi, and by Abdul-Razzaq from Zaid bin Aslam[
In a narration from our Imam Abu Hanifa, Jabir said: A man recited behind the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ forbade him.
In Abdul-Razzaq’s narration: "The Messenger of Allah ﷺ, Abu Bakr, and Uthman used to forbid recitation behind the imam."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے قرأت خلف الامام سے ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔
اور عبدالرزاق نے بھی اس کی روایت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت اس طرح آئی ہے کہ جابر
رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے (نماز میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کی تو ان
کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت خلف الامام سے منع فرمایا۔
اور عبدالرزاق کی روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور
حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما (مقتدی کو) قرأت خلف الامام سے منع فرمایا کرتے تھے۔
On the authority of Ali, he said: A man asked the Prophet ﷺ: "Should I recite behind the imam or remain silent?" He replied: "No, remain silent, for his recitation suffices you." ]Narrated by Al-Bayhaq[
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں (نماز میں) امام کے پیچھے قرأت کیا کروں یا خاموش رہا
کروں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں (قرأت مت کیا کرو) بلکہ خاموش رہا کرو،
یہی تم کو کافی ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
On the authority of Ibn Abbas, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The recitation of the imam is sufficient for you, whether he recites silently or aloud." ]Narrated by Al-Daraqutni[
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام کی قرأت تمہارے لئے کافی ہے (جبکہ تم اس کی اقتداء کر رہے ہو)
خواہ امام آہستہ قرأت کررہا ہو یا جہر سے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
From ‘Ata bin Yasar: He asked Zayd about reciting behind the Imam, and he replied: "There is no recitation behind the Imam in anything." ]Narrated by Muslim in the chapter of Sujud al-Tilawah[
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت زید رضی اللہ
عنہ سے دریافت کیا کہ مقتدی امام کے ساتھ قرأت کرے یا نہ کرے؟ تو زید رضی اللہ عنہ نے جواب
دیا مقتدی کو کسی نماز میں (خواہ وہ سری ہو یا جہری) امام کے ساتھ قرأت نہ کرنی چاہئے۔ (خواہ سورہ
فاتحہ ہو یا ضم سورہ۔) (اس کی روایت مسلم نے باب سجود التلاوۃ میں کی ہے۔)
From ‘Ubaydullah bin Maqsim: He asked ‘Abdullah bin ‘Umar, Zayd bin Thabit, and Jabir bin ‘Abdullah, and they said: "Do not recite behind the Imam in any of the prayers." ]Narrated by Al-Tahawi[
عبیداللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر، زید
بن ثابت اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے قرأت خلف الامام کے متعلق دریافت کیا تو ان تینوں
صحابہ نے فرمایا کہ کسی نماز میں (خواہ وہ سری ہو یا جہری) قرأت خلف الامام مت کیا کرو۔ (اس کی
روایت طحاوی نے کی ہے۔)
From Jabir, he said: "One should not recite behind the Imam, neither in an audible prayer nor in a silent one." ]Narrated by Ibn Abi Shaybah in his Musannaf[
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ (مقتدی) امام کے پیچھے
قرأت نہ کیا کرے۔ (نہ جہری نماز میں نہ سرّی نماز میں۔)
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے۔)
From ‘Abdullah bin Maqsim, he said: "I asked Jabir bin ‘Abdullah: ‘Should one recite behind the Imam in Dhuhr and ‘Asr?’ He replied: ‘No.’" ]Narrated by ‘Abd Al-Razzaq[
عبداللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر
بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ (مقتدی) جہری نمازوں میں تو امام کے پیچھے قرأت نہیں کرتا
ہے تو کیا وہ) ظہر اور عصر کی (سرّی نمازوں میں بھی قرأت نہ کرے تو جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا
کہ ہاں مقتدی ان سرّی نمازوں میں بھی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے۔)
(اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
From Al-Mukhtar bin ‘Abdullah bin Abi Layla, he said: "‘Ali said: ‘Whoever recites behind the Imam is not upon the natural disposition (Fitrah).’" ]Narrated by Al-Tahawi, Ibn Abi Shaybah, ‘Abd Al-Razzaq, and Al-Daraqutni[
مختار بن عبداللہ بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو مقتدی امام کے پیچھے قرأت کرے تو اس نے اقتداء کا حق ادا نہ
کیا۔ (اس کی روایت طحاوی، ابن ابی شیبہ، عبدالرزاق اور دارقطنی نے کی ہے۔)
From ‘Ali, he said: "Whoever recites behind the Imam has erred against the natural disposition (Fitrah).’" ]Narrated by ‘Abd Al-Razzaq, Ibn Abi Shaybah, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi[
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جو مقتدی امام
کے پیچھے قرأت کرے تو اس نے اقتداء کے اصل مقصد کو کھو دیا۔
(اس کی روایت عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے۔)
From Abu Hamzah, he said: "I asked Ibn ‘Abbas: ‘Should I recite while the Imam is in front of me?’ He replied: ‘No.’" ]Narrated by Al-Tahawi[
And in another narration by Ibn Abi Shaybah from a man who said: "‘Umar bin Al-Khattab instructed us not to recite behind the Imam."
ابوحمزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی
اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ جب میں نماز میں امام کے پیچھے رہوں تو کیا میں بھی (امام کے ساتھ)
قرأت کیا کروں؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نہیں۔ (جب تم نماز میں امام کے پیچھے ہو تو
قرأت مت کیا کرو۔) (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے بیان کیا کہ عمر بن
الخطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے (نماز میں) امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا عہد لیا ہے۔
From Ibn ‘Umar: When he was asked, "Should anyone recite behind the Imam?" He replied: "When one prays with the Imam, the Imam’s recitation is sufficient for him." And Ibn ‘Umar would not recite behind the Imam. ]Narrated by Muhammad[
This is a good chain of narration, with no room for criticism at all.
Al-Tahawi narrated something similar, and Malik also narrated it, adding: "And if one prays alone, let him recite."
Al-‘Ayni said: "Ibn ‘Umar would not recite behind the Imam, and he was among the greatest followers of the Prophet ﷺ."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب کبھی ان سے دریافت کیا جاتا کہ
مقتدی امام کے پیچھے قرأت کیا کرے تو آپ جواب دیا کرتے کہ تم میں سے جو کوئی امام کے پیچھے نماز
پڑھا کرے تو امام کی قرأت اس کے لئے کافی ہے۔ (اس کو قرأت کرنے کی ضرورت نہیں ہے،) اور
خود ابن عمر کا بھی یہی عمل درآمد تھا کہ وہ امام کے پیچھے قرأت نہیں کیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
محمد نے کی ہے۔ اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے متعلق کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے، اور امام طحاوی
نے بھی اس حدیث کی اسی طرح روایت کی ہے اور امام مالک نے بھی اس کی روایت کی ہے، اور امام
مالک نے اس حدیث کی جو روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے ”وَإِذَا صَلّٰى وَحْدَهٗ فَلْيَقْرَءْ“، یعنی
مقتدی کو امام کی قرأت کافی ہے ہاں اگر وہ مسبوق ہو تو باقی نماز میں قرأت کیا کرے۔
علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما قرأت خلف الامام نہیں کرتے تھے اور آپ
کی شان یہ ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا کرتے تھے اور
اپنے زمانہ میں اسی وجہ سے اتباع سنت میں سب سے زیادہ مشہور تھے اس لئے آپ کا قرأت خلف
الامام نہ کرنا عین سنت ہے۔
From Nafi‘, from Ibn ‘Umar, he said: "Whoever prays behind the Imam, the Imam’s recitation suffices him." ]Narrated by Muhammad[
This is a good chain with no weakness in it.
نافع رضی اللہ عنہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ
عنہما نے فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اس کے لئے کافی ہے۔ (اس کو
خود قرأت کرنے کی ضرورت نہیں ہے)۔
(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور اس حدیث کی سند ایسی جید ہے کہ جس میں کسی کو کلام
اور اعتراض نہیں۔)
From Anas bin Sirin, from Ibn ‘Umar: He was asked about reciting behind the Imam, and he replied: "The Imam’s recitation is sufficient for you." ]Narrated by Muhammad[
Al-Daraqutni also narrated from Ahmad bin Hanbal something similar, and there is nothing weak in this chain either.
انس بن سیرین رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ابن
عمر رضی اللہ عنہما سے قرأت خلف الامام کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم کو امام کی قرأت
کافی ہے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے۔
اور دار قطنی نے بھی امام احمد بن حنبل سے اسی طرح روایت کی ہے اور اس کی
سند کے متعلق کوئی اعتراض نہیں ہے۔)
From Abu Wa'il: He said that Abdullah bin Mas'ud was asked about reciting behind the Imam. He said: "Remain silent, for there is engagement in prayer, and the Imam will suffice you." ]Narrated by Muhammad[
This is a Hasan chain, with no criticism in it. Al-Tahawi narrated something similar.
ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ سے قرأت خلف الامام کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا چپ رہو (کیا فضول سوال
کر رہے ہو) نماز میں (اللہ تعالیٰ کے راز و نیاز کی وجہ سے مقتدی کو ایک خاص) مشغولیت رہتی ہے (تم
اس کو باقی رکھو، رہی قرأت تو) امام کی قرأت تمہاری لئے کافی ہے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور
اس کی سند جید ہے جس کے متعلق کوئی کلام نہیں ہے اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے
(خلاف رواج) قرأت خلف الامام کی ابتداء کی تھی وہ (نئی ایجاد کرنے سے) متہم ہوا تھا (اس لئے
کہ صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہم کے دور میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا رواج ہو چکا تھا۔) (اس
کی روایت امام محمد نے کی ہے اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔)
From Alqamah bin Qais: He said, "I would rather bite a burning coal than recite behind the Imam." [Narrated by Muhammad]
Al-Razi mentioned in Ahkam al-Qur'an: "It is said that it is recommended that his teeth be broken." Al-Balkhi said, "I prefer that his mouth be filled with dust."
علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے منہ میں
انگارا (یعنی آگ کا ڈلہ) رکھ لینا قرأت خلف الامام کرنے سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔
(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے۔)
ف: امام جصاص رازی رحمہ اللہ کی احکام القرآن میں قرأت خلف الامام کرنے والے کے
متعلق تہدیداً منقول ہے ”اچھا ہے کہ اس کے دانت توڑ دیئے جائیں“ اور امام مزنی رحمہ اللہ نے بھی
قرأت خلف الامام کرنے والے کے متعلق تہدیداً کہا یہ کہ ”مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے منہ کو مٹی
سے بھر دیا جائے“۔
From Sa'd bin Abi Waqqas: He said, "I wish that the one who recites behind the Imam has a burning coal in his mouth." [Narrated by Muhammad]
There is nothing in this chain that raises doubt.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بات
پسند آئی ہے کہ جو قرأت خلف الامام کرے اس کے منہ میں انگارا ہو۔
(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے، اس حدیث کی سند میں کوئی کلام نہیں ہے۔)
From Muhammad bin Ajlan: That Umar bin Al-Khattab said, "I wish that a stone be placed in the mouth of the one who recites behind the Imam." [Narrated by Muhammad]
This is a good chain, with no criticism in it. Ibn Abi Shaybah narrated something similar.
محمد بن عجلان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے
فرمایا کہ اچھا ہوتا کہ قرأت خلف الامام کرنے والے کے منہ میں پتھر پڑ جاتے۔
(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور اس حدیث کی سند جید ہے جس کے متعلق کوئی کلام نہیں
اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کیا اچھا ہوتا کہ قرأت
خلف الامام کرنے والے کا منہ مٹی سے بھر دیا جاتا۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
From Sa'd bin Abi Waqqas: He said, "I wish that the one who recites behind the Imam has a stone in his mouth." [Narrated by Abdur Razzaq]
In Al-Ta'liq al-Mumajjad: "There is no harm in such statements for the purpose of warning and sternness. However, torturing someone with Allah's punishment is prohibited, though warning with it is not."
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں پسند کرتا
ہوں کہ جو شخص قرأت خلف الامام کرے اس کے منہ میں پتھر ہو۔
(اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
From Amr bin Muhammad bin Zayd, from Musa bin Sa'd bin Zayd bin Thabit, who narrated from his grandfather: He said, "Whoever recites behind the Imam, his prayer is invalid." [Narrated by Muhammad]
Abdur Razzaq also narrated it from Ali. Al-Bukhari said in his Risalah al-Qira'ah: "It is not known that this chain has proper hearing from one narrator to another, and such a narration is not authentic."
The response to this is, firstly, that contemporaneity and the possibility of meeting are sufficient for the majority of scholars in establishing connectivity and removing discontinuity. The requirement of proven direct meeting, as is Bukhari's strictness, is not obligatory according to the majority, as established in the principles of Hadith. Here, contemporaneity and the possibility of meeting are established between Dawood and Umar, between Umar and Musa, and between Musa and Zayd, which suffices to confirm the connection of the chain.
Secondly, apparent discontinuity does not harm according to us if the narrator is trustworthy and narrates from trustworthy individuals, especially in the generations testified to for their goodness.
Al-Tahawi said: "These are a group from the companions of the Messenger of Allah ﷺ who unanimously agreed on leaving recitation behind the Imam. They were supported by what has been narrated from the Messenger of Allah ﷺ, which we have mentioned earlier, and their stance is further reinforced by logical reasoning, as we have explained."
عمرو بن محمد بن زید رضی اللہ عنہ، موسیٰ ابن سعد بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
سے روایت کرتے ہیں کہ موسیٰ بن سعد نے اپنے دادا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ زید
بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے قرأت خلف الامام کی ہو تو اس کی نماز نہیں ہوتی
۔(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے)۔
اور عبدالرزاق نے بھی اسی کی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
ف: واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیثوں میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قرأت خلف الامام
کرنے والے کے بارے میں مختلف تحدیدیں مذکور ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قرأت خلف الامام
کرنے والے کے منہ میں پتھر ہو، دوسری حدیث میں یوں مذکور ہے کہ ایسے شخص کا منہ مٹی سے بھر دیا
جائے، ایک اور حدیث یہ ہے کہ منہ میں انگارا رکھ لینا قرأت خلف الامام کرنے سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان احادیث میں قرأت خلف الامام کرنے والے پر جو
تحدیدیں مذکور ہیں، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرأت خلف
الامام نہ کرنے کے بارے میں صحابہ کرام کا اجماع ہو چکا تھا صحابہ کرام کے اس اجماع پر صدری وہ تمام
حدیثیں مؤید ہیں جن میں قرأت خلف الامام نہ کرنے کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
علاوہ ازیں اس بارے میں نقلی دلیلوں کے سوا امام طحاوی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل بھی گزر چکی ہے
جس میں قیاس کے ذریعہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کو ثابت کیا گیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر صدیق اور عمر
فاروق رضی اللہ عنہما الحمد لله رب العالمين سے نماز شروع فرمایا کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
From Abu Hurairah: He said, "When the Messenger of Allah ﷺ would rise for the second unit of prayer, he would begin with الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ and would not remain silent."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم (جب پہلی رکعت کے اخیر سجدہ سے) دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو الحمد لله رب
العالمين سے دوسری رکعت شروع فرماتے اور سکوت نہیں فرماتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, "Allah the Exalted said: I have divided the prayer between Me and My servant into two halves, and My servant shall have what he asks for. When he says: ' الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ' Allah the Exalted says: 'My servant has praised Me.' When he says: ' الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ' Allah the Exalted says: 'My servant has extolled Me.' When he says: 'مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ' Allah says: 'My servant has glorified Me.' When he says: ' إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ' Allah says: 'This is between Me and My servant, and My servant shall have what he asks for.' When he says: ' اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ' Allah says: 'This is for My servant, and My servant shall have what he asks for.'" [Narrated by Muslim]
Al-Halabi said: "There is no doubt that the prayer referred to here means Surah Al-Fatihah. The beginning with الْحَمْدُ لِلَّهِ ' is proof that the Bismillah is not part of Al-Fatihah 1 and that it consists of seven verses without it, as the middle verse, 'إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ' is placed between Allah and His servant. The three preceding verses belong to Allah exclusively, and the three following verses belong to His servant. If it were not a verse from Al-Fatihah, it would not be a verse from any other surah either, as there is no one who holds such an opinion. End quote."
Ibn Abdul Barr said: "This hadith removes any ambiguity regarding the omission of ' بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ' from Al-Fatihah, and it is an explicit statement that does not allow for interpretation. I do not know of any hadith more explicit than this concerning the omission of the Basmalah." End quote.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے خود سنا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے اور اپنے بندہ کے
درمیان سورہ فاتحہ کے دو حصے کر دئیے ہیں اور جو کچھ میرا بندہ سوال کرے وہ اس کو دیا جائے گا، پس
جب بندہ (1)الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ○ (ہر طرح کی تعریف خدائی کو سزاوار ہے جو تمام
جہانوں کا پروردگار ہے) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی اور جب بندہ
(2)’’الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‘‘ (جو نہایت رحم والا مہربان ہے) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
میرے بندے نے میری ثناء کی اور جب بندہ (3)مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ○ (جو روز جزاء کا حاکم ہے)
کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ (4)’’اِيَّاكَ
نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ‘‘ (اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں)
کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے (کہ وہ میری عبادت
کرتے ہوئے مجھ سے مدد مانگ رہا ہے) اور جو کچھ میرا بندہ سوال کرے وہ اس کو دیا جائے گا، اور جب
بندہ (5)’’اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ، صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (6)غَيْرِ
الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ (7)وَلَا الضَّآلِّيْنَ ۔ (ہم کو دین کا سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو
نے اپنا فضل کیا، نہ ان کا جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ گمراہوں کا) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
کہ یہ میرے بندے کی دعاء ہے جس کو وہ اپنے لئے کر رہا ہے اور میں اپنے بندہ کو جو وہ مانگے دوں گا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 395a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
That the Bismillah is not part of Al-Fatihah
(1) His statement: "That the Bismillah is not part of Al-Fatihah"—this will be further elaborated in the Book of Virtues of the Quran in the second chapter.
Note 1
قوله
(۱) قوله : أن التسمية ليست من الفاتحة: سيأتي تحقيقه في كتاب فضائل القرآن في الباب الثاني.
Note 1
ف: علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کے دو
حصے کے ہیں پہلا حصہ جو ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ○ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ○ مَالِكِ يَوْمِ
الدِّيْنِ ○ کی تین آیتوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے مختص کر رکھا ہے اور دوسرا حصہ جو اِهْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ○ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ○ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا
الضَّآلِّيْنَ ○ کے تین آیتوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ سے مخصوص فرمایا اور ”اِيَّاكَ نَعْبُدُ
وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ“ کو ان دونوں حصوں کی درمیانی آیت قرار دیا اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے
بندہ کے درمیان مشترک رکھا۔
اس طرح سورہ فاتحہ کی سات آیتیں ہو گئیں۔
علامہ حلبی رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ
فاتحہ کا جزو نہیں ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کا پہلا حصہ جو تین آیتوں پر مشتمل ہے اس کو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ رب العالمین سے شروع فرمایا ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ“ سے شروع نہیں فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا
جزو نہیں ہے اگر ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہ
فاتحہ کو الحمد للہ رب العالمین سے شروع فرمانے کی بجائے ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“
سے شروع فرماتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا نہیں کیا تو صراحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے۔
تفصیل مذکورہ سے جب یہ ثابت ہو گیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو
نہیں ہے تو لازمی طور پر یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‘ دوسری سورتوں کا بھی
جزو نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ اور دوسری سورتوں کا جزو نہ
ہونے کے بارے میں صرف دو ہی مذہب ہیں ایک مذہب یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ اور دیگر تمام سورتوں کا جزو ہے اور دوسرا مذہب یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اور اسی طرح دوسری سورتوں کا بھی جزو نہیں۔
ان دو مذہبوں کے سوا تیسرا مذہب کسی نے اس طرح اختیار نہیں کیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا تو جزو نہ ہو اور دوسری سورتوں کا جزو ہو۔
صدر کی حدیث اور دلائل مذکورہ سے جن کو علامہ حلبی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ جب یہ ثابت
ہوگیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں تو لازماً یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ”بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کسی اور سورت کا بھی جزء نہیں اور یہی مذہب حنفی ہے۔
علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے قطعیت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں اور یہ حدیث ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيمِ“ کے سورہ فاتحہ کا جزء نہ ہونے پر ایسی واضح دلیل ہے کہ جس میں کسی قسم کی تاویل نہیں
ہوسکتی، علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کے سورہ فاتحہ کا
جزء نہ ہونے پر اس حدیث سے زیادہ، بہتر اور واضح دلیل مجھے نہیں ملی۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: I prayed behind the Prophet (ﷺ), Abu Bakr, Umar, and Uthman, and I did not hear any of them recite 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem.'
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہم کے پیچھے بھی نمازیں ادا کی ہیں۔ لیکن میں نے نہیں سنا کہ ان حضرات میں سے کسی نے (نماز
میں) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ (جہر سے) پڑھی ہو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے اس حدیث کی روایت امام محمد دارقطنی اور بیہقی نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کی ہے اور اس حدیث کی سند سب سے احسن ہے اور اس کے متعلق امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے۔ اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو حنیفہ تو ابو حنیفہ ہی ہیں ان کا کیا کہنا، اور موسیٰ بن عائشہ کوفی نہ صرف ثقہ اور معتبر ہیں بلکہ بخاری اور مسلم کے راویوں میں سے ہیں، اور عبداللہ بن شداد شام کے بڑے محدث اور ثقہ ہیں اس طرح اس سند کی مذکور الصدر تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (علامہ عینی کی تحقیق یہاں ختم ہوئی۔)