Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 691 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 427a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مسخ کا ذکر ہے کہ امام سے سبقت کرنے والے کا سر مسخ ہوکر
گدھے کا سر ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ یہ مسخ ہونا اس حدیث کے خلاف نہیں ہے جس میں ارشاد ہے
کہ اس امت مرحومہ میں مسخ نہیں ہوگا، اس لئے کہ اس حدیث شریف کا منشاء یہ ہے کہ عام مسخ نہ ہوگا
یعنی اور امتوں کی طرح یہ تمام امت مسخ میں مبتلا نہ ہوگی، اگر بعضوں کو سزائے مسخ کردیا جائے تو اس
حدیث شریف کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ دمشق کے ایک شخص کا واقعہ ہے کہ وہ اپنا منہ ہمیشہ ڈھانکے
رہتا تھا، ایک روز جب اس کا چہرہ نظر آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کا سر گدھے کا سر ہے، دریافت کرنے
سے معلوم ہوا کہ اس نے حدیث کو سن کر یہ خیال کیا تھا کہ انسان کا سر گدھے کا سر کیسے ہوسکتا ہے اور عمداً
امام سے پہلے سر اٹھایا تو اس کا سر مسخ ہوکر گدھے کا سر ہوگیا اور اس کو معلوم کرا دیا گیا کہ مسخ ایسے ہوسکتا
ہے ”نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْهُ“ حدیث شریف سے بے ادبی کرنے اور حدیث شریف کا انکار کرنے کی یہی سزا
ہے دنیا میں، اور آخرت میں جدا عذاب ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حدیث شریف کے انکار سے
بچائے۔ (ماخوذ از مرقات)12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 689 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور امام بخاری اس حدیث کو بیان کر کے لکھتے ہیں کہ ان کے استاد حمیدی نے کہا:
”وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا“ (جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو) حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مرض الموت سے بہت پہلے زمانہ کا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے مرض الموت کا واقعہ اس کا ناسخ ہے۔ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر امامت فرمائی اور
صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کی اور صحابہ کرام کو حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ اس لئے امام کا کسی عذر سے بیٹھ کر امامت
کرنا اور مقتدیوں کا بھی بلا عذر بیٹھ کر اقتداء کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کے واقعہ
سے منسوخ ہوگا اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کسی مسئلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی زمانہ کا فعل
ایک ہو اور آخری زمانہ کا فعل دوسرا ہو تو آخری فعل واجب العمل ہوتا ہے، پہلا فعل منسوخ ہوتا ہے اور
آخری فعل ناسخ، اس لئے امام کسی عذر سے بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدیوں کو کھڑے ہو کر اقتداء کرنا
چاہئے۔ (یہ بخاری میں مذکور ہے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 713 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 418a (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے امامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منتقل ہوگئی
اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیدھی جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے جو مقتدی کا
مقام ہے اور امامت کے منتقل ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
قرأت اسی جگہ سے شروع فرمائی جہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ
عنہما کی روایت میں مذکور ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام ہو کر عذر کی وجہ سے بیٹھے ہوئے
نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مثل ساری جماعت کے مقتدی ہو کر مکبر بن کر کھڑے ہو کر
نماز پڑھ رہے تھے اور ساری جماعت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تکبیر کی آواز پر نماز پڑھ رہی تھی۔
Note 2
کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ”يُسْمِعُ أَبُوْبَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِيْرَ“ یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکبیر کی آواز لوگوں کو پہنچا رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی
اللہ عنہ مکبر تھے امام نہیں تھے اور خود ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ساری جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی اقتداء کر رہی تھی اور امامت کا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف
منتقل ہو جانا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا اوروں کے لئے ایسے موقع پر یہ حکم ہے کہ
جب تک پہلا امام ہٹ کر کہیں اور نہ چلا جائے دوسرا شخص امام نہیں بن سکتا۔ مثلاً اگر امام کو حدث
ہو جائے تو وہ وضوء کے لئے چلا جائے گا اور اس کی جگہ دوسرا شخص امام بن کر نماز پڑھائے گا۔ پہلا
امام ہوتے ہوئے دوسرا امام نہیں بن سکتا۔ دوسری بات اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ کسی
عذر سے امام بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نماز پڑھائے تو جماعت کھڑی ہوئی حالت میں نماز
ادا کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری فعل ہونے سے ناسخ ہے اور اسی پر عمل
در آمد ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے اور اس سے پہلے کی حدیث میں جو مذکور ہے کہ امام بیٹھ کر
نماز پڑھیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھتے تو یہ پہلا فعل ہونے سے منسوخ ہے، جیسا کہ اوپر کی
حدیث میں تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 591 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
بات کی دلیل ہے کہ مسبوق امام کی موافقت کرے خواہ امام قیام میں ہو یا رکوع میں ہو، سجدہ میں ہو یا
قعدہ میں اور امام کے قیام کی طرف رجوع کرنے کا انتظار نہ کرے جیسا کہ عوام کیا کرتے ہیں، البتہ
رکعت پانے کے لئے امام کے ساتھ رکوع پانا ضروری ہے اور رکوع پانے کی حد یہ ہے کہ امام کے
ساتھ کم از کم ایک دفعہ ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ“ کہہ لے، اگر امام کے رکوع کرنے کے بعد سجدہ یا
قعدہ میں امام کے ساتھ جا ملا ہے تو اس رکعت کا شمار نہیں ہوگا)۔
(اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 893 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ اَدْرَكَ رَكْعَةً فَقَدْ اَدْرَكَ الصَّلٰوةَ“، یعنی
جس نے رکوع پا لیا تو اس نے رکعت پالی، یہاں رکعت کے معنی رکوع کے اس وجہ سے کئے گئے ہیں کہ
احادیث شریفہ میں جب لفظ رکعت کے ساتھ سجدہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے رکوع ہی مراد ہوتا ہے،
چنانچہ اس حدیث شریف میں پہلے سجدہ کا ذکر ہے، اور پھر رکعت کا اس لئے یہاں رکعت سے مراد رکوع
ہی ہے نہ کہ پوری رکعت۔ یہ اعلاء السنن میں مذکور ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 220 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 574 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو، اس مسجد میں دوبارہ پھر جماعت کرنا
حنفی، شافعی اور مالکی تینوں (عمدۃ القاری، اعلاء السنن بحوالہ رحمۃ الامۃ) مذاہب میں مکروہ تحریمی ہے،
جماعت ثانیہ کا مکروہ تحریمی ہونا رد المحتار میں مذکور ہے۔
اب رہا اس حدیث سے بظاہر جماعت ثانیہ کا جائز ہونا جو معلوم ہو رہا ہے، اس لئے صحیح نہیں
ہے کہ اس حدیث میں جس جماعت کا ذکر ہے وہ حقیقۃً جماعت نہیں ہے بلکہ صورۃً جماعت ہے۔ اور
صورۃً جماعت یہ ہے کہ امام تو فرض نماز ادا کر رہا ہو، اور مقتدی نفل کی نیت سے اس کی اقتداء کر رہا ہے
اور حقیقۃً جماعت یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کر رہے ہوں اور ظاہر ہے کہ یہاں
صورۃً جماعت ہوئی ہے اور ایسی جماعت کے بارے میں ہمارے ائمہ میں سے کسی امام نے کراہت
نہیں بتائی ہے، اس کے برخلاف حقیقۃً جماعت کی صورت میں جب کہ کوئی امام اور مقتدی دونوں فرض
نماز ادا کرنے کے لئے جماعت ثانیہ قائم کریں تو ایسی جماعت کو اکثر ائمہ نے مکروہ قرار دیا ہے، جیسا
کہ ابھی اوپر بیان ہو چکا ہے۔ (یہ بذل المجہود میں مذکور ہے۔)
(1) The statement "He gathered his family and led them in prayer": It is mentioned in "Radd al-Muhtar" that it is strongly disliked (makruh tahriman) to repeat the congregation in a neighborhood mosque with a second adhan and iqamah, unless the first prayer was led by someone other than the regular imam or by the regular imam but with a low adhan. If the family repeats the prayer without a second adhan, or if it is a mosque on a travel route, it is permissible by consensus, as in the case of a mosque without a fixed imam or muadhin where people pray in groups. It is preferable for each group to pray with its own adhan and iqamah, as mentioned in "Amali Qadi Khan."
The restriction applies to a neighborhood mosque with a fixed imam and congregation, as mentioned in "Ad-Durar" and other sources. In "Al-Manba'," it is stated that the restriction to a neighborhood mosque is to distinguish it from a public mosque, and the restriction to a second adhan is to exclude cases where a congregation prays in a neighborhood mosque without an adhan, which is unanimously permissible.
In arguing against Imam Ash-Shafi'i, who denies the dislike of repetition, it is said: We have this hadith, and if repeating the congregation were permissible, he would not have chosen to pray at home over praying in congregation in the mosque. Moreover, unrestricted repetition diminishes the significance of congregation, as people would not gather if they knew the prayer would not be missed. As for a public mosque, people are equal there, and no group has a special claim over it.
This reasoning implies that repetition is disliked in a neighborhood mosque even without a second adhan. This is supported by what is mentioned in "Az-Zahiriya": If a group enters the mosque after its residents have prayed, they should pray individually, which is the apparent ruling. This contradicts the earlier consensus.
In the chapter on Adhan, it is mentioned in "Sharh al-Munyah" that Abu Yusuf said: If the congregation is not in the same form as the first, it is not disliked; otherwise, it is disliked, and this is the correct view. Changing the position of the imam alters the form, as mentioned in "Al-Bazzaziya." In "At-Tatarkhaniya," it is narrated from "Al-Walwaljiya": This is our position. End of the summary from "Radd al-Muhtar."
Note 1
قوله
(۱) قوله: فجمع أهله فصلي بهم: قال في رد المحتار» يكره تحريما تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله أو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما، أو كان مسجد طريق جاز إجماعا، كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة، كما في «أمالي قاضي خان». انتهى ونحوه في الدرر»، والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون، كما في الدرر» وغيرها.
قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعا انتهى ثم قال في الاستدلال على الإمام الشافعي النافي للكراهة ما نصه: ولنا هذا الحديث، ولو جاز تكرار الجماعة لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد، ولأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنها لا تفوتهم. وأما مسجد الشارع فالناس فيه سواء، لا اختصاص له بفريق دون فريق. انتهى ومثله في البدائع وغيرها، ومقتضى هذا الاستدلال: كراهة التكرار في مسجد المحلة ولو بدون أذان.
ويؤيده ما في الظهيرية»: لو دخل جماعة المسجد بعد ما صلى فيه أهله يُصلُّون وحدانا، وهو ظاهر الرواية. انتهى وهذا مخالف الحكاية الإجماع المارة، وقدمنا في باب الأذان» عن آخر شرح المنية» عن أبي يوسف: أنه إذا لم تكن الجماعة على الهيئة الأولى لا تكره، وإلا تكره، وهو الصحيح. وبالعدول عن المحراب تختلف الهيئة، كذا في «البزازية». وفي التتارخانية» عن «الولوالجية»: وبه نأخذ. تم كلام رد المحتار» مختصرا.
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں جماعت ثانی مکروہ ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے مسجد میں دوسری جماعت نہیں کی بلکہ گھر میں جماعت کی، رہا یہ احتمال کہ اس وقت آپ کو
مسجد میں جماعت کرنے کے لئے آدمی نہ ملے ہوں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو آپ مدینہ
منورہ سے باہر تنہا کبھی نہ جاتے تھے بلکہ کچھ صحابہ ضرور آپ کے ہمراہ ہوتے تھے اس لئے ظاہر یہ ہے کہ
اس وقت بھی کچھ لوگ ہمراہ ہوں گے، دوسرے یہ کہ آپ گھر والوں کو بھی مسجد میں بلا کر مسجد میں
جماعت کر سکتے تھے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کی
ممانعت نہ تھی۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دوسری جماعت مسجد ہی میں مکروہ ہے مسجد سے باہر جائز
ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی جماعت کے بعد گھر میں دوسری جماعت کی مگر یہ بھی
اس شخص کے لئے جائز ہے جو جماعت اولیٰ میں سستی نہ کرے بلکہ اس کے حاصل کرنے کی ہمیشہ کوشش
کرے، پھر کبھی اتفاقاً فوت ہوجائے تو مسجد سے باہر جماعت کر سکتا ہے ورنہ مسجد سے باہر جماعت ثانی
کا عادی ہونا بھی مکروہ ہوگا۔ ”والله اعلم“ کیونکہ اس سے جماعت اولیٰ کی اہمیت باقی نہ رہے گی اور
جماعت اولیٰ قلیل ہوجائے گی۔ حالانکہ جماعت اولیٰ واجب اور مؤکد ہے (اعلاء السنن)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مسخ کا ذکر ہے کہ امام سے سبقت کرنے والے کا سر مسخ ہوکر گدھے کا سر ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ یہ مسخ ہونا اس حدیث کے خلاف نہیں ہے جس میں ارشاد ہے کہ اس امت مرحومہ میں مسخ نہیں ہوگا، اس لئے کہ اس حدیث شریف کا منشاء یہ ہے کہ عام مسخ نہ ہوگا یعنی اور امتوں کی طرح یہ تمام امت مسخ میں مبتلا نہ ہوگی، اگر بعضوں کو سزائے مسخ کردیا جائے تو اس حدیث شریف کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ دمشق کے ایک شخص کا واقعہ ہے کہ وہ اپنا منہ ہمیشہ ڈھانکے رہتا تھا، ایک روز جب اس کا چہرہ نظر آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کا سر گدھے کا سر ہے، دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ اس نے حدیث کو سن کر یہ خیال کیا تھا کہ انسان کا سر گدھے کا سر کیسے ہوسکتا ہے اور عمداً امام سے پہلے سر اٹھایا تو اس کا سر مسخ ہوکر گدھے کا سر ہوگیا اور اس کو معلوم کرا دیا گیا کہ مسخ ایسے ہوسکتا ہے ”نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْهُ“ حدیث شریف سے بے ادبی کرنے اور حدیث شریف کا انکار کرنے کی یہی سزا ہے دنیا میں، اور آخرت میں جدا عذاب ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حدیث شریف کے انکار سے بچائے۔ (ماخوذ از مرقات)12