ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھا کرتے تھے تو (وتر کی تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے
تھے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)
Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray Witr with three rak'ahs. In the first, he would recite Sabbih isma Rabbika al-A'la (Surah Al-A'la), in the second Qul ya ayyuhal kafirun (Surah Al-Kafirun), and in the third Qul Huwa Allahu Ahad (Surah Al-Ikhlas). He would perform Qunut before bowing."
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت ادا فرمایا کرتے، پہلی رکعت میں ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“
دوسری رکعت میں ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور تیسری رکعت میں ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ “ پڑھا کرتے
تھے اور (تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم وتر کی (تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت خطیب نے کتاب القنوت میں کی ہے اور ابن الجوزی نے کتاب التحقيق میں
اس کو بیان کیا ہے اور سکوت اختیار کیا ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت پڑھا کرتے تھے اور وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے پہلے دعائے
قنوت پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابونعیم نے حلیہ میں کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم وتر کے تین رکعات پڑھا کرتے اور دعائے قنوت کو وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے
پہلے پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں کی ہے۔)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "I stayed with the Messenger of Allah (ﷺ) to observe how he performed Qunut in his Witr. He performed Qunut before bowing. Then I sent my servant Umm Abd to observe how he performed Qunut in his Witr. She came and informed me that he performed Qunut before bowing."
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (ایک دفعہ) اس ارادہ سے رات گزاری کہ دیکھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم وتر میں دعائے قنوت کب پڑھتے ہیں؟ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (وتر کی تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے ہیں۔ پھر میں نے اپنی والدہ ام
عبداللہ رضی اللہ عنہا کو یہ عرض کر کے خدمت گرامی میں بھیجا کہ وہ ازواج مطہرات کے ساتھ رات
گزاریں تا کہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر میں دعائے قنوت کب پڑھتے ہیں؟ (وہ
گئیں) اور واپس آ کر مجھ سے کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وتر کی تیسری رکعت
میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھے ہیں۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وتر (کی تیسری رکعت) میں
رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔ جوہر نقی میں
Suwayd ibn Ghafalah reported: "I heard Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali (may Allah be pleased with them) say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut in the last rak'ah of Witr,' and they would do the same." 1
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر
صدیق حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم کو فرماتے سنا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی آخری رکعت میں دعائے قنوت پڑھتے رہے ہیں، اور یہ
حضرات خود بھی (وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے) دعائے قنوت پڑھتے تھے۔
(اس کی روایت دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے۔)
(1) The statement "they would do the same" indicates that the companions consistently practiced Qunut in Witr, as mentioned by Sheikh Ibn Al-Humam.
Note 1
قوله
(۱) قوله: كانوا يفعلون ذلك: لا شك أن في ما قدمناه من الأحاديث ما هو نص على المواظبة على قنوت الوتر أشار إليه الشيخ ابن الهمام.
Note 1
ف: واضح ہو کہ ان سب احادیث شریفہ سے ثابت ہوا کہ وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے
پہلے دعائے قنوت پڑھنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہمیشہ
عمل رہا ہے، یہ امام ابن الہمام رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔
Asim Al-Ahwal reported: "I asked Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) about Qunut in prayer: Was it performed before or after bowing? He replied: 'Before bowing. The Messenger of Allah (ﷺ) only performed Qunut after bowing for a month 1 when he sent a group of people called the Qurra (reciters), seventy men, who were killed. The Prophet (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month, supplicating against their killers.'"
عاصم احول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ (دعاء یا تو نماز کے آخری قعدہ میں کی جاتی ہے یا
نماز کے بعد) کیا عین نماز کی رکعتوں میں بھی دعاء کی جاتی ہے؟ حضرت انس نے فرمایا: ہاں وتر کی
تیسری رکعت میں بھی دعاء پڑھی جاتی ہے تو میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا
رکوع کے بعد؟ حضرت انس نے فرمایا کہ دعائے قنوت (وتر میں ہمیشہ) رکوع سے پہلے پڑھی جاتی
ہے (عاصم نے کہا کہ مجھ سے تو فلاں شخص نے بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع
کے بعد دعاء پڑھی ہے تو حضرت انس نے فرمایا: ایسا نہیں، اصل واقعہ کو انہوں نے ظاہر نہیں کیا، صحیح
بات یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو صرف ایک ماہ تک (نماز صبح میں) رکوع کے
بعد دعائے قنوت پڑھی ہے۔ ایک ماہ تک (نماز فجر میں رکوع کے بعد) دعاء پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ صحابہ کو جنہیں قراء کہا جاتا تھا اور وہ ستر کے قریب تھے، مشرکین کی
ایک جماعت کی طرف (اسلام کی تبلیغ کرکے علم دین سکھانے کے لئے) بھیجا (اس قوم میں اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں معاہدہ تھا۔ لیکن مشرکین نے عہد شکنی کی) اور سب قراء کو قتل کردیا
(صرف کعب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کہ ان کو بھی مشرکین نے زخمی کردیا اور سمجھ لیا تھا کہ شہید
ہوگئے ہیں مگر ان کی کچھ جان باقی تھی وہ بچ کر واپس آگئے اس واقعہ سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر غم ہوا کہ ایسا غم کبھی نہیں دیکھا گیا اس لئے) ایک ماہ تک نماز صبح میں رکوع کے
بعد قاتلوں کو بددعا دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعائے قنوت پڑھی ہے (پھر
اس کے بعد نماز صبح میں یا کسی اور نماز میں رکوع کے بعد دعائے قنوت کبھی نہیں پڑھی)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1002 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month
(1) The statement "The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month" means that Qunut is only performed outside of Witr during times of calamity. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. In Rad Al-Muhtar, it is stated: "If a calamity occurs, the Imam performs Qunut in the audible prayers." However, in Al-Ashbah, it is mentioned that Qunut is performed in Fajr prayer. This is supported by Sharh Al-Munyah, which states that the permissibility of Qunut during calamities is continuous. This is the view of our school and the majority. Hafiz Abu Ja'far At-Tahawi said: "We do not perform Qunut in Fajr prayer unless there is a calamity. If a calamity occurs, there is no harm in doing so, as the Prophet (ﷺ) did it. As for Qunut in all prayers during calamities, Ash-Shafi'i did not hold this view. It seems they considered the narrations about Qunut in Dhuhr and Isha prayers, as in Muslim, and in Maghrib prayer, as in Bukhari, to be abrogated due to the lack of consistent practice compared to Fajr prayer." This clearly indicates that Qunut during calamities in our school is specific to Fajr prayer and not other audible or silent prayers. It is also clear that the follower (ma'mum) follows the Imam, except when the Imam recites aloud, in which case the follower says "Ameen." Qunut is performed after bowing, not before, as evidenced by the narrations used by Ash-Shafi'i to support Qunut in Fajr, which explicitly mention Qunut after bowing. Our scholars interpreted this as Qunut during calamities. Later, Ash-Sharnuballi in Maraqi Al-Falah explicitly stated that it is performed after bowing, while Al-Hamawi suggested it is before bowing. The more apparent view is what we have stated.
Note 1
قوله
(۱) قوله: قنت رسول الله ﷺ بعد الركوع شهرا إلخ يعني لا يقنت لغير الوتر إلا لنازلة. قاله في «الدر المختار»، وقال في رد المحتار» عن «البناية : إذا وقعت نازلة قَنَتَ الإمام في الصلاة الجهرية، لكن في «الأشباه» عن «الغاية»: قنت في صلاة الفجر، ويؤيده ما في شرح المنية» حيث قال بعد كلام فتكون شرعيته، أي شرعية القنوت في النوازل مستمرة، وهو محمل قنوت مَن قَنَتَ من الصحابة بعد وفاته ، وهو مذهبنا، وعليه الجمهور. قال الحافظ أبو جعفر الطحاوي: إنما لا يقنت عندنا في صلاة الفجر من غير بلية، فإن وقعت فتنة بلية فلا بأس به، فعله رسول الله ﷺ. وأما القنوت في الصلوات كلها للنوازل، فلم يقل به الشافعي، وكأنهم حملوا ما روي عنه : أنه قنت في الظهر والعشاء، كما في «مسلم»، وأنه قنت في المغرب أيضًا، - كما في البخاري - على النسخ؛ لعدم ورود المواظبة والتكرار الواردين في الفجر عنه . انتهى. وهو صريح في أن قنوت النازلة عندنا مختص بصلاة الفجر دون غيرها من الصلوات الجهرية أو السرية، وظهر تقييدهم بالإمام أنه لا يقنت المنفرد، وهل المقتدي مثله أم لا؟ وهل القنوت هنا قبل الركوع أم بعده؟ لم أره، والذي يظهر لي أن المقتدي يتابع إمامه إلا إذا جهر فيؤمن وأنه يقنت بعد الركوع لا قبله، بدليل أن ما استدل به الشافعي على قنوت الفجر، وفيه التصريح بالقنوت بعد الركوع حمله علماؤنا علي القنوت للنازلة، ثم رأيت الشرنبلالي في مراقي الفلاح صرح بأنه بعده واستظهر الحموي أنه قبله، والأظهر ما قلناه.
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف
ایک ماہ تک (نماز صبح میں) رکوع کے بعد (عام مسلمانوں پر مصیبت آنے کی وجہ سے) دعائے قنوت
پڑھی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ وتر کے سوا کسی اور نماز میں بجز قنوت نازلہ کے دعائے قنوت نہ
پڑھی جائے۔ قنوت نازلہ یہ ہے کہ کفار کی طرف سے جب کوئی سخت مصیبت عام مسلمانوں پر آن
پڑے تو امام نماز فجر میں رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرے اور اس کا حکم دائمی ہے یعنی ہر زمانہ
میں کفار کی طرف سے مسلمانوں پر عام مصیبت آن پڑے تو قنوت نازلہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد
پڑھی جائے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی ایسے موقعوں پر قنوت
نازلہ پڑھی ہے، امام طحاوی رحمہ اللہ نے یہی فرمایا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اور اسی پر جمہور کا عمل
درآمد ہے۔
قنوت نازلہ کو نماز فجر کے سوا اور نمازوں میں پڑھنے کا جو ذکر بعض احادیث میں مروی ہے ایسی
حدیثوں کو ائمہ احناف نے منسوخ قرار دیا ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے
سواء دیگر نمازوں میں قنوت نازلہ پر کبھی مواظبت اور تکرار نہیں فرمائی بلکہ قنوت نازلہ کی تکرار اور
مواظبت صرف نماز فجر ہی میں ثابت ہے اور اسی وجہ سے احناف نے قنوت نازلہ کو نماز فجر سے مختص کیا
ہے، فقہاء نے اس کی بھی صراحت فرمائی ہے کہ منفرد قنوت نازلہ نہ پڑھے، اگر امام قنوت نازلہ آہستہ
پڑھ رہا ہو تو مقتدی بھی قنوت کو آہستہ پڑھے۔ اور اگر امام قنوت نازلہ جہر سے پڑھ رہا ہو تو مقتدی خود
قنوت نہ پڑھے بلکہ آمین کہتا جائے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار سے ماخوذ ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would not perform Qunut in Fajr prayer unless he was supplicating for a people or against a people."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم جب کسی قوم کے لئے دعا کرنا یا کسی قوم پر بد دعا کرنا چاہتے تو نماز فجر میں (رکوع کے
بعد) قنوت نازلہ پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) would only perform Qunut when supplicating for a people or against them." [Narrated by Al-Khatib in his book on Qunut]
The author of Tanqih At-Tahqiq said: "This chain is authentic."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (فجر کی نماز میں دعائے قنوت ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے البتہ) کسی قوم کے لئے دعا کرنے یا کسی
قوم پر بد دعا کرنے کی غرض سے قنوت (نازلہ) پڑھتے تھے۔
(اس کی روایت خطیب نے کتاب القنوت میں کی ہے اور صاحب تنقیح التحقیق نے کہا ہے کہ
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔)
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) never performed Qunut in Fajr except for one month. He was not seen doing it before or after that month, and he only performed Qunut during that month to supplicate against the disbelievers." [Narrated by our Imam Abu Hanifah]
Sheikh Ibn Al-Humam said: "This chain is flawless."
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم بجز ایک مہینہ کے صبح کی نماز میں کبھی قنوت نہیں پڑھے اور کبھی آپ کو (صبح کی نماز
میں) اس سے پہلے قنوت پڑھتے نہیں دیکھا گیا، اور اسی طرح اس کے بعد بھی کبھی آپ کو قنوت
پڑھتے نہیں دیکھا گیا، اور اس ایک مہینہ میں بھی آپ نے مشرکین میں سے کچھ لوگوں پر بد دعا کرتے
ہوئے (قنوت نازلہ) پڑھی ہے (جنھوں نے آپ کے چند صحابہ کو دھوکے سے شہید کر دیا تھا) اس کی
روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کی ہے اور اس حدیث کی سند کے متعلق امام ابن الہمام نے
کہا ہے کہ یہ ایسی سند ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں۔
Abu Malik Al-Ashja'i reported: "I asked my father: 'O father, you prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali (may Allah be pleased with them) here in Kufah for about five years. Did they perform Qunut?' He replied: 'O my son, it is an innovation.'" [Narrated by Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah]
Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Hadith."
ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے
والد سے دریافت کیا کہ ابا! آپ نے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر
صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہم ان سب کے پیچھے نماز پڑھی ہے
اور یہاں کوفہ میں بھی (5) برس حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، آیا یہ
حضرات (بلا کسی حادثہ کے بھی فجر میں) قنوت پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا: بیٹا! یہ بدعت ہے،
بالکل نئی بات ہے (کیونکہ اس سے پہلے ان حضرات میں سے کسی کو میں نے بلا کسی حادثہ کے فجر میں
قنوت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا)۔
(اس کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے، اور ابن ماجہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث
حسن صحیح ہے۔)
Abu Malik Al-Ashja'i and his father reported: "I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ), and he did not perform Qunut. I prayed behind Abu Bakr, and he did not perform Qunut. I prayed behind Umar, and he did not perform Qunut. I prayed behind Uthman, and he did not perform Qunut. I prayed behind Ali, and he did not perform Qunut. Then he said: 'O my son, it is an innovation.'"
ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد
نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھے۔ اور اسی طرح میں نے
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، حضرت ابوبکر نے (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض
میں) کبھی قنوت نہیں پڑھی، اور ایسا ہی میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی
ہے، حضرت عمر نے بھی (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھی، اور میں نے
حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، حضرت عثمان نے بھی (بلا کسی حادثہ
کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھی، اور میں نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی
نماز پڑھی ہے، حضرت علی نے بھی (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھی، پھر ان
کے والد نے کہا: بیٹا! (ہر روز نماز فجر کے فرض میں قنوت پڑھنا) بدعت ہے، اور بالکل نئی بات ہے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Ghalib ibn Farqad As-Sahan reported: "I stayed with Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) for two months, and he did not perform Qunut in Fajr prayer."
غالب بن فرقد طحان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں انس
بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دو ماہ رہا تو میں نے آپ کو صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے کبھی نہیں
دیکھا۔ (اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)
Al-Aswad ibn Yazid reported: "He accompanied Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) for sixty journeys and at home, and he never saw him perform Qunut in Fajr prayer." [Narrated by Muhammad]
Sheikh Ibn Al-Humam said: "This chain is flawless."
اسود بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر اور اقامت کی حالت میں (2) سال تک رہے ہیں تو انھوں نے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نماز فجر میں قنوت پڑھتے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کی روایت امام محمد نے کی ہے،
Regarding the statement, “Then he abandoned it”, the eminent scholar al-Ayni said: The statement, “Then he abandoned it”, indicates that qunut was practised in the obligatory prayers and was subsequently abrogated.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ثم تركه : قال العلامة العيني: فقوله: «ثم تركه يدل على أن القنوت في الفرائض كان، ثم نسخ.
Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) performed qunut in the Fajr prayer for only one month and then abandoned it. He had not performed qunut before that month, nor did he perform it afterwards.
Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) performed qunut for one month, supplicating against the tribes of Usayyah and Dhakwan. When he overcame them, he abandoned qunut.
Regarding the statement, “He forbade it”, these Hadiths indicate that the reports concerning the performance of qunut in the prayers have been abrogated. This is the author's statement.
Note 2
A chapter: There are several matters to consider here. The first is that performing the Ramadan night prayer itself is an emphasised Sunnah, because encouragement has been given to it, and the Hadiths in this chapter provide evidence for this.
Regarding the statement, “A chapter: There are several matters to consider here. The first is that performing the Ramadan night prayer itself is an emphasised Sunnah, because encouragement has been given to it, and the Hadiths in this chapter provide evidence for this.” This is the author's statement.
Note 1
قوله
(۱) قوله : نهي إلخ : هذه الأحاديث تدل على أن ما روي من القنوت في الصلوات منسوخ. منه.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند مسلم کی شرط کے موافق ہے (اعلاء السنن)