Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 46

(اس باب میں عیدالفطر کی نماز اور عیدالاضحی کی نماز اور ان کے متعلقات کا بیان ہے)

Section: (2)

33 narrations · In source reading order

Hadith 1881

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2187
ابوالحویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرو بن حزم حاکم نجران کو لکھے کہ عید الاضحٰی کی نماز اول وقت پڑھا کرو (تا کہ لوگوں کو قربانی کرنے کا جلد موقع ملے) اور عید الفطر کی نماز بہ نسبت عید الاضحٰی کے) دیر کر کے پڑھا کرو (تا کہ فطرہ تقسیم ہو جائے اور غربا فطرہ حاصل کر کے اطمینان سے عیدگاہ آ سکیں) اور خطبہ میں وعظ و نصیحت کیا کرو (خصوصاً فطرہ دینے کی اور قربانی کرنے کی ترغیب دلاؤ)۔ (اس حدیث کی روایت امام شافعی رحمہ اللہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)

Note 2

Hasten the Eid al-Adha prayer....

(2) The statement: "Hasten the Eid al-Adha prayer...." It is preferable to hasten the Eid al-Adha prayer and delay the Eid al-Fitr prayer. This is mentioned in Al-Khulasah. It is stated in Al-‘Alamgiri.

Note 2

قوله

(۲) قوله : إن عجل الأضحى إلخ الأفضل أن يعجل الأضحى ويؤخر الفطر . كذا في الخلاصة». قاله في العالمگيري».

Hadith 1882

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2188
ابوعمیر بن انس رضی اللہ عنہ کے کئی چچا تھے اور وہ سب کے سب صحابی ہیں ان سے ابوعمیر روایت کرتے ہیں کہ ایک سال مدینہ منورہ میں رمضان شریف کی تیسویں شب کو ہلال نظر نہ آیا۔ اس لئے سب صحابہ روزہ رکھ لئے (زوال کے بعد) ایک قافلہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا جو اونٹوں پر سوار تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گواہی دی کہ ہم تیسویں شب کو ہلال دیکھ کر آ رہے ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک 29 دن میں ہی ختم ہو گئے ہیں آج رمضان کی تیسویں نہیں ہے بلکہ شوال کی پہلی ہے۔ قافلہ کے سب لوگ رویت ہلال کی گواہی دینے کی وجہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں کو حکم دئے کہ سب افطار کر لیں (کہ ان کا روزہ لاعلمی سے عید کے دن واقع ہوا ہے جو ناجائز ہے، عید کی نماز کا وقت زوال تک ہی ہے، زوال کے بعد عید کی نماز نہیں ہو سکتی، اس لئے آج عید کی نماز نہ پڑھیں) کل صبح سب کے سب عیدگاہ میں آ جائیں (آج کے بدلہ کل عید کی نماز ادا کی جائے گی۔ اگر کبھی ایسا اتفاق ہو کہ دوسرے دن بھی عیدالفطر کی نماز نہ پڑھ سکیں تو تیسرے دن عیدالفطر کی نماز نہیں پڑھنا چاہئے، عیدالفطر پڑھنے کا وقت نہ رہا۔ ہاں عید اضحیٰ کسی وجہ سے دوسرے دن نہ پڑھ سکیں تو تیسرے دن بھی عیدالاضحیٰ پڑھ سکتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد و نسائی، دارقطنی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور دارقطنی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے اور عبدالحق اور بیہقی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1157 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1653 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1557 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1883

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2189
ابوعمیر بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرے کئی چچا جو انصار تھے انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ (ایک سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں) ہلال تیسویں شب کو نظر نہ آیا، اس لئے سب کے سب صحابہ روزہ کی نیت کر لئے (سمجھے کہ یہ رمضان کی تیسویں تاریخ ہے) ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں زوال کے بعد آ کر گواہی دی کہ انہوں نے گزشتہ شب جس کو صحابہ رمضان کی تیسویں سمجھ رہے تھے۔ ہلال کو بچشم خود دیکھا ہے اس وجہ سے سب لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دے کہ افطار کر لیں (روزہ پورا نہ کریں آج عیدالفطر کا دن ہے لاعلمی سے روزہ رکھ لیا گیا ہے، عیدالفطر کے دن روزہ جائز نہیں ہے) یہ ارشاد سن کر سب صحابہ اسی وقت روزہ توڑ دئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے دن سب کو لے کر عیدگاہ نکلے اور نماز عیدالفطر پڑھائے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)