ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو جب کوئی خوشی ہوتی یا کہیں سے کوئی خوش خبری آتی (یا کوئی نئی نعمت حاصل ہوتی یا کوئی بلاء
ٹل جاتی تو اس کا شکر ادا کرنے کے لئے (مثل سجدہ تلاوت کے) شکر کا سجدہ (اس طرح) ادا ء
فرماتے (کہ باوضوء قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوکر ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے سجدہ میں جاتے اور
سجدہ میں حمد و ثناء کر کے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے۔) اس کی روایت ابو داؤد اور
ترمذی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
He would fall into prostration.
(1) The statement: "He would fall into prostration." In Al-Durr al-Mukhtar, it is said: "The prostration of gratitude is recommended, and this is the fatwa (legal ruling)." In Rad al-Muhtar, it is said: "It is recommended for someone who receives a visible blessing, such as wealth, a child, or the removal of a calamity, to prostrate to Allah in gratitude, facing the qiblah. He should prostrate, praise Allah, thank Him, glorify Him, then say the takbir and raise his head, as in the prostration of recitation (sujud al-tilawah)."
In Sharh al-Munyah, it is said: "He should say the takbir, face the qiblah, prostrate, praise Allah, thank Him, glorify Him, then say the takbir and raise his head."
Note 1
قوله
(۱) قوله: ساجدا وفي الدر المختار: وسجدة الشكر مستحبة به يفتى. وقال في رد المحتار: وهي لمن تجددت عنده نعمة ظاهرة، أو رزقه الله تعالى مالا أو ولدًا، أو اندفعت عنه نقمة، ونحو ذلك، يستحب له أن يسجد الله تعالى شكرا مستقبل القبلة، ويسجد، ويحمد الله، ويشكره ويسبح، ثم يكبر، فيرفع رأسه كما في سجدة التلاوة، انتهى، وفي آخر «شرح المنية: فيكبر مستقبل القبلة ويسجد ويحمد الله، ويكره ويسبح، ثم يكبر فيرفع رأسه.
ابوجعفر یعنی حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں، کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص کو دیکھے جو بونا (ناقص الخلقت تھا) اس کو دیکھ کر (اس طرح)
آپ سجدۂ شکر ادا کئے (کہ بونے کو اس کی خبر نہ ہوئی اور آہستہ فرمائے۔ ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي
عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ“) الٰہی میں آپ کا کیا شکر ادا کروں کہ جس بلاء میں اس بونے کو ابتلاء
کئے ہیں مجھے آپ اس سے بچائے ہیں۔ (آہستہ اس لئے کہے تا کہ خبر نہ ہو، اور اس طرح کہنے سے
اس کی دل شکنی نہ ہو۔) اس حدیث کی روایت دارقطنی نے مرسلاً کی ہے اور شرح السنہ میں مصابیح
کے الفاظ سے اس کی روایت کی گئی ہے۔
گزشتہ قوموں پر جو دنیوی عذاب آیا تھا، مثلاً کوئی مسخ کئے گئے، کوئی غرق کئے گئے، کسی کو
زمین میں دھنسا دیا گیا، کسی پر کچھ دنیوی عذاب آیا، اور کسی پر کچھ، یہ سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے پیش نظر تھا، اور یہ بھی آپ کو معلوم ہوا کہ کفار دائمی طور پر دوزخ میں رہیں گے، آپ سراپا
رحمت تھے، چاہتے تھے کہ اپنی امت پر نہ ویسا دنیوی عذاب آئے نہ اخروی دوزخ کا دائمی عذاب
رہے، ہمیشہ امت آپ کے پیش نظر رہتی تھی، اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی اور اخروی دائمی
عذاب سے بچانے کی فکر رہتی تھی، اس وجہ سے آپ کبھی رات رات بھر روتے رہتے کہ کس طرح میں
اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی عذاب اور اخروی دائمی عذاب سے بچاؤں؟
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ہم حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ معظّمہ سے مدینہ منورہ کی طرف چلے جب ہم مقام عزوراء میں پہنچے
تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا کہ رحمت الٰہی اس وقت جوش پر ہے حضور اس وقت کو
غنیمت سمجھ کر اپنی سواری سے اتر کر کھڑے ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھ دعاء کے لئے اٹھا کر بہت دیر
تک دعاء کرتے رہے، پھر سجدہ میں جا کر طویل سجدہ کئے اور پھر سجدہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور
کھڑے رہ کر پھر دعاء کے لئے دونوں ہاتھ اٹھا کر (بہت دیر تک) دعاء کرتے رہے، پھر قیام سے
سجدہ میں گئے اور بہت دیر تک سجدہ میں رہے پھر سجدہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بہت دیر تک دعاء
کے لئے ہاتھ اٹھائے رہے، پھر قیام سے سجدہ میں گئے اور بہت دیر تک سجدہ میں رہے، پھر سجدہ سے
اٹھنے کے بعد صحابہ سے ارشاد فرمایا میں اس وقت کئی مرتبہ کھڑے ہو کر دعاء کیا پھر سجدہ میں گیا، پھر
دعاء کے لئے کھڑا ہوا پھر سجدہ میں گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت رحمت الٰہی جوش پر تھی، میں چاہا
کہ اپنی امت کے لئے قدیم آرزو پوری کرنے کے لئے دعاء کروں، میں کھڑے ہو کر دعاء کیا، الٰہی
اور قوموں کی طرح میری امت کو دنیوی عذاب نہ دینا اور گناہوں کی شامت سے دوزخ میں ڈالیں
بھی تو ہمیشہ دوزخ میں نہ رکھنا، سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نجات دینا تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: میں
تمہاری تہائی امت کے لئے یہ دعاء قبول کرتا ہوں، آپ کی تہائی امت پر یہ دنیوی عذاب نہیں آئے
گا، گناہوں کی شامت سے دوزخ میں جائیں گے بھی تو ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے یہ سن کر میں
سجدۂ شکر ادا کیا: پھر کھڑے ہو کر دعاء کیا: الٰہی! میری باقی امت کو بھی دنیوی عذاب سے بچائے،
گناہوں کی شامت سے دوزخ میں ہمیشہ نہ رکھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: اچھا میرے محمد! تمہاری
امت کے دوسرے تہائی حصے کو بھی دنیوی عذاب سے بچائے رکھوں گا، گناہوں کی شامت سے اگر
دوزخ میں جائیں گے بھی تو ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے، دوزخ سے ان کو نجات دوں گا، یہ سن کر
میں پھر سجدۂ شکر ادا کیا سہ بارہ پھر کھڑے ہو کر عرض کیا: الٰہی! میری امت کے تیسرے حصے کو بھی
دنیوی عذاب سے بچائے گناہوں کی شامت سے اگر دوزخ میں جائیں بھی تو ان کو ہمیشہ دوزخ میں
نہ رکھے! تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: اچھا میرے محمد! مجھے تمہاری خاطر منظور ہے، تمہاری امت کے
تیسرے حصے کو بھی دنیوی عذاب سے بچائے رکھوں گا، گناہوں کی شامت سے اگر دوزخ میں
جائیں بھی تو ہمیشہ ان کو دوزخ میں نہیں رکھوں گا، تمہاری تمام امت دنیوی عذاب سے بھی محفوظ رہے
گی، اور دوزخ کے ہمیشہ کے عذاب سے بھی محفوظ رہے گی، کیوں محمد اب خوش ہوئے یہ سن کر میں
تیسرے بار پھر سجدۂ شکر ادا کیا اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "He would fall into prostration." In Al-Durr al-Mukhtar, it is said: "The prostration of gratitude is recommended, and this is the fatwa (legal ruling)." In Rad al-Muhtar, it is said: "It is recommended for someone who receives a visible blessing, such as wealth, a child, or the removal of a calamity, to prostrate to Allah in gratitude, facing the qiblah. He should prostrate, praise Allah, thank Him, glorify Him, then say the takbir and raise his head, as in the prostration of recitation (sujud al-tilawah)." In Sharh al-Munyah, it is said: "He should say the takbir, face the qiblah, prostrate, praise Allah, thank Him, glorify Him, then say the takbir and raise his head."
Note 1
(۱) قوله: ساجدا وفي الدر المختار: وسجدة الشكر مستحبة به يفتى. وقال في رد المحتار: وهي لمن تجددت عنده نعمة ظاهرة، أو رزقه الله تعالى مالا أو ولدًا، أو اندفعت عنه نقمة، ونحو ذلك، يستحب له أن يسجد الله تعالى شكرا مستقبل القبلة، ويسجد، ويحمد الله، ويشكره ويسبح، ثم يكبر، فيرفع رأسه كما في سجدة التلاوة، انتهى، وفي آخر «شرح المنية: فيكبر مستقبل القبلة ويسجد ويحمد الله، ويكره ويسبح، ثم يكبر فيرفع رأسه.