العربية
Typed, pending editorial approval
١٦٣١ - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «صَلَّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِي: «فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَمُسْتَلْقِيًا1 {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} (البقرة: ٢٨٦).
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1117 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1248 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 1248
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The ruling on lying on one's back is that it is preferable in our school of thought over lying on one's side. The hadith of Imran is not a general proof, as it was addressed to him specifically due to his illness (hemorrhoids), which prevented him from lying on his back. Therefore, it is not a general ruling for the Ummah. Preference is given to the meaning, which is that lying on one's back allows one to face the Qiblah, fulfilling the obligation, unlike lying on one's side. For example, if one prostrates while lying on their back, it is directed toward the Qiblah, whereas lying on one's side would not face the Qiblah. This is mentioned in Al-Maraqat.
Note 1
(۱) قوله: فمستلقيا واعلم أن الاستلقاء في مذهبنا أفضل من الاضطجاع، ولا ينتهض حديث عمران حجة على العموم؛ فإنه خطاب له، وكان مرضه البواسير، وهو يمنع الاستلقاء، فلا يكون خطابه خطابا للأمة، فوجب الترجيحبالمعنى، وهو أن المستلقي تقع إشارته إلى جهة القبلة، وبه يتأدى الفرض، بخلاف الآخر. ألا ترى أنه لو حققه مستلقيا كان سجودا وركوعا إلى القبلة، ولو أتمه على جنب كان إلى غير جهتها. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: صدر کی دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا ہو، اس کے بارے میں ایک حدیث میں کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ اور دوسری حدیث میں چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حنفی مذہب میں دونوں طرح سے نماز پڑھنا جائز ہے، چاہیں تو کروٹ لیٹ کر نماز پڑھیں، یا چت لیٹ کر، مگر چت لیٹ کر نماز پڑھنا افضل ہے، افضل ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم خاص عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو ان کے چت لیٹنے پر قادر نہ ہونے سے دیا گیا تھا چونکہ وہ بواسیر کے مرض کا شکار تھے اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم عام طور پر دیا گیا ہے، عمران رضی اللہ عنہ کے لئے جو چیز افضل قرار دی گئی ہے اس کو سب بیماروں کے لئے افضل قرار دینا مناسب نہیں بلکہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے کو ترجیح دے کر افضل قرار دینا چاہئے، اس لئے کہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ کی طرف ہی رخ رہتا ہے، اور کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ سے رخ ہٹ جاتا ہے، حالانکہ نماز میں استقبال قبلہ فرض ہے، چونکہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی نہیں رہتی، اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی رہتی ہے، اسی لئے چت لیٹ کر نماز پڑھنا کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور یہی مذہب حنفی ہے (مرقات)۔