Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

Hadith 596

بَابُ تَطْهِيرِ النَّجَاسَاتِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

بَابُ تَطْهِيرِ النَّجَاسَاتِ

Zujajat al-Masabih 596Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٩٦ - وَعَنْ أَحْسَنَ ، عَنْ أُمِّهِ : أَنَّهَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَةَ تَصُبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ، فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْهُ. وَكَانَ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِيَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 379 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.899

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: شیر خوار بچہ یا بچی اگرچہ کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں دونوں کا پیشاب نجس ہے، بچے کے پیشاب کے لئے خفیف طور سے دھو لینا کافی ہے کیوں کہ بچے کے پیشاب میں بدبو کم ہوتی ہے اور وہ پتلا ہوا کرتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں بچے کے پیشاب کے لئے ”نَضْح“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی خفیف طور سے دھونے کے ہیں۔ ”التَّعْلِيقُ الْمُمَجَّدُ“ میں اسی طرح صراحت کی گئی ہے، لیکن بچی کے پیشاب کو بدبو کی زیادتی اور گاڑھے پن کی وجہ سے مبالغہ کے ساتھ دھونا ضروری ہے، جیسے اور نجاست کو دھویا جاتا ہے ، اسی طرح بچی کے پیشاب کے لئے حدیث میں ”غسل“ کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی اہتمام اور مبالغہ سے دھونے کے ہیں۔ (ماخوذ از مرقات اور التعلیق الممجد۔)12۔