Hadith 572
Volume 1العربية
Qur’an-related source paragraphs
And the words of Allah, the Almighty: "And purify your garments" (Al-Muddathir: 4), and "From its wool, fur, and hair, as well as its goods until a specified time" (An-Nahl: 80).
كِتَابُ الطَّهَارَةِ · Chapter 9
59 narrations · In source reading order
العربية
And the words of Allah, the Almighty: "And purify your garments" (Al-Muddathir: 4), and "From its wool, fur, and hair, as well as its goods until a specified time" (An-Nahl: 80).
العربية
العربية
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "Then wash it with water" — Al-Khattabi said: This provides evidence that water is specified for removing impurity. Al-Bayhaqi also used this argument in his Sunan, and it is the view of Malik, Shafi'i, Ahmad, Muhammad, and Zufar, who said that purification from impurity can only be achieved by something that purifies the ritual impurity (hadath). However, the Imam A'zam (Abu Hanifa) and Abu Yusuf held that purification can be done with any pure liquid. You are aware that they have no proof against the Hanafi position in this hadith because it deals with the purification of clothing with water, which no one denies. The disagreement concerns purification with something other than water, and the hadith neither negates nor affirms this but remains silent on the matter. How strange it is that Al-Khattabi and Al-Bayhaqi used this as evidence! Also, the ruling of impurity is lighter than that of ritual impurity, as shown by what has been narrated from Aisha, Sa'id ibn Jubayr, and others, as well as the permissibility of praying with a stone (to remove impurity), even if some traces of impurity remain. In contrast, if a trace of ritual impurity remains on the body, such as a tiny particle that was not washed, the purification is invalid unless it is washed off. So, understand this. This is a brief summary of what was mentioned in "Aujaz al-Masalik," and those who wish for further details should look there.
(۱) قوله: ثم لتنضحه بماء إلخ : قال الخطابي : إن فيه دليلا على تعيين الماء لإزالة النجاسة، وكذا استدل به البيهقي في سنته، وهو مذهب مالك والشافعي وأحمد ومحمد وزفر؛ إذ قالوا: إن الطهارة من النجاسة لا تحصل إلا بما يحصل به طهارة الحدث. وقال الإمام الأعظم وأبو يوسف ما يجوز التطهير بكل مائع طاهر. وأنت خبير بأنه لا حجة لهم على الحنفية في هذا الحديث؛ لأن فيه طهارة الثوب بالماء، ولا ينكره أحد. والخلاف في الطهارة بغير الماء، والحديث لا يتناوله نفيا ولا إثباتا، بل ساكت عنه. فليت شعري ! كيف استدل به الخطابي والبيهقي ؟ وأيضًا فحكم النجاسة أخف من الحدث بدليل ما ورد عن عائشة وسعيد بن جبير وغيرهما، وبدليل صحة صلاة المجمر بالحجر، ولو بقي هناك أثر النجاسة، بخلاف الطهارة عن الحدث لو بقي على البدن لمعة كالذرة لم يصبه الماء لم تصح طهارته إلا بغسلها، فافهم. هذا نبذة مما ذكره في أوجز المسالك، ومن شاء التفصيل فلينظر ثمه.
ف: اس حدیث کے الفاظ ﴿ثُمَّ لِتَنْضَحَهُ بِمَاءٍ﴾ (یعنی پھر کپڑے کو پانی سے دھولے) اس کے متعلق خطابی نے کہا ہے کہ اس ارشاد میں اس بات کی دلیل ہے کہ نجاست دور کرنے کے لئے پانی ہی معین ہے اور بیہقی نے بھی اپنی سنن میں اس حدیث سے یہی استدلال کیا ہے کہ نجاست پانی سے ہی دور کی جائے، اور امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام محمد اور امام زفر رحمہم اللہ کا، یہی مذہب ہے، یہ سب حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ جس چیز سے حدث دور ہوتا ہے، نجاست سے پاکی اسی چیز کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے لیکن امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نجاست سے پاکی حاصل کرنا ہر ایسی چیز کے ذریعہ جائز ہے جو بہنے والی اور پاک ہو۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ اس حدیث کو حنفیہ کے خلاف دلیل نہیں بنایا جا سکتا کیوں کہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کپڑے کی پاکی پانی سے حاصل ہوئی ہے جس کا انکار ناممکن ہے اور اختلاف تو اس بارے میں ہے کہ کیا پانی کے سوا کسی دوسری چیز سے بھی پاکی حاصل کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث جس میں پانی سے طہارت حاصل کرنے کا ذکر ہے اس میں اس بات کا حصر نہیں ہے کہ پانی کے سوا کسی اور بہنے والی چیز سے پاکی حاصل نہ کی جائے بلکہ اس حدیث میں پانی کے سوا کسی اور چیز سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں سکوت موجود ہے، دوسری چیز سے پاکی حاصل کرنے کا نہ تو ثبوت ہے نہ نفی بلکہ ابن ابی شیبہ کی وہ حدیث جو سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں ام المومنین نے اپنے کپڑے کی طہارت تھوک کے ذریعہ کی ہے اس میں پاک بہنے والی چیز سے طہارت حاصل کرنے کا ثبوت موجود ہے، امام بیہقی اور خطابی نے اپنی دلیل میں جو نجاست کا قیاس حدث پر کیا ہے اور جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نجاست دور کرنے کے لئے پانی اسی طرح لازمی ہے جس طرح حدث دور کرنے کے لئے پانی باتفاق لازمی ہے، صحیح نہیں ہے کیوں کہ نجاست کا حکم اور حدث کے حکم میں کافی فرق ہے اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیثیں اس بات پر قوی دلیل ہیں کہ بہنے والی پاک چیز سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں نجاست کے دور کرنے کے لئے ڈھیلا یا پتھر استعمال کیا جائے اور پانی سے طہارت کے بغیر نماز پڑھ لی جائے تو ایسے شخص کی نماز درست ہے حالانکہ صرف ڈھیلے یا پتھر سے طہارت پر اکتفاء کرنے میں نجاست کا اثر باقی رہ جاتا ہے، برخلاف حدث کے کہ اس میں اگر بال برابر جگہ بھی خشک رہ جائے تو حدث دور نہیں ہوتا تو اس طرح یہ نتیجہ نکلا کہ پاکی کے حاصل کرنے میں حدث پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے اور پانی کے علاوہ ہر پاک بہنے والی چیز سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔ (یہ اوجز المسالک سے اختصار کر کے لکھا گیا ہے اور جو تفصیل کا طالب ہو وہ اوجز المسالک میں دیکھ لے۔)12
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The term "فمصعته" refers to "مصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or wiping, and "القصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or scrubbing. This is mentioned in the explanation of "النقاية".
(۱) قوله : فمصعته إلخ والمصع بمهملتين: الإذهاب والقصع بمهملتين: الدلك. كذا في شرح «النقاية».
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The phrase "in the dirty place" refers specifically to a dry place. This interpretation, assuming the authenticity of the hadith, is agreed upon by all, because there is consensus that if a garment is soiled by impurity, it is only purified by washing, unlike a shoe, which has differing opinions. Thus, the statement about purification should be understood metaphorically. This is as mentioned in "Al-Mirqat."
(۱) قوله: في المكان القذر: هذا يقيد باليابس، وهذا التأويل على تقدير صحة الحديث متعين عند الكل؛ لانعقاد الإجماع على أن الثوب إذا أصابته نجاسة لا يطهر إلا بالغسل، بخلاف الخف؛ فإن فيه خلافًا، فإطلاق التطهير مجازي. كذا في «المرقاة».
ف: حدیث میں ناپاک جگہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ جگہ سے مراد خشک جگہ ہے اس پر دامن گزر جائے تو ناپاک نہیں ہوتا اگر جگہ تر ہو تو اس کا یہ حکم نہیں ہوگا کیوں کہ اس بات پر اجماع ہے کہ کپڑے کو جب نجاست لگ جائے تو وہ دھونے سے ہی پاک ہوتا ہے البتہ چمڑے کے موزے کا یہ حکم نہیں ہے اور اس کا حکم بھی آئندہ حدیثوں میں مذکور ہے اور اس حدیث میں زمین کا کپڑے کو پاک کر دینے کا جو ذکر موجود ہے قرینہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سائلہ عورت کا دامن خشک زمین پر ہی سے گزرتا تھا۔ (ماخوذ از مرقات۔)12۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
العربية
ف: اس حدیث میں تر نجاست کو دور کرنے کے لئے دھونا ثابت ہے اور اگر خشک نجاست ہو تو رگڑ دینا کافی ہے بالکل اسی طرح اس حدیث سے پہلے کی حدیثیں گو کہ وہ مطلق ہیں ان سے بھی یہی حکم مراد ہے کہ اگر نجاست تر ہو تو دھولی جائے اور اگر خشک ہو تو زمین پر رگڑ دینے سے پاک ہو جاتی ہے 12۔
العربية
وآلہ وسلم اسی کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ، ہمارے مذہب کے مطابق اس حدیث میں منی کے پاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق جو مذکور ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ لیا کرتی تھیں تو اس بارے میں یہ صراحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کپڑے سے خشک منی کو جس کا اثر کپڑے میں سرایت نہ کیا ہو، ایسے طریقہ سے مل دیا کرتی تھیں جس سے کپڑا پاک ہو جاتا تھا اور اس طرح رگڑنا بھی کپڑے کو پاک کرنے کا ایک طریقہ ہے، منی درحقیقت ناپاک ہے، اس کی توضیح یہ ہے کہ جوتے یا موزے کو خشک ناپاک چیز لگ جائے تو اس نجاست کو دور کرنے کے بارے میں روایت یوں ہے کہ پانی سے دھونے کے بجائے مٹی پر رگڑنا کافی ہے اور چمڑے کو پاک کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے تو اس طرح ثابت ہوا کہ اس روایت میں بھی کوئی دلیل درحقیقت نجس شئے کے پاک ہونے کی نہیں ہے تو جیسے چمڑے کے پاک ہونے سے نجاست کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں کپڑا جس کو خشک منی لگی ہوئی ہو رگڑنے سے کپڑا تو پاک ہوگا لیکن کپڑے کے پاک ہونے سے منی کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا۔12۔
العربية
العربية
(1) [Narrated by Al-Daraqutni from the hadith of Thabit bin Hammad, from Ali bin Zayd, from Sa'id bin al-Musayyib, from Ammar. Ali bin Zayd is Narrated by Muslim along with others, and Al-‘Ajli said there is no harm in him, and his narrations are written. Al-Hakim also narrated it in his "Mustadrak." Al-Tirmidhi said he was trustworthy. As for Thabit bin Hammad, no one accused him of fabrication except Al-Bayhaqi, although Al-Bayhaqi mentioned him in "Al-Ma'rifah" without attributing the accusation of fabrication. Al-Daraqutni and Ibn 'Adi said similar things. Al-Bazzar said Thabit bin Hammad was reliable, but there is no knowledge of him narrating anything except this hadith. He had a supporting narrator, and it was also narrated by Al-Tabarani in his "Al-Mu'jam Al-Kabir," where [Narrated by Ibrahim. This was stated by the scholar Al-‘Aini in his explanation of "Al-Hidayah."
(۱) قوله: رواه الدار قطني من حديث ثابت بن حماد عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن عمار الحديث. علي بن زيد روى له مسلم مقرونا به، وقال العجلي: لا بأس به. وفي موضع آخر يكتب حديثه، وروى له الحاكم في «المستدرك». وقال الترمذي: صدوق، وأما ثابت فلم يتهمه أحد بالوضع غير البيهقي، مع أنه ذكره في كتابه «المعرفة» ولم ينسبه إلى الوضع. وإنما حكي فيه قول الدار قطني وابن عدي، وقال البزار: وثابت بن حماد كان ثقة، ولا يعرف أنه روى غير هذا الحديث، وله متابع، ورواه الطبراني في معجمه الكبير، وفيه إبراهيم. قاله العلامة العيني في شرح الهداية».
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اسناد صحیح ہے۔) ابن الملک اور شیخ عبدالحق رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ منی نجس ہے اور یہی قول امام المذہب ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، اور اسی طرح عورت کے شرم گاہ کی تری بھی نجس ہے اس لئے کہ وہ منی سے جو ناپاک ہے ملی ہوئی ہوتی ہے۔ (تعلیق احیاء السنن میں ایسا ہی مذکور ہے۔)12
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اور امام طحاوی نے یہ صراحت کی ہے کہ پانی بہا دینے کا حکم درحقیقت دھو دینے کا ہے، چنانچہ اگر کسی آدمی کے کپڑے کو غلاظت لگ جائے اور وہ اس پر پانی بہا دے یہاں تک کہ پانی اس غلاظت کو دور کر دے تو اس کا کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
العربية
Mishkat (candidate) 505
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Mishkat (candidate) 523
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: شیر خوار بچہ یا بچی اگرچہ کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں دونوں کا پیشاب نجس ہے، بچے کے پیشاب کے لئے خفیف طور سے دھو لینا کافی ہے کیوں کہ بچے کے پیشاب میں بدبو کم ہوتی ہے اور وہ پتلا ہوا کرتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں بچے کے پیشاب کے لئے ”نَضْح“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی خفیف طور سے دھونے کے ہیں۔ ”التَّعْلِيقُ الْمُمَجَّدُ“ میں اسی طرح صراحت کی گئی ہے، لیکن بچی کے پیشاب کو بدبو کی زیادتی اور گاڑھے پن کی وجہ سے مبالغہ کے ساتھ دھونا ضروری ہے، جیسے اور نجاست کو دھویا جاتا ہے ، اسی طرح بچی کے پیشاب کے لئے حدیث میں ”غسل“ کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی اہتمام اور مبالغہ سے دھونے کے ہیں۔ (ماخوذ از مرقات اور التعلیق الممجد۔)12۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "Nor tendons." In response to Al-Radd al-Muhtar, it is stated: "The tendons of a dead animal are considered pure according to the well-known opinion," meaning the purity of the tendons, as affirmed in "Al-Wiqayah" and "Al-Durr," among others. It was even mentioned in "Al-Bada'i" and followed in "Al-Fath" that there is no disagreement on this. However, it was criticized in "Al-Bahr" where "Al-Ghayat al-Bayan" mentioned two opinions: one stating it is pure because it is considered bone, and the other stating it is impure because it contains life, and sensory perception can occur through it. The second opinion was confirmed in "Al-Siraj."
(۱) قوله: ولا عصب وقال في رد المحتار: وعصبها أي الميتة طاهر على المشهور، أي من طهارة العصب، كما جزم به في «الوقاية» و«الدر»، وغيرهما، بل ذكر في البدائع وتبعه في «الفتح» أنه لا خلاف فيه، لكن تعقبه في «البحر» بأنه في «غاية البيان ذكر فيه روايتين، إحداهما : أنه طاهر؛ لأنه عظم. والأخرى أنه نجس؛ لأن فيه حياة، والحس يقع به، وصحح في «السراج» الثانية.
اور بیہقی نے کہا ہے کہ عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ دباغت سے قبل مردار جانور کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کیا جائے۔ اسی طرح ابن حبان نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے اور سنن ابوداؤد میں یہ صراحت ہے کہ نضر بن شمیل نے کہا ہے کہ چمڑے کو ”اِهَاب“ اس وقت تک کہا جاتا ہے جب تک کہ اس کو دباغت نہ دی گئی ہو اور جب اس کی دباغت ہو جائے تو اس کو ”اهاب“ نہیں کہتے بلکہ اس کو ”شَنّ“ اور ”قِرْبَة“ کہتے ہیں۔ ف: غیر مذبوح مردار جانور کے چمڑے کے پاک ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف ہے لیکن ”سراج“ میں فتویٰ اسی پر ہے کہ وہ ناپاک ہے۔
This language is not yet available for this narration.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
This language is not yet available for this narration.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
This language is not yet available for this narration.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
This language is not yet available for this narration.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور اس کی سند کے متعلق سکوت اختیار کیا ہے جو، ان کے نزدیک صحت کی علامت ہے، اور بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمین جب خشک ہو جائے تو پاک ہو جاتی ہے۔)