Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He disliked, etc.
(1) The statement: "He disliked, etc." This dislike is of a prohibitive nature. Therefore, it is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is not permissible to place a mat under the deceased in the grave." What is narrated that a piece of velvet was placed in his grave is an established report, and it is said that this was specific to him (ﷺ), so it is not appropriate for others. This is extracted from Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: كره إلخ : فالكراهة تحريمية، لذا قال في الدر المختار»: ولا يجوز أن يوضع فيه مضربة انتهى. وما روي أنه جعل في قبره قطيفة، فخبر ثابت عنه، وقيل: إن ذلك من خواصه ، فلا يحسن في غيره. ملتقط من «المرقاة» ورد المحتار».
Note 1
رہنا چاہئے، قبر میں مردہ کے نیچے چادر وغیرہ بچھانا مکروہ تحریمی ہے، اب رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے مشہور ہے کہ قبر شریف میں چادر بچھائی گئی تھی، یہ حضور کا خاصہ ہے، حضور
چونکہ حیات النبی ہیں، حضور کے نیچے قبر شریف میں چادر بچھائے جانے سے دوسروں کی قبر میں چادر
بچھانے پر دلیل نہیں لی جا سکتی۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 970a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
And building over them.
(2) The statement: "And building over them." The prohibition regarding building is disliked if it is on one's own property and forbidden in public cemeteries. Some of our scholars explained that it is also due to the waste of wealth. However, the early scholars permitted building over the graves of renowned scholars and teachers so that people could visit them and find comfort in sitting there. This is mentioned in Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.
Note 2
قوله
(۲) قوله: وأن يبنى عليه والنهي في البناء للكراهة إن كان في ملكه وللحرمة في المقبرة المسئلة. وقال بعض الشراح من علمائنا: ولإضاعة المال، وقد أباح السلف البناء على قبر المشايخ والعلماء المشهورين، ليزورهم الناس ويستريحوا بالجلوس فيه. كذا في المرقاة» و«رد المحتار».
Note 1
کسی سے قبر کے مسمار کرنے کا خوف ہو، تو قبر کو گچ سے پختہ بنا سکتے ہیں، اس کی دلیل وہ حدیث ہے
جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے، (مَارَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ
حَسَنٌ) جس فعل کو صالحین مسلمان اچھا سمجھیں، وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے، ضرورت کی
وجہ سے قبر کو گچ کرنا صالحین مسلمان پسند کئے ہیں، اس لئے گچ کی قبر بنانا اللہ تعالیٰ کے پاس بھی
پسندیدہ ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر عمارت بنانے سے بھی منع فرمائے ہیں (اگر
عمارت سے مراد یہ ہے کہ عین قبر پر ہی کوئی عمارت بنائیں جیسے بعض کفار قبر پر لاٹ بناتے ہیں تو ایسی
عمارت بنانا اس حدیث سے ممنوع ہے، اور اگر قبر پر عمارت بنانے سے مراد یہ ہے کہ قبر کے اطراف
کوئی عمارت مثل گنبد کے بنائی جائے اور وہ بے ضرورت ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہے اور اگر گنبد وغیرہ
کسی ضرورت سے بنائی جائے جیسے صالحین مشائخ، علماء اور سادات کے مزار پر اس غرض سے بنائی
جاتی ہے کہ جو لوگ ان کے مزار پر زیارت کے لئے آتے ہیں، وہ دھوپ سے اور بارش سے محفوظ
رہیں اور اطمینان سے بیٹھ کر ان سے فیض لیا کریں تو یہ جائز ہے، اس لئے کہ صالحین مسلمان اس کو
اچھا سمجھتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر
بیٹھنے سے بھی منع فرمائے ہیں، اس لئے کہ اس میں مردہ کی اہانت اور ذلت ہوتی ہے اور مردہ کی
اہانت جن کاموں سے ہوتی ہے وہ سب منع فرماتے ہیں)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 969a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Nor any elevated grave, etc.
(1) The statement: "Nor any elevated grave, etc." Ibn Al-Humam said: "This Hadith refers to what they used to do by raising graves with high structures. Our intention is not to prohibit raising the grave slightly to distinguish it from the ground." This is mentioned in Al-Marqah. It also states: "There is no indication in it for flattening the grave, as Ibn Hajar said, nor for raising it, as others said. Rather, it emphasizes the prohibition of building excessively. However, it is not permissible to level it completely with the ground, as the Sunnah is to mark the grave and raise it slightly, as [Narrated by Ibn Hibban in his Sahih."
Note 1
قوله
(۱) قوله : ولا قبر مشرفا إلخ : وقال ابن الهمام: هذا الحديث محمول على ما كانوا يفعلونه من تعلية القبور بالبناء العالي وليس مرادنا ذلك بتسنيم القبر، بل بقدر ما يبدو من الأرض يتميز عنها. قاله في المرقاة». وفيه أيضًا: ولا دلالة فيه لا على التسطيح كما قاله ابن حجر، ولا على التسنيم كما قاله غيره، بل فيه مبالغة للزجر على البناء، وإلا فلا يجوز تسويته بالأرض حقيقة؛ إذ السنة أن يُعلم القبر وأن يرفع شبرا كقبره ، كما رواه ابن حبان في صحيحه.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1717 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 3165 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Return the martyrs to their places of death.
(2) The statement: "Return the martyrs to their places of death." It is recommended to bury the martyr or deceased in the place where they died, in the cemeteries of those people. However, if they are transported before burial for a distance of one or two miles, there is no harm in it. This is based on the report that Sa'd ibn Abi Waqqas died in a village four Farsakhs (about 12 miles) from Madinah and was carried on the shoulders of men to Madinah. This is the summary of what is mentioned in Sharh Al-Munyah and Fath Al-Qadeer.
Note 2
قوله
(۲) قوله: ردوا القتلى إلى مضاجعهم ويستحب في القتيل والميت دفنه في المكان الذي مات فيه في مقابر أولئك القوم، وإن نقل قبل الدفن قدر ميل أو ميلين فلا بأس به؛ لأنه نقل عن سعد بن أبي وقاص أنه مات في ضيعة على أربعة فراسخ من المدينة، فحمل على أعناق الرجال إليها هذا حاصل ما في شرح المنية» و«فتح القدير».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ میت کو جہاں مرا ہو، اسی مقام کے قبرستان میں دفن
کرنا چاہئے، دوسرے مقام میں اس کو منتقل نہیں کرنا چاہئے، اگر منتقل کرے بھی تو ایک دو میل سے کم
فاصلہ میں منتقل کرنا چاہئے یہ بھی خلاف اولیٰ ہے اور ایک دو میل سے زائد دور دفن کے لئے لے جانا
مکروہ ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد کو جہاں یہ شہید
ہوئے تھے، وہیں دفن کرنے کا حکم دئے اور دفن کے بعد قبر کو کھود کر میت کو ایک مقام سے دوسرے مقام
پر لے جانا ہر حالت میں ناجائز ہے، ہاں اگر کسی آدمی کی حق تلفی ہوئی ہو تو البتہ میت کا دفن کے بعد نکالنا
جائز ہے، مثلاً وہ زمین جس میں اس کو دفن کیا گیا ہے وہ دوسرے کی ملک ہو اور وہ اس کے دفن پر راضی
نہ ہو۔ (یہ مضمون عالمگیری اور رد المحتار سے لیا گیا ہے۔)12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1055 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
If I had witnessed your death, I would not have visited you.
(1) The statement: "If I had witnessed your death, I would not have visited you." Its explanation is in the chapter on visiting graves, so refer to it.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ولو شهدتك ما زرتك : تحقيقه في باب زيارة القبور، فراجعه.
Note 1
جذیمہ (یہ تفصیل اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) عراق اور عرب کا بادشاہ تھا اس کے دو
وزیر تھے، ایک کا نام مالک اور دوسرے کا نام عقیل تھا، جذیمہ کے یہ دو وزیر چالیس سال تک ایک
دوسرے کے ساتھ رہے، ان کی آپس میں مدت دراز تک، ہم نشینی اور خلوصی محبت کی وجہ سے لوگ کہتے
تھے کہ اب یہ ہرگز جدا نہ ہوں گے، لیکن نعمان نے ان کو قتل کر دیا، اس واقعہ کو متمم بن نویرہ شاعر نے
اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے مرثیہ میں تشبیہاً اس طرح بیان کیا ہے کہ جس طرح جذیمہ بادشاہ کے دو
وزیر چالیس سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے، اسی طرح ہم بھی آپس میں ان دو وزیروں کی
طرح ہم نشین اور محبت رکھنے والے تھے، ایک دوسرے سے جدا نہ ہونے تھے، حضرت ابو بکر صدیق
رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو قتل کر دیا، متمم بن نویرہ
شاعر کہتا ہے کہ اے مالک ہم باوجود ایک مدت دراز تک ساتھ رہنے کے تیرے قتل کی وجہ سے ایسا
معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدت دراز ایک خواب تھا اور ہم اس طرح جدا ہوگئے کہ کبھی ایک ساتھ نہ رہے
تھے، اب اسی واقعہ کو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حسب حال پا کر اپنے بھائی کے
فراق میں مذکورہ دو شعر پڑھیں کہ: اے بھائی ہم اور تم جذیمہ بادشاہ کے ہم نشین وزیروں کی طرح
تھے اور آپس میں ایک مدت دراز تک اس طرح رہے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب یہ جدا نہ ہوں گے لیکن
جب جدائی کا وقت آیا تو باوجود اتنی طویل مدت تک ساتھ رہنے کے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم ایک
رات بھی ساتھ نہیں رہے۔
ان اشعار کے پڑھنے کے بعد حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم اگر میں تمہاری موت
کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتی تو تمہیں اسی مقام حبشی میں دفن کرتی جہاں تمہاری وفات ہوئی
تھی)(اس لئے جو شخص جہاں انتقال کرے اس کو وہیں کے قبرستان میں دفن کرنا مسنون ہے۔) اس
کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ عام عورتوں کی عدت ان کے شوہروں کی وفات
کے بعد (4) ماہ دس دن ہے، اسی لئے وہ عدت گزرنے کے بعد کسی سے بھی نکاح کر سکتے ہیں،
بخلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کی عدت ان کے وفات تک ہے
کہ امہات المؤمنین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تا حیات کسی سے نکاح کرنا جائز نہیں
ہے (اس لئے اپنے بھائی سے حضرت عائشہ فرما رہی ہیں کہ میں عدت (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ
اللمعات میں مذکور ہے۔12) میں ہوں، اگر میں تمہارے انتقال کے وقت تمہارے جنازہ میں
شریک رہتی تو دوبارہ تمہاری زیارت کے لئے نہ آتی، کیونکہ زمانہ عدت میں بلا ضرورت شدید کے
کہیں جا نہیں سکتے، ہاں ایسی کوئی خاص ضرورت ہو تو جا سکتے ہیں، چونکہ میں تمہارے انتقال
کے وقت (تمہارے دیدار سے محروم رہی) اس لئے اب زیارت کے لئے آ گئی ہوں (تاکہ یہ
آخری دیدار کے قائم مقام ہو جائے۔)
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1057 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
This is a Hasan Hadith.
(2) The statement: "This is a Hasan Hadith." In Fath Al-Qadeer, it is said: "In its chain are Al-Hajjaj ibn Artah and Minhal ibn Khalifah, and there is disagreement about them. This lowers the Hadith from the level of Sahih to Hasan."
Note 2
قوله
(۲) قوله: حديث حسن : قال في فتح القدير: فيه الحجاج بن أرطاة ومنهال بن خليفة، وقد اختلفوا فيها، وذلك يحط الحديث عن درجة الصحيح، لا الحسن.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1052 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Writing on them.
(1) The statement: "Writing on them." In Al-Muhit, it is said: "If there is a need for writing to preserve the grave's mark and prevent disrespect, there is no harm in it. However, writing without a valid reason is not permissible. It is disliked to write Quranic verses, poetry, or praise on graves." This is summarized in Al-Hilyah and mentioned in Radd Al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: أن يكتب عليها: فصل في المحيط» فقال: وإن احتيج إلى الكتابة حتى لا يذهب الأثر، ولا يمتهن فلا بأس به، فأما لكتابة بغير عذر فلا. حتى إنه يكره كتابة شيء عليه من القرآن أو الشعر أو اطراء مدح له، ونحو ذلك. حلية» ملخصا. قاله في رد المحتار».
Note 1
ف: یہ حدیث اس زمانہ کی ہے کہ جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبروں کی
زیارت کرنے سے منع فرمائے تھے جب زیارت قبور سے منع فرمایا گیا تو قبروں کو گچ کرنے سے بھی منع
فرمایا گیا تھا اس لئے کہ جب زیارت قبور ہی جائز نہ تھی تو قبروں کو گچ کر کے پختہ کرنے کی کیا ضرورت
تھی اور جب قبور کی زیارت کرنے کی ممانعت منسوخ ہوگئی تو حدیث کے دونوں حکم کہ قبروں پر گچ نہ
کی جائے اور قبروں پر لکھا نہ جائے بھی منسوخ ہوگئے (جیسا کہ مرقات میں حاکم کے حوالہ سے لکھا
ہے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: (فَزُوْرُوْهَا) یعنی قبروں کی زیارت کرو تو اس سے
قبروں کو گچ کر کے پختہ کرنے کی اجازت بھی مل گئی اور قبروں پر لکھنے اور کتبے لگانے کی بھی اجازت
ہوگئی، اس لئے کہ کچی قبر چند روز میں زمین کے برابر ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا،
اس سے لازم آتا ہے کہ قبروں کو گچ سے پختہ کریں اور اوپر لکھیں یا کتبے لگائیں تاکہ زیارت کی جاسکے
یہ قول مبارک ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپ کے اس فعل سے بھی دلیل ملتی ہے، قبروں کو گچ
سے پختہ کرنے کی اس لئے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر ایک
بڑا پتھر رکھنے کا حکم دئے اور صحابی اس کو اٹھا نہ سکے تو حضور خود اٹھا کر قبر (یہ حدیث ابوداؤد میں مذکور ہے
جو آگے آرہی ہے۔12) پر رکھ دئے تا کہ قبر یادگار رہے اور اس کی زیارت کرسکیں، اس سے بھی معلوم
ہوا کہ قبروں کو گچ سے پختہ کیا جائے تاکہ لوگ زیارت کرسکیں۔ حدیث مذکور کے یہ دونوں حکم منسوخ
ہونے کی یہ بھی ایک دلیل ہے کہ سارے عالم اسلام میں مشرق سے مغرب تک سلف (جیسا کہ ردالمحتار
میں مذکور ہے) سے خلاف تک قبروں کو گچ سے پختہ کیا جاتا رہا ہے اور قبروں پر لکھا جاتا رہا ہے یا ان پر
کتبے لکھ کر سرہانے لگائے جاتے رہے ہیں اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث
شریف ہے: ”مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ“، جس فعل کو صالحین مسلمان اچھا
سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ چونکہ صالحین مسلمان قبروں کو گچ سے پختہ کرنے اور
قبروں پر لکھنے اور کتبے یا تختیاں لگانے کو پسند کئے ہیں، اس لئے قبروں کو گچ سے پختہ بنانا اور قبروں پر
لکھنا یا کتبے اور تختیاں لگانا اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ (جیسا کہ مرقات اور ردالمحتار میں مذکور
ہے۔12) ہے۔
حدیث مذکور کا تیسرا جز، کہ قبر کو روندا نہ جائے منسوخ نہیں ہے۔ اس لئے قبروں پر چلنا اور
قبروں کو روندنا ناجائز ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3206 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
I am marking it.
(1) The statement: "I am marking it." In Qadikhan, it is said: "There is no harm in placing stones as a marker." This is mentioned by Al-Ayni in Sharh Al-Hidayah. In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "There is no harm in writing." In Radd Al-Muhtar, it is said: "Although the prohibition of writing is established, it is not acted upon. The Imams of the Muslims, from the East to the West, have writing on their graves, and this is a practice inherited from the predecessors. This Hadith strengthens this view, as writing helps identify the grave. However, it appears that this consensus applies when there is a need for it, as indicated in Al-Muhit."
Note 1
قوله
(۱) قوله : أعلم بها: وفي قاضيخان»: ولا بأس بوضع الأحجار؛ ليكون علامة. قاله العلامة العيني في شرح الهداية». ولقوله : أعلم بها قبر أخي. قال في الدر المختار»: لا بأس بالكتابة.
وقال في رد المحتار»: لأن النهي عن الكتابة وإن صح، ولكن ليس العمل عليها؛ فإن أئمة المسلمين من الشرق إلى الغرب مكتوب على قبورهم، وهو عمل أخذ به الخلف عن السلف، ويتقوى بهذا الحديث؛ فإن الكتابة طريق إلى تعرف القبر بها. نعم، يظهر أن محل هذا الإجماع العملي على الرخصة فيها ما إذا كانت الحاجة داعية إليه في الجملة، كما أشار إليه في «المحيط».
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3212 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1548 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے ساتھ
قبرستان تک جانا اور قبر تیار ہونے تک دفن کے انتظار میں بیٹھنا سنت ہے، اس حدیث شریف میں مذکور
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبلہ رو ہو کر بیٹھ گئے، مرقات میں طبرانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ بہترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ رو ہو کر بیٹھا
جائے۔12
(جیسے زندہ کو کچھ ایذا دی جائے تو وہ متاثر ہوتا ہے اور اس کو تکلیف ہوتی ہے، ایسے ہی مردہ کو
اگر ایذا دی جائے تو وہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے
کی ہے۔12) اور اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے اس لئے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زندہ کو ایذاء پہنچانے سے جیسا گناہ ہوتا ہے ویسے ہی مردہ
کو مرنے کے بعد ایذا دینے سے گناہ ہوتا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جیسے کسی آرام دہ کام سے
زندہ کو آرام اور لذت ملتی ہے، ایسا ہی کسی مردہ کے ساتھ بھی آرام دہ کام کیا جائے تو مردہ کو آرام اور
لذت ملتی ہے اس سے ثابت ہوا کہ جیسے زندگی میں زندہ کی تعظیم کی جاتی ہے، ایسے ہی مرنے کے بعد
مردہ کی بھی تعظیم کی جائے، اس لئے کہ اس سے مردہ کو راحت اور لذت ملتی ہے۔ مرقات، اشعۃ
اللمعات اور رد المحتار۔12
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
صاحبزادی کو دفن کرنے کے لئے قبر میں اترے اور حضرت ابو طلحہ اجنبی تھے، حضرت ابو طلحہ کو قبر میں
اترنے کا جو حکم دیا گیا، اس سے ابن الہمام نے یہ مسائل اخذ کئے ہیں کہ عورتوں کو قبر میں اتارنے کے
لئے یا کسی ضرورت پر قبر سے نکالنے کے لئے مرد ہی قبر میں اتریں، اگرچہ کہ مرد اجنبی ہوں عورتیں قبر
میں نہ اتریں، اس لئے کہ ضرورت پر اجنبی مرد عورت کو جس طرح زندگی میں کپڑے وغیرہ کو حائل
کر کے ہاتھ لگا سکتا ہے، ایسے ہی مرنے کے بعد بھی کپڑے وغیرہ کو حائل کر کے ہاتھ لگا سکتا ہے اور کفن
بھی حائل ہو جاتا ہے، اگر کسی عورت کی وفات ہو جائے اور اس کے ساتھ اس کے محرم رشتہ دار موجود نہ
ہوں تو ایسی صورت میں اس کے پڑوس کے سن رسیدہ نیک اور صالح لوگ اس کو دفنا سکتے ہیں اور اگر یہ
بھی نہ ہوں تو نوجوان نیک اور صالح لوگ اس کو دفن کر سکتے ہیں۔ یہ مضمون مرقات سے ماخوذ
ہے۔12
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "He disliked, etc." This dislike is of a prohibitive nature. Therefore, it is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is not permissible to place a mat under the deceased in the grave." What is narrated that a piece of velvet was placed in his grave is an established report, and it is said that this was specific to him (ﷺ), so it is not appropriate for others. This is extracted from Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.
Note 1
(۱) قوله: كره إلخ : فالكراهة تحريمية، لذا قال في الدر المختار»: ولا يجوز أن يوضع فيه مضربة انتهى. وما روي أنه جعل في قبره قطيفة، فخبر ثابت عنه، وقيل: إن ذلك من خواصه ، فلا يحسن في غيره. ملتقط من «المرقاة» ورد المحتار».
Note 1
رہنا چاہئے، قبر میں مردہ کے نیچے چادر وغیرہ بچھانا مکروہ تحریمی ہے، اب رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے مشہور ہے کہ قبر شریف میں چادر بچھائی گئی تھی، یہ حضور کا خاصہ ہے، حضور چونکہ حیات النبی ہیں، حضور کے نیچے قبر شریف میں چادر بچھائے جانے سے دوسروں کی قبر میں چادر بچھانے پر دلیل نہیں لی جا سکتی۔)