Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals · Chapter 6

Chapter on Burial of the Deceased

31 narrations · In source reading order

Hadith 2149

Volume 1

English

Amir ibn Sa'd ibn Abi Waqqas reported that Sa'd ibn Abi Waqqas said during his final illness: "Make a niche (Lahd) for me in the grave, and set the bricks over me firmly, just as was done for the Messenger of Allah (ﷺ)."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٤٩ - وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ بْنِ أَبِي وَقَاصٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَاصٍ(رضي الله عنه) قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيْهِ الْحَدُوا لِي لَحَدًا، وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّينَ نَصْبًا كَمَا صُنِعَ بِرَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2521
عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الموت میں کہا تھا کہ میرے لئے بغلی قبر کو کھودنا اور میری قبر پر (نشانی کے واسطے) کچی اینٹیں رکھ دینا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزار مبارک کو بغلی کھودا گیا تھا اور قبر شریف پر کچی اینٹیں جمائی گئی تھیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "Then He buried him" (Quran 80:21).

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 966 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2150

Volume 1

English

Urwah ibn Az-Zubayr reported: "There were two men in Madinah: one who made niches (Lahd) in graves, and the other who did not. They said, 'Whichever of them comes first will do his work.' The one who made niches came first and made a niche for the Messenger of Allah (ﷺ)."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٠ - وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا يَلْحَدُ وَالْآخَرُ لَا يَلْحَدُ. فَقَالُوا: أَيُّهُمَا جَاءَ أَوَّلًا عَمِلَ عَمَلَهُ، فَجَاءَ الَّذِي يَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2522
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات ہوئی تو لوگوں نے آپس میں کہا کہ مدینہ میں دو شخص قبر کھودتے ہیں ایک صاحب بغلی قبر کھودتے ہیں اور دوسرے صاحب صندوقی (دونوں کو بلاؤ) ان میں سے جو پہلے آجائے وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف (اپنے طریقہ کے موافق) تیار کرے، الغرض دونوں کو اطلاع کی گئی، اتفاق سے بغلی قبر تیار کرنے والے صاحب پہلے آ گئے اور آپ کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔ اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔

Hadith 2151

Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The niche (Lahd) is for us, and the trench (Shaqq) is for others." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah] Ahmad also narrated it from Jarir ibn Abdullah. Al-Tirmidhi said: "It has been reported from Ibn Abbas that he disliked placing anything under the deceased in the grave." 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥١ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: وَقَدْ رُؤْيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا أَنَّهُ كَرِهَ1 أَنْ يُلْقَى تَحْتَ الْمَيِّتِ فِي الْقَبْرِ شَيْءٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2523Noor 2524Noor 2525
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (ہمارے مدینہ کی زمین بہت سخت ہے بغلی قبر کے قابل ہے، اس لئے) ہم مدینہ والوں (جیسا کہ اشعۃ اللمعات اور عرف شذی میں مذکور ہے۔12) کے لئے (اور جہاں کہیں کی زمین سخت ہو، ان کے لئے) بغلی قبر ہی مناسب ہے اور ہمارے مدینہ کے سوا (جہاں کی زمین نرم ہے جیسے مکہ کی یا اور جگہ کی ان کے لئے) صندوقی قبر ہی مناسب ہے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور امام احمد نے جریر بن عبداللہ سے اس کی روایت کی ہے۔ اور ترمذی نے کہا ہے کہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس قبر میں میت کے نیچے (چادر یا) کوئی (اور) چیز بچھانے کو مکروہ سمجھتے تھے (اس لئے در مختار میں لکھا ہے کہ مردہ زمین پر
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1045 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3208 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1554 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2009 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He disliked, etc.

(1) The statement: "He disliked, etc." This dislike is of a prohibitive nature. Therefore, it is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is not permissible to place a mat under the deceased in the grave." What is narrated that a piece of velvet was placed in his grave is an established report, and it is said that this was specific to him (ﷺ), so it is not appropriate for others. This is extracted from Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كره إلخ : فالكراهة تحريمية، لذا قال في الدر المختار»: ولا يجوز أن يوضع فيه مضربة انتهى. وما روي أنه جعل في قبره قطيفة، فخبر ثابت عنه، وقيل: إن ذلك من خواصه ، فلا يحسن في غيره. ملتقط من «المرقاة» ورد المحتار».

Note 1

رہنا چاہئے، قبر میں مردہ کے نیچے چادر وغیرہ بچھانا مکروہ تحریمی ہے، اب رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے مشہور ہے کہ قبر شریف میں چادر بچھائی گئی تھی، یہ حضور کا خاصہ ہے، حضور چونکہ حیات النبی ہیں، حضور کے نیچے قبر شریف میں چادر بچھائے جانے سے دوسروں کی قبر میں چادر بچھانے پر دلیل نہیں لی جا سکتی۔)

Hadith 2152

Volume 1

English

Sufyan An-Namar reported that he saw the grave of the Prophet (ﷺ) raised in a dome shape.

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٢ - وَعَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ ﷺ مُسَنَّمًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2526
سفیان التمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف (ایک بالشت اونچی) کوہان نما ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1390 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2153

Volume 1

English

It is also reported from him: "I entered the house where the grave of the Prophet (ﷺ) is located, and I saw the graves of the Prophet (ﷺ), Abu Bakr, and Umar raised in a dome shape."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٣ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) دَخَلْتُ الْبَيْتَ الَّذِي فِيْهِ قَبْرُ النَّبِيِّ ﷺ فَرَأَيْتُ قَبْرَ النَّبِيَّ ﷺ وَقَبْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مُسَنَّمَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي مُصَنَّفِهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2527
سفیان التمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں (ایک دفعہ) اس حجرہ شریف میں داخل ہوا کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف ہے میں نے دیکھا کہ (حجرہ شریف میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی قبریں تینوں کی تینوں (ایک بالشت اونچی) کوہان نما ہیں۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے۔

Hadith 2154

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited plastering graves, building over them, or sitting on them. 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٤ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ2 وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2528
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بے ضرورت) قبر کو گچ سے پختہ کرنے کی ممانعت فرمائے ہیں۔ (اگر کوئی ایسی ضرورت ہو مثلاً
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 970a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

And building over them.

(2) The statement: "And building over them." The prohibition regarding building is disliked if it is on one's own property and forbidden in public cemeteries. Some of our scholars explained that it is also due to the waste of wealth. However, the early scholars permitted building over the graves of renowned scholars and teachers so that people could visit them and find comfort in sitting there. This is mentioned in Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.

Note 2

قوله

(۲) قوله: وأن يبنى عليه والنهي في البناء للكراهة إن كان في ملكه وللحرمة في المقبرة المسئلة. وقال بعض الشراح من علمائنا: ولإضاعة المال، وقد أباح السلف البناء على قبر المشايخ والعلماء المشهورين، ليزورهم الناس ويستريحوا بالجلوس فيه. كذا في المرقاة» و«رد المحتار».

Note 1

کسی سے قبر کے مسمار کرنے کا خوف ہو، تو قبر کو گچ سے پختہ بنا سکتے ہیں، اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے، (مَارَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ) جس فعل کو صالحین مسلمان اچھا سمجھیں، وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے، ضرورت کی وجہ سے قبر کو گچ کرنا صالحین مسلمان پسند کئے ہیں، اس لئے گچ کی قبر بنانا اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر عمارت بنانے سے بھی منع فرمائے ہیں (اگر عمارت سے مراد یہ ہے کہ عین قبر پر ہی کوئی عمارت بنائیں جیسے بعض کفار قبر پر لاٹ بناتے ہیں تو ایسی عمارت بنانا اس حدیث سے ممنوع ہے، اور اگر قبر پر عمارت بنانے سے مراد یہ ہے کہ قبر کے اطراف کوئی عمارت مثل گنبد کے بنائی جائے اور وہ بے ضرورت ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہے اور اگر گنبد وغیرہ کسی ضرورت سے بنائی جائے جیسے صالحین مشائخ، علماء اور سادات کے مزار پر اس غرض سے بنائی جاتی ہے کہ جو لوگ ان کے مزار پر زیارت کے لئے آتے ہیں، وہ دھوپ سے اور بارش سے محفوظ رہیں اور اطمینان سے بیٹھ کر ان سے فیض لیا کریں تو یہ جائز ہے، اس لئے کہ صالحین مسلمان اس کو اچھا سمجھتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر بیٹھنے سے بھی منع فرمائے ہیں، اس لئے کہ اس میں مردہ کی اہانت اور ذلت ہوتی ہے اور مردہ کی اہانت جن کاموں سے ہوتی ہے وہ سب منع فرماتے ہیں)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Hadith 2155

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "It is better for one of you to sit on a burning ember that burns his clothes and reaches his skin than to sit on a grave."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2529
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی چنگاری پر بیٹھ جائے اور اس سے اس کے کپڑے جل کر اس کی کھال تک آگ لگ پہونچ جائے تو یہ ایسا مضر نہیں جیسے قبر پر بیٹھنے سے اس کا مضر اثر بیٹھنے والے کے قلب تک پہونچتا ہے، یہ آگ پر بیٹھنے کے ضرر سے زیادہ مضر ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 971 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2156

Volume 1

English

Abu Al-Hayyaj Al-Asadi reported: Ali (may Allah be pleased with him) said to me, "Shall I not send you on the same mission that the Messenger of Allah (ﷺ) sent me on? Do not leave any statue without erasing it, nor any elevated grave without leveling it." 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٦ - وَعَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ: أَلَا أَبْعَثْكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا1 مُشَرِّفًا إِلَّا سَوَّيْتَهَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2530
ابوالہیّاج اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمائے سُنو ابوالہیّاج مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کام کے لئے بھیجے تھے، میں اس کام کے لئے تم کو بھی بھیجنا چاہتا ہوں اور وہ کام یہ ہے کہ جہاں کہیں تم کسی جاندار کی تصویر دیکھو (خواہ وہ مجسمہ ہو یا ہاتھ سے کھنچی ہوئی ہو، یا فوٹو۔ جیسا کہ مجمع البحار میں مذکور ہے۔12 ۔ ہو) اس کو توڑ دو، مٹادو (اور باقی نہ رہنے دو) ایسا ہی جہاں تم دیکھو کہ قبر (حد سے زیادہ) اونچی بنائی گئی ہے تو اس کو پست کر کے ایک بالشت کے موافق بلند رہنے دو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 969a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Nor any elevated grave, etc.

(1) The statement: "Nor any elevated grave, etc." Ibn Al-Humam said: "This Hadith refers to what they used to do by raising graves with high structures. Our intention is not to prohibit raising the grave slightly to distinguish it from the ground." This is mentioned in Al-Marqah. It also states: "There is no indication in it for flattening the grave, as Ibn Hajar said, nor for raising it, as others said. Rather, it emphasizes the prohibition of building excessively. However, it is not permissible to level it completely with the ground, as the Sunnah is to mark the grave and raise it slightly, as [Narrated by Ibn Hibban in his Sahih."

Note 1

قوله

(۱) قوله : ولا قبر مشرفا إلخ : وقال ابن الهمام: هذا الحديث محمول على ما كانوا يفعلونه من تعلية القبور بالبناء العالي وليس مرادنا ذلك بتسنيم القبر، بل بقدر ما يبدو من الأرض يتميز عنها. قاله في المرقاة». وفيه أيضًا: ولا دلالة فيه لا على التسطيح كما قاله ابن حجر، ولا على التسنيم كما قاله غيره، بل فيه مبالغة للزجر على البناء، وإلا فلا يجوز تسويته بالأرض حقيقة؛ إذ السنة أن يُعلم القبر وأن يرفع شبرا كقبره ، كما رواه ابن حبان في صحيحه.

Hadith 2157

Volume 1

English

Abu Marthad Al-Ghanawi (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Do not sit on graves, nor pray facing them."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٧ - وَعَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُوْرِ وَلَا تُصَلُّوْا إِلَيْهَا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2531
ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (قضاء حاجت کے لئے) قبروں پر مت بیٹھو (اس لئے کہ یہ مکروہ (جیسا کہ ردالمحتار میں مذکور ہے۔12) تحریمی ہے، اگر قضاء حاجت کے لئے نہیں بلکہ یوں ہی قبروں پر بیٹھا یا قبروں کو کھدلتا ہوا چلا) تو یہ بھی نہیں کرنا چاہئے۔ (اس لئے کہ ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (اس لئے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 972a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2158

Volume 1

English

Hisham ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: On the day of Uhud, the Prophet (ﷺ) said, "Dig the graves, make them wide and deep, and do it well. Bury two or three in a single grave, and place the one who knew the most Quran first." [Narrated by Ahmad, Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i] Ibn Majah narrated it up to the words: "And do it well."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٨ - وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: «احْفِرُوا وَأَوْسِعُوْا وَأَعْمِقُوْا وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، وَقَدَّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهِ إِلَى قَوْلِهِ: «وَأَحْسِنُوا».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2532
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ اُحد کے ختم ہونے کے بعد (جب شہیدوں کو دفن کر رہے تھے اس وقت) ارشاد فرمایا نے قبریں کھودو اور کشادہ کھودو اور گہری کھودو (کم سے کم قبر کمر کے برابر گہری ہو، جتنا زیادہ گہری کھودو گے بہت اچھا ہے، چاہے سینہ (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے) تک ہو یا قد کے برابر ہو) اور قبر کو پاک و صاف بناؤ (کہ زمین ہموار رہے، مٹی اور کوئی چیز اس میں نہ رہے) بہتر تو یہ ہے کہ ایک قبر میں ایک ہی مردہ دفنایا جائے، اگر ضرورت ہو تو) ایک قبر میں دو، دو، تین تین بھی دفن کرو (اگر دو مردوں کے بیچ میں مٹی یا اینٹوں سے آڑ بنائی جائے) (ردالمحتار۔12) (جب کئی مردوں کو ایک قبر میں دفن کرنا پڑے تو ان میں سب سے زیادہ جس کا علم و عمل تھا اسی کو قبر میں پہلے اتاریں اور اس کو قبلہ کی طرف پہلے رکھیں، مثلاً) جس کو قرآن زیادہ یاد ہو، اس کو پہلے قبر میں اتار کر (قبلہ کی طرف پہلے) رکھیں (پھر اس سے کم جس کو قرآن یاد ہو، اس کے بعد اس کو رکھیں، ایسے ہی ترتیب وار مردوں کو ایک قبر میں ضرورۃً رکھ سکتے ہیں۔) اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3215 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1713 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1560 (unverified) 87% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2159

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "On the day of Uhud, my aunt brought my father to bury him in our cemetery. Then the caller of the Messenger of Allah (ﷺ) announced, 'Return the martyrs to their places of death.'" 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٥٩ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي لِتَدْفِنَهُ فِي مَقَابِرِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ ﷺ : رُدُّوا2 الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَلَفْظُهُ لِلتَّرْمِذِيِّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2533
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (غزوۂ احد میں میرے والد شہید ہوئے اور ابھی دفن نہیں کئے گئے تھے کہ) میری پھوپھی میرے والد کو وہاں سے منتقل کر کے، ہمارے قبرستان میں دفن کرنے کے لئے لے آئیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے ندا دی کہ شہیدوں کو ان کے شہید ہونے کی جگہ واپس لے جاؤ (تاکہ ان کو وہیں دفن کر دیا جائے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1717 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3165 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Return the martyrs to their places of death.

(2) The statement: "Return the martyrs to their places of death." It is recommended to bury the martyr or deceased in the place where they died, in the cemeteries of those people. However, if they are transported before burial for a distance of one or two miles, there is no harm in it. This is based on the report that Sa'd ibn Abi Waqqas died in a village four Farsakhs (about 12 miles) from Madinah and was carried on the shoulders of men to Madinah. This is the summary of what is mentioned in Sharh Al-Munyah and Fath Al-Qadeer.

Note 2

قوله

(۲) قوله: ردوا القتلى إلى مضاجعهم ويستحب في القتيل والميت دفنه في المكان الذي مات فيه في مقابر أولئك القوم، وإن نقل قبل الدفن قدر ميل أو ميلين فلا بأس به؛ لأنه نقل عن سعد بن أبي وقاص أنه مات في ضيعة على أربعة فراسخ من المدينة، فحمل على أعناق الرجال إليها هذا حاصل ما في شرح المنية» و«فتح القدير».

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ میت کو جہاں مرا ہو، اسی مقام کے قبرستان میں دفن کرنا چاہئے، دوسرے مقام میں اس کو منتقل نہیں کرنا چاہئے، اگر منتقل کرے بھی تو ایک دو میل سے کم فاصلہ میں منتقل کرنا چاہئے یہ بھی خلاف اولیٰ ہے اور ایک دو میل سے زائد دور دفن کے لئے لے جانا مکروہ ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد کو جہاں یہ شہید ہوئے تھے، وہیں دفن کرنے کا حکم دئے اور دفن کے بعد قبر کو کھود کر میت کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جانا ہر حالت میں ناجائز ہے، ہاں اگر کسی آدمی کی حق تلفی ہوئی ہو تو البتہ میت کا دفن کے بعد نکالنا جائز ہے، مثلاً وہ زمین جس میں اس کو دفن کیا گیا ہے وہ دوسرے کی ملک ہو اور وہ اس کے دفن پر راضی نہ ہو۔ (یہ مضمون عالمگیری اور رد المحتار سے لیا گیا ہے۔)12

Hadith 2160

Volume 1

English

Ibn Abi Mulaikah reported: "When Abdur Rahman ibn Abi Bakr died in Al-Hubshi (a place), he was carried to Makkah and buried there. When Aisha (may Allah be pleased with her) arrived, she visited the grave of Abdur Rahman ibn Abi Bakr and said: 'We were like the two companions of Jadhimah for a period of time, Until it was said they would never part. When we separated, it was as if I and Malik, Due to our long companionship, had never spent a night together.' Then she said, 'By Allah, if I had been present, you would not have been buried except where you died. If I had witnessed your death, I would not have visited you.'" 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٠ - وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا تُوْفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالْحُبْشِيِّ - وَهُوَ مَوْضِعٌ - فَحُمِلَ إِلَى مَكَّةَ فَدُفِنَ بِهَا، فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: وَكُنَّا كَنَدْمَانَي جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنْ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا لِطُولِ اجْتِمَاعِ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ لَوْ حَضَرْتُكَ مَا دُفِنْتَ إِلَّا حَيْثُ مُتَّ مُتَّ لَوْ شَهِدْتُكَ1 مَا زُرْتُكَ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2534
ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ (جو مشاہیر تابعین سے ہیں) ان سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حبشی مکہ مکرمہ کے اطراف کے مواضعات میں سے ایک موضع ہے، یہاں عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما تھے اور اسی موضع میں ان کا انتقال ہو گیا، تو ان کا جنازہ مقام حبشی سے مکہ معظمہ لایا گیا اور وہ مکہ معظمہ میں دفن کئے گئے، جب ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (حج کے لئے) مکہ معظمہ آئیں تو اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کی زیارت کے لئے ان کی قبر پر تشریف لائیں اور (بہت درد کے ساتھ) یہ اشعار پڑھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1055 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

If I had witnessed your death, I would not have visited you.

(1) The statement: "If I had witnessed your death, I would not have visited you." Its explanation is in the chapter on visiting graves, so refer to it.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ولو شهدتك ما زرتك : تحقيقه في باب زيارة القبور، فراجعه.

Note 1

جذیمہ (یہ تفصیل اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) عراق اور عرب کا بادشاہ تھا اس کے دو وزیر تھے، ایک کا نام مالک اور دوسرے کا نام عقیل تھا، جذیمہ کے یہ دو وزیر چالیس سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے، ان کی آپس میں مدت دراز تک، ہم نشینی اور خلوصی محبت کی وجہ سے لوگ کہتے تھے کہ اب یہ ہرگز جدا نہ ہوں گے، لیکن نعمان نے ان کو قتل کر دیا، اس واقعہ کو متمم بن نویرہ شاعر نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے مرثیہ میں تشبیہاً اس طرح بیان کیا ہے کہ جس طرح جذیمہ بادشاہ کے دو وزیر چالیس سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے، اسی طرح ہم بھی آپس میں ان دو وزیروں کی طرح ہم نشین اور محبت رکھنے والے تھے، ایک دوسرے سے جدا نہ ہونے تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو قتل کر دیا، متمم بن نویرہ شاعر کہتا ہے کہ اے مالک ہم باوجود ایک مدت دراز تک ساتھ رہنے کے تیرے قتل کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدت دراز ایک خواب تھا اور ہم اس طرح جدا ہوگئے کہ کبھی ایک ساتھ نہ رہے تھے، اب اسی واقعہ کو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حسب حال پا کر اپنے بھائی کے فراق میں مذکورہ دو شعر پڑھیں کہ: اے بھائی ہم اور تم جذیمہ بادشاہ کے ہم نشین وزیروں کی طرح تھے اور آپس میں ایک مدت دراز تک اس طرح رہے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب یہ جدا نہ ہوں گے لیکن جب جدائی کا وقت آیا تو باوجود اتنی طویل مدت تک ساتھ رہنے کے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم ایک رات بھی ساتھ نہیں رہے۔ ان اشعار کے پڑھنے کے بعد حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم اگر میں تمہاری موت کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتی تو تمہیں اسی مقام حبشی میں دفن کرتی جہاں تمہاری وفات ہوئی تھی)(اس لئے جو شخص جہاں انتقال کرے اس کو وہیں کے قبرستان میں دفن کرنا مسنون ہے۔) اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ عام عورتوں کی عدت ان کے شوہروں کی وفات کے بعد (4) ماہ دس دن ہے، اسی لئے وہ عدت گزرنے کے بعد کسی سے بھی نکاح کر سکتے ہیں، بخلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کی عدت ان کے وفات تک ہے کہ امہات المؤمنین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تا حیات کسی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے (اس لئے اپنے بھائی سے حضرت عائشہ فرما رہی ہیں کہ میں عدت (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) میں ہوں، اگر میں تمہارے انتقال کے وقت تمہارے جنازہ میں شریک رہتی تو دوبارہ تمہاری زیارت کے لئے نہ آتی، کیونکہ زمانہ عدت میں بلا ضرورت شدید کے کہیں جا نہیں سکتے، ہاں ایسی کوئی خاص ضرورت ہو تو جا سکتے ہیں، چونکہ میں تمہارے انتقال کے وقت (تمہارے دیدار سے محروم رہی) اس لئے اب زیارت کے لئے آ گئی ہوں (تاکہ یہ آخری دیدار کے قائم مقام ہو جائے۔) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

Hadith 2161

Volume 1

English

Abu Sa'id reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) was taken from the direction of the Qiblah and was placed facing it."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦١ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالًا. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2535
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبلہ کی جانب سے قبر میں اتار کر رکھا گیا، اس طرح کہ قبر کے قبلہ کی جانب جنازہ رکھا گیا اور جنازہ کو لے کر قبر میں رکھنے والوں کا رخ بھی قبلہ کی طرف تھا (پھر قبر میں) آپ کو سیدھی کروٹ کر کے قبلہ رخ لٹایا گیا۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1554 (unverified) 60% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2162

Volume 1

English

Ibn Buraidah reported from his father: "A niche (Lahd) was made for the Prophet (ﷺ), and he was taken from the direction of the Qiblah, and bricks were placed firmly over him."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٢ - وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: الحد لِلنَّبِيِّ ﷺ وَأُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصْبًا. رَوَاهُ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2536
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی تھی اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو قبر شریف میں اتارتے وقت قبلہ کی جانب سے اتارا گیا تھا اور قبر شریف پر کچی اینٹیں جمائی گئی تھیں۔ اس کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے کی ہے۔

Hadith 2163

Volume 1

English

Ibrahim An-Nakha'i reported: "The Prophet (ﷺ) was placed in the grave from the direction of the Qiblah, and he was not lowered slowly."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٣ - وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أُدْخِلَ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَلَمْ يُسَلَّ سَلَّا. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيْلِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2537
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبر شریف میں اتارتے وقت قبلہ کی جانب سے اتارا گیا تھا اور قبر شریف کے پائتیں جنازہ کو رکھ کر قبر میں سر کے جانب سے نہیں اتارا گیا ہے۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور ابو داؤد نے بھی اس کی روایت مراسیل میں کی ہے۔12

Hadith 2164

Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) entered a grave at night, and a lamp was lit for him. He took the deceased from the direction of the Qiblah and said, 'May Allah have mercy on you. Indeed, you were someone who frequently recited the Quran.' Then he said Takbir four times." 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٤ - وَعَن ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ دَخَلَ قَبْرًا لَيْلًا، فَأُسْرِجَ لَهُ سِرَاجٌ، فَأَخَذَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ، وَقَالَ: «رَحِمَكَ اللهُ، إِنْ كُنْتَ لَأَوَّامًا تَلَّاءً لِلْقُرْآنِ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِيْثٌ حَسَنٌ 2.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2538
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (جب عبداللہ ذوالبجادین) رضی اللہ عنہ جو اصحاب صفہ میں سے تھے ان کا انتقال ہوا تو ان کو رات میں دفن کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دفن کرنے کے لئے قبر میں اُترے (دفن میں سہولت کے لئے) آپ کے واسطے چراغ روشن کیا گیا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام (میت کو قبر میں) قبلہ کی جانب سے اتارے اور فرمائے (عبداللہ!) اللہ تعالیٰ تم پر رحمت نازل فرمائے، تم بڑے نرم دل اور خوف خدا سے بہت رونے والے اور قرآن شریف کی بہت زیادہ تلاوت کرنے والے تھے اور جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام ان کی نماز جنازہ پڑھے تھے تو چار تکبیرات کے ساتھ نماز ادا فرمائے تھے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1057 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

This is a Hasan Hadith.

(2) The statement: "This is a Hasan Hadith." In Fath Al-Qadeer, it is said: "In its chain are Al-Hajjaj ibn Artah and Minhal ibn Khalifah, and there is disagreement about them. This lowers the Hadith from the level of Sahih to Hasan."

Note 2

قوله

(۲) قوله: حديث حسن : قال في فتح القدير: فيه الحجاج بن أرطاة ومنهال بن خليفة، وقد اختلفوا فيها، وذلك يحط الحديث عن درجة الصحيح، لا الحسن.

Hadith 2165

Volume 1

English

It is also reported from him: "The Prophet (ﷺ), Abu Bakr, and Umar used to place the deceased in the grave from the direction of the Qiblah." [Narrated by Al-Tabarani in Al-Kabir] In its chain is Abdullah ibn Khirash, whom Ibn Hibban trusted.

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يُدْخِلُوْنَ الْمَيِّتَ مِنْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيْرِ) وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللهِ بْنِ خِرَاشٍ وَثَقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2539
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما (یہ سب حضرات) میت کو قبر میں اتارتے وقت قبلہ کی جانب سے اتارا کرتے تھے۔ اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔12

Hadith 2166

Volume 1

English

Ali (may Allah be pleased with him) narrated: "Yazid ibn Al-Mukaffaf was placed in the grave from the direction of the Qiblah."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٦ - وَعَنْ عَلِيٍّ (رضي الله عنه) أَنَّهُ أُدْخِلَ يَزِيدُ بْنُ الْمُكَفَّفِ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حَزَمٍ فِي الْمُحَلَّى».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2540
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ جب یزید بن المکفف کو قبر میں اتارے ہیں تو قبلہ کی جانب سے اتارے ہیں۔ اس کی روایت عبدالرزاق اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور ابن حزم نے محلّٰی میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

Hadith 2167

Volume 1

English

Ibn Al-Hanafiyyah reported: "He led the funeral of Ibn Abbas (may Allah be pleased with him), said Takbir four times, and placed him in the grave from the direction of the Qiblah."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٧ - وَعَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ أَنَّهُ وَلِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، وَأَدْخَلَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2541
ابن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ پڑھانے اور دفن کرنے کے لئے ابن الحنفیہ رضی اللہ عنہ کا جب انتخاب ہوا تو حضرت ابن الحنفیہ حضرت ابن عباس کی نماز جنازہ چار تکبیرات کے ساتھ ادا فرمائے اور ان کو قبلہ کی جانب سے قبر میں اتارے۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔12

Hadith 2168

Volume 1

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Prophet (ﷺ) placed the deceased in the grave, he would say, 'In the name of Allah, and by Allah, and according to the religion of the Messenger of Allah.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٨ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ الْمَيِّتَ الْقَبْرَ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُوْلِ اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2542
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب میت کو قبر میں اتارا جاتا تو آپ یہ دعا پڑھتے ”بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰى مِلَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ“ (ہم اللہ کے نام سے اس میت کو قبر میں اتارنا شروع کرتے ہیں) یا اللہ یہ تنہا آپ کے پاس آ رہا ہے اس لئے ہم اس کو آپ کی پناہ میں دے رہے ہیں آپ اس کی ہر جگہ مدد فرمائیے (اس نے اپنی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کے موافق بسر کی ہے، اس لئے اب) ہم اس کو رسول اللہ کے دین کے موافق ہی دفن کر رہے ہیں۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1046 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1550 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2169

Volume 1

English

Ja'far ibn Muhammad reported from his father in a Mursal narration: "The Prophet (ﷺ) placed three handfuls of soil on the deceased with both hands together. He also sprinkled water on the grave of his son Ibrahim and placed pebbles over it." [Narrated in Sharh As-Sunnah] Ash-Shafi'i narrated from his statement: "He sprinkled."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٦٩ - وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيْهِ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ حَتَّى عَلَى الْمَيِّتِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، وَإِنَّهُ رَشَّ عَلَى قَبْرِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَوَضَعَ عَلَيْهِ حَصْبَاءَ رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ، وَرَوَى الشَّافِعِيُّ مِنْ قَوْلِهِ: رَشَّ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2543
امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سرہانے کی طرف سے) اپنے دونوں دست مبارک کو ملا کر دونوں ہاتھوں سے تین پسّو مٹی (اگر بغلی قبر ہو تو اینٹوں سے بند کرنے کے بعد اور اگر قبر صندوقی ہو تو کڑیاں رکھنے کے بعد) قبر میں ڈالے ہیں۔ (امام احمد کی روایت سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی دفعہ پسّو سے مٹی ڈالتے وقت ”مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ“ (مٹی سے ہم تم کو پیدا کئے) پڑھتے اور دوسری دفعہ پسّو سے مٹی ڈالتے وقت فرمائے ”وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ“ (اور مرنے کے بعد دوبارہ تم کو ہم مٹی ہی میں لے جائیں گے) اور تیسری دفعہ پسّو سے مٹی ڈالتے وقت فرمائے ”وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى“ (پھر قیامت میں ہم تم کو مٹی ہی سے اٹھائیں گے) اور راوی کہتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم کا جب انتقال ہوا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابراہیم (کے دفن کے بعد ان) کی قبر پر (اپنے دست مبارک سے) پانی چھڑکے اور قبر پر اپنے دست مبارک سے کنکریاں جما دیں (تاکہ جیسا کہ مرقات میں لکھا ہے۔ 12 نشانی رہے۔) اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے اور امام شافعی نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے۔

Hadith 2170

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed over a funeral, then went to the grave and placed three handfuls of soil from the direction of the head."

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۱۷۰ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ لِلَّهِ ﷺ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَحَثَى عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلَاثًا. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2544
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کی نماز پڑھائے، پھر میت کے ساتھ قبر تک تشریف لے گئے اور میت کو قبر میں رکھ دیا گیا اور جب مٹی ڈالنے کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرہانے کی جانب سے تین پسو مٹی قبر میں ڈالے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ (پسّو) دونوں ہاتھوں سے بھر
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1565 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

کر کسی چیز کو اٹھانا پسّو کہلاتا ہے۔

Hadith 2171

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The grave of the Prophet (ﷺ) was sprinkled with water. The one who sprinkled the water on his grave was Bilal ibn Rabah (may Allah be pleased with him) using a water skin, starting from the direction of the head until he reached the feet."

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۱۷۱ - وَعَنْ جَابِرٍ(رضي الله عنه) قَالَ: رُشَّ قَبْرُ النَّبِيِّ ، وَكَانَ الَّذِي رَشَ الْمَاءَ عَلَى قَبْرِهِ بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ بِقِرْبَةٍ بَدَأَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2545
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف پر دفن کے بعد پانی چھڑکا گیا تھا اور پانی چھڑکنے والے بلال بن رباح رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے اس طرح چھڑکاؤ شروع کیا کہ سر مبارک کی طرف سے شروع کر کے دونوں قدموں تک چھڑکاؤ ختم کیا۔ اس کی روایت بیہقی نے دلائل النبوۃ میں کی ہے۔

Hadith 2172

Volume 1

English

It is also reported from him: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited plastering graves, writing on them, or walking over them." 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۱۷۲ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ يُجَصَّصَ الْقُبُورُ وَأَنْ يُكْتَبَ 1 عَلَيْهَا وَأَنْ تُوْطَأَ رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2546
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبروں کو گچ سے پختہ کرنے کی ممانعت فرمائے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبروں پر لکھنے سے بھی منع فرمائے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبروں پر چلنے سے بھی منع فرمائے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1052 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Writing on them.

(1) The statement: "Writing on them." In Al-Muhit, it is said: "If there is a need for writing to preserve the grave's mark and prevent disrespect, there is no harm in it. However, writing without a valid reason is not permissible. It is disliked to write Quranic verses, poetry, or praise on graves." This is summarized in Al-Hilyah and mentioned in Radd Al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: أن يكتب عليها: فصل في المحيط» فقال: وإن احتيج إلى الكتابة حتى لا يذهب الأثر، ولا يمتهن فلا بأس به، فأما لكتابة بغير عذر فلا. حتى إنه يكره كتابة شيء عليه من القرآن أو الشعر أو اطراء مدح له، ونحو ذلك. حلية» ملخصا. قاله في رد المحتار».

Note 1

ف: یہ حدیث اس زمانہ کی ہے کہ جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبروں کی زیارت کرنے سے منع فرمائے تھے جب زیارت قبور سے منع فرمایا گیا تو قبروں کو گچ کرنے سے بھی منع فرمایا گیا تھا اس لئے کہ جب زیارت قبور ہی جائز نہ تھی تو قبروں کو گچ کر کے پختہ کرنے کی کیا ضرورت تھی اور جب قبور کی زیارت کرنے کی ممانعت منسوخ ہوگئی تو حدیث کے دونوں حکم کہ قبروں پر گچ نہ کی جائے اور قبروں پر لکھا نہ جائے بھی منسوخ ہوگئے (جیسا کہ مرقات میں حاکم کے حوالہ سے لکھا ہے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: (فَزُوْرُوْهَا) یعنی قبروں کی زیارت کرو تو اس سے قبروں کو گچ کر کے پختہ کرنے کی اجازت بھی مل گئی اور قبروں پر لکھنے اور کتبے لگانے کی بھی اجازت ہوگئی، اس لئے کہ کچی قبر چند روز میں زمین کے برابر ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا، اس سے لازم آتا ہے کہ قبروں کو گچ سے پختہ کریں اور اوپر لکھیں یا کتبے لگائیں تاکہ زیارت کی جاسکے یہ قول مبارک ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپ کے اس فعل سے بھی دلیل ملتی ہے، قبروں کو گچ سے پختہ کرنے کی اس لئے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر ایک بڑا پتھر رکھنے کا حکم دئے اور صحابی اس کو اٹھا نہ سکے تو حضور خود اٹھا کر قبر (یہ حدیث ابوداؤد میں مذکور ہے جو آگے آرہی ہے۔12) پر رکھ دئے تا کہ قبر یادگار رہے اور اس کی زیارت کرسکیں، اس سے بھی معلوم ہوا کہ قبروں کو گچ سے پختہ کیا جائے تاکہ لوگ زیارت کرسکیں۔ حدیث مذکور کے یہ دونوں حکم منسوخ ہونے کی یہ بھی ایک دلیل ہے کہ سارے عالم اسلام میں مشرق سے مغرب تک سلف (جیسا کہ ردالمحتار میں مذکور ہے) سے خلاف تک قبروں کو گچ سے پختہ کیا جاتا رہا ہے اور قبروں پر لکھا جاتا رہا ہے یا ان پر کتبے لکھ کر سرہانے لگائے جاتے رہے ہیں اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث شریف ہے: ”مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ“، جس فعل کو صالحین مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ چونکہ صالحین مسلمان قبروں کو گچ سے پختہ کرنے اور قبروں پر لکھنے اور کتبے یا تختیاں لگانے کو پسند کئے ہیں، اس لئے قبروں کو گچ سے پختہ بنانا اور قبروں پر لکھنا یا کتبے اور تختیاں لگانا اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ (جیسا کہ مرقات اور ردالمحتار میں مذکور ہے۔12) ہے۔ حدیث مذکور کا تیسرا جز، کہ قبر کو روندا نہ جائے منسوخ نہیں ہے۔ اس لئے قبروں پر چلنا اور قبروں کو روندنا ناجائز ہے۔12

Hadith 2173

Volume 1

English

Al-Muttalib ibn Abi Wada'ah (may Allah be pleased with him) narrated: "When Uthman ibn Maz'un (may Allah be pleased with him) died, his funeral was taken out and buried. The Prophet (ﷺ) ordered a man to bring a stone, but he could not carry it. The Messenger of Allah (ﷺ) then rolled up his sleeves and carried it. Al-Muttalib said: 'The one who informed me about the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is as if I can still see the whiteness of the arms of the Messenger of Allah (ﷺ) when he rolled up his sleeves.' He then placed the stone at the head of the grave and said, 'I am marking the grave of my brother and will bury my family members near him.'" 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۱۷۳ - وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهِ بِحَجَرٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا، ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ: أُعْلِمُ1 بِهَا قَبْرَ أَخِي وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2547
مطلب بن وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جا کر (بقیع میں) دفن کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صحابی کو حکم دئے کہ ایک بڑا پتھر اٹھا لاؤ (تاکہ قبر کے سرہانے کی طرف رکھا جائے یہ معلوم ہونے کے لئے کہ یہ عثمان بن مظعون کی قبر ہے) وہ پتھر (اس قدر بڑا تھا کہ) صحابی اس کو اٹھا کر نہ لا سکے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پتھر کے لانے کا ارادہ فرمائے اور اپنے دونوں آستینوں کو چڑھا کر اس پتھر کے پاس پہنچے، راوی کہتے ہیں کہ جو صاحب مجھ سے یہ حدیث بیان کئے ہیں وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس پتھر کے لانے کے لئے اپنے آستین چڑھائے ہیں تو حضور کے بازوؤں کی سفیدی اس وقت مجھے جو دکھائی دی اب تک یاد ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پتھر کو اٹھا کر عثمان بن مظعون کی قبر پر سرہانے کی طرف جما دئے، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (کہ مرور زمانہ سے قبر مٹ کر زمین کے برابر ہو جاتی ہے اور لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ قبر کہاں ہے اس لئے) میں (اس پتھر کو سرہانے کی طرف رکھ کر) لوگوں کو یہ معلوم کرانا چاہتا ہوں کہ (یہاں میرے رضاعی بھائی) عثمان بن مظعون کی قبر ہے (میں یہ نشانی اس وجہ سے بھی رکھ رہا ہوں کہ) ان کے بعد میرے گھرانے میں سے جو بھی وفات پائیں گے انہیں یہاں دفن کروں گا۔ (اس سے ہڑواڑ قائم کرنے کا ثبوت ملتا ہے (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12)) (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3206 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

I am marking it.

(1) The statement: "I am marking it." In Qadikhan, it is said: "There is no harm in placing stones as a marker." This is mentioned by Al-Ayni in Sharh Al-Hidayah. In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "There is no harm in writing." In Radd Al-Muhtar, it is said: "Although the prohibition of writing is established, it is not acted upon. The Imams of the Muslims, from the East to the West, have writing on their graves, and this is a practice inherited from the predecessors. This Hadith strengthens this view, as writing helps identify the grave. However, it appears that this consensus applies when there is a need for it, as indicated in Al-Muhit."

Note 1

قوله

(۱) قوله : أعلم بها: وفي قاضيخان»: ولا بأس بوضع الأحجار؛ ليكون علامة. قاله العلامة العيني في شرح الهداية». ولقوله : أعلم بها قبر أخي. قال في الدر المختار»: لا بأس بالكتابة. وقال في رد المحتار»: لأن النهي عن الكتابة وإن صح، ولكن ليس العمل عليها؛ فإن أئمة المسلمين من الشرق إلى الغرب مكتوب على قبورهم، وهو عمل أخذ به الخلف عن السلف، ويتقوى بهذا الحديث؛ فإن الكتابة طريق إلى تعرف القبر بها. نعم، يظهر أن محل هذا الإجماع العملي على الرخصة فيها ما إذا كانت الحاجة داعية إليه في الجملة، كما أشار إليه في «المحيط».

Hadith 2174

Volume 1

English

Al-Bara' ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: "We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) for the funeral of a man from the Ansar. When we reached the grave, which had not yet been prepared, the Prophet (ﷺ) sat facing the Qiblah, and we sat with him." [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah] At the end of the narration, it is added: "It was as if birds were sitting on our heads."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٧٤ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ (رضي الله عنه) قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ بَعْدُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ ﷺ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَجَلَسْنَا مَعَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه. وَزَادَ فِي آخِرِهِ: كَأَنَّ عَلَى رُؤُوسِنَا الطَّيْرُ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2548
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ کو لئے ہوئے قبرستان میں پہنچے وہاں جا کر کیا دیکھتے ہیں کہ ابھی قبر تیار نہیں ہوئی ہے (قبر کے تیار ہونے کا انتظار تھا اس لئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے اور ہم بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حضور کے اطراف) بیٹھ گئے۔ اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ہم بھی حضور کے ساتھ بیٹھے تو اور (اس وقت مجلس پر حضور کے رعب اور عظمت کی وجہ سے ایسا سکون اور ایسی خاموشی طاری تھی کہ سب بے حس و حرکت بیٹھے ہوئے تھے۔) ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ (کہ حرکت کرنے سے یہ اُڑ جائیں گے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3212 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1548 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے ساتھ قبرستان تک جانا اور قبر تیار ہونے تک دفن کے انتظار میں بیٹھنا سنت ہے، اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبلہ رو ہو کر بیٹھ گئے، مرقات میں طبرانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ بہترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ رو ہو کر بیٹھا جائے۔12 (جیسے زندہ کو کچھ ایذا دی جائے تو وہ متاثر ہوتا ہے اور اس کو تکلیف ہوتی ہے، ایسے ہی مردہ کو اگر ایذا دی جائے تو وہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔12) اور اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے اس لئے۔)

Hadith 2175

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'Breaking the bone of a deceased person is like breaking it while they are alive.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٧٥ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2549
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اگر کسی مردہ کے (اعضاء درست کرنے کے لئے) اس کی ہڈی توڑ دی جائے (تو اس سے اس کو اتنی طرح تکلیف ہوتی ہے) جیسے کسی زندہ کی ہڈی (اس کی زندگی میں) توڑنے سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اس کی روایت امام مالک، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3207 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1616 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1714 (unverified) 75% confidence

Mishkat (candidate) 1714

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زندہ کو ایذاء پہنچانے سے جیسا گناہ ہوتا ہے ویسے ہی مردہ کو مرنے کے بعد ایذا دینے سے گناہ ہوتا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جیسے کسی آرام دہ کام سے زندہ کو آرام اور لذت ملتی ہے، ایسا ہی کسی مردہ کے ساتھ بھی آرام دہ کام کیا جائے تو مردہ کو آرام اور لذت ملتی ہے اس سے ثابت ہوا کہ جیسے زندگی میں زندہ کی تعظیم کی جاتی ہے، ایسے ہی مرنے کے بعد مردہ کی بھی تعظیم کی جائے، اس لئے کہ اس سے مردہ کو راحت اور لذت ملتی ہے۔ مرقات، اشعۃ اللمعات اور رد المحتار۔12

Hadith 2176

Volume 1

English

Amr ibn Hazm (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) saw me leaning on a grave and said, 'Do not harm the occupant of this grave,' or 'Do not harm him.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٧٦ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزَمٍ (رضي الله عنه) قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ ﷺ مُتَّكِنًا عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ: «لَا تُؤْذِ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ» أَوْ لَا تُؤْذِهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2550
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرمائے کہ میں ایک قبر سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا (یہ دیکھ کر) ارشاد فرمائے (کہ تمہارے قبر کو ٹیکا لگا کر بیٹھنے سے صاحب قبر کو تکلیف ہو رہی ہے، اس طرح بیٹھ کر صاحب قبر کو تکلیف نہ دو۔ (کیونکہ اس میں میت کی اہانت بھی ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1717 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 1717

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2177

Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "We attended the burial of the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) was sitting by the grave. I saw his eyes filled with tears. He then said, 'Is there anyone among you who did not commit a sin last night?'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۱۷۷ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ ﷺ تُدْفَنُ وَرَسُوْلُ اللهِ ﷺ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: «هَلْ فِيْكُمْ مِنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟» .

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2551
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کا (جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں انتقال ہو گیا، ہم ان کے دفن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے تشریف فرما تھے، حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر دو مبارک آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ کیا ہم میں سے کوئی ایسا ہے کہ جس نے آج رات اپنی بیوی سے جماع نہیں کیا ہے، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرمائے: ایسا میں ہوں، یا رسول اللہ! اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ (دفن کرنے کے لئے) ان کی قبر میں تم ہی اترو، حسب الحکم ابو طلحہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کو دفن کرنے کے لئے قبر میں اترے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کو دفن کرنے کے لئے قبر میں اترے اور حضرت ابو طلحہ اجنبی تھے، حضرت ابو طلحہ کو قبر میں اترنے کا جو حکم دیا گیا، اس سے ابن الہمام نے یہ مسائل اخذ کئے ہیں کہ عورتوں کو قبر میں اتارنے کے لئے یا کسی ضرورت پر قبر سے نکالنے کے لئے مرد ہی قبر میں اتریں، اگرچہ کہ مرد اجنبی ہوں عورتیں قبر میں نہ اتریں، اس لئے کہ ضرورت پر اجنبی مرد عورت کو جس طرح زندگی میں کپڑے وغیرہ کو حائل کر کے ہاتھ لگا سکتا ہے، ایسے ہی مرنے کے بعد بھی کپڑے وغیرہ کو حائل کر کے ہاتھ لگا سکتا ہے اور کفن بھی حائل ہو جاتا ہے، اگر کسی عورت کی وفات ہو جائے اور اس کے ساتھ اس کے محرم رشتہ دار موجود نہ ہوں تو ایسی صورت میں اس کے پڑوس کے سن رسیدہ نیک اور صالح لوگ اس کو دفنا سکتے ہیں اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو نوجوان نیک اور صالح لوگ اس کو دفن کر سکتے ہیں۔ یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔12

Hadith 2178

Volume 1

English

Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him) said to his son while he was on his deathbed: "When I die, do not let any wailing woman or fire accompany me. When you bury me, throw the soil over me firmly, then stay around my grave for the time it takes to slaughter a camel and distribute its meat, so that I may find comfort in your presence and know how to respond to the messengers of my Lord."

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۱۷۸ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنه) قَالَ لِابْنِهِ وَهُوَ فِي سِيَاقِ الْمَوْتِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةُ وَلَا نَارُ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التَّرَابَ شَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُور وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا . حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّيْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2552
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کو سکرات شروع ہوئی تو وہ اپنے فرزند سے ارشاد فرمائے (سنو بیٹا!) جب میں مر جاؤں تو میرے جنازہ کے ساتھ نوحہ کرنے والی عورتوں کو نہ رکھنا اور نہ میرے جنازہ کے ساتھ آگ لے چلنا (یہ زمانہ جاہلیت کے رواج ہیں اسلام میں ان کو برا سمجھا گیا ہے) حضرت عمرو بن عاص پھر فرمائے کہ جب تم میرے دفن کا ارادہ کرو تو بہ سہولت قبر میں مٹی ڈالو اور دفن کے بعد میری قبر کے اطراف تم لوگ (تلقین یعنی ذکر کرتے اور قرآن پڑھتے ہوئے) اتنی دیر تک ٹھہرے رہو جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکے تاکہ میں (اس عرصہ میں تم لوگوں کو قبر پر تلقین ذکر کرتے اور قرآن پڑھتے ہوئے کھڑے ہونے سے) انس اور اطمینان حاصل کر سکوں اور تمہارے تلقین کی وجہ سے وہ جواب مجھے یاد آ جائے جو مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتوں کو دینا ہوگا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 121 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.