Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1150 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 784a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو شخص اوراد و وظائف و نوافل افراط سے پڑھ رہا ہو، یعنی اکثر
اوقات کثرت سے پڑھا کرتا ہے اگرچہ یہ محمود ہے مگر یہ خیال رہے کہ کہیں تھک کر یا بیزار ہو کر چھوڑ نہ
دے، اس لئے اعتدال کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح کوئی شخص اوراد و وظائف و نوافل میں تفریط کر رہا
ہے یعنی اس کے نہ اوراد ہیں نہ وظائف ہیں اور نہ نوافل ہیں تو ایسے شخص کو ابھارا جاتا ہے کہ تیری یہ
تفریط مناسب نہیں تجھے اعتدال سے اوراد و وظائف و نوافل قائم کرنا چاہئے۔ ایک دن آنے والا
ہے کہ جس دن اوراد و وظائف و نوافل پڑھنے والوں کو جو درجات ملیں گے ان کو دیکھ کر یہ پچھتائے
گا اور اس وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اب وقت ہے کہ تو اوراد و وظائف و نوافل اعتدال کے
ساتھ جاری کر تو اعتدال کا جو ارشاد ہوا ہے وہ افراط کرنے والے اور تفریط کرنے والے دونوں کے
لئے ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس حدیث شریف کے ترجمہ سے پہلے یہ ضروری بات سن لیجئے: ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگوں کو
مشقت میں ڈالنے والی) عبادت کا بے حد شوق تھا اس لئے ان کو اس افراط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا گیا
ہے لیکن اس زمانہ میں معمولی سے معمولی عبادات بھی مشکل معلوم ہورہی ہیں اس لئے ان کو بھی تفریط
سے ہٹا کر اعتدال پر لایا جا رہا ہے، اس تمہید کے بعد حدیث شریف کو سنئے:)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The ruling on lying on one's back is that it is preferable in our school of thought over lying on one's side. The hadith of Imran is not a general proof, as it was addressed to him specifically due to his illness (hemorrhoids), which prevented him from lying on his back. Therefore, it is not a general ruling for the Ummah. Preference is given to the meaning, which is that lying on one's back allows one to face the Qiblah, fulfilling the obligation, unlike lying on one's side. For example, if one prostrates while lying on their back, it is directed toward the Qiblah, whereas lying on one's side would not face the Qiblah. This is mentioned in Al-Maraqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فمستلقيا واعلم أن الاستلقاء في مذهبنا أفضل من الاضطجاع، ولا ينتهض حديث عمران حجة على العموم؛ فإنه خطاب له، وكان مرضه البواسير، وهو يمنع الاستلقاء، فلا يكون خطابه خطابا للأمة، فوجب الترجيحبالمعنى، وهو أن المستلقي تقع إشارته إلى جهة القبلة، وبه يتأدى الفرض، بخلاف الآخر. ألا ترى أنه لو حققه مستلقيا كان سجودا وركوعا إلى القبلة، ولو أتمه على جنب كان إلى غير جهتها. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: صدر کی دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز
نہیں پڑھ سکتا ہو، اس کے بارے میں ایک حدیث میں کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔
اور دوسری حدیث میں چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حنفی مذہب میں دونوں طرح سے نماز پڑھنا
جائز ہے، چاہیں تو کروٹ لیٹ کر نماز پڑھیں، یا چت لیٹ کر، مگر چت لیٹ کر نماز پڑھنا افضل ہے،
افضل ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم خاص عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو
ان کے چت لیٹنے پر قادر نہ ہونے سے دیا گیا تھا چونکہ وہ بواسیر کے مرض کا شکار تھے اور چت لیٹ کر
نماز پڑھنے کا حکم عام طور پر دیا گیا ہے، عمران رضی اللہ عنہ کے لئے جو چیز افضل قرار دی گئی ہے اس کو
سب بیماروں کے لئے افضل قرار دینا مناسب نہیں بلکہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے کو ترجیح دے کر افضل
قرار دینا چاہئے، اس لئے کہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع
آتا ہے تو قبلہ کی طرف ہی رخ رہتا ہے، اور کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے
اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ سے رخ ہٹ جاتا ہے، حالانکہ نماز میں استقبال قبلہ فرض ہے، چونکہ
کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی نہیں رہتی، اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی
جہت باقی رہتی ہے، اسی لئے چت لیٹ کر نماز پڑھنا کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور یہی
مذہب حنفی ہے (مرقات)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1115 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) Al-Khattabi said: This refers to a sick person who is obligated to pray and could force himself to stand but with difficulty. Thus, his reward is doubled if he prays sitting, as an encouragement, even though praying lying down is permissible. Similarly, if he forces himself to stand despite the difficulty, his reward is doubled compared to praying sitting. This is mentioned in Majma' al-Bihar. In Al-Maraqat, it is stated: Is it permissible to pray voluntary prayers lying down when one is capable of standing or sitting? According to Abu Hanifah, it is not permissible. It is said that this hadith refers to an obligated sick person who could stand or sit but with difficulty and increased illness.
Note 2
قوله
(۲) قوله: ومن صلى نائما إلخ: قال الخطابي: إن المراد به المريض المفترض الذي يمكنه أن يتحامل فيقدر مع مشقة، فجعل أجره ضعف أجره إذا صلى نائما؛ ترغيبا له في القعود مع جواز صلاته نائما، وكذا جعل صلاته إذا تحامل وقام مع مشقة، ضعف صلاته إذا صلى قاعدا، كذا في مجمع البحار»، وقال في «المرقاة: وهل يجوز أن يصلي التطوع نائما مع القدرة على القيام أو القعود؟ فمذهب أبي حنيفة أنه لا يجوز، فقيل: هذا الحديث في حق المفترض المريض الذي أمكنه القيام أو القعود مع شدة وزيادة في المرض.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے بلکہ میرا مطلب یہ تھا کہ نماز شروع ہوجاتی، دنیا کے مشاغل سے بچ جاتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ
راز و نیاز کرنے میں راحت حاصل ہوتی۔ یہ میرا مطلب تھا لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ غلط سمجھا ہے،
میں جس لحاظ سے کہا تھا اسی لحاظ سے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اکثر فرمایا ہے۔ بلال! نماز
کی تکبیر کہو! نماز شروع ہوجائے تو ہم کو نماز میں اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے میں راحت ملتی ہے
(اسی وجہ سے حضور نے فرمایا ہے کہ نماز میں مجھے جو لطف ملتا ہے اس سے میری آنکھوں کی ٹھنڈک
ہے، خزانہ کے ان صاحب نے جو کہا تھا اس سے ان کی مراد یہی ہے کہ لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ
مناسب نہیں۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو شخص اوراد و وظائف و نوافل افراط سے پڑھ رہا ہو، یعنی اکثر اوقات کثرت سے پڑھا کرتا ہے اگرچہ یہ محمود ہے مگر یہ خیال رہے کہ کہیں تھک کر یا بیزار ہو کر چھوڑ نہ دے، اس لئے اعتدال کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح کوئی شخص اوراد و وظائف و نوافل میں تفریط کر رہا ہے یعنی اس کے نہ اوراد ہیں نہ وظائف ہیں اور نہ نوافل ہیں تو ایسے شخص کو ابھارا جاتا ہے کہ تیری یہ تفریط مناسب نہیں تجھے اعتدال سے اوراد و وظائف و نوافل قائم کرنا چاہئے۔ ایک دن آنے والا ہے کہ جس دن اوراد و وظائف و نوافل پڑھنے والوں کو جو درجات ملیں گے ان کو دیکھ کر یہ پچھتائے گا اور اس وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اب وقت ہے کہ تو اوراد و وظائف و نوافل اعتدال کے ساتھ جاری کر تو اعتدال کا جو ارشاد ہوا ہے وہ افراط کرنے والے اور تفریط کرنے والے دونوں کے لئے ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)