Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 34

(یہ باب نفل اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں ہے یعنی افراط و تفریط

13 narrations · In source reading order

Hadith 1622

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1866
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر کام میں میانہ روی اور اعتدال ہوتا تھا تم کبھی حضور کو نہیں دیکھو گے کہ آپ کسی کام کو افراط سے کر رہے ہیں یا کسی کام میں تفریط کر رہے ہیں (مثال کے طور پر سنئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض مہینوں میں روزے نہ رکھتے تھے اور اتنے دن ناغہ کرتے کہ ہمارا خیال جاتا کہ اب آپ روزہ نہ رکھیں گے) پھر جب روزے رکھتے تو اتنے رکھتے کہ ہمارا خیال ہو جاتا کہ اب آپ روزہ ترک ہی نہ کریں گے (اگر آپ کو اعتدال پسند نہ ہوتا تو ہمیشہ نفل روزے رکھتے، جس سے افراط ثابت ہوتا یا ہمیشہ نفل روزے ترک فرماتے جس سے تفریط معلوم ہوتی، ایسا نہ کر کے کبھی روزے رکھتے جب نشاط ہوتا کبھی روزے ترک کرتے، جب روزے ترک کرنے کی ضرورت معلوم ہوتی) اب ایک دوسری مثال آپ کے اعتدال پسند ہونے کی سنیئے: حضور کی نمازِ شب کی کیفیت یہ تھی کہ اگر تم حضور کو نماز شب میں مشغول دیکھنا چاہتے تو دیکھ سکتے تھے اور اگر تم حضور کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو ایسا بھی دیکھ سکتے تھے (اگر آپ کو اعتدال پسند نہ ہوتا اور آپ نماز پڑھتے تو تمام رات نماز پڑھتے رہتے اور سوتے تو تمام رات سویا کرتے، ایسا نہ کر کے آپ رات میں آرام بھی فرماتے اور نمازیں بھی پڑھتے، اس لئے صاحبو! حضور کی سنت پر عمل کر کے ہر کام میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرو)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "And be moderate in your pace." (Luqman, 31:19)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1141 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1623

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1867
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہی اوراد و وظائف اور نوافل، اللہ تعالیٰ کو نہایت پسندیدہ اور پیارے معلوم ہوتے جن پر، ہمیشہ پابندی کی جائے۔ اگرچہ وہ تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں (کبھی ان کو بہت زیادہ کرنا اور کبھی ان کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، اس لئے اوراد و وظائف و نوافل میں اعتدال چاہئے تاکہ ہمیشہ کر سکیں، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6464 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 783b (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1624

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1868
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (کہ دعاء قبول ہونے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مختصر سا طریقہ بتلائے ہیں جس پر پابندی بھی ہوسکتی ہے اور جس پر مداومت بھی آسان ہے وہ طریقہ یہ ہے) جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ ارشاد فرماتے تھے: جب کوئی مسلمان سونے کے لئے باوضوء بستر پر جائے اور اللہ کا ذکر دل سے یا زبان سے کرتے ہوئے سوجائے، اور رات میں کروٹیں بدلے تو اس وقت دنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو بھی دعا کرے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں (یہ ہے اعتدال کی تعلیم! اسی طرح ہر کام کو اعتدال سے کرنا چاہئے)۔ (اس کی روایت امام نووی نے کتاب الاذکار میں ابن السنی کی روایت سے کی ہے۔)

Hadith 1625

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1869
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اوراد و وظائف و نوافل اپنے اوپر تم اسی قدر لازم کرلو جو تم سے ہمیشہ ہوسکیں (دواماً ان کو نباہ سکو، اس سے کیا فائدہ کہ چار دن کسی عمل کو کریں اور پھر چھوڑ بیٹھیں، تھوڑا ہی ہو مگر ہمیشہ ہو، اس سے قلب میں وہ صفائی پیدا ہوتی ہے جو بہت سے اوراد و وظائف و نوافل شروع کرکے اور پھر چھوڑ دینے سے نہیں ہوسکتی دیکھو! پانی کی لوٹ پتھر کی چٹان پر سے گزر جائے تو اس میں کوئی سوراخ پیدا نہیں کرسکتی، اس کے برخلاف اگر پتھر پر پانی کا ایک ایک قطرہ ہمیشہ ٹپکتا رہے تو ایک نہ ایک دن پتھر میں سوراخ کرکے رہے گا۔ اس کو بھی یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ثواب کے بیحد خزانے بھرے ہوئے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے تھکتے نہیں (تم جتنا کرو گے اس قدر ثواب دیتے جائیں گے، مگر تم اپنے کو دیکھو کہ) تم اتنے اوراد و وظائف و نوافل مقرر کرلے جن کو تم نباہ نہ سکو اور تھک کر چھوڑ بیٹھو (اس سے کیا فائدہ، اسی لئے اوراد و وظائف و نوافل میں اعتدال اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت پسند ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 43 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1626

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1870
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نفل نماز پڑھ رہا ہے تو اس کو خیال رہے کہ جب تک دل میں فرحت و نشاط رہے اور پڑھنے کو جی چاہے اس وقت تک تو نماز پڑھتا رہے، جب نفل نمازوں کو پڑھنے سے دل اکتا جائے اور بیزار ہونے لگے تو (زبردستی نفس کو مجبور کر کے نفل نماز نہ پڑھے بلکہ) تھوڑی دیر بیٹھ جائے اور آرام لے لے، پھر جب نشاط و فرحت پیدا ہو تو نفل نماز پڑھے
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1150 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 784a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو شخص اوراد و وظائف و نوافل افراط سے پڑھ رہا ہو، یعنی اکثر اوقات کثرت سے پڑھا کرتا ہے اگرچہ یہ محمود ہے مگر یہ خیال رہے کہ کہیں تھک کر یا بیزار ہو کر چھوڑ نہ دے، اس لئے اعتدال کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح کوئی شخص اوراد و وظائف و نوافل میں تفریط کر رہا ہے یعنی اس کے نہ اوراد ہیں نہ وظائف ہیں اور نہ نوافل ہیں تو ایسے شخص کو ابھارا جاتا ہے کہ تیری یہ تفریط مناسب نہیں تجھے اعتدال سے اوراد و وظائف و نوافل قائم کرنا چاہئے۔ ایک دن آنے والا ہے کہ جس دن اوراد و وظائف و نوافل پڑھنے والوں کو جو درجات ملیں گے ان کو دیکھ کر یہ پچھتائے گا اور اس وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اب وقت ہے کہ تو اوراد و وظائف و نوافل اعتدال کے ساتھ جاری کر تو اعتدال کا جو ارشاد ہوا ہے وہ افراط کرنے والے اور تفریط کرنے والے دونوں کے لئے ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Hadith 1627

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1871
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (نفل) نماز پڑھ رہا ہو، اور وہ اونگھنے لگے (یا اس کو گہری نیند آ جائے پھر بھی وہ نماز پڑھتا چلا جائے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے نماز مختصر کر کے) اس کو سوجانا چاہئے۔ (جب اونگھ اور نیند اس سے دور ہو جائے تو پھر نماز پڑھے، باوجود نیند کے غلبہ کے اگر وہ نماز پڑھتا چلا جائے تو نہیں معلوم نیند کے غلبے میں زبان سے کیا نکل جائے، دعا کی بجائے بددعا کرنے لگے، مثلاً مغفرت کی دعا کرنا چاہتا ہے، اور نیند میں مغفرت مانگنے کے بجائے عذاب مانگ لے (اسی لئے نوافل میں اعتدال کا حکم دیا گیا ہے تاکہ یہ نوبت ہی نہ آئے) (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 212 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 786 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1244 (unverified) 82% confidence

Mishkat (candidate) 1244

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس حدیث شریف کے ترجمہ سے پہلے یہ ضروری بات سن لیجئے: ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگوں کو مشقت میں ڈالنے والی) عبادت کا بے حد شوق تھا اس لئے ان کو اس افراط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا گیا ہے لیکن اس زمانہ میں معمولی سے معمولی عبادات بھی مشکل معلوم ہورہی ہیں اس لئے ان کو بھی تفریط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا جا رہا ہے، اس تمہید کے بعد حدیث شریف کو سنئے:)

Hadith 1628

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1872
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جو لوگ افراط سے عبادت کررہے ہیں ان کو سمجھنا چاہئے کہ) دین بہت آسان ہے (تم راہبوں کی طرح اپنے کو مشقت میں مت ڈالو اور جو لوگ تفریط میں پڑے ہوئے ہیں کچھ بھی نفل عبادت نہیں کرتے ہیں۔ ان کو کہا جا رہا ہے کہ دین بہت آسان ہے تم ایسے نفل عبادت کب تک چھوڑے ہوئے رہو گے؟ ترقی کر کے اعتدال پر آ جاؤ) جو شخص دین میں اپنے اوپر سختی اختیار کرے گا یعنی بھاری بھاری عبادتوں کی عادت ڈالے گا اور سخت سخت عبادتیں کر کے دین کو مشکل بنالے گا (بالآخر انھیں نباہ نہیں سکے گا اور ہمیشہ نہ کرسکے گا، مجبور ہو کر چھوڑ بیٹھے گا۔ لہذا ایسے شخص کو اور اس شخص کو بھی جو کچھ بھی نفل عبادتیں نہیں کرتا، ان دونوں کے لئے چاہئے کہ) میانہ روی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کے مقرب بننے کی کوشش کریں (اے وہ شخص جو عبادات میں افراط کرنے والا ہے تجھے جو اعتدال پر لایا جا رہا ہے اس سے یہ نہ سمجھنا کہ تیرے ثواب میں کچھ کمی ہوگی نہیں! نہیں!) تجھے پورے پورے ثواب کی خوش خبری سناتے ہیں (اور اے وہ شخص جو نفل عبادتیں چھوڑ بیٹھا ہے تو کیوں پست ہمتی کر رہا ہے، تو بھی عبادتوں میں اعتدال کر تجھے بھی خوش خبری دی جاتی ہے کہ تجھ کو بھی وہی ثواب ملے گا جو افراط سے اعتدال پر آنے والے کو ملتا تھا اب ہم تم کو اعتدال کا طریقہ بتاتے ہیں سنو!) نماز فجر کے بعد سے (اشراق کے وقت تک) نفل عبادات اور اوراد و وظائف میں مشغول رہو، اور عصر کے بعد سے مغرب تک کے وقت کو بھی غنیمت جانو! اور اوراد و وظائف میں مشغول رہو! یہ دونوں بہت ہی مقبول وقت ہیں، اور مغرب کے بعد نماز اوّابین پڑھا کرو، اور آخر شب میں تہجد بھی پڑھ لیا کرو (اگر اتنا بھی کرلو گے تو تمہیں عبادات کا اعتدال حاصل ہو جائے گا) (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 39 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1246 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 1246

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1629

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1873
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دو شخصوں کو دیکھ کر بہت تعجب کرتے ہیں (اللہ تعالیٰ کا تعجب کرنا متشابہات سے ہے، ہم اس پر ایمان لائے، تعجب کے معنی معلوم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کی کیفیت معلوم نہیں، وہ دو شخص جن پر اللہ تعالیٰ تعجب کرتے ہیں ان میں) ایک تو وہ شخص ہے جو نرم اور گرم بچھونے پر سو رہا تھا، اوڑھنے کے لئے بھی لحاف موجود تھا (رات کا وقت ہے سرد ہوائیں چل رہی ہیں، لوگوں کو دیکھ رہا ہے کہ وہ سو رہے ہیں، اس سے اس کا بھی دل سونے کی رغبت کرتا ہے) اور پہلو میں محبوبہ اس کی اہل موجود ہے (نفس چاہتا تھا کہ ان سب سے لطف اٹھائے، ایسے میں تہجد کا وقت آ گیا) اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر اور اس کے عذاب سے بچنے کا خیال اس کو بے چین کر دیا ان سب کو چھوڑ کر اٹھا، وضوء کیا اور خدا کے سامنے آ کھڑا ہو گیا (اس وقت اظہار تعجب کے لئے) اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں: اے میرے مقرب فرشتو! (تم کو کوئی خواہش نہیں تم میری عبادت کرتے ہو تو کوئی تعجب نہیں) اس میرے بندے کو دیکھو (کیا کیا خواہشات اس کو گھیرے ہوئے ہیں، نرم بچھونا ہے، گرم لحاف ہے، پہلو میں محبوبہ ہے، کسی کا بھی اس کو کچھ خیال نہیں، میرا ثواب حاصل کرنے کی رغبت اور عذاب سے بچنے کا خیال سب سے بڑھ کر مجھے راضی کرنے کی دھن میں اپنی سارے خواہشات کو چھوڑ کر کس طرح میرے سامنے آ کر کھڑا ہے کبھی قیام میں ہے، کبھی رکوع میں ہے اور کبھی سجدہ کر رہا ہے۔ میرے لئے یہ جو کچھ کر رہا ہے سب میں دیکھ رہا ہوں اور میں اس سے راضی ہو گیا) دوسرا وہ شخص جس پر اللہ تعالیٰ تعجب فرماتے ہیں وہ ہے جو اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہا ہے (دشمن اس کو اور اس کے ساتھیوں کو گھیر لئے ہیں، خدا کے دشمنوں کے مقابلہ کی طاقت نہ ہونے سے) سب کے سب بھاگ گئے (یہ شخص کافروں کے مقابلہ سے بھاگنے کی وعید کو سوچا اور یہ خیال بھی آیا کہ کبھی نہ کبھی تو مرنا ہے! کافروں سے بھاگ کر میں کب تک زندہ رہوں گا، ایک دن خدا کو منہ دکھانا ہے جب اس کے سامنے حاضری ہوگی اور وہ پوچھے گا کہ تو کافروں کے سامنے سے کیوں بھاگا تو میں کیا جواب دوں گا۔ یہ خیال آتے ہی) وہ پلٹ کر کفار کے مقابلہ میں آ گیا (جان توڑ لڑنا شروع کیا، بہت سے کفار کو قتل کیا اور) آخر خود بھی شہید ہو گیا۔ ایسے شخص کی حالت فرشتوں کو دکھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے مقرب فرشتو! دیکھو اس شخص کو! محض میرے ڈر سے اور مجھے خوش کرنے کے اور راضی کرنے کے خیال سے یہ جان دے دیا (میں بڑا ہی قدردان ہوں تم دیکھنا میں ان دونوں کو کیا کیا مراتب اور کیسے کیسے درجات دوں گا۔ اس حدیث شریف میں تمام رات جاگنے کی فضیلت نہیں بیان کی گئی ہے بلکہ صرف تہجد کے لئے اٹھنے والوں کی تعریف فرمائی گئی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اعتدال پسند ہے)۔ (اس حدیث کی روایت صاحب المصابیح نے شرح السنہ میں کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اللہ تعالیٰ بہت بڑے قدر دان ہیں، ان کی قدر دانی کی ایک چھوٹی مثال وہ ہے۔ جس کو)

Hadith 1630

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1874
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جس شخص کی عادت یہ ہو کہ وہ رات میں ہمیشہ اوراد و وظائف یا تہجد بلا ناغہ پڑھا کرتا ہو اتفاق سے) وہ سو گیا اور اپنا پورا وظیفہ یا وظیفہ کا کچھ حصہ نہ پڑھ سکا (یا تہجد نہ ہو سکی) اور وہ فجر کے بعد سے لے کر زوال تک کے وقت میں (فوت شدہ وظیفہ یا تہجد کو) پڑھ لے تو اس کے لئے ایسا ہی ثواب لکھا جائے گا کہ گویا اس نے رات کو اٹھ کر پڑھا ہے (یہ ہے قدر دانی اللہ تعالیٰ کی)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 747 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1631

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1875Noor 1876
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (مجھے بواسیر کا مرض تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ نماز کس طرح ادا کروں تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اگر تم فرض نماز پڑھ رہے ہو تو) کھڑے ہو کر پڑھو (اس لئے کہ فرض نماز میں قیام فرض ہے بخلاف نفل کے کہ اس میں کھڑے رہنا افضل ہے فرض نہیں ہے، اگر بغیر عذر کے نفل بیٹھ کر پڑھیں بھی تو جائز ہے مگر کھڑے رہ کر پڑھنے میں جو ثواب ہے نفل بیٹھ کر پڑھنے میں وہ ثواب نہیں بلکہ آدھا ثواب ملے گا) اگر کسی عذر سے فرض کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر نماز پڑھو، بیٹھ کر پڑھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو (قبلہ رو) کروٹ لیٹ کر پڑھو (کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے مگر افضل نہیں ہے، بلکہ چت لیٹ کر پڑھنا افضل ہے اس کی تائید ذیل میں نسائی کی حدیث سے ہوتی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔) نسائی کی وہ حدیث یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم (کسی عذر سے) بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکو تو قبلہ رو چت لیٹ کر (اس طرح) نماز پڑھو (کہ سر مشرق کی طرف ہو اور پیر قبلہ کی طرف، سر کے نیچے تکیہ رکھ کر سر کو کسی قدر اونچا کیا جائے اور پیروں کو احترام قبلہ کی وجہ سے لمبے نہ رکھیں بلکہ پیروں کو کھینچ کر گھٹنوں کو اس طرح کھڑا کریں کہ پیر ایڑھی سمیت زمین پر ٹکے رہیں) ”لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا“ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اسی قدر جس کے اٹھانے کی اس کو طاقت ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1117 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1248 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1248

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) The ruling on lying on one's back is that it is preferable in our school of thought over lying on one's side. The hadith of Imran is not a general proof, as it was addressed to him specifically due to his illness (hemorrhoids), which prevented him from lying on his back. Therefore, it is not a general ruling for the Ummah. Preference is given to the meaning, which is that lying on one's back allows one to face the Qiblah, fulfilling the obligation, unlike lying on one's side. For example, if one prostrates while lying on their back, it is directed toward the Qiblah, whereas lying on one's side would not face the Qiblah. This is mentioned in Al-Maraqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فمستلقيا واعلم أن الاستلقاء في مذهبنا أفضل من الاضطجاع، ولا ينتهض حديث عمران حجة على العموم؛ فإنه خطاب له، وكان مرضه البواسير، وهو يمنع الاستلقاء، فلا يكون خطابه خطابا للأمة، فوجب الترجيحبالمعنى، وهو أن المستلقي تقع إشارته إلى جهة القبلة، وبه يتأدى الفرض، بخلاف الآخر. ألا ترى أنه لو حققه مستلقيا كان سجودا وركوعا إلى القبلة، ولو أتمه على جنب كان إلى غير جهتها. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: صدر کی دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا ہو، اس کے بارے میں ایک حدیث میں کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ اور دوسری حدیث میں چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حنفی مذہب میں دونوں طرح سے نماز پڑھنا جائز ہے، چاہیں تو کروٹ لیٹ کر نماز پڑھیں، یا چت لیٹ کر، مگر چت لیٹ کر نماز پڑھنا افضل ہے، افضل ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم خاص عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو ان کے چت لیٹنے پر قادر نہ ہونے سے دیا گیا تھا چونکہ وہ بواسیر کے مرض کا شکار تھے اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم عام طور پر دیا گیا ہے، عمران رضی اللہ عنہ کے لئے جو چیز افضل قرار دی گئی ہے اس کو سب بیماروں کے لئے افضل قرار دینا مناسب نہیں بلکہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے کو ترجیح دے کر افضل قرار دینا چاہئے، اس لئے کہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ کی طرف ہی رخ رہتا ہے، اور کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ سے رخ ہٹ جاتا ہے، حالانکہ نماز میں استقبال قبلہ فرض ہے، چونکہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی نہیں رہتی، اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی رہتی ہے، اسی لئے چت لیٹ کر نماز پڑھنا کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور یہی مذہب حنفی ہے (مرقات)۔

Hadith 1632

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1877
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ ایک شخص فرض نماز پڑھ رہا ہے اس کو کھڑے رہ کر پڑھنے کے لئے ناقابل برداشت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اس کا بیٹھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ (تکلیف برداشت کر کے) کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو اس کے لئے افضل ہے (اور اس کو پورا ثواب ملے گا) اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے رہ کر جو نماز پڑھتا تھا اس کا آدھا ثواب ملے گا (ایسا ہی جو شخص (کھڑے ہو کر تو نماز پڑھ ہی نہیں سکتا، البتہ ناقابل برداشت تکلیف اٹھا کر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اگر وہ) لیٹ کر نماز پڑھے (تو جائز ہے مگر) بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو جو ثواب ملتا ہے اس کا آدھا ثواب لیٹ کر نماز پڑھنے والے کو ملے گا۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1115 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

(2) Al-Khattabi said: This refers to a sick person who is obligated to pray and could force himself to stand but with difficulty. Thus, his reward is doubled if he prays sitting, as an encouragement, even though praying lying down is permissible. Similarly, if he forces himself to stand despite the difficulty, his reward is doubled compared to praying sitting. This is mentioned in Majma' al-Bihar. In Al-Maraqat, it is stated: Is it permissible to pray voluntary prayers lying down when one is capable of standing or sitting? According to Abu Hanifah, it is not permissible. It is said that this hadith refers to an obligated sick person who could stand or sit but with difficulty and increased illness.

Note 2

قوله

(۲) قوله: ومن صلى نائما إلخ: قال الخطابي: إن المراد به المريض المفترض الذي يمكنه أن يتحامل فيقدر مع مشقة، فجعل أجره ضعف أجره إذا صلى نائما؛ ترغيبا له في القعود مع جواز صلاته نائما، وكذا جعل صلاته إذا تحامل وقام مع مشقة، ضعف صلاته إذا صلى قاعدا، كذا في مجمع البحار»، وقال في «المرقاة: وهل يجوز أن يصلي التطوع نائما مع القدرة على القيام أو القعود؟ فمذهب أبي حنيفة أنه لا يجوز، فقيل: هذا الحديث في حق المفترض المريض الذي أمكنه القيام أو القعود مع شدة وزيادة في المرض.

Hadith 1633

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1878
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہونچی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے ہیں کہ اگر کوئی شخص (نفل) نماز (بغیر عذر کے) بیٹھ کر پڑھے تو اس کو کھڑے رہ کر نماز پڑھنے والے کے ثواب کا آدھا ثواب ملے گا (ایک روز) میں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ نفل نماز بیٹھے ہوئے پڑھ رہے ہیں (مجھے بہت تعجب ہوا، کیونکہ حضور کے سب کام افضل طریقہ پر ہوا کرتے ہیں پھر اگر حدیث صحیح ہے تو آپ کیسے بیٹھے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں، عرب کا طریقہ ہے کہ جب ان کو کسی بات پر تعجب ہوتا ہے تو جس سے تعجب ہوتا ہے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دریافت کرتے ہیں اور اس کو خلاف ادب نہیں سمجھتے) میں (بھی اسی طریقہ کے موافق حضور جب نماز سے فارغ ہوئے تو) حضور کے سر پر ہاتھ رکھا تو حضور مجھ سے فرمائے: کیا ہے عبداللہ! (کس بات پر تم کو تعجب ہو رہا ہے، میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ فرمائے ہیں کہ (بغیر عذر کے) بیٹھ کر (نفل) نماز پڑھنے والے کو کھڑے رہ کر نماز پڑھنے کے ثواب کا آدھا ثواب ملتا ہے (اگر یہ صحیح ہے تو پھر آپ سے ترک افضل کیسے ہوا اس پر مجھے تعجب ہو رہا ہے) حضور فرمائے: ہاں حدیث صحیح ہے (تم نے جو سنا ہے وہ صحیح ہے کیا تم کو یہ معلوم نہیں کہ) میں تم جیسا نہیں ہوں (بہت سی چیزیں میرا خاصہ ہیں، اور امت اس میں شریک نہیں، منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ مجھے بلا عذر نفل نماز بیٹھ کر ادا کرنے میں بھی ویسا ہی ثواب ہے جیسے کھڑے ہو کر نفل ادا کرنے میں ثواب ملتا ہے، بخلاف امت کے ان کو نفل نماز کھڑے رہ کر پڑھنے میں جو ثواب ملتا ہے بیٹھ کر پڑھنے میں اس کا آدھا ثواب ملتا ہے۔ اسی واسطے قرآن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے فرمایا گیا ہے ”وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا“ اے رسول! ہم آپ کو بہت بڑا فضل عطا فرمائے ہیں۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 735a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1634

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1879
سالم بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ کے ایک صاحب نے کہا کاش میں نماز پڑھتا تو مجھے راحت ملتی (یہ سن کر) لوگوں نے (ان کے اس کہنے کو اس وجہ سے) برا سمجھا (کہ وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ نماز کو میں ادا کر دیتا تو نماز سے فارغ ہو کر آرام و راحت سے بیٹھتا تو قبیلہ خزاعہ کے ان صاحب نے کہا کہ میرا مطلب وہ نہیں تھا جو تم نے سمجھا
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4985 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1253 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1253

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہے بلکہ میرا مطلب یہ تھا کہ نماز شروع ہوجاتی، دنیا کے مشاغل سے بچ جاتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ راز و نیاز کرنے میں راحت حاصل ہوتی۔ یہ میرا مطلب تھا لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ غلط سمجھا ہے، میں جس لحاظ سے کہا تھا اسی لحاظ سے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اکثر فرمایا ہے۔ بلال! نماز کی تکبیر کہو! نماز شروع ہوجائے تو ہم کو نماز میں اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے میں راحت ملتی ہے (اسی وجہ سے حضور نے فرمایا ہے کہ نماز میں مجھے جو لطف ملتا ہے اس سے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، خزانہ کے ان صاحب نے جو کہا تھا اس سے ان کی مراد یہی ہے کہ لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ مناسب نہیں۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)