Allah the Almighty says: “When you travel through the land, there is no blame on you for shortening the prayers, if you fear persecution by the disbelievers. Indeed, the disbelievers are your open enemies.” (Qur’an 4:101)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1089 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 690a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 686a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
accept His charity
(1) The phrase “accept His charity” implies obligation, supporting Abu Hanifah’s view that shortening prayers is mandatory, while completing them is improper. – Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فاقبلوا وأمر فاقبلوا» ظاهره الوجوب، فيؤيد قول أبي حنيفة: إن القصر عزيمة والإتمام إساءة». قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ“، یعنی سفر میں قصر کرنے کی جو
اجازت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ یعنی اس کا احسان ہے، تم اس احسان کو قبول کرلو، اس ارشاد
گرامی میں ”فَاقْبَلُوا“ امر کا صیغہ ہے اور عموماً امر وجوب کے لئے ہوتا ہے تو اس حدیث سے امام ابو
حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرنا واجب ہے
اور قصر نہ کرکے پورے چار رکعت پڑھنا گناہ ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1081 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
We stayed for ten days
(2) The statement “We stayed for ten days” invalidates the four-day limit, as this occurred during the Farewell Pilgrimage. They intended to stay longer for completing rites. – Al-Ta’liq al-Mumjad.
Al-Mirqat states: This Hadith contradicts Al-Shafi’i’s view that one must complete prayers after four days. Abu Hanifah said: Shorten prayers unless intending to stay fifteen days, a view traced to Ibn Abbas and Ibn Umar.
Note 2
قوله
(۲) قوله: أقمنا بها عشرا : هذا الحديث مما يدلُّ على فساد التحديد بأربعة أيام؛ لأنه إنما هو في حجة الوداع. فتعين أنهم نووا الإقامة أكثر من أربعة أيام؛ لأجل قضاء النسك. قاله في التعليق الممجد». وقال في «المرقاة»: والحديث بظاهره ينافي مذهب الشافعي من أنه إذا قام أربعة أيام يجب الإتمام. وقال أبو حنيفة: يقصر ما لم ينو الإقامة خمسة عشر يوما، وهو مأثور عن ابن عباس وابن عمر .
Note 1
معلوم ہوا کہ اگر کسی مقام پر دس روز کے لئے قیام کیا جائے تو وہ وطن اقامت نہیں بنے گا اس لئے کہ
حضور مکہ معظمہ میں دس دن اقامت فرمائے اور چار رکعت والی فرض نمازوں کا قصر کرکے دو رکعت ہی
پڑھتے رہے، اگر یہ وطن اقامت بن جاتا تو آپ قصر نہیں کرتے)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ف: واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے لئے جب مکہ معظمہ شریف
لائے تو ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ تھی، 5/6 اور 7 تاریخ تک یہ تین دن آپ مکہ معظمہ میں ٹھہرے۔
آٹھویں کو منٰی روانہ ہوئے اور نویں کو عرفات پہونچے اور دسویں کو پھر منٰی میں لوٹ آئے اور گیارہویں
بارہویں کو وہاں رہے اور تیرہویں کو پھر مکہ معظمہ لوٹ آئے اور چودھویں کو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ
روانہ ہوئے۔ اس سے بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف تین دن مکہ
معظمہ میں قیام فرمائے تھے، اس لئے نماز قصر کرتے رہے، اگر چار دن مکہ میں رہتے تو نماز قصر نہیں
فرماتے بلکہ پوری نماز پڑھتے۔ یہ خیال اس وقت صحیح ہوتا کہ حضور تین دن مکہ میں رہ کر مدینہ کو مکہ ہی
سے رخصت ہوجاتے حالانکہ ایسا نہیں ہوا حضور مکہ سے رخصت نہیں ہوئے۔ عرفات جا کر منٰی میں
آئے۔ اور منٰی سے فرض طواف کے لئے پھر مکہ میں آئے۔ فرض طواف سے فارغ ہو کر منٰی میں تشریف
لائے، منٰی سے طواف وداع کے لئے پھر مکہ میں آئے اور اس کے بعد مکہ سے مدینہ شریف کو روانہ
ہوئے، مکہ میں حضور کا بار بار تشریف لانا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مکہ سے رخصت نہیں ہوئے اسی
لئے انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکہ میں آپ کا قیام دس دن رہا۔ مکہ میں (4) دن نہیں بلکہ (10)
دن قیام فرما رہے اور نمازوں کو قصر کرتے رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ (4) دن ہوں، یا (10) دن کسی
مقام پر رہنے سے وہ مقام وطن اقامت نہیں بنتا اس لئے قصر پڑھنا چاہئے۔ چنانچہ اس کے بعد والی
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی مقام پر (15) دن یا
(15) دن سے زائد رہنے کی نیت کرنے سے وہ مقام وطن اقامت ہوجاتا ہے اور وہاں نماز قصر نہیں
کرنا چاہئے۔ (مرقات۔ اشعۃ اللمعات)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1235 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
بحالت جنگ 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا موقع ہو تو بھی وہ وطن اقامت نہیں بنے گا۔
اگرچہ کہ اقامت کی نیت کی گئی ہو، اس لئے کہ دارالحرب محل اقامت اور سکونت نہیں ہے، کیونکہ ہمیشہ
یہ احتمال رہتا ہے کہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہونے سے یا اور ممالک کی فتح کے لئے آگے وہ بڑھ
جائیں یا پھر مسلمان وہاں سے واپس ہو جائیں۔ اس لئے دارالحرب میں اقامت کی نیت کا اعتبار
نہیں قصر ہی کرتے رہنا چاہئے)۔
(اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
مقام میں ٹھہرنا ہوا تھا مگر دارالحرب اور حالت جنگ ہونے کی وجہ سے نہ تو اقامت کا اثر ہوا اور نہ
اقامت کی نیت کا اور ہم قصر ہی کرتے رہے)۔
(اس حدیث کی روایت بیہقی نے معرفہ میں سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 550 (unverified) 88% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 551 (unverified) 82% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) In Al-Durr Al-Mukhtar: A traveler may perform voluntary prayers (Sunnah) if in a state of safety and stability. If in fear or fleeing, it is preferred to omit them, as this omission is permitted due to valid excuse.
Note 1
قوله
(۱) قوله: بعدها ركعتين: وفي الدر المختار» ويأتي المسافر بالسنن إن كان في حال أمن وقرار، وإلا بأن كان في خوف وفرار لا يأتي بها هو المختار؛ لأنه ترك لعذر.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1222 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ مسافر سنن مؤکدہ کو اطمینان ہو اور جلدی نہ ہو تو بغیر قصر کئے کے پوری پڑھے
اور اگر جلدی ہو اور اطمینان نہ ہو یا ساتھیوں کے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو پوری سنتوں کو ترک کر سکتا
ہے۔ سنن غیر مؤکدہ کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر جلدی نہ ہو اور اطمینان ہو تو ایسی نفلوں کو بھی پڑھ سکتا ہے،
اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں زوال کے بعد پڑھی جانے والی دو نفلوں کو ادا،
فرمایا ہے اور اگر جلدی ہو اور اطمینان نہ ہو یا ساتھیوں سے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو غیر مؤکدہ سنتوں
کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔ (درمختار)12
Candidate: Muwatta Malik 353 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 1349
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر میں نوافل اگر اطمینان ہو تو پڑھ سکتے ہیں اور اگر جلدی ہو
تو چھوڑ سکتے ہیں، بہرحال قصر فرض کے واسطے ہے اور سنن مؤکدہ اور نوافل میں قصر نہیں ہے۔ پڑھیں تو
بغیر قصر کے پوری رکعتیں پڑھیں اور اگر نہ پڑھیں تو پوری رکعتیں ترک کر دیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1682 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1289a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
پڑھنا چاہئے)۔ حضور، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیسا خلاف کرتے، اسی لئے ہر نماز کو اس کے وقت
پر ادا فرماتے تھے، کبھی نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع نہیں فرماتے تھے، بعض
حدیثوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع کئے ہیں یہ صحیح
نہیں ہے بلکہ آپ ایک نماز کو اس کے اخیر وقت میں ادا فرمائے ہیں اور دوسری نماز کو اس کے شروع
وقت میں پڑھے ہیں، یوں ہر نماز اپنے وقت پر ادا فرمائے، جن حدیثوں سے دو نمازوں کا جمع ہونا
معلوم ہوتا ہے اس کا یہ مطلب ہے، نہ کہ حقیقی طور پر جمع کرنا، بے وقت کر کے ایک نماز کو دوسری نماز
کے ساتھ جمع کرنے کے دو قسم ہیں: ایک قسم یہ ہے کہ ایک نماز کا وقت گزرنے دے کر دوسری نماز کے
ساتھ جمع کر کے پڑھنا۔ کبھی حضور ایسی نماز ادا نہیں کئے ہیں) صرف مزدلفہ میں مغرب کا وقت
گزرنے کے بعد عشاء کے ساتھ ملا کر دونوں نمازیں پڑھی گئیں (حنفی بھی اس پر عمل کر کے اس طرح
کا جمع مزدلفہ میں کیا کرتے ہیں، دوسری قسم یہ ہے کہ وقت ہونے کے پہلے ایک نماز کو دوسرے نماز
کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اس طرح سے بھی حضور کبھی نماز ادا نہیں فرمائے ہیں، صرف عرفات میں
عصر کا وقت ہونے کے پہلے عصر (اس حدیث شریف میں مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنے کا
ذکر ہے اور عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، مگر راوی نے
اس کی ذکر نہیں کیا ہے۔ چونکہ دوسری احادیث میں ظہر و عصر کو جمع کرنے کا ذکر موجود ہے، اس لئے
یہاں اس کو بیان کیا گیا) کو ظہر کے ساتھ پڑھے ہیں۔ حنفی بھی ایسا ہی کر کے عرفات میں دونوں نماز
ظہر اور عصر کو جمع کر کے پڑھتے ہیں، بجز ان دو موقعوں کے کبھی کوئی نماز آپ بے وقت ادا نہیں
فرمائے ہیں، بے وقت نماز ادا کرنا تو بڑی چیز ہے، کبھی نماز کو اس کے مستحب وقت کے سوا ادا نہیں
فرمائے) صرف مزدلفہ میں صبح کے فرض کا مستحب وقت چھوڑ کر صبح صادق ہوتے ہی اول وقت ”غَلَسَ“،،
یعنی اندھیرے میں صبح کے فرض ادا فرمائے (اور منٰی کی طرف تشریف لے گئے۔ حنفی بھی ایسا ہی مزدلفہ
میں صبح کی نماز کا مستحب وقت چھوڑ کر اول وقت ”غَلَسَ“،، میں صبح کے فرض ادا کیا کرتے ہیں)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے اور ابوداؤد اور طحاوی نے بھی
اسی طرح روایت کی ہے)
(اس کی روایت امام طحاوی اور امام احمد اور حاکم نے کی ہے، اور اس حدیث کی سند حسن ہے۔)
Note 2
حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کسی نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع نہیں فرماتے
تھے بلکہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرما کر صورۃً دو نمازوں کو جمع کئے ہیں، واقعی طور پر ایک نماز کا
وقت گزرنے کے بعد یا اس کا وقت ہونے کے پہلے دو نمازوں کو جمع نہیں کئے ہیں)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) A resident or traveler may perform voluntary prayers while riding outside city limits, gesturing in whichever direction the mount faces, even if it does not initially face the Qibla. This is because if prayer is valid without facing the Ka’bah, it is also permissible to begin without facing it. ‘Bahr’ clarifies this and contrasts it with Al-Shafi’i’s view, which requires facing the Qibla initially, as mentioned in ‘Al-Sharnabalaliah.’ It is also noted in ‘Al-Hilyah’ from ‘Ghayat Al-Suruji’ that this is the narration of Ibn al-Mubarak, and it is mentioned in ‘Jawami’ Al-Fiqh.’ After citing the Hadiths, it is concluded that the preferred view is to recommend this practice when there is no hardship, based on the Hadith of Anas. ‘Al-Durr Al-Mukhtar’ and ‘Al-Ikhtiyar’ are derived from these sources.
Note 1
قوله
(۱) قوله: حيث كان وجهه: يتنفّل المقيم والمسافر راكبا خارج المصر) محل القصر (مؤميا) إلى أي جهة توجهت دابته، ولو ابتدء عندنا)، يعني أنه لا يشترط استقبال القبلة في الابتداء؛ لأنه لما جازت الصلاة إلى غير جهة الكعبة جاز الافتتاح إلى غير جهتها. «بحر» واحترز عن قول الشافعي الله فإنه يقول : يشترط في الابتداء أن يوجهها إلى القبلة، كما في «الشرنبلالية». قلت: وذكر في الحلية» عن «غاية السروجي: أنما هذا رواية ابن المبارك، وذكرها في جوامع الفقه». ثم ذكر بعد سياقه الأحاديث: أن الأشبه استحباب ذلك عند عدم الحرج عملا بحديث أنس. «الدر المختار» وارد المحتار ملتقط منهما.
Note 1
ف: در مختار میں لکھا ہے کہ نفل نماز اشارہ کے ساتھ سواری پر مسافر اور مقیم دونوں پڑھ سکتے
ہیں۔ بشرطیکہ شہر سے باہر ہوں، اور سواری پر نفل نماز پڑھنے کے لئے نہ تو شروع نماز میں قبلہ رو ہونا
ضروری ہے اور نہ درمیان نماز میں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 685a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi.
(1) "Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi."
Note 1
قوله
(۱) قوله : في الحضر والسفر : قال إمامنا أبو حنيفة : سفر الطاعة والمعصية سواء في الرخص؛ لإطلاق نصوص الرخصة، ولأنه فلما كان حكم الإتمام يجب له في الإقامة بالإقامة خاصة، لا بطاعة ولا بغيرها، كان كذلك يجيء في النظر أن يكون حكم التقصير يجب له في السفر بالسفر خاصة، لا بطاعة ولا غيرها قياسًا. كذا في فتح القدير» و «الطحاوي».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ابتداء میں سفر اور حضر میں دو، دو رکعت فرض ہوئے
تھے، سفر کی نماز اسی حال پر دو رکعت ہی رہی اور حضر کی نماز کو اور دو رکعت بڑھا کر چار رکعت کر دیا گیا۔
واضح ہو کہ مقیم پر حضر میں صرف اقامت کی وجہ سے چار رکعت فرض کئے گئے ہیں اور اسی طرح
مسافر پر صرف سفر کی وجہ سے دو رکعت فرض کئے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ مقیم پر حضر میں چار
رکعت فرض ہونے کی علت صرف اقامت کی حالت ہے کوئی اور حالت نہیں نہ طاعت کی حالت اور نہ
گناہ کی حالت یعنی مقیم پر حضر میں اس کے مقیم ہونے کی حیثیت سے چار رکعت فرض ہیں، اس کے مطیع
ہونے کی حیثیت سے یا گناہ میں مبتلا ہونے کی حیثیت سے اس پر حضر میں چار رکعت فرض نہیں ہیں،
اسی طرح مسافر پر سفر میں دو رکعت فرض ہونے کی علت صرف سفر کی حالت ہے کوئی اور حالت نہیں
ہے، نہ طاعت کی حالت اور نہ گناہ کی حالت یعنی مسافر پر سفر میں اس کے مسافر ہونے کی حیثیت سے
دو رکعت فرض ہیں، اس کے مطیع ہونے کی حیثیت سے یا گناہ میں مبتلا ہونے کی حیثیت سے اس پر سفر
میں دو رکعت فرض نہیں ہیں، اقامت کی حالت میں مقیم پر چار رکعت فرض ہونے پر سب ائمہ کا اتفاق
ہے، البتہ مسافر پر سفر میں جو دو رکعت فرض ہیں اس بارے میں بعض ائمہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے
ہیں کہ اگر مسافر کسی طاعت مثلاً حج کے لئے سفر کر رہا ہو تو اس کے لئے قصر کی اجازت ہونی چاہئے اور
اگر مسافر کسی گناہ جیسے ڈاکہ زنی وغیرہ کے لئے سفر کر رہا ہو تو اس کو پوری نماز پڑھنا چاہئے اور اس کے
لئے قصر کا حکم مناسب نہیں، ہمارے امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقیم پر صرف اقامت کی وجہ
سے جب چار رکعت فرض ہوئے ہیں اور اس چار رکعت کے فرض ہونے میں اقامت کی حالت کے سوا
کسی اور حالت طاعت یا گناہ کی حالت کا لحاظ نہیں ہے تو پھر مسافر کے لئے کس بنا پر قصر کرنے کے
لئے سفر کی حالت کے سوا طاعت یا گناہ کی حالت کا ہونا ضروری سمجھا جا رہا ہے مسافر پر بھی صرف سفر کی
حالت کی وجہ سے ہی دو رکعت کا حکم دیا جانا ضروری ہے اگر قصر کے لئے مسافر پر حالت سفر کے سوا کسی
اور حالت یعنی طاعت یا گناہ کی حالت کا لحاظ ضروری سمجھا جائے تو احادیث کے مطلق حکم کے خلاف
ہوگا، چنانچہ مذکورہ صدر کی حدیث شریف کے مطلق حکم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقیم کے لئے چار رکعت
کا حکم اس کی اقامت کی وجہ سے ہے، اور مسافر کے لئے دو رکعت کا حکم اس کے سفر کی حالت کی وجہ سے
ہے۔ اسی لئے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ سفر خواہ اطاعت کے لئے ہو یا گناہ کے لئے، ہر دو
حالتوں میں قصر کرنا ضروری ہے، اس کے بعد آنے والی حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے
(یہ مضمون فتح القدیر اور طحاوی سے ماخوذ ہے)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The phrase “accept His charity” implies obligation, supporting Abu Hanifah’s view that shortening prayers is mandatory, while completing them is improper. – Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: فاقبلوا وأمر فاقبلوا» ظاهره الوجوب، فيؤيد قول أبي حنيفة: إن القصر عزيمة والإتمام إساءة». قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ“، یعنی سفر میں قصر کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ یعنی اس کا احسان ہے، تم اس احسان کو قبول کرلو، اس ارشاد گرامی میں ”فَاقْبَلُوا“ امر کا صیغہ ہے اور عموماً امر وجوب کے لئے ہوتا ہے تو اس حدیث سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرنا واجب ہے اور قصر نہ کرکے پورے چار رکعت پڑھنا گناہ ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)