Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 853 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جمعہ کی وہ ساعت جس میں دعاء مقبول ہوتی ہے وہ
امام کے خطبہ کے لئے منبر پر بیٹھنے کے وقت سے لے کر فرض جمعہ کے ختم تک رہتی ہے حالانکہ خطیب
کے خطبہ بیان کرنے کے وقت انصات یعنی چپ رہنے کا حکم ہے اور نماز میں تو بات کر ہی نہیں سکتے پھر
دعا کا کیا موقع ملے گا۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے علامہ بلقینی رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے
کہ دعاء کے لئے زبان سے تلفظ شرط نہیں ہے، صرف دل میں دعاء کا خیال رکھنا کافی ہے۔ ایسا خیال
رکھنے سے بھی قبول ہو جاتی ہے (مرقات)۔
Candidate: Musnad Ahmad 8102 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 1364
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
سے مغرب تک کے درمیان مقبول ساعت آتی ہے اس لئے عصر سے مغرب تک کے وقت کو اور
دنیوی امور میں ضائع نہ کریں بلکہ عبادات اور دعاء میں مشغول رہیں)۔ (اس حدیث کی روایت
امام احمد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(ایسا ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم مبارک بھی زمین پر حرام کر دیا گیا ہے اور آپ کے جسم کی
کوئی نظیر عالم برزخ میں نہ ہونے سے اسی جسم مطہر میں روح اقدس واپس کر دی گئی ہے، آپ قبر
شریف میں زندہ تشریف فرما ہیں اور کشف جسم مطہر پر ہی ہوتا ہے اس لئے حضور جمعہ کے دن اپنی
امت کے درود کو جسم مطہر ہی سے سنتے ہیں، خواہ امتی دنیا کے کسی حصے سے بھی درود پڑھے، حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمعہ کے دن اپنے امتی کے درود کو فرشتہ کے واسطے کے بغیر سن لینا کوئی تعجب کی
بات نہیں، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا واقعہ ہوا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ
منورہ میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے ایران کے میدان جنگ میں حضرت ساریہ سپہ سالار کو دیکھے اور ان
کو صحیح جنگ کرنے کا اعلان کئے، اس اعلان کو حضرت ساریہ بھی سینکڑوں میل کے فاصلہ سے سن
لئے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب سینکڑوں میل دور سے کشف ہوا ہے تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بدرجہ اولیٰ امتی کے درود کا خواہ دنیا کے کسی حصے سے بھی ہو کشف
ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں بلکہ امر یقینی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور
دارمی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت دعوات کبیر میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1637 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
جمعہ شاہد ہے، اس لئے کہ لوگ تو اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں، جمعہ ان لوگوں کے پاس ان کو فیض
پہنچانے خود حاضر ہوتا ہے، ایسا ہی جمعہ) مشہود بھی ہے، اس لئے کہ جمعہ کے دن رحمت کے
فرشتے کثرت سے آتے ہیں اور رحمت پھیلاتے ہیں (کسی دن میں ایسی رحمت نازل نہیں ہوتی،
جیسے جمعہ کے دن نازل ہوتی ہے صلوٰۃ یعنی درود بھی رحمت ہی ہے اس لئے کثرت سے بھیجا کرو)
(تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ جمعہ کے دن درود بھیجنے میں اور دوسرے دنوں میں درود بھیجنے میں بڑا
فرق ہے اور دنوں میں تم جو درود بھیجتے ہو وہ درود فرشتے میرے پاس لا کر پیش کرتے ہیں،
بخلاف) جمعہ کے کہ اس دن مجھے ایسا کشف ہوجاتا ہے کہ بغیر فرشتوں کے واسطوں کے تمہارا
درود کشف کے ذریعے سے مجھ پر ظاہر ہوجاتا ہے (یہ پورا مضمون مرقات میں مذکور ہے۔) (میں
تمہارے درود کو خود سنتا ہوں اور یہ کشف تمہارا درود پڑھنا ختم ہونے تک باقی رہتا ہے (گو کتنی ہی
دیر ہو اور کتنی ہی دور سے پڑھا جائے، یہ بات اور دنوں میں حاصل نہیں ہوتی ہے، اس لئے تم کو
تاکید سے کہتا ہوں کہ جمعہ کے دن کثرت سے مجھ پر درود بھیجا کرو) ابودرداء کہتے ہیں: میں نے
عرض کیا: حضور یہ کشف ہونا آپ کی زندگی تک ہی ہے یا آپ کے وصال کے بعد بھی ایسا ہی
آپ کو جمعہ کے دن درود پڑھے جانے کا کشف ہوتا رہے گا: یہ سن کر حضور ارشاد فرمائے سنو: ابو
درداء (پیغمبروں کا تم عوام پر قیاس نہ کرنا) اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے جسم زمین پر حرام کر دئے
ہیں کہ پیغمبروں کے جسم کو (عوام کے جسم کی طرح) مٹی نہیں کھاتی ہے، وہ اپنے جسموں کے ساتھ
اپنی قبروں میں زندہ موجود ہیں (ایسا ہی میں اپنی قبر میں اپنے جسم کے ساتھ زندہ رہوں گا۔ ابو
درداء تم سمجھتے ہوں گے صرف روحانی زندگی ہوگی، نہیں نہیں بلکہ روح جسم کے ساتھ ایسی موجود
رہے گی جیسے دنیا میں ہے، اس لئے) وہاں رزق بھی دیا جائے گا۔ (اس لئے میں قبر میں زندہ
رہوں گا اور مجھے کشف بھی ہوتا رہے گا اور میں امتیوں کے درود کو خود سنوں گا۔ اس خصوص کی وجہ
سے کہتا ہوں کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جمعہ کی وہ ساعت جس میں دعاء مقبول ہوتی ہے وہ امام کے خطبہ کے لئے منبر پر بیٹھنے کے وقت سے لے کر فرض جمعہ کے ختم تک رہتی ہے حالانکہ خطیب کے خطبہ بیان کرنے کے وقت انصات یعنی چپ رہنے کا حکم ہے اور نماز میں تو بات کر ہی نہیں سکتے پھر دعا کا کیا موقع ملے گا۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے علامہ بلقینی رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ دعاء کے لئے زبان سے تلفظ شرط نہیں ہے، صرف دل میں دعاء کا خیال رکھنا کافی ہے۔ ایسا خیال رکھنے سے بھی قبول ہو جاتی ہے (مرقات)۔