ف: درمختار میں لکھا ہے کہ جب امام خطبہ شروع کر دے تو حاضرین کو اس کا سننا واجب ہے
خواہ امام کے نزدیک بیٹھے ہوں یا دور اور کوئی ایسا فعل کرنا جو خطبہ سننے میں مخل ہو مکروہ تحریمی ہے، اور کھانا
پینا، بات چیت کرنا، چلنا، پھرنا، سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا، سبحان اللہ یا اسی قسم کا کوئی اور وظیفہ پڑھنا،
یا کسی کو شرعی مسئلہ بتانا، یا اگر کوئی باتیں کر رہا ہو تو اس کو خاموش رہو کہنا۔ یہ سب چیزیں جیسا کہ حالت نماز
میں ممنوع ہیں، ویسا ہی شروع خطبہ سے لے کر دونوں خطبوں کے ختم ہونے تک ممنوع ہیں)۔
Candidate: Musnad Ahmad 2033 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 1393
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(شروع اسلام میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی مسجد میں جمع ہوتی تھیں، ایسے موقع پر کوئی
شخص آنکھوں کو روک سکتا ہے) مگر دل کا روکنا اس کے قابو سے باہر ہے، نماز میں کھڑا ہے بے اختیار
عورت کا خیال آ رہا ہے، جب اگر بیوی سے جماع کر لے تو شہوت کے وساوس اور خطرات دل سے
سب نکل جاتے ہیں، اور یکسوئی دل میں پیدا ہوتی ہے، اس یکسوئی کے حاصل کرنے ارشاد ہو رہا ہے
کہ جمعہ کی تیاری میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیوی سے جماع کر لے تا کہ شہوت کے خیالات دل سے
نکل جائیں، دل سب خطرات سے پاک ہو جائے اس لئے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 911 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2177a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس کی جگہ بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، نافع سے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ ممانعت صرف جمعہ کے لئے
ہے؟ تو حضرت نافع جواب دیتے نہیں، یہ ممانعت جمعہ کے لئے بھی ہے اور جمعہ کے سوا دوسری
نمازوں کے لئے بھی ہے (ہاں) اگر کوئی شخص ایثار کے طور پر خود اٹھ کر دوسرے کو اپنی جگہ بٹھائے تو
اس شخص کا بیٹھنا جائز ہے۔ (درالمختار میں ایسا ہی لکھا ہے اور مرقات میں لکھا ہے کہ کسی کو اس کی
مرضی کے خلاف جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جانا حرام اور ناجائز ہے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1095 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں جمعہ کے لئے ایک خاص جوڑا بنائے رکھنے کا جو حکم ہے اس کا
مطلب یہ ہے کہ جمعہ کی عزت کرے، اور مقدور کے موافق صاف ستھرے عمدہ کپڑے پہنے، جیسے کوئی
دربار میں جاتا ہے تو کس اہتمام اور شان سے جاتا ہے غرض جمعہ کے دن ایک خاص جوڑا بنائے
رکھے اور جمعہ کے دن اس کو پہنا کرے (مرقات)12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1115 (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
بھی تم ناجائز کام کر رہے ہو۔ ہاں خطبہ شروع ہونے کے پہلے بغیر کسی کو ایذاء دیئے کہ اگلی صفوں میں
خالی جگہ کو پُر کرنے کے لئے پھلانگتے ہوئے جانے میں مضائقہ نہیں، مگر اس کا اندازہ کرنا کہ پھلانگتے
ہوئے جانا بغیر ایذاء دیئے کے ہے بہت مشکل ہے، اس لئے پھلانگ کر نہ جائیں بھی تو اچھا
ہے) (جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار میں مذکور ہے۔12)۔ (اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1111 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
دینے کے وقت احتباء کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی واسطے عمدۃ الرعایہ میں جامع المضمرات
کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مصلیوں کے لئے کوئی بیٹھک خاص
نہیں ہے، چاہے تو احتباء کئے ہوئے بیٹھے، چاہے چوزانو بیٹھیں، یا جس حالت میں آسانی اور
سہولت ہو اس حالت میں بیٹھیں۔
اب احتباء کے معنی سنئے۔ احتباء یہ ہے کہ مصلی پر اس طرح بیٹھے کہ دونوں گھٹنے
کھڑے ہوں اور پیروں کے دونوں تلوے زمین پر جمے ہوئے ہوں اور دونوں ہاتھوں سے
دونوں گھٹنوں کو گھیرے ہوئے ہو، یا کپڑا کمر سے لے کر گھٹنوں سمیت باندھے اور زمین پر
ٹک کر بیٹھے۔
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
(1) "This indicates the importance of hastening to Friday prayer and preparing for it."
Chapter-heading commentary
(۱) قوله : وذروا البيع : فيه إشارة إلى التبكير.