And the saying of Allah, the Almighty: "And when you call to prayer, they take it in ridicule and amusement. That is because they are a people who do not reason." (Qur'an, Al-Ma'idah 5:58). And His saying: "O you who have believed, when the call to prayer is made on the day of Jumu'ah (Friday)..." (Qur'an, Al-Jumu'ah 62:9).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 604 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 377 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابتدا میں اذان سے پہلے لوگوں کو نماز کیلئے جمع کرنے کیلئے ”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“
کے الفاظ سے بلایا جاتا تھا پھر بعد میں اذان شروع ہوئی۔ (مرقات۔)
ف: اس حدیث میں اذان اور اقامت کے بعد بیٹھنے کا جو ذکر ہے اس سے اس بات کا اشارہ
مقصود ہے کہ اذان اور اقامت ختم ہوگئی، نیز اذان اور اقامت کے بعد بیٹھنے سے یہ وضاحت بھی مقصود
ہے کہ اذان اور اقامت کھڑے ہو کر کہنا مستحب ہے چنانچہ ”تنویر الابصار“ میں لکھا ہے کہ بیٹھے ہوئے
اذان اور اقامت کہنا مکروہ ہے۔12
ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ طبرانی کی اس روایت میں جس معراج کا ذکر آیا ہے وہ مشہور
معراج نہیں، یہ معراج جس میں اذان کے الفاظ سکھائے گئے ہیں جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی، کیونکہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی معراج ایک ہی ہوئی ہے، البتہ روحانی معراج متعدد ہوئے ہیں، یا یہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب تھا، جو معراج کے حکم میں ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خواب بھی
وحی ہوتا ہے اور یہ خواب بھی ایک روحانی معراج تھی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے الفاظ
سکھائے گئے، صحابہ رضی اللہ عنہم کو پہلے خواب میں اذان سکھائی گئی اور بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
خواب میں اذان کے بارے میں وحی کی گئی، اس سے مقصود یہ تھا کہ اذان کے بارے میں اس موافقت
کی وجہ سے صحابہ کرام کو خوشی حاصل ہو اور یہ ان سے منقول ہو ورنہ درحقیقت اذان کا حکم ایک شرعی حکم
ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے سوا دوسروں کے خواب سے ثابت نہیں ہوسکتا۔12
ف: ترجیع یہ ہے کہ ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنَّ
مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کو پست آواز سے ادا کرے پھر اس کے
بعد یہی الفاظ ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ
اللّٰهِ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کو بلند آواز سے کہے ترجیع اسی کو کہتے ہیں اور یہ ترجیع احناف
کے پاس جائز نہیں ہے جس کی تائید ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے اور اسی طرح
حضرت بلال اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذان سے بھی ترجیع ثابت نہیں۔ (شرح وقایہ، عمدۃ
الرعایہ، ہدایہ اور مرقات۔)
ف: امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں وضاحت کی ہے کہ ابوالفرج کا قول ہے کہ اقامت کے
الفاظ دو دو مرتبہ کہے جاتے تھے لیکن جب بنو اُمیہ کی حکومت آئی تو ان لوگوں نے اقامت کے الفاظ کو
ایک ایک مرتبہ جاری کر دیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1264 (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
This indicates the permissibility of Tathweeb in general.
(1) His statement: "This indicates the permissibility of Tathweeb in general." And in the explanation of An-Nuqayah, it is said: "Tathweeb is the announcement of prayer between the Adhan and Iqamah according to what is customary in each region. It is considered Hasan in our view for every prayer because people are often neglectful in religious matters. However, Malik and Shafi'i disliked it absolutely."
Note 1
قوله
(۱) قوله: يؤخذ منه مشروعية التثويب في الجملة وقال في شرح النقاية والتثويب وهو الإعلام بالصلاة بين الأذان والإقامة بحسب ما تعارفه أهل كل بلد من لفظه حسن عندنا في كل صلاة؛ لتواني الناس في الأمور الدينية، وكرهه مالك والشافعي مطلقا.
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث سے تثویب کی مشروعیت معلوم ہوتی
ہے، چنانچہ مرقاۃ میں لکھا ہے کہ تثویب یہ ہے کہ ہر شہر والوں کے عرف کے موافق جو بھی لفظ مقرر کیا جائے
اس کے ذریعہ سے اذان اور اقامت کے درمیان نماز کا اعلان کیا جائے اس لئے تثویب ہر نماز میں
ہمارے پاس مستحب ہے کیونکہ امور دینیہ کی ادائی میں لوگوں میں سستی پیدا ہوچکی ہے البتہ امام مالک اور
امام شافعی رحمہما اللہ نے تثویب کو مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 195 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Do not stand until you see me
(2) Explanation of the statement: "Do not stand until you see me": This likely means that the Prophet (peace be upon him) would come out of his room after the Mu'adhdhin began the Iqamah and enter the mosque’s Mihrab (prayer niche) when the Mu'adhdhin said, " حَيَّ على الصلاة " (Come to prayer). Therefore, our scholars stated that the Imam and the congregation should stand at "حَيَّ على الصلاة" and begin the prayer at "قد قامت الصلاة" (Prayer has begun), according to the opinion of Abu Hanifah and Muhammad. According to Abu Yusuf, they should begin at the completion of the Iqamah. The meaning is that when the Mu'adhdhin finishes saying, "قد قامت الصلاة" the Imam should begin. In Al-Khulasa, this is the most correct opinion. It is also said that it means the Imam begins before the completion of this statement. In Al-Muhit, Imam Al-Hulwani said: "This is the correct view." It is mentioned in Khazana: "If the Imam does not begin until after the completion of the Iqamah, there is no harm in that." The discussion here is about what is recommended, not what is merely permissible. The majority follow the opinion of Abu Yusuf so that the Mu'adhdhin can catch the beginning of the Imam’s prayer, and this is the practice of the people of the Two Holy Mosques. Allah knows best. According to Malik and Shafi'i, the Imam should delay starting until the Iqamah is completed and the rows are straight. This is taken from Al-Mirqat and Sharh An-Nuqayah.
Ibn Abi Shaybah narrated from Hammad that Anas (may Allah be pleased with him) would stand when the Mu'adhdhin said, "قد قامت الصلاة" (Prayer has begun), and the Imam said the Takbir.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ولا تقوموا حتى تروني : لعله كان يخرج من الحجرة بعد شروع المؤذن في الإقامة، ويدخل في محراب المسجد عند قوله: «حَيَّ على الصلاة، ولذا قال أئمتنا ويقوم الإمام والقوم عند «حي على الصلاة ويشرع عند قد قامت الصلاة في قول أبي حنيفة ومحمد، وعند الفراغ من الإقامة في قول أبي يوسف. والمعنى: إذا فرغ المؤذن من قوله: «قد قامت الصلاة شرع الإمام. في الخلاصة: هذا هو الأصح وقيل : معناه أنه شرع فيها قبل تمام هذا القول. وفي المحيط»: قال الإمام الحلواني: هذا هو الصحيح، وذكر في خزانة»: لو لم يشرع حتى فرغ من الإقامة، فلا بأس به، والكلام في الاستحباب لا في الجواز. انتهي والجمهور على قول أبي يوسف؛ ليدرك المؤذن أول صلاة الإمام، وعليه عمل أهل الحرمين، والله تعالى أعلم. وعند مالك والشافعي: يؤخر الشروع إلى الفراغ من الإقامة واستواء الصفوف المرقاة» وشرح النقاية» ملتقط منهما.
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمایا کہ جب تک تم مجھے دیکھ نہ لو نماز
کیلئے کھڑے نہ ہوا کرو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے
مؤذن کی اقامت شروع کر دینے کے بعد نکلتے تھے اور مؤذن جب ”حَیَّ عَلَی الصَّلوٰةِ“ کہتا تو
آپ مسجد کے محراب میں آ جاتے، اسی لئے ہمارے ائمہ نے کہا ہے کہ امام اور مقتدی سب ”حَیَّ عَلَی
الصَّلوٰةِ“ کے وقت کھڑے ہو جائیں اور امام ”قَدْقَامَتِ الصَّلوٰةُ“ کے وقت نماز شروع کر دے۔ یہ
امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کا قول ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اقامت سے فراغت
کے بعد نماز شروع کی جائے۔
”خلاصہ“ میں لکھا ہے کہ فتویٰ امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے قول پر ہے اس لئے
”قَدْقَامَتِ الصَّلوٰةُ“ پر نماز شروع کی جائے۔
واضح ہو کہ نماز شروع کرنے کے بارے میں ہمارے ائمہ کے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے
اس کا تعلق استحباب سے ہے کہ ”قَدْقَامَتِ الصَّلوٰةُ“ کے وقت نماز شروع کرنا مستحب ہے یا اقامت
سے فارغ ہونے کے بعد نماز کا شروع کرنا مستحب ہے؟ ورنہ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے کے
بعد نماز کا شروع کرنا سب کے پاس بالاتفاق جائز ہے۔ چنانچہ خزانۃ میں مذکور ہے کہ اگر امام نے نماز
شروع نہیں کی یہاں تک کہ مؤذن اقامت سے فارغ ہو گیا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہاں
خزانۃ کی عبارت ختم ہوئی) اور جمہور کا اتفاق امام ابویوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے کہ مؤذن کے اقامت
سے فارغ ہونے کے بعد نماز شروع کی جائے، کیونکہ اس صورت میں مؤذن کو بھی نماز امام کے ساتھ
ابتداء ہی سے مل جاتی ہے اور اسی پر اہل حرمین کا عمل ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔
البتہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول یہ ہے کہ امام نماز شروع کرنے میں اتنی تاخیر
کرے کہ مؤذن اقامت سے فارغ ہو جائے اور صفیں درست کر لی جائیں۔ (ماخوذ از: مرقاۃ و شرح نقایہ۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 199 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 514 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 717 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Whoever calls the Adhan should also call the Iqamah
(1) Explanation of the statement: "Whoever calls the Adhan should also call the Iqamah": In our view (Hanafi school), it is not disliked for someone other than the Mu'adhdhin to call the Iqamah with the Mu'adhdhin's consent. This is also the opinion of Malik. However, Shafi'i disliked it. If the Mu'adhdhin is not present, there is no dislike in someone else calling the Iqamah, according to unanimous agreement. Nevertheless, it is preferable for the Mu'adhdhin to also call the Iqamah, based on this hadith and the following narrations. This is summarized from Sharh An-Nuqayah.
Note 1
قوله
(۱) قوله: من أذن فهو يقيم ولا يكره عندنا إقامة غير المؤذن برضاه، وبه قال مالك، وكرهها الشافعي. أما لو لم يحضر فلا يكره اتفاقا. نعم، الأفضل أن يكون المؤذن هو المقيم، له هذا الحديث، ولنا الأحاديث الآتية بعد. شرح النقاية ملخصا.
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے، اس بارے میں ہمارا مذہب
یہ ہے کہ اگر اذان دینے والے کی رضامندی سے دوسرا شخص اقامت کہے تو یہ مکروہ نہیں ہے اور امام
مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان دینے والے کے سوا اگر دوسرا
اقامت کہے تو اس کو مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے لیکن اذان دینے والا حاضر نہ ہو تو متفقہ طور پر کسی امام کے
پاس بھی دوسرے کا اقامت کہنا مکروہ نہیں ہے، ہمارے پاس بھی افضل یہی ہے کہ اذان دینے والا ہی
اقامت کہے، علاوہ ازیں اذان دینے والے کے سوا دوسرے کی اقامت جو ہمارے پاس جائز ہے، اس
کی تائید میں ذیل کی حدیثیں ملاحظہ کیجئے۔ (رد المحتار، شرح وقایہ۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابتدا میں اذان سے پہلے لوگوں کو نماز کیلئے جمع کرنے کیلئے ”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“ کے الفاظ سے بلایا جاتا تھا پھر بعد میں اذان شروع ہوئی۔ (مرقات۔)