Hadith 939
Volume 1العربية
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 534 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
كِتَابُ الصَّلَاةِ · Chapter 7
7 narrations · In source reading order
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وقت سے پہلے اذان دینا جائز نہیں۔12
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(2) Explanation of the statement: "He called the Adhan, then prayed...": In Al-Hidayah, it is said: "The Adhan and Iqamah are called for a missed prayer because the Prophet (peace be upon him) made up for the Fajr prayer after the night of delay with both the Adhan and Iqamah. This is evidence against Imam Shafi'i, who considered the Iqamah sufficient." In Al-'Inayah, it is said: "It cannot be said that it is narrated that the Prophet (peace be upon him) ordered Bilal to call only the Iqamah without mentioning the Adhan, because the incident is the same, and acting upon the additional narration is preferable. However, this is debatable because that is only valid if the narrators are the same, which is not confirmed here. The response is that when narrators are multiple, the two narrations are acted upon only if it is possible to reconcile them, which is not possible here because the incident is the same."
(۲) قوله: فأذن ثم صلّى إلخ : وقال في «الهداية»: ويؤذن للفائتة ويقيم؛ لأنه قضى الفجر غداة ليلة التعريس بأذان وإقامة، وهو حجة على الشافعي في اكتفائه بالإقامة. انتهي وقال في العناية»: لا يقال: قد روي أن النبي أمر بلالا فأقام بدون ذكر الأذان؛ لأن القصة واحدة، فالعمل بالزيادة أولى، وفيه نظر؛ لأن ذلك إنما يكون إذا كان راويهما واحدا، ولم يثبت ههنا كذلك. والجواب: أن الراوي إذا كان متعددا إنما يعمل بخبرين إذا أمكن العمل بهما، ولا يمكن ههنا؛ لكون القصة واحدة.
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قضاء نماز کیلئے بھی اذان اور اقامت دونوں کہی جائیں، یہی حنفی مذہب ہے، چنانچہ ہدایہ میں مذکور ہے کہ قضاء نماز کے ادا کرتے وقت اذان دے اور اقامت بھی کہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلہ التعریس کے موقع پر نماز فجر کی قضاء، اذان و اقامت کے ساتھ ادا فرمائی ہے اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ پر حجت ہے، اس لئے کہ امام موصوف قضاء نمازوں کی ادائی میں صرف اقامت پر اکتفا فرماتے ہیں۔12
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: ذخیرہ میں ہے کہ اگر امام مسجد کے باہر ہو اور صفوں کے پیچھے سے مسجد میں داخل ہو رہا ہے تو نمازی امام کو دیکھتے ہی کھڑے ہو جائیں اور درمختار کی عبارت یہ ہے کہ اگر امام سامنے سے مسجد میں داخل ہو رہا ہے تو امام پر نگاہ پڑتے ہی مقتدی کھڑے ہو جائیں۔12
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) Explanation of the statement: "Complete what you miss": Scholars have differed regarding the terms "Qada" (making up) and "Itmam" (completing) mentioned here. Are they synonymous, or do they have different meanings? This has led to differences in opinion regarding what a person who joins the prayer late catches. Is it the beginning of his prayer or the end? There are several opinions: It is the beginning of his prayer, and he continues upon it in actions and words. This is the opinion of Imam Shafi'i, Ishaq, Al-Awza'i, and a narration from Malik and Ahmad. They use as evidence the statement: "Complete what you miss," because the term "completion" applies to the remainder of something that has already begun. It is the end of his prayer, and he is making up for what he missed in actions and words. This is the opinion of Abu Hanifah, Ahmad in one narration, Sufyan, Mujahid, and Ibn Sirin. Ibn Battal narrated this from Ibn Mas'ud, Ibn 'Umar, Ibrahim An-Nakha'i, Ash-Sha'bi, and Abu Qilabah. They use as evidence the statement: "Complete what you miss." The response to the evidence used by Imam Shafi'i and his followers, which is the statement "Complete," is that the prayer of the follower is connected to the prayer of the Imam. Therefore, the statement "Complete" is interpreted to mean that whoever makes up what he missed has completed it because the prayer is incomplete due to what was missed, and making it up completes what was lacking. This is mentioned in 'Umdat Al-Qari.
(2) Explanation of the statement: "Ibn Abi Shaybah": This will be discussed in the chapter on the Khutbah and prayer.
(۱) قوله: وما فاتكم فاقضوا اختلف العلماء في القضاء والإتمام المذكورين، هل هما بمعنى واحد أو بمعنيين وترتب على ذلك خلاف في ما يدركه الداخل مع الإمام، هل هو أول صلاته أو آخرها؟ على أقوال. منها: أنه أول صلاته وأنه يكون بانيا عليه في الأفعال والأقوال، وهو قول الشافعي وإسحاق والأوزاعي، ورواية عن مالك وأحمد. واستدلوا بقوله: وما فاتكم فأتموا؛ لأن لفظ الإتمام واقع على باقي من شيء قد تقدم سائره. ومنها : أنه آخر صلاته وأنه يكون قاضيا في الأفعال والأقوال، وهو قول أبي حنيفة وأحمد في رواية وسفيان ومجاهد وابن سيرين. وقال ابن بطال وروي ذلك عن ابن مسعود وابن عمر وإبراهيم النخعي والشعبي وأبي قلابة. واستدلوا على ذلك بقوله : وما فاتكم فاقضوا والجواب عما استدل به الشافعي ومن تبعه، وهو قوله: «فأتموا»: أن صلاة المأموم مرتبطة بصلاة الإمام، فحمل قوله: «فأتموا» على أن من قضى ما فاته فقد أتم؛ لأن الصلاة تنقص بما فات، فقضاؤه إتمام لما نقص، كذا في عمدة القاري».
(۲) قوله وابن أبي شيبة وسيجيء في باب الخطبة والصلاة». منه
ف(1): اس حدیث میں مذکور ہے ”إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلٰوةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ“(جب نماز کی اقامت ہونے لگے تو تم نماز کیلئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو) واضح ہو کہ اقامت سن کر دوڑنے کی جو ممانعت یہاں وارد ہے وہ بھی تنزیہی ہے، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث جو اس حدیث کے بعد آرہی ہے اس سے جماعت کیلئے بغیر مشقت کے تیزی سے آنا ثابت ہو رہا ہے۔ (التعلیق الممجد)12 ف(2): اس حدیث میں یہ بھی وارد ہے کہ ”فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَافَاتَكُمْ فَاقْضُوا“ (جو کچھ نماز تم کو مل جائے اُسے جماعت کے ساتھ پڑھ لو اور جو باقی رہ جائے بعد میں اس کی قضاء کرلو۔) اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی شخص کو امام کے ساتھ ابتداء نماز سے جماعت میں شرکت کا موقع نہ مل سکا اور جماعت میں وہ ایسے وقت شریک ہوا جب کہ نماز کا کچھ حصہ ہو چکا تھا، ایسے شخص کو مسبوق کہتے ہیں، ایسے لوگوں کے متعلق حدیث میں دو طرح کے الفاظ وارد ہیں۔ (1)”وَمَافَاتَكُمْ فَاقْضُوا“ (نماز کا جو حصہ امام کے ساتھ نہ ملنے سے فوت ہو گیا ہے اس کی قضاء کرلو۔) دوسرے ”وَمَافَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا“ (نماز کا جو حصہ امام کے ساتھ نہ ملنے سے فوت ہو گیا ہے اس کو تمام کرلو۔) ایک میں قضاء اور دوسرے میں اتمام کا لفظ مذکور ہے، اب اتمام اور قضاء کے معنی میں علماء کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ کیا ان دونوں لفظوں کا مطلب ایک ہے یا دونوں کے معنی الگ الگ ہیں؟۔ اس اختلاف کی بناء پر مسبوق کے متعلق یہ اختلاف پیدا ہوا کہ مسبوق جب سے امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوا ہے تو امام کے ساتھ ادا کی ہوئی نماز مسبوق کی ابتداء ہوگی یا اُس کی آخری نماز ہوگی؟ اس بارے میں دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ مسبوق جہاں سے نماز میں شریک ہوا ہے وہاں سے اس کی نماز شروع ہوئی ہے، اس لئے یہ اس کی نماز کا ابتدائی حصہ ہوگا، اور یہ شخص امام کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنی بقیہ نماز کی تکمیل کرے گا اور نماز کا وہ حصہ جس کو یہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کر رہا ہے، اس کی نماز کا آخری حصہ سمجھا جائے گا اور یہ بعد والی نماز جس کو یہ تنہا پڑھ رہا ہے امام کے ساتھ ادا شدہ نماز کا تتمہ کہلائے گی، یہ امام شافعی، امام اسحاق اور امام اوزاعی رحمہم اللہ کا قول ہے اور امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ سے بھی ایک روایت میں اسی طرح منقول ہے اور ان سب حضرات نے حدیث کے الفاظ ”وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا“ سے استدلال کیا ہے اس لئے کہ اتمام کا تعلق ایسی شئے سے ہوتا ہے جس کی ابتداء پہلے سے ہو اور اس کا کچھ حصہ باقی رہ جائے تو اس قول کی بناء پر امام کے بعد مسبوق کی جو نماز ادا ہو رہی ہے وہ نماز کا آخری حصہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مسبوق جہاں سے جماعت میں شریک ہوا ہے وہ مسبوق کی نماز کا آخری حصہ ہے جیسے کہ خود امام کی نماز کا آخری حصہ ہے، اس لئے یہ شخص امام کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد قضاء نماز جو ادا کرے گا، وہ اس کی نماز کے فوت شدہ ابتدائی حصہ کی قضاء ہوگی اور نماز کا وہ حصہ جس کو یہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کر رہا ہے اس کی نماز کا ابتدائی حصہ کہلائے گا جو قضاء ہو گیا تھا، اب وہ اس کو ادا کر رہا ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی ہے۔ نیز حضرت سفیان، مجاہد اور ابن سیرین رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے، ابن بطال نے کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی تائید حضرات ابن مسعود ابن عمر، ابراہیم نخعی، شعبی اور ابوقلابہ رضی اللہ عنہم کی روایتوں سے ہوتی ہے اور اس قول ثانی کے قائلین نے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا“ سے استدلال کیا ہے اور امام شافعی اور ان کے اصحاب نے فَأَتِمُّوا سے جو استدلال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز سے مربوط ہوتی ہے اور اس سے جدا نہیں ہوسکتی، اس لئے امام کی نماز کا جو آخری حصہ ہے وہ مسبوق کی نماز کا بھی لازماً آخری حصہ متصور ہوگا ورنہ امام کی اقتداء کے منشاء کے خلاف ہوگا، اس بناء پر ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”فَأَتِمُّوا“ کو بمعنی ”فَاقْضُوا“ اس طرح محمول کیا جائے گا کہ جس نے نماز کے فوت شدہ حصہ کی قضاء کی تو اس نے اپنی نماز کو تمام کر لیا یعنی مکمل کر لیا اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کے فوت شدہ حصہ کے باقی رہ جانے سے اس شخص کی نماز ناقص تھی اور اس شخص نے امام کے نماز ختم کرنے کے بعد نماز کے باقی حصہ کو ادا کر کے اپنی اس ناقص نماز کو تمام کر لیا۔ (یہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے)۔ اس کو مثال سے اس طرح سمجھئے: ایک شخص ظہر کی جماعت میں امام کے ساتھ ایسے وقت شریک ہوا جبکہ امام کی دو رکعتیں ہو چکی تھیں اور اس نے امام کے ساتھ آخری دو رکعتیں ادا کر لیں تو امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے لحاظ سے امام کے ساتھ اس نے آخری جو دو رکعتیں ادا کی ہیں اس کی پہلی دو رکعتیں ہوں گی اور اب وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد جو دو رکعتیں ادا کر رہا ہے اس کی آخری دو رکعتیں ہیں کہ وہ ان دو رکعتوں سے اپنی نماز کو تمام کر رہا ہے اس لئے وہ ان دونوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے گا، ضم سورہ نہیں کرے گا، اس کے برخلاف امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے لحاظ سے اس مسبوق نے امام کے ساتھ جو دو رکعتیں ادا کی ہیں وہ امام کی رکعتوں کی طرح اس کی بھی آخری دو رکعتیں ہیں اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد یہ جو دو فوت شدہ رکعتیں ادا کرے گا اس کی پہلی دو رکعتیں ہیں جو قضاء ہوئی ہیں، جن کو یہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کر رہا ہے اس وجہ سے وہ ان دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ ضم سورہ بھی کرے گا اور جن حدیثوں میں ”فَاقْضُوا“ کا ذکر ہے اس کی یہی تفصیل ہے۔12
العربية
(اس کی روایت امام محمد نے امام مالک سے کی ہے اور کہا ہے کہ شرکت نماز کیلئے تیز چل کر آنے میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ اپنے کو نہ تھکائے اور تکلیف نہ ہو۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Explanation of the statement: "Do not call the Adhan until the dawn becomes clear to you like this": This means that the Adhan should not be called before the time for prayer has entered, and it should be repeated at the correct time. This is because the Adhan is for informing people, and calling it before the time is misleading. Abu Yusuf and Imam Shafi'i held the opinion that it is permissible to call the Adhan for Fajr in the latter half of the night, based on the practice of the people of the Two Holy Mosques. However, the evidence against this is this hadith. As mentioned in Al-Hidayah: "If it is said that the hadith states, 'Do not be deceived by Bilal's Adhan,' and it is understood that he used to call the Adhan before the time, we respond that this is evidence for us, as the Prophet (peace be upon him) did not consider his Adhan valid and instructed people not to rely on it like they would rely on the Adhan called at the correct time. He said, 'Do not be deceived by Bilal's Adhan, for he calls it to wake up those who are praying at night, to allow those fasting to eat their pre-dawn meal, and to wake up those who are sleeping. So eat and drink until Ibn Umm Maktum calls the Adhan.' Ibn Umm Maktum was blind and would not call the Adhan until he heard people saying, 'It has become morning.'"
Note 1
(۱) قوله : لا تؤذن حتى يستبين لك الفجر هكذا يعني لا يُؤذِّنُ لصلاة قبل دخول وقتها ويعاد في الوقت؛ لأن الأذان للإعلام، وقبل الوقت تجهيل. وقال أبو يوسف وهو قول الشافعي: يجوز للفجر في النصف الأخير من الليل؛ لتوارث أهل الحرمين. والحجة على الكل هذا الحديث. قاله في الهداية». وقال في النهاية»: فإن قيل: جاء في الحديث: لايغرنكم أذان بلال، ويعلم به أنه كان يؤذن قبل الوقت. قلنا: هو حجة لنا حيث لم يعتبر النبي ﷺ أذانه، وأمر الناس بأن لا يعتبروا أذانه مثل اعتبارهم الأذان في الوقت. وقال: ولا يغرنكم أذان بلال؛ فإنه يؤذن ليرجع قائمكم ويتسحر صائمكم ويقوم نائمكم، فكلوا واشربوا حتى يؤذن ابن أم مكتوم، وكان هو أعمى، لا يؤذن حتى يسمع الناس يقولون: أصبحت.
Note 1
ف(1): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جب تک صبح صادق نہ ہو فجر کی اذان نہ دیا کرو، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت سے پہلے اذان دینا جائز نہیں ہے۔12 ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ جب تک صبح صادق طلوع نہ ہو فجر کی اذان نہ دیا کرو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نماز کی اذان اس کے وقت کے شروع ہونے سے پہلے نہ دی جائے اور اگر وقت سے پہلے اذان دی گئی ہے تو وقت شروع ہونے پر اس کا اعادہ کیا جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ اذان جماعت کی اطلاع کیلئے دی جاتی ہے اور وقت سے پہلے اذان دینے سے اذان کی جو غرض ہے کہ جماعت کے وقت سے مطلع کیا جائے، وہ غرض حاصل نہیں ہوتی تو گویا وقت سے پہلے اذان دینا جماعت کے وقت سے بے خبر رکھنا ہوا، البتہ فجر کی اذان کے بارے میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ رات کے نصف آخر میں فجر کی اذان جائز ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، کیونکہ اس پر اہل حرمین کا نسلاً بعد نسلٍ عمل درآمد ہے لیکن یہ حدیث سب پر حجت ہے یہ ہدایہ سے ماخوذ ہے اور نہایہ میں مذکور ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ حدیث میں ”لَا يَغُرَّنَّكَ أَذَانُ بِلَالٍ“ (یعنی تم کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دھوکہ نہ دے) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ قبل از وقت اذان دیا کرتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بھی ہماری دلیل ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کے اذان کا اعتبار نہیں کیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ بلال رضی اللہ عنہ کے اذان کا ایسا اعتبار نہ کریں جیسا کہ وقت کے اندر کی اذان کا اعتبار کیا کرتے ہیں، جب ہی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تم کو دھوکہ نہ دے، بلال رضی اللہ عنہ اس لئے اذان دیتے ہیں کہ شب میں عبادت کرنے والا عبادت کو ختم کر دے، روزہ دار سحری کرے اور سونے والا نیند سے اٹھے اس لئے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے اذان شروع کرنے تک کھاتے پیتے رہو، کیونکہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور جب تک لوگوں سے یہ نہ سن لیتے تھے کہ صبح صادق ہو چکی ہے اس وقت تک اذان نہیں دیا کرتے تھے۔12