Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 660 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1031a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں چھپا کر خیرات دینے کا جو ذکر ہے وہ نفل خیرات سے متعلق ہے
اور فرض زکوٰۃ بھی چھپا کر دی جا سکتی ہے مگر افضل یہ ہے کہ زکوٰۃ علانیہ دی جائے۔ (مدارک، خازن)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ
صُورَةٍ“ میں نے اللہ عزوجل کو نہایت حسین صورت میں دیکھا۔
واضح ہو کہ یہ اور اسی قسم کے مضامین جو اس حدیث میں اور اس حدیث کے بعد والی حدیث میں
مذکور ہیں، ان کا شمار متشابہات میں ہے اور متشابہات کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ
ہے کہ ان پر ایمان رکھا جائے اور ان کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے، چنانچہ قرآن حکیم کے
سورہ آل عمران کی وہ آیت جس میں محکمات اور متشابہات کا ذکر ہے، اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے
: ”وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا“ (سورہ آل
عمران، پ:3، ع:1، آیت نمبر:7) (جو لوگ علم دین میں پختہ کار اور (”فہیم“) ہیں (وہ متشابہات کے بارے
میں) اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس پر ہمارا ایمان ہے، یہ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے)۔
الغرض متشابہات کے درپے ہونا دینداری کے خلاف اور گمراہ ہونے کی نشانی ہے۔ (مرقات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 444 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 714a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Let him pray two Rak'ahs before sitting
(1) Explanation of the statement: "Let him pray two Rak'ahs before sitting": In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is said: "It is recommended to greet the Lord of the mosque, which is two Rak'ahs. Performing an obligatory prayer or another prayer suffices for it without specific intention, and it suffices once per day. It is not invalidated by sitting, according to our view. They said in Al-Hakim: 'If a judge enters the mosque, he may pray the greeting upon entering or leaving, as the purpose is achieved,' as mentioned in Al-Ghayah. As for the hadith in the Sahihayn: 'When one of you enters the mosque, he should not sit until he prays two Rak'ahs,' it explains the first recommendation. This is supported by the hadith of Ibn Hibban in his Sahih: 'O Abu Dharr, the mosque has a greeting, and its greeting is two Rak'ahs. Stand and pray them.' The full explanation is in Al-Hilyah."
Note 1
قوله
(۱) قوله: فليركع ركعتين قبل أن يجلس وقال في الدر المختار ورد المحتار: يسن تحية رب المسجد، وهي ركعتان، وأداء الفرض أو غيره ينوب عنها بلا نية، وتكفيه لكل يوم مرَّةً، ولا تسقط بالجلوس عندنا؛ فإنهم قالوا في الحاكم: إذا دخل المسجد للحكم إن شاء صلى التحية عند دخوله أو عند خروجه؛ لحصول المقصود، كما في الغاية». وأما حديث الصحيحين: إذا دخل أحدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين، فهو بيان للأولى؛ لحديث ابن حبان في صحيحه: يا أبا ذر إن للمسجد تحية، وإن تحيته ركعتان، فقم فاركعهما. وتمامه في الحلية».
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیہ
المسجد پڑھ لیا کرے، واضح ہو کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد تحیہ المسجد کی نیت سے جو دو رکعتیں ادا کی
جاتی ہیں وہ دراصل تحیہ رب المسجد ہیں جن کو اختصار کی غرض سے تحیہ المسجد کہا جاتا ہے کیونکہ ان دو
رکعتوں سے مقصود تحیۃ المسجد نہیں بلکہ مقصود رب مسجد کا تحیہ ہے جو اللہ تعالیٰ ہیں۔
درمختار اور ردالمحتار میں کہا ہے کہ تحیۃ المسجد کا ادا کرنا سنت ہے اور تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں ہیں،
مسجد میں داخل ہونے کے بعد کسی فرض نماز یا فرض نماز کے سوا کسی اور نماز کا ادا کرنا تحیۃ المسجد کے ادا
کرنے کا قائم مقام ہو جاتا ہے، اگرچہ کہ تحیۃ المسجد کی نیت نہ کی جائے، اور تحیۃ المسجد کا دن میں ایک
دفعہ ادا کرنا پورے اس دن کیلئے کافی ہے، خواہ کتنے ہی مرتبہ مسجد میں آتا جاتا رہا ہو۔ حنفیوں کے پاس
تحیۃ المسجد مسجد میں داخل ہوکر بیٹھ جانے سے ساقط نہیں ہوتی اس لئے اگر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کرلی
جائے تو ادا کی جا سکتی ہے۔
فقہاء نے کہا ہے کہ حاکم وقت اگر فیصلہ کرنے کی خاطر مسجد میں داخل ہو تو خواہ وہ مسجد میں داخل
ہوتے ہی تحیۃ المسجد ادا کرلے یا چاہے تو مسجد سے نکلنے وقت تحیۃ المسجد پڑھ لے، اس سے بھی مقصود
حاصل ہو جاتا ہے کیوں کہ مقصود تو تحیۃ المسجد کا ادا کرنا ہے۔ یہ عنایہ سے ماخوذ ہے، لیکن بخاری اور مسلم
کی مذکور الصدر حدیث کے پیش نظر مذہب حنفی پر شبہ وارد ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مسجد میں داخل ہوکر
بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرنے کا حکم ہے اور حنفی مذہب میں بیٹھنے کے بعد بھی تحیۃ المسجد ادا کی جا سکتی
ہے جو بظاہر بخاری اور مسلم کی حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی اس مذکور الصدر حدیث میں جو ذکر ہے کہ مسجد میں
داخل ہوکر بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرلیا جائے اس سے مراد یہ ہے کہ تحیۃ المسجد بیٹھنے سے پہلے ادا کرنا
اولیٰ ہے ضروری نہیں ہے بلکہ مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے کے بعد بھی تحیۃ المسجد ادا کرسکتے ہیں اس پر ابن
حبان کی حدیث جو اس حدیث کے بعد آرہی ہے دلیل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ مسجد
میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرما تھے، ابوذر رضی اللہ عنہ خدمت مبارک
میں بیٹھ گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر (رضی اللہ عنہ) مسجد میں آنے والے کیلئے
تحیۃ المسجد (مستحب ہے) اور تحیۃ المسجد یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نماز ادا کی
جائے، پس اٹھو ابوذر اور دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لو۔
ابن حبان کی اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اگر دخول مسجد کے بعد بیٹھ جانے سے تحیۃ
المسجد ساقط ہو جاتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابوذر رضی اللہ عنہ کے بیٹھ جانے کے بعد ان کو تحیۃ المسجد
پڑھنے کا حکم نہ دیتے، اس سے ثابت ہو گیا کہ تحیۃ المسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کی جا سکتی
ہے۔ ردالمحتار میں کہا ہے کہ تفصیل حلیہ میں ملاحظہ ہو۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 449 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسجد میں اشعار نہ پڑھے جائیں،
واضح ہو کہ یہ ممانعت ایسے اشعار سے متعلق ہے جن میں فحش اور بیہودہ کلام، فسق و فجور اور لہو و لعب کی
باتیں بیان کی گئی ہوں، اس کے برعکس ایسے اشعار جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
نعت، سچے مضامین اور وعظ و نصیحت مذکور ہوں مسجد میں پڑھے جا سکتے ہیں کیوں کہ شاعر اسلام حضرت
حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس قسم کے اشعار
سنایا کرتے تھے۔ چنانچہ ترمذی اور بخاری کی روایتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے
کہ ” كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصِبُ لِحَسَّانَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ مِنْبَرًا فِى
الْمَسْجِدِ فَيَقُوْمُ عَلَيْهِ وَيَهْجُو الْكُفَّارَ ۔
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کیلئے مسجد نبوی میں منبر رکھتے جس پر وہ کھڑے
ہوتے اور مشرکین کی جواباً ہجو فرمایا کرتے۔)
اس کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے:
”قَالَ : مَرَّ عُمَرُ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ فِى الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَلَحَظَ إِلَيْهِ
فَقَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيْهِ ، وَفِيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلٰى أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ
عَنْهُ، فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ
عَنِّي، اللّٰهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ. قَالَ: نَعَمْ”.
(سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں سے گزرے اور حسان
رضی اللہ عنہ اس وقت اشعار پڑھ رہے تھے عمر رضی اللہ عنہ، حسان رضی اللہ عنہ کو گھور کر دیکھنے لگے تو حسان
رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اشعار پڑھا کرتا تھا جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی مسجد میں سنا کرتے تھے جو
آپ سے بہتر تھے (یہ کہہ کر) حضرت حسان، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا
میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کہ میں مسجد نبوی میں اشعار
سنایا کرتا تھا یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ اے حسان (رضی اللہ عنہ) تم میری طرف سے
(مشرکین کا) جواب دو (اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے) اے اللہ آپ روح القدس یعنی
جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ حسان (رضی اللہ عنہ) کی مدد فرمائیے تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایسا ہی فرمایا ہے۔) ترمذی اور بخاری کی ان دونوں حدیثوں سے
واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ سے مسجد میں اشعار سنا کرتے اور حسان رضی
اللہ عنہ اشعار پڑھا کرتے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں نعتیہ اشعار پڑھنا جائز ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد میں شعر پڑھنے کے جواز پر ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان
(باب الشعر فی المسجد) ہے اور اس عنوان کے تحت ایسی ہی حدیث بیان فرمائی ہے جو سعید بن المسیب رضی
اللہ عنہ سے ابھی اوپر نقل کی گئی ہے، اس حدیث کے فوائد میں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ان الشعر الحق
لايحرم فى المسجد، والذى يحرم فيه ما فيه الخناء والزور، والكلام الساقط”.
(علامہ عینی فرماتے ہیں کہ سچے مضامین والے اشعار کا مسجد میں پڑھنا حرام نہیں ہے البتہ مسجد
میں ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے جن میں فحش، جھوٹ اور بیہودہ باتیں بیان کی گئی ہوں۔)
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو فوائد میں آگے چل کر کئی محدثین اور فقہاء کا قول نقل کیا
ہے جن میں حضرت سعید بن المسیب، امام شعبی، امام ابن سیرین، امام ثوری، امام اوزاعی، امام ابو حنیفہ،
امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ ہیں، ان سب حضرات کا مسجد میں
سچے مضامین والے اشعار کے پڑھنے کے جواز پر یہ قول ہے: ”ولا بأس بانشاد الشعر الذى ليس
فيه هجاء ولانكب عرض احد من المسلمين ولافحش“۔
مسجد میں ایسے اشعار کے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جن میں مسلمانوں کی ہجو،
آبرو ریزی اور فحش باتیں بیان نہ کی گئی ہوں)۔(یہ پورا مضمون عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔)12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے، نمازی جب نماز کیلئے کھڑا ہو تو تعظیم قبلہ کی خاطر اپنے سامنے نہ
تھوکے اور اپنے سیدھے جانب بھی نہ تھوکے کیونکہ سیدھے جانب ایک فرشتہ رہتا ہے البتہ اپنے بائیں
جانب یا پیر کے نیچے تھوکے۔
واضح ہو کہ سامنے اور سیدھے جانب تھوکنے کی ممانعت عام ہے خواہ وہ مسجد میں نماز ادا کر رہا ہو
یا مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز پڑھ رہا ہو، ہر دو حالتوں میں نماز کے موقع پر سامنے اور سیدھے جانب تھوکنا
ممنوع ہے۔
نمازی اگر مسجد میں ہو تو خواہ وہ بائیں جانب تھوکے یا قدم کے نیچے تھوکے دونوں حالتوں میں
تھوک کو اپنے کپڑے میں لے لے، اور اگر مسجد کے سوا کسی اور جگہ ہو تو اپنی بائیں جانب یا پیر کے نیچے
زمین پر تھوک سکتا ہے۔ (مرقات)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں چھپا کر خیرات دینے کا جو ذکر ہے وہ نفل خیرات سے متعلق ہے اور فرض زکوٰۃ بھی چھپا کر دی جا سکتی ہے مگر افضل یہ ہے کہ زکوٰۃ علانیہ دی جائے۔ (مدارک، خازن)۔