Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 8

Chapter on Mosques and Places of Prayer

64 narrations · In source reading order

Hadith 976

Volume 1

English

It is narrated from Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The person who receives the greatest reward for prayer is the one who walks the farthest to it, and the one who waits for the prayer until he prays it with the Imam receives a greater reward than the one who prays and then sleeps."

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٧٦ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشَى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي، ثُمَّ يَنَامُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1094
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ نماز کا اجر پانے والا شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ دور سے مسجد کو آتا ہے پھر اس سے بڑھ کر اجر پانے والا وہ شخص ہے جو اس سے زائد دور سے آتا ہے اور جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا انتظار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو یہ شخص اس شخص سے زیادہ اجر پانے والا ہے جو (تنہا) نماز پڑھ کر سو جایا کرتا ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 651 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 662 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 977

Volume 1

English

It is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him) that he said: The areas around the mosque became empty, so Banu Salimah wanted to move closer to the mosque. When the Prophet (peace be upon him) heard about this, he said to them: "I have heard that you want to move closer to the mosque." They said, "Yes, O Messenger of Allah, we intended to do that." He said, "O Banu Salimah, your homes are recorded with your footsteps, your homes are recorded with your footsteps."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۷۷ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُوْ سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ، فَقَالَ لَهُمْ: بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُوْنَ أَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟» قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ: «يَا بَنِي سَلَمَةَ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبُ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1095
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اطراف کے گھر خالی ہو گئے تو بنو سلمہ کے قبیلہ کے لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں، اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کے متعلق مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہو کر آ جانا چاہتے ہیں، بنو سلمہ والوں نے کہا کہ ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ہم نے ایسا ہی ارادہ کر لیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے بنی سلمہ کے قبیلہ والو! تم اپنے اپنے گھروں میں رہو تمہارے ہر ہر قدم پر ثواب لکھا جاتا ہے۔ (مسجد کے نزدیک آ کر اپنے ثواب کو کم نہ کرو)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 665a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 978

Volume 1

English

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Seven people will be shaded by Allah under His shade on the Day when there will be no shade except His: a just ruler; a youth who grew up in the worship of Allah; a man whose heart is attached to the mosque from the time he leaves it until he returns; two men who love each other for the sake of Allah, meeting and parting for that reason; a man who remembers Allah in private and his eyes fill with tears; a man who is invited by a woman of beauty and status but says, 'I fear Allah'; and a man who gives charity so secretly that his left hand does not know what his right hand has given."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۷۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: سَبْعَةُ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلُ. وَشَابٌ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ. وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُوْدَ إِلَيْهِ. وَرَجُلَانِ تَحَابًا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ. وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةً ذَاتُ حَسْبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ. وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1096
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سات شخص ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا کہ جس دن اللہ تعالیٰ کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ (1) ایک حاکم عادل، (2) دوسرا جوان صالح جو اللہ کی عبادت کرتے ہوئے نشوونما پایا ہو، (3) تیسرے وہ شخص جس کا دل (مسجد کی محبت کی وجہ سے) مسجد سے نکلتے وقت دوبارہ مسجد لوٹنے تک مسجد ہی میں لگا رہتا ہے، (4) چوتھے وہ شخص جو اللہ کے واسطے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اور (کسی غرض کے بغیر) اللہ ہی کی محبت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اللہ ہی کی محبت سے جدا ہوتے ہیں (5) پانچویں وہ شخص جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے تو اس کے آنسو بہنے لگتے ہیں، (6) چھٹے وہ شخص کہ جس کو ایک شریف الخاندان اور خوبصورت عورت (زنا کے واسطے) اپنی جانب بلائے اور وہ خدا کا خوف کر کے (زنا سے باز رہے) اور (7) ساتویں وہ شخص کہ جس نے (نفل) خیرات کی اور اس کو اس طرح چھپایا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ اس کے سیدھے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 660 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1031a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں چھپا کر خیرات دینے کا جو ذکر ہے وہ نفل خیرات سے متعلق ہے اور فرض زکوٰۃ بھی چھپا کر دی جا سکتی ہے مگر افضل یہ ہے کہ زکوٰۃ علانیہ دی جائے۔ (مدارک، خازن)۔

Hadith 979

Volume 1

English

It is narrated from Buraidah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Give glad tidings to those who walk to the mosques in the dark of the night that they will have a shining light on the Day of Resurrection."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۷۹ - وَعَنْ بُرَيْدَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : بَشَّرِ الْمَشَائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّوْرِ النَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَرَوَاهُ ابْنِ مَاجَهِ عَنْ سَهْلِ ابْنِ سَعْدٍ وَأَنَسٍ ها.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1097Noor 1098
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (نماز باجماعت کے لئے) اندھیری رات میں مسجدوں کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری سنا دو۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔) اور اس کی روایت ابن ماجہ نے سہل بن سعد اور انس رضی اللہ عنہما سے کی ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 561 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 223 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 780 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 781 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 721 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 721

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 980

Volume 1

English

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever comes to the mosque for something, that is his share."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۰ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظهُ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1099
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص جس غرض کیلئے مسجد کو آئے اس کو وہی چیز ملے گی۔ (اگر وہ آخرت کی غرض سے مسجد کو آیا ہے تو آخرت میں اس کو ثواب ملے گا اور اگر دنیوی غرض سے مسجد کو آئے تو آخرت میں اس کیلئے کچھ ثواب نہ ہو گا۔) (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 472 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 981

Volume 1

English

It is narrated from 'Uthman ibn Maz'un (may Allah be pleased with him) that he said: "O Messenger of Allah, permit us to castrate ourselves." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever castrates himself or is castrated is not from us. The castration of my Ummah is fasting." He said: "Permit us to wander in devotion." He said: "The wandering of my Ummah is Jihad in the cause of Allah." He said: "Permit us to live in monasticism." He said: "The monasticism of my Ummah is sitting in the mosques waiting for the prayer."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۱ - وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنَ (رضي الله عنه) قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ ، ائْذَنْ لَنَا فِي الاخْتِصَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَصَى وَلَا اخْتَصَى، إِنَّ خِصَاءَ أُمَّتِي الصَّيَامُ». فَقَالَ: ائْذَنْ لَنَا فِي السَّيَاحَةِ، قَالَ: «إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ». فَقَالَ: ائْذَنْ لَنَا فِي التَّرَهُبِ، فَقَالَ: إِنَّ تَرَهُبَ أُمَّتِي الْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ انْتِظَارَ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الْبَغَوِيُّ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1100
عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو خصی بن جانے کی اجازت دیجئے (تاکہ عورتوں کی خواہش دل سے نکل جائے کیونکہ اسی خواہش کی وجہ سے انسان نیکی سے دور ہو کر دنیا میں پھنس جاتا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص ہمارے طریقہ پر نہیں ہے جو (کسی کو) خصی بنائے اور نہ وہ شخص جو خود خصی بنے، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے (اسی لئے روزہ رکھنے سے شہوت انسان کو بے قابو نہیں کرتی ہے، بخلاف خصی ہونے کے کہ اس سے شہوت ہی ختم ہوجاتی ہے) عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور، ہم کو سیاحت کی اجازت دیں (تاکہ تمام عالم میں پھرنے سے عبرت حاصل کرسکیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے (کہ جس میں سیر عالم کے ساتھ ساتھ اشاعت اسلام بھی ہوتی ہے) عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم کو راہب بن جانے کی اجازت دیجئے (جس سے ہم گوشہ نشین ہوکر دنیا سے دور ہوجائیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی رہبانیت نماز کے انتظار میں مسجدوں میں بیٹھنا ہے (اس لئے کہ یہ ایسی رہبانیت ہے جس میں تعلیم و تَعَلُّم جاری رہنے کے علاوہ دنیا میں رہنے کے باوجود دنیا سے دور رہتے ہیں۔) (اس کی روایت بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔)

Hadith 982

Volume 1

English

It is narrated from 'Abdur-Rahman ibn 'A'ish (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I saw my Lord, the Almighty, in the most beautiful form. He said: 'What are the highest assembly disputing about?' I said: 'You know best.' He placed His hand between my shoulders, and I felt its coolness between my chest. Then I knew everything in the heavens and the earth." He then recited: "And thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth, so that he would be among those who are certain." (Qur'an, Al-An'am 6:75).

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۲ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: رَأَيْتُ رَبِّي عَزَّوَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ، قَالَ: فَوَضَعَ كَفَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْنِيَّ، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَتَلَا وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوْتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِينَ (الأنعام: ٧٥). رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ مُرْسَلًا، وَلِلتَّرْمِذِي نَحْوُهُ عَنْهُ .

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1101
عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے پروردگار کو بہت حسین صورت میں دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ وہ اعمال کیا ہیں جن کی فضیلت میں ملاء اعلیٰ کے فرشتے آپس میں بحث کررہے ہیں؟ میں نے کہا کہ اے اللہ آپ ہی اس کو خوب جانتے ہیں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینہ میں پائی، پس میں نے آسمانوں اور زمینوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو جان لیا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ”وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ“ (اور ہم نے ایسے ہی ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں)۔ (سورۂ انعام، پ:7، ع:9، آیت نمبر:75)۔ (اس کی روایت دارمی نے مرسلاً کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح عبدالرحمن بن عائش سے روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 726 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 727 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3235 (unverified) 45% confidence
  • Candidate: Sunan al-Darimi 2195 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 727

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 983

Volume 1

English

It is narrated from Ibn 'Abbas and Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with them) with an addition: "He said: 'O Muhammad, do you know what the highest assembly is disputing about?' I said: 'Yes, it is about the expiations.' The expiations are staying in the mosques after the prayer, walking on foot to congregational prayers, and perfecting ablution in difficult conditions. Whoever does this will live a good life and die a good death, and he will be free from sin as on the day his mother gave birth to him." He said: "O Muhammad, when you pray, say: 'O Allah, I ask You for the ability to do good deeds, to avoid evil deeds, and to love the poor. If You intend to test Your servants, take me to You without being tested.'" He said: "The levels are spreading peace, feeding others, and praying at night while people are asleep."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۳ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنهمس)، وَزَادَ فِيْهِ: «قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فِي الْكَفَّارَاتِ، وَالْكَفَّارَاتُ الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوْءِ فِي الْمَكَارِهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، فَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ. قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ: إِفْشَاءُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامُ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1102
اور ترمذی نے دوسری روایت جس کو ابن عباس اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے کی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا تم جانتے ہو کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں جانتا ہوں (ملاء اعلیٰ کے فرشتے) کفارات یعنی ان اعمال میں بحث کر رہے ہیں جو گناہوں کے مٹانے والے ہیں وہ تین عمل ہیں (1) پہلا نمازوں کے بعد (ذکر، دعا، اور دوسری نماز کے انتظار میں مخلوق سے دوری اور مشغول بحق رہنے کیلئے) مسجدوں میں ٹھہرے رہنا، (2) دوسرا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی غرض سے مسجدوں کو پیدل جانا، (3) تیسرا ناگوار حالات (جیسے بیماری اور موسم سرما) میں اعضاء وضوء کا کامل طور پر دھونا۔ جس نے ان چیزوں پر عمل کیا تو وہ اچھی طرح (یعنی اطاعت الٰہی کی لذت، عبادت کی توفیق، رزق حلال، قناعت اور قسمت پر راضی رہتے ہوئے) زندگی بسر کرے گا اور اس کی موت بھی اچھی طرح (یعنی اعمال کی قبولیت، توبہ، حسن خاتمہ اور موت کے وقت فرشتوں کی خوش خبری پر) ہوگی اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جس طرح وہ اپنی ماں سے پیدا ہونے کے دن پاک تھا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جب تم نماز پڑھ لو تو یہ دعا کیا کرو: (اے اللہ! میں تجھ سے نیک کاموں کے کرنے اور برے امور کے ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت رکھنے کا سوال کرتا ہوں، جب تو اپنے بندوں کو فتنوں (یعنی دنیوی عذاب میں) مبتلا کرنے کا ارادہ فرمائے تو مجھے اپنی جانب فتنے میں مبتلا کئے بغیر بلالے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے ان اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں جن سے بندوں کے درجات بلند ہوتے ہیں اور وہ درجات بڑھانے والے اعمال یہ ہیں (1) پہلا (اپنے اور بیگانے کو) کثرت سے سلام کرنا (2) دوسرا کھانا کھلانا اور (3) تیسرا رات میں نماز پڑھنا جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 726 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 726

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ“ میں نے اللہ عزوجل کو نہایت حسین صورت میں دیکھا۔ واضح ہو کہ یہ اور اسی قسم کے مضامین جو اس حدیث میں اور اس حدیث کے بعد والی حدیث میں مذکور ہیں، ان کا شمار متشابہات میں ہے اور متشابہات کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ ان پر ایمان رکھا جائے اور ان کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے، چنانچہ قرآن حکیم کے سورہ آل عمران کی وہ آیت جس میں محکمات اور متشابہات کا ذکر ہے، اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے : ”وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا“ (سورہ آل عمران، پ:3، ع:1، آیت نمبر:7) (جو لوگ علم دین میں پختہ کار اور (”فہیم“) ہیں (وہ متشابہات کے بارے میں) اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس پر ہمارا ایمان ہے، یہ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے)۔ الغرض متشابہات کے درپے ہونا دینداری کے خلاف اور گمراہ ہونے کی نشانی ہے۔ (مرقات۔)

Hadith 984

Volume 1

English

It is narrated from Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) was delayed one morning from the Fajr prayer until we almost saw the sun. He came out quickly, and the Iqamah was called. He prayed and shortened his prayer. When he finished, he called out to us and said: "Stay in your rows as you are." Then he turned to us and said: "I will tell you what delayed me this morning. I got up at night, performed ablution, and prayed what was decreed for me. I dozed off during my prayer until I became heavy with sleep. Then I saw my Lord, the Blessed and Exalted, in the most beautiful form. He said: 'O Muhammad.' I said: 'Here I am, my Lord.' He said: 'What are the highest assembly disputing about?' I said: 'I do not know.' He repeated this three times. Then I felt His hand between my shoulders, and I felt the coolness of His fingers between my chest. Everything became clear to me, and I understood. He said: 'O Muhammad.' I said: 'Here I am, my Lord.' He said: 'What are the highest assembly disputing about?' I said: 'About the expiations.' He said: 'What are they?' I said: 'Walking on foot to congregational prayers, sitting in the mosques after the prayers, and perfecting ablution in difficult conditions.' He said: 'Then what?' I said: 'About the levels.' He said: 'What are they?' I said: 'Feeding others, speaking kindly, and praying at night while people are asleep.' He said: 'Ask.' I said: 'O Allah, I ask You for the ability to do good deeds, to avoid evil deeds, and to love the poor. Forgive me and have mercy on me. If You intend to test a people, take me to You without being tested. I ask for Your love, the love of those who love You, and the love of deeds that bring me closer to Your love.'" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "This is the truth, so study it and learn it." [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi, who said: "This is a good and authentic hadith." I asked Muhammad ibn Isma'il (Al-Bukhari) about this hadith, and he said: "This is an authentic hadith."

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٨٤ - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنه) قَالَ: احْتُبِسَ عَنَّا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى عَيْنَ الشَّمْسِ، فَخَرَجَ سَرِيعًا فَثُوبَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بَصَوْتِهِ، فَقَالَ لَنَا: عَلَى مَصَافَّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ، ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ: إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدَّرَ لِي، فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَثْقَلْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي - قَالَهَا ثَلَاثًا - قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْنِيَّ، فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ. قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ. قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ حِيْنَ الْكَرِيْهَاتِ. قَالَ: ثُمَّ فِيمَ؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ. قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِيْنُ الْكَلَامِ، وَالصَّلَاةَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. قَالَ: سَلْ قَالَ: قُلْتُ : اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَّ فِتْنَةٌ فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُوْنٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبَّكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوْهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1103
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز صبح میں اس قدر تاخیر فرمائی قریب تھا کہ ہم آفتاب کو دیکھ لیتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم (حجرۂ مبارک سے) عجلت کے ساتھ نکلے اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور (خلاف عادت) اختصار کے ساتھ ادا فرمائی اور جب سلام پھیرے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے ہم کو پکارا کہ اپنی اپنی صفوں میں جیسے ہو ویسے ہی بیٹھے رہو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے فرمایا واضح ہو میں تم کو خبر دوں گا کہ آج صبح کس چیز نے مجھے تمہارے پاس آنے سے روک رکھا تھا وہ یہ ہے کہ میں رات کو (تہجد کیلئے) اٹھا میں نے وضوء کیا اور میرے لئے جتنی نماز تہجد مقدر تھی ادا کیا پس مجھے نماز میں غنودگی آ گئی یہاں تک کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہو گیا، بس یکایک میں نے اپنے پروردگار تبارک و تعالیٰ کو نہایت حسین صورت میں دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے جواب میں کہا لبیک اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا، یہ سوال و جواب تین مرتبہ ہوتے رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے انگلیوں کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی اور مجھ پر ہر ہر چیز منکشف ہوگئی اور میں نے سب کو پہچان لیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے جواب میں کہا لبیک اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ (ملاء اعلیٰ کے فرشتے) کفارات یعنی ان اعمال میں بحث کر رہے ہیں جو گناہوں کو مٹانے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کون سے عمل ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ عمل یہ تین ہیں، (1) پہلا نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کیلئے مسجدوں کو پیدل جانا، (2) دوسرا نمازوں کے بعد (ذکر) دعاء اور دوسری نماز کیلئے انتظار میں مخلوق سے دوری اور مشغول بحق رہنے کیلئے مسجدوں میں ٹھہرے رہنا، (3) تیسرا ناگوار حالات (جیسے بیماری اور موسم سرما) میں اعضاء وضوء کا مل طور پر دھونا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے اور کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے درجات یعنی ان کے اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں جن سے بندوں کے درجے بلند ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کون سے عمل ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ عمل جن سے بندوں کے درجے بلند ہوتے ہیں وہ بھی تین ہیں۔ (1) پہلا کھانا کھلانا، (2) دوسرا نرمی سے کلام کرنا (یعنی لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا) (3) تیسرا رات میں نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جو دعاء چاہو مانگ لو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے یہ دعا مانگی ”اللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْئَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، (اے اللہ! میں آپ سے نیک کاموں کے کرنے، برے کاموں کے چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے اور اپنی مغفرت کرنے اور مجھ پر رحمت کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور جب آپ کسی قوم کو فتنے میں (یعنی عذاب دنیوی میں) مبتلا کرنے کا ارادہ کریں تو فتنے میں مبتلا کئے بغیر مجھے وفات دیجئے اور میں آپ سے آپ کی محبت مانگتا ہوں اور ان کی محبت بھی مانگتا ہوں جو آپ سے محبت رکھتے ہیں، اور ان اعمال کی محبت بھی مانگتا ہوں جو مجھے آپ کی محبت سے قریب کردیں۔) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ خواب سچا ہے اس لئے اس کو یاد رکھو اور اسے دوسروں کو سکھلاؤ۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور میں نے اس حدیث کے متعلق محمد بن اسماعیل یعنی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3235 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 725 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 725

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 985

Volume 1

English

It is narrated from Abu Usaid (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you enters the mosque, let him say: 'O Allah, open for me the doors of Your mercy.' And when he leaves, let him say: 'O Allah, I ask You for Your bounty.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٨٥ - وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلْ: اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1104
ابواُسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: ”اللّٰهُمَّ افْتَحْ لِيْ (اے اللہ آپ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے: ”اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ“۔ (اے اللہ میں آپ سے آپ کا فضل (یعنی روزی) طلب کرتا ہوں۔) (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 713a (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.823

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 986

Volume 1

English

It is narrated from Fatimah bint Al-Husayn, from her grandmother Fatimah Al-Kubra (may Allah be pleased with her), that she said: "When the Prophet (peace be upon him) entered the mosque, he would send blessings upon Muhammad and say: 'O Lord, forgive my sins and open for me the doors of Your mercy.' And when he left, he would send blessings upon Muhammad and say: 'O Lord, forgive my sins and open for me the doors of Your bounty.'" [Narrated by Al-Tirmidhi, Ahmad, and Ibn Majah] In their narration, it is mentioned: "When he entered the mosque... and when he left, he would say: 'In the name of Allah, and peace be upon the Messenger of Allah,' instead of sending blessings upon Muhammad."

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٨٦ - وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى (رضي الله عنهما) قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه. وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَتْ: إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ . وَكَذَا إِذَا خَرَجَ - قَالَ: «بِسْمِ اللهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ» بَدْلَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1105Noor 1106
فاطمہ بنت الحسین رضی اللہ عنہما اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہا سے روایت فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ زہرہ کبریٰ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یعنی اپنے آپ پر درود اور سلام پڑھتے اور یہ دعاء پڑھتے: ”رَبِّ اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ“۔ (اے رب میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے نکلتے تو پہلے کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یعنی اپنے آپ پر درود اور سلام پڑھتے اور یہ دعاء فرماتے ”رَبِّ اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ“ (اے میرے رب میرے گناہوں کو بخش دے اور اپنے فضل (یعنی روزی کے) دروازوں کو مجھ پر کھول دے۔) (اس کی روایت ترمذی، امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔ اور امام احمد اور ابن ماجہ کی روایت میں اس طرح ہے کہ سیدتنا فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے وقت اور اسی طرح مسجد سے نکلتے وقت صلیٰ علیٰ محمد وسلم (درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر) کے بجائے: ”بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ“ فرماتے تھے (میں اللہ کے نام کے ساتھ مسجد میں داخل ہوتا ہوں اور مسجد سے نکلتا ہوں اور سلام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرماتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 314 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 771 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.578

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 987

Volume 1

English

It is narrated from 'Abdullah ibn 'Amr ibn Al-'As (may Allah be pleased with him) that he said: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) entered the mosque, he would say: 'I seek refuge in Allah, the Almighty, and in His Noble Face and His eternal authority from the accursed Satan.'" He said: "When he said this, Satan would say: 'He is protected from me for the rest of the day.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۷ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ: «أَعُوْذُ بِاللهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ»، قَالَ: فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْطَانُ: حَفِظَ مِنِّي سَائِرَ الْيَوْمِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1107
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے: ”أَعُوذُ بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ (خدائے بزرگ و برتر کی اور اس کریم ذات کی اور اس کے دیرینہ غلبہ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص یہ دعاء کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ یہ شخص میرے (شر سے) تمام دن محفوظ رہا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 466 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 749 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 749

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 988

Volume 1

English

It is narrated from Ka'b ibn Malik (may Allah be pleased with him) that he said: "The Prophet (peace be upon him) would not return from a journey except during the day, in the forenoon. When he arrived, he would first go to the mosque and pray two Rak'ahs, then sit in it."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۸ - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ فِيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1108
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس ہوتے تو بوقت چاشت دن کو تشریف لاتے اور گھر جانے سے قبل مسجد جا کر مسجد میں دو رکعت نماز ادا فرماتے اس کے بعد مسجد میں تشریف رکھتے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 716a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3088 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 989

Volume 1

English

It is narrated from Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you enters the mosque, let him pray two Rak'ahs before sitting." 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۹ - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ (رضي الله عنه): أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ1 . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1109
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت (تحیہ المسجد) پڑھ لیا کرے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 444 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 714a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Let him pray two Rak'ahs before sitting

(1) Explanation of the statement: "Let him pray two Rak'ahs before sitting": In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is said: "It is recommended to greet the Lord of the mosque, which is two Rak'ahs. Performing an obligatory prayer or another prayer suffices for it without specific intention, and it suffices once per day. It is not invalidated by sitting, according to our view. They said in Al-Hakim: 'If a judge enters the mosque, he may pray the greeting upon entering or leaving, as the purpose is achieved,' as mentioned in Al-Ghayah. As for the hadith in the Sahihayn: 'When one of you enters the mosque, he should not sit until he prays two Rak'ahs,' it explains the first recommendation. This is supported by the hadith of Ibn Hibban in his Sahih: 'O Abu Dharr, the mosque has a greeting, and its greeting is two Rak'ahs. Stand and pray them.' The full explanation is in Al-Hilyah."

Note 1

قوله

(۱) قوله: فليركع ركعتين قبل أن يجلس وقال في الدر المختار ورد المحتار: يسن تحية رب المسجد، وهي ركعتان، وأداء الفرض أو غيره ينوب عنها بلا نية، وتكفيه لكل يوم مرَّةً، ولا تسقط بالجلوس عندنا؛ فإنهم قالوا في الحاكم: إذا دخل المسجد للحكم إن شاء صلى التحية عند دخوله أو عند خروجه؛ لحصول المقصود، كما في الغاية». وأما حديث الصحيحين: إذا دخل أحدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين، فهو بيان للأولى؛ لحديث ابن حبان في صحيحه: يا أبا ذر إن للمسجد تحية، وإن تحيته ركعتان، فقم فاركعهما. وتمامه في الحلية».

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیہ المسجد پڑھ لیا کرے، واضح ہو کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد تحیہ المسجد کی نیت سے جو دو رکعتیں ادا کی جاتی ہیں وہ دراصل تحیہ رب المسجد ہیں جن کو اختصار کی غرض سے تحیہ المسجد کہا جاتا ہے کیونکہ ان دو رکعتوں سے مقصود تحیۃ المسجد نہیں بلکہ مقصود رب مسجد کا تحیہ ہے جو اللہ تعالیٰ ہیں۔ درمختار اور ردالمحتار میں کہا ہے کہ تحیۃ المسجد کا ادا کرنا سنت ہے اور تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں ہیں، مسجد میں داخل ہونے کے بعد کسی فرض نماز یا فرض نماز کے سوا کسی اور نماز کا ادا کرنا تحیۃ المسجد کے ادا کرنے کا قائم مقام ہو جاتا ہے، اگرچہ کہ تحیۃ المسجد کی نیت نہ کی جائے، اور تحیۃ المسجد کا دن میں ایک دفعہ ادا کرنا پورے اس دن کیلئے کافی ہے، خواہ کتنے ہی مرتبہ مسجد میں آتا جاتا رہا ہو۔ حنفیوں کے پاس تحیۃ المسجد مسجد میں داخل ہوکر بیٹھ جانے سے ساقط نہیں ہوتی اس لئے اگر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کرلی جائے تو ادا کی جا سکتی ہے۔ فقہاء نے کہا ہے کہ حاکم وقت اگر فیصلہ کرنے کی خاطر مسجد میں داخل ہو تو خواہ وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد ادا کرلے یا چاہے تو مسجد سے نکلنے وقت تحیۃ المسجد پڑھ لے، اس سے بھی مقصود حاصل ہو جاتا ہے کیوں کہ مقصود تو تحیۃ المسجد کا ادا کرنا ہے۔ یہ عنایہ سے ماخوذ ہے، لیکن بخاری اور مسلم کی مذکور الصدر حدیث کے پیش نظر مذہب حنفی پر شبہ وارد ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرنے کا حکم ہے اور حنفی مذہب میں بیٹھنے کے بعد بھی تحیۃ المسجد ادا کی جا سکتی ہے جو بظاہر بخاری اور مسلم کی حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی اس مذکور الصدر حدیث میں جو ذکر ہے کہ مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرلیا جائے اس سے مراد یہ ہے کہ تحیۃ المسجد بیٹھنے سے پہلے ادا کرنا اولیٰ ہے ضروری نہیں ہے بلکہ مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے کے بعد بھی تحیۃ المسجد ادا کرسکتے ہیں اس پر ابن حبان کی حدیث جو اس حدیث کے بعد آرہی ہے دلیل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرما تھے، ابوذر رضی اللہ عنہ خدمت مبارک میں بیٹھ گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر (رضی اللہ عنہ) مسجد میں آنے والے کیلئے تحیۃ المسجد (مستحب ہے) اور تحیۃ المسجد یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نماز ادا کی جائے، پس اٹھو ابوذر اور دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لو۔ ابن حبان کی اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اگر دخول مسجد کے بعد بیٹھ جانے سے تحیۃ المسجد ساقط ہو جاتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابوذر رضی اللہ عنہ کے بیٹھ جانے کے بعد ان کو تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم نہ دیتے، اس سے ثابت ہو گیا کہ تحیۃ المسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ ردالمحتار میں کہا ہے کہ تفصیل حلیہ میں ملاحظہ ہو۔12

Hadith 990

Volume 1

English

It is narrated from Abu Dharr (may Allah be pleased with him) that he said: "I entered the mosque, and the Messenger of Allah (peace be upon him) was sitting alone. I sat next to him, and he said: 'O Abu Dharr, the mosque has a greeting, and its greeting is two Rak'ahs. Stand and pray them.' So I stood and prayed them."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۹۰ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ (رضي الله عنه)، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ جَالِسٌ وَحْدَهُ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّ لِلْمَسْجِدِ تَحِيَّةً، وَإِنَّ تَحِيَّتَهُ رَكْعَتَانِ، فَقُمْ فَارْكَعْهُمَا، قَالَ: فَقُمْتُ فَرَكَعْتُهُمَا. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَصَحَّحَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1110
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرما ہیں تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا بیٹھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں (آنے والے کیلئے) تحیۃ المسجد (مستحب) ہے اور تحیۃ المسجد دو رکعت ہیں اٹھو ابوذر (رضی اللہ عنہ) اور دو رکعت ادا کر لو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اٹھا اور دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کیا۔ (اس کی روایت ابن حبان نے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)

Hadith 991

Volume 1

English

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever hears a man seeking his lost item in the mosque, let him say: 'May Allah not return it to you,' for mosques were not built for this."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۹۱ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللهُ عَلَيْكَ؛ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1111
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز پکار کر ڈھونڈتے ہوئے سنے تو وہ اس سے کہدے کہ خدائے تعالیٰ تجھے تیری گم شدہ چیز واپس نہ کرے کیوں کہ مسجدیں آواز بلند کرنے کیلئے نہیں بنائی گئی ہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 568a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 992

Volume 1

English

It is narrated from him (Abu Hurairah) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If you see someone selling or buying in the mosque, say: 'May Allah not grant profit to your trade.' And if you see someone seeking a lost item in it, say: 'May Allah not return it to you.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٩٢ - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُوْلُوا: لَا أَرْبَحَ اللهُ تِجَارَتَكَ. وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيْهِ ضَالَّةٌ فَقُوْلُوا: لَا رَدَّ اللهُ عَلَيْكَ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1112
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد میں کوئی چیز بیچتا ہے یا خریدتا ہے تو کہو کہ اللہ تعالیٰ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب تم کسی کو دیکھو کہ مسجد میں کسی گم شدہ چیز کو پکار کر ڈھونڈ رہا ہے تو کہو کہ خدائے تعالیٰ تیری چیز تجھے واپس نہ کرے۔ (اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1321 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 733 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 733

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 993

Volume 1

English

It is narrated from Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) forbade seeking revenge in the mosque, reciting poetry in it, and carrying out punishments in it.

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۹۳ - وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ (رضي الله عنه) قَالَ : نَهَى رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيْهِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُوْدُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ وَصَاحِبُ جَامِعِ الأُصُولِ فِيْهِ عَنْ حَكِيمٍ ، وَفِي الْمَصَابِيحِ عَنْ جَابِرٍ .

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1113Noor 1114Noor 1115
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے سے منع فرمایا ہے (اور اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ مسجد میں) اشعار پڑھے جائیں اور حد جاری کی جائے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے اپنی سنن میں کی ہے)۔ اور صاحب جامع الاصول میں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے)۔ اور مصابیح میں بھی جابر رضی اللہ عنہ سے (اسی طرح روایت ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 449 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسجد میں اشعار نہ پڑھے جائیں، واضح ہو کہ یہ ممانعت ایسے اشعار سے متعلق ہے جن میں فحش اور بیہودہ کلام، فسق و فجور اور لہو و لعب کی باتیں بیان کی گئی ہوں، اس کے برعکس ایسے اشعار جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت، سچے مضامین اور وعظ و نصیحت مذکور ہوں مسجد میں پڑھے جا سکتے ہیں کیوں کہ شاعر اسلام حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس قسم کے اشعار سنایا کرتے تھے۔ چنانچہ ترمذی اور بخاری کی روایتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ” كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصِبُ لِحَسَّانَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ مِنْبَرًا فِى الْمَسْجِدِ فَيَقُوْمُ عَلَيْهِ وَيَهْجُو الْكُفَّارَ ۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کیلئے مسجد نبوی میں منبر رکھتے جس پر وہ کھڑے ہوتے اور مشرکین کی جواباً ہجو فرمایا کرتے۔) اس کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: ”قَالَ : مَرَّ عُمَرُ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ فِى الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيْهِ ، وَفِيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلٰى أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي، اللّٰهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ. قَالَ: نَعَمْ”. (سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں سے گزرے اور حسان رضی اللہ عنہ اس وقت اشعار پڑھ رہے تھے عمر رضی اللہ عنہ، حسان رضی اللہ عنہ کو گھور کر دیکھنے لگے تو حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اشعار پڑھا کرتا تھا جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی مسجد میں سنا کرتے تھے جو آپ سے بہتر تھے (یہ کہہ کر) حضرت حسان، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کہ میں مسجد نبوی میں اشعار سنایا کرتا تھا یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ اے حسان (رضی اللہ عنہ) تم میری طرف سے (مشرکین کا) جواب دو (اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے) اے اللہ آپ روح القدس یعنی جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ حسان (رضی اللہ عنہ) کی مدد فرمائیے تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایسا ہی فرمایا ہے۔) ترمذی اور بخاری کی ان دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ سے مسجد میں اشعار سنا کرتے اور حسان رضی اللہ عنہ اشعار پڑھا کرتے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں نعتیہ اشعار پڑھنا جائز ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد میں شعر پڑھنے کے جواز پر ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان (باب الشعر فی المسجد) ہے اور اس عنوان کے تحت ایسی ہی حدیث بیان فرمائی ہے جو سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے ابھی اوپر نقل کی گئی ہے، اس حدیث کے فوائد میں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ان الشعر الحق لايحرم فى المسجد، والذى يحرم فيه ما فيه الخناء والزور، والكلام الساقط”. (علامہ عینی فرماتے ہیں کہ سچے مضامین والے اشعار کا مسجد میں پڑھنا حرام نہیں ہے البتہ مسجد میں ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے جن میں فحش، جھوٹ اور بیہودہ باتیں بیان کی گئی ہوں۔) علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو فوائد میں آگے چل کر کئی محدثین اور فقہاء کا قول نقل کیا ہے جن میں حضرت سعید بن المسیب، امام شعبی، امام ابن سیرین، امام ثوری، امام اوزاعی، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ ہیں، ان سب حضرات کا مسجد میں سچے مضامین والے اشعار کے پڑھنے کے جواز پر یہ قول ہے: ”ولا بأس بانشاد الشعر الذى ليس فيه هجاء ولانكب عرض احد من المسلمين ولافحش“۔ مسجد میں ایسے اشعار کے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جن میں مسلمانوں کی ہجو، آبرو ریزی اور فحش باتیں بیان نہ کی گئی ہوں)۔(یہ پورا مضمون عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔)12

Hadith 994

Volume 1

English

It is narrated from 'Amr ibn Shu'ayb, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) forbade the recitation of poetry in the mosque, buying and selling in it, and people forming circles in the mosque before the Friday prayer.

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٩٤ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ (رضي الله عنه) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنِ الْبَيْعِ وَالاشْتِرَاءِ فِيهِ، وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1116
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے کہ مسجد میں (لہو و لعب) کے اشعار پڑھے جائیں (اور اس سے بھی منع فرمایا ہے) کہ مسجد میں خرید و فروخت کی جائے اور لوگوں کو جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔(اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 322 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1079 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 995

Volume 1

English

It is narrated from Al-Hasan (may Allah be pleased with him) as a Mursal narration that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A time will come upon people when their conversations in their mosques will be about their worldly affairs. Do not sit with them, for Allah has no need of them."

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٩٥ - وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُوْنُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهُمْ فِي أَمْرِ دُنْيَاهُمْ، فَلَا تُجَالِسُوْهُمْ فَلَيْسَ لِلَّهِ فِيْهِمْ حَاجَةٌ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1117
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مرسلاً روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ اپنے دنیوی کاروبار کی باتیں اپنی مسجدوں میں کیا کریں گے تو تم ان کے ساتھ مت بیٹھا کرو، اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔(اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)

Hadith 996

Volume 1

English

It is narrated from 'Umar (may Allah be pleased with him) that he built a courtyard on the side of the mosque called Al-Butayha and said: "Whoever wants to engage in idle talk, recite poetry, or raise his voice, let him go to this courtyard."

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٩٦ - وَعَنْ عُمَرَ : أَنَّهُ بَنَى رَحْبَةً فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّى الْبُطَيْحَاءَ، وَقَالَ: مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَلْغَطَ أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا أَوْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ فَلْيَخْرُجْ إِلَى هَذِهِ الرَّحْبَةِ. رَوَاهُ مَالِكٌ في «الْمُوَطَّأ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1118
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد کے ایک کنارے میں بے چھت کا ایک کشادہ میدان تیار رکھا تھا جس کو بطحاء کہتے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ جو شخص غُل مچانا چاہے یا بآواز بلند شعر پڑھنا چاہے یا آواز بلند کرنا چاہے وہ مسجد سے نکل کر اس بطحاء میں آ جائے۔(اس کی روایت امام مالک نے مؤطا میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 745 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 419 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 745

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 997

Volume 1

English

It is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever eats from this foul-smelling plant (garlic) should not come near our mosque, for the angels are harmed by what harms humans."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۹۷ - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَى مِمَّا يَتَأَذَى مِنْهُ الْإِنْسُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1119
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اس بدبودار درخت (یعنی پیاز اور لہسن کو جو پکائے ہوئے نہ ہوں) کھائے وہ ہرگز ہماری مسجد میں نہ آئے (یعنی خواہ مدینہ منورہ کی مسجد ہو یا کوئی اور مسجد ہو) کیوں کہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں کی بدبو سے تکلیف پہنچتی ہے جن سے انسان کو تکلیف پہنچتی ہو۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 564a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 998

Volume 1

English

It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said during the expedition of Khaybar: "Whoever eats from this plant (garlic) should not come near the mosques."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۹۸ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - يَعْنِي الثَّوْمَ - فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ». رَوَاهُ مُسْلِمُ

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1120
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس درخت یعنی لہسن کو (جس کو پکایا نہ گیا ہو) کھالے تو وہ ہرگز مسجدوں میں نہ آئے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 561a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 999

Volume 1

English

It is narrated from Mu'awiyah ibn Qurrah, from his father, that the Messenger of Allah (peace be upon him) forbade these two plants—onions and garlic—and said: "Whoever eats them should not come near our mosque." He also said: "If you must eat them, then cook them thoroughly."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۹۹ - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيْهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ نَهَى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ - يَعْنِي الْبَصَلَ وَالنُّوْمَ - وَقَالَ: «مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدنَا، وَقَالَ: «إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهِمَا فَأَمِيتُوْهُمَا طَبْتًا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1121
معاویہ بن قرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں درختوں یعنی پیاز اور لہسن (کے کھانے) سے منع فرمایا ہے (جو پکائے نہ گئے ہوں) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو پیاز اور لہسن کو (جو پکائے نہ گئے ہوں) کھائے تو وہ ہماری مسجد کو ہرگز نہ آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تم پیاز اور لہسن کو کھانا ہی چاہتے ہو تو ان کو پکا کر ان کی بدبو کو مار دو۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3827 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1000

Volume 1

English

It is narrated from Abu Dharr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The deeds of my Ummah, both good and bad, were shown to me. Among their good deeds, I found removing harm from the road, and among their bad deeds, I found sputum in the mosque that is not buried."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٠٠ - وَعَنْ أَبِي ذَرِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي، حَسَنُهَا وَسَيَّتُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِي أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ تَكُوْنُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1122
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے تو میں نے دیکھا کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا بھی امت کے نیک اعمال میں شامل ہے اور میں نے دیکھا کہ امت کے برے اعمال میں رینٹ اور بلغم بھی ہے جو مسجد میں ہو، اور اس کو دفن نہ کیا گیا ہو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 553 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1001

Volume 1

English

It is narrated from Anas (May Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Spitting in the mosque is a sin, and its expiation is burying it."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۰۱ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الْبَرَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةُ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1123
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو زمین میں چھپا دیا جائے ۔(یا اس کو پاک کر دیا جائے)۔(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 415 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 552 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1002

Volume 1

English

It is narrated from Abu Hurayrah (May Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you stands for prayer, let him not spit in front of him, for he is conversing with Allah as long as he is in his prayer place. Nor should he spit to his right, for there is an angel on his right. Rather, he should spit to his left or under his foot and bury it." In the narration of Abu Saʿid (May Allah be pleased with him): "Under his left foot."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٠٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ؛ فَإِنَّمَا يُنَاجِي اللهَ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ؛ فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلْيَبْصُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَيَدْفِنُهَا. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ الله: «تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1124Noor 1125
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کیلئے کھڑا ہو تو اپنے سامنے قبلہ کی طرف نہ تھوکے اس لئے کہ جب تک وہ اپنے مصلی پر رہتا ہے اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرتا رہتا ہے اور سیدھے جانب بھی نہ تھوکے کیونکہ نمازی کے سیدھے جانب ایک فرشتہ رہا کرتا ہے (جو نمازی کی تائید اور اس کی دعاء پر آمین کہنے کیلئے متعین رہتا ہے) اور نمازی کو چاہئے کہ اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے، اور تھوک کو زمین میں چھپا دے۔ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے۔(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 416 (unverified) 96% confidence · Validation similarity: 0.799

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں ارشاد ہے، نمازی جب نماز کیلئے کھڑا ہو تو تعظیم قبلہ کی خاطر اپنے سامنے نہ تھوکے اور اپنے سیدھے جانب بھی نہ تھوکے کیونکہ سیدھے جانب ایک فرشتہ رہتا ہے البتہ اپنے بائیں جانب یا پیر کے نیچے تھوکے۔ واضح ہو کہ سامنے اور سیدھے جانب تھوکنے کی ممانعت عام ہے خواہ وہ مسجد میں نماز ادا کر رہا ہو یا مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز پڑھ رہا ہو، ہر دو حالتوں میں نماز کے موقع پر سامنے اور سیدھے جانب تھوکنا ممنوع ہے۔ نمازی اگر مسجد میں ہو تو خواہ وہ بائیں جانب تھوکے یا قدم کے نیچے تھوکے دونوں حالتوں میں تھوک کو اپنے کپڑے میں لے لے، اور اگر مسجد کے سوا کسی اور جگہ ہو تو اپنی بائیں جانب یا پیر کے نیچے زمین پر تھوک سکتا ہے۔ (مرقات)۔

Hadith 1003

Volume 1

English

It is narrated from Anas (May Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) saw phlegm in the direction of the Qiblah, and it distressed him so much that it became visible on his face. He stood up and scraped it off with his hand, then said: "When one of you stands in prayer, he is indeed conversing with his Lord, and his Lord is between him and the Qiblah, so let none of you spit in the direction of the Qiblah, but rather to his left or under his foot." Then he took the edge of his garment, spat in it, folded it over, and said: "Or do like this."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٠٣ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ لا تُخَامَةٌ فِي الْقِبْلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، حَتَّى رُبِّي فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ فَحَكَهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ، وَإِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَقَالَ: «أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1126
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر جو قبلہ کی طرف تھی رینٹھ دیکھا اور یہ چیز شاق گزری، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر ناراضی کے آثار دکھائی دیئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُٹھ کر خود دست مبارک سے اس کو کھرچ دیا اور ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو وہ اپنے پروردگار سے راز و نیاز کر رہا ہے (اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مسلمان کی معراج ہے) اور اس کا پروردگار اس کے اور قبلہ کے درمیان ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص ہرگز قبلہ کی طرف نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوکے (جب کہ وہ مسجد میں نہ ہو) اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے ایک کنارے کو لے کر اس میں تھوکا پھر اس کے ایک حصہ کو دوسرے حصہ سے رگڑ دیا اور فرمایا اس طرح کیا کرے (جب کہ وہ مسجد میں ہو)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 405 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1004

Volume 1

English

It is narrated from Saʾib ibn Khallad (May Allah be pleased with him), who was one of the Companions of the Prophet (peace be upon him), that a man led his people in prayer and spat towards the Qiblah while the Messenger of Allah (peace be upon him) was watching. When he finished, the Prophet (peace be upon him) said to his people: "He shall not lead you in prayer." Later, when he wished to lead them again, they prevented him and informed him of the Messenger of Allah’s words. The man then mentioned it to the Messenger of Allah (peace be upon him), and he said: "Yes," and I think he also said: "Indeed, you have offended Allah and His Messenger."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٠٤ - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَادٍ (رضي الله عنه) - وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيَّ ﷺ - قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَنْظُرُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لِقَوْمِهِ حِيْنَ فَرَغَ لَا يُصَلِّي لَكُمْ». فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّي لَهُمْ فَمَنَعُوْهُ، فَأَخْبَرُوْهُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللهِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: نَعَمْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّكَ قَدْ آذَيْتَ اللهَ وَرَسُوْلَهُ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1127
سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے لوگوں کی امامت کی اس نے قبلہ کی جانب تھوکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ رہے تھے، اس کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص آئندہ سے نماز نہ پڑھائے، پھر اس کے بعد جب اس نے لوگوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو روک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے اس کو مطلع کیا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں میں نے منع کیا ہے، سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یقیناً تم نے اللہ اور اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 481 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1005

Volume 1

English

It is narrated from Ibn ʿUmar (May Allah be pleased with them) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Make some of your prayers in your homes and do not make them like graves."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٠٥ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «اجْعَلُوا فِي بُيُؤْتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوْهَا قُبُوْرًا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1128
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی کچھ نہ کچھ (نفل) نمازیں گھروں میں بھی پڑھا کرو اور گھروں کو (نماز نہ پڑھ کر) مثل قبروں کے نہ بناؤ) کیوں کہ قبروں میں مردے نماز نہیں پڑھا کرتے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 432 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 777a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.