And the Words of Allah Almighty: "Eat from the good things and do righteous deeds." (Al-Mu'minun 23:51)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2072 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
From the labor of his hands
(1) The statement: "From the labor of his hands" – The best means of earning are:
Jihad (highest),
Trade
Agriculture
Craftsmanship
Some scholars consider trade superior to farming, but the majority hold that agriculture is better due to its widespread benefit for humanity and animals alike. This is mentioned in Al-Ikhtiyar and Al-Wajeez by Al-Kurdi, as cited in Al-'Alamgiriyyah. Imam Nawawi stated that the hadith in Bukhari clearly favors farming and craftsmanship since they involve manual labor, though farming is superior due to its universal benefit. ('Umdat Al-Qari)
Note 1
قوله
(۱)قوله: من عمل يديه وأفضل أسباب الكسب الجهاد، ثم التجارة، ثم الزراعة، ثم الصناعة. كذا في الاختيار شرحالمختار»، والتجارة أفضل من الزراعة عند البعض، والأكثر على أن الزراعة أفضل. كذا في الوجيز» للكردري. قاله في العالمگيرية». وقال النووي: وحديث البخاري صريح في ترجيح الزراعة والصنعة؛ لكونها عمل يده، لكن الزراعة أفضلهما؛ لعموم النفع بها للآدمي وغيره عموم الحاجة إليها، كما صرح به في «عمدة القاري».
Note 1
ف: واضح ہو کہ روزی اور معاش کے ذرائع میں سب سے بہتر ذریعہ جہاد ہے جس کے ذریعہ مالِ غنیمت
حاصل ہوتا ہے جو سب سے بہتر کمائی ہے۔ اس کے بعد تجارت، پھر زراعت اور اس کے بعد صنعت و حرفت کے ذریعہ
مال کا کمانا ہے۔ ”الاختیار شرح المختار“ میں مذکور ہے۔ عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ اکثر ائمہ کے پاس زراعت کو تجارت پر
فضیلت ہے، اور امام نووی رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے زراعت اور صنعت و حرفت دونوں کو دیگر ذرائع
معاش پر فضیلت حاصل ہے اس لئے کہ ان دونوں میں ہاتھ کی کمائی کو دخل ہے البتہ ان دونوں میں بھی زراعت صنعت
و حرفت سے افضل ہے اس لئے کہ زراعت کا نفع عام ہوتا ہے اور ساری مخلوق غلہ کی محتاج ہوتی ہے جیسا کہ عمدۃ القاری
میں صراحت کی گئی ہے۔
(1) The statement: "He was asked about wages for copying the Qur’an" – The ruling is that any work not exclusively tied to worship is permissible if it is a defined task. However, the Prophet (ﷺ) advised: "Recite the Qur’an but do not use it as a means of earning." (Narrated by 'Uthman ibn Abi Al-'As). Some scholars permit hiring teachers for Qur’an instruction due to the decline in religious commitment, as neglecting it may lead to the loss of Qur’anic preservation. (Al-Hidayah and Al-'Alamgiriyyah).
Note 1
قوله
(۱) قوله : سئل عن أجرة كتابة المُصْحَف إلخ والأصل أن كل ما لا يتعين على الأجير؛ لأنه استئجار على عمل معلوم غير متعين عليه، فيجوز، ولنا قوله : اقرؤوا القرآن، ولا تأكلوا به في آخر ما عهد رسول الله ﷺ إلى عثمان ابن أبي العاص لله، وإن اتخذت مؤذنا فلا تأخذ على الأذان أجرا، ولأن القربة متى حصلت وقعت عن العامل، ولهذا تعتبر أهليته، فلا يجوز له أخذا الأجر من غيره، كما في الصوم والصلاة وبعض مشايخنا استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن؛ لأنه ظهر التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن، وعليه الفتوى. قاله في «الهداية»، ولذلك قال في العالمگيرية»: ولو استأجر رجلا ليكتب له مصحفا أو شعرا بين الخط جاز، وذكر الشيخ الإمام المعروف بخواهر زاده: أنه لا يكره ذلك. كذا في فتاوى قاضي خان».
Note 1
ف: ہدایہ میں مذکور ہے کہ ہمارے بعض مشائخ نے تعلیم قرآن پر اُجرت لینے کو مستحسن قرار دیا ہے اس لئے
کہ اس زمانہ میں دینی امور میں تساہل آ گیا ہے اس وجہ سے اگر تعلیم قرآن پر اُجرت لینے سے منع کر دیا جائے تو حفظ
قرآن رک جائے گا اور اسی پر فتویٰ ہے اور عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی آدمی کو قرآن لکھنے کے لئے مامور
کرے تو یہ جائز ہے۔ اور شیخ امام خواہر زادہ رحمة اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں کراہت نہیں جیسا کہ ”فتاویٰ قاضی خان“
میں مذکور ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 2148 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ انسان اپنے موجودہ ذریعہ معاش کو بلا کسی
معقول سبب کے موہوم فائدے کی امید پر ترک نہ کرے اور دوسرے یہ کہ جمے ہوئے کاروبار کو چھوڑ کر لالچ اور طمع کی
خاطر ایسے کاروبار کا ارادہ نہ کرے جس میں اس کو تجربہ نہ ہو اور اس کا فائدہ یقینی نہ ہو۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ بارگاہ خداوندی میں دعا کی قبولیت کے لئے دو بازو درکار
ہیں ایک اکل حلال دوسرے صدق مقال یعنی حلال کی روزی کھانا اور سچ بولنا اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اگر کسی
شخص کی پرورش حرام روزی سے ہوئی لیکن اب حلال روزی کھا رہا ہے تو بھی اس کی دعا قبول نہ ہوگی جب تک صدق
دل سے توبہ نہ کرے اور آئندہ کے لئے حلال خوری کا سچا عہد نہ کرلے۔ اس وقت اس کی دعا قبول ہوسکتی ہے۔
Candidate: Musnad Ahmad 5732 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 2771
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Allah will not accept his prayers
(1) The statement: "Allah will not accept his prayers" means that the prayer is valid but unrewarded, similar to praying in usurped land. This is because Allah says: "Allah only accepts from the righteous." (Al-Ma'idah 5:27) Reward depends on acceptance, while validity depends on fulfilling conditions. Piety is not a condition for the validity of worship according to Ahlus-Sunnah. (Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : لم يقبل الله تعالى له صلاة المعنى لم يكتب الله له صلاة مقبولة مع كونها مجزئة مسقطة للقضاء كالصلاة في الدار المغصوبة، وهو الأظهر؛ لقوله تعالى: ﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴾ (المائدة: (۲۷) والثواب إنما يترتب على القبول، كما أن الصحة مترتبة على حصول الشرائط والأركان والتقوى ليست بشرط لصحة الطاعة عند أهل السنة والجماعة. كذا في «المرقاة».
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Between them are doubtful matters
(1) The statement: "Between them are doubtful matters" – This ruling is based on precaution. However, the default principle in Islamic law is permissibility (ibahah), the view of the majority of Hanafis and Shafi'is. Evidence for this is found in Musallam Ath-Thubut and At-Tawdih. Scholars differ on doubtful matters: some say they are prohibited (rejected), others say they require abstention (similar to pre-revelation rulings). The permissibility principle is established by Quranic texts, hadiths, and scholarly consensus, as elaborated in Rad Al-Muhtar. (Tansiq An-Nizam)
Note 1
قوله
(۱) قوله : وبينهما مشتبهات : اعلم أن هذا الحكم بناءً على الأخذ بالتقوى والأحوط، وإلا فقد ثبت بالأدلة الشرعية أن الأصل في الأشياء الإباحة، وهو مذهب جمهور الحنفية والشافعية، كما في مسلم الثبوت وقد استدل عليه في التوضيح، وتمسك بها في «التوضيح» و «التلويح» في عدة مواضع ، نقل القسطلاني عن «فتح الباري»، واختلف في حكم المشتبهات، فقيل: التحريم وهو مردود، وقيل : الوقف، وهو كالخلاف فيما قبل الشرع، انتهى. وقد أثبت أصل الإباحة الشيخ عبد الحق وعلي القاري في شرح المشكاة وجمهور الأصولين والفقهاء وشراح الحديث من النصوص القرآنية والأخبار والآثار الكثيرة، وحقق الإباحة العلامة الشامي في «رد المحتار» شرح «الدر المختار». كذا في تنسيق النظام في مسند الإمام.
Note 1
ف (1) اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ
مَحَارِمُهُ: خبردار! کہ اللہ تعالیٰ کے حدود اس کے محرمات ہیں۔ اس کی توضیح میں شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نے اپنے شیخ کے حوالہ سے اشعۃ اللمعات، میں لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں اعمال کے مراتب کی ایک ترتیب اس طرح
قائم فرمائی ہے: (1) ضروری (2) مباح، (3) مکروہ، (4) حرام، (5) کفر۔
اگر انسان اپنی روزی کے سلسلہ میں ضرورت پر اکتفا اور قناعت کرلے تو وہ مباحات میں نہیں پڑتا جن کے بعد
مکروہات کا درجہ ہے، اور اس طرح محرمات کے حدود میں داخل ہونے سے بچ جاتا ہے جن کی حدیں مکروہات سے ملتی
ہیں اور اگر وہ حرص اور لالچ میں آکر مکروہات میں گرفتار ہو جائے تو محرمات میں مبتلا ہو جائے گا جس کے بعد کفر کا درجہ
ہے اللہ تعالیٰ! ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ حضرت شاہ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ کے اس بیان کے بعد فرمایا
ہے کہ میں نے مومن کے ترقی درجات کیلئے یہ ترتیب قائم کی ہے۔
فرض1، واجب2، سنت3، مستحب4، آداب5 اگر کوئی شخص مستحبات کی حفاظت کرنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے
کہ آداب کی پابندی کرے اور اگر سنت کی حفاظت مطلوب ہے تو مستحبات کو ترک نہ کرے۔ اسی طرح واجبات کی
حفاظت کے لئے سنت کی پابندی کرے اور فرائض پر استقامت کے لئے واجبات کو نہ چھوڑے۔ اس طرح وہ درجۂ
کمال کو پہنچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
ف (2) حدیث شریف کے آخری حصہ میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ دل کی بھلائی پر سارے بدن کی بھلائی کا
انحصار ہے۔ اس بارے میں حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے فرمایا ہے کہ جسم کی بھلائی اس بات میں ہے کہ جسم کو
حلال غذا پہنچائی جائے جس سے دل کو صالح خون ملتا ہے اور دل صاف اور منور ہو جاتا ہے اور دل کی نورانیت
سارے اعضاء بدن پر پڑتی ہے اور جسم سے اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف لقمۂ حرام اگر پیٹ میں
جائے تو اس سے فاسد خون پیدا ہوتا ہے اور دل مکدر اور تاریک ہو جاتا ہے اور دل کی ظلمت کا اثر سارے اعضاء بدن پر
پڑتا ہے۔ آنکھ نامحرم پر پڑتی ہے کان غیبت سے لطف اٹھاتے ہیں اور زبان افتراء اور جھوٹ پر چلتی ہے اور ہاتھ پاؤں
برے کاموں کی طرف بڑھتے ہیں اور انسان شیطان کا آلۂ کار بن جاتا ہے نہ اس کو موت کی فکر ہوتی ہے نہ قیامت کا ڈر
ہے۔ صاحب مرقات نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حدیث اپنے مضامین کے اعتبار سے ان تین احادیث میں شمار ہوتی ہے جن
پر اسلام کا مدار ہے۔ ایک حدیث تو وہ ہے جس میں نیت کی اہمیت کا ذکر ہے : ”إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“ کہ اعمال کا
مدار نیتوں پر ہے۔
دوسری حدیث میں : ”مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ“۔ (یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ
فضولیات سے بچتا رہے) اور تیسرے صدر کی یہ حدیث ہے جس میں حلال اور حرام کی اہمیت واضح فرمائی گئی ہے۔
اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان احادیث شریفہ پر عمل کرتے رہیں اور مشتبہات سے بچتے رہیں تاکہ آخرت
کی سرخروئی حاصل کرسکیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2451 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 4215 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کی شرح میں حاشیہ مشکوٰۃ میں لکھا ہے کہ حرام سے بچنے کے لئے مباح کو چھوڑ دینا چاہئے مثلاً
اجنبی عورت سے ضرورۃً بات کر سکتے ہیں مگر بات نہ کرے اس ڈر سے کہ بات کرنا کہیں حرام کاری کا ذریعہ نہ بن جائے
اور اشعۃ اللمعات میں امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ہم حلال کے دس حصوں میں سے نو
حصوں کو اس اندیشہ سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں حرام میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3842 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
He vomited everything
(1) The statement: "He vomited everything" - Ibn al-Malik deduced that if one eats haram knowingly or unknowingly then realizes it, they must vomit it immediately. Ali al-Qari considered this an act of extreme piety (wara'). [Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: فقاء كل شيء في بطنه : قال ابن الملك: أخذ منه الشافعي بالله أن من أكل الحرام، وهو عالم به أو جاهل، ثم علم لزمه أن يتقيأ جميع ما أكله فورًا، وقد جعله علي القاري من باب الورع، «المرقاة» ملتقط منه.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (8)
Note 1
Prohibited the price of cats
(1) "Prohibited the price of cats" - This is a discouragement (tanzih), not strict prohibition. Most scholars permit selling cats. [Al-Luma'at]
Note 2
And dogs
(2) "And dogs" - This supports Abu Hanifa's view permitting dog sales as the prohibition is interpreted as dislike (karahah) rather than full prohibition (haram). [Al-Mirqat]
Note 3
Except hunting dogs
(3) "Except hunting dogs" - This exception confirms the hadith's authenticity. The general prohibition is understood to apply to wild/untrainable dogs. [Al-Jawhar an-Naqi]
Note 4
Good chain
(4) "Good chain" - As verified in Al-Jawhar an-Naqi
Note 1
قوله
(۱) قوله: نهى عن ثمن السنور : النهي عن ثمن السنور تنزيهي، والجمهور على جواز بيعه. قاله في «اللمعات»، وقال في المرقاة» عن ابن ملك وكره بعض بيع السنور الأهلي والوحشي بظاهر الحديث، وحمله الأكثرون على الوحشي منها للعجز عن تسليمه، فإنه لو ربط لا ينتفع به؛ لأن نفعه صيد الفارة، ولو لم يربط لربما ينفر فيضيع المال المصروف في ثمنه.
Note 2
قوله
(۲) قوله : والكلب والحديث يؤيد مذهب أبي حنيفة وأصحابه في تجويزهم بيع الكلب؛ لأن المناسبة بين المتعاطفين في النهي توجب ذلك فهو مكروه لا حرام، وإطلاق الحديث عليه باعتبار حصوله بأدنى المكاسب. كذا في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳)قوله: إلا كلب صيد فظهر أن الحديث بهذا الاستثناء صحيح، والاستثناء زيادة على أحاديث النهي عن ثمن الكلب، وزيادة الثقة مقبولة، فوجب قبولها. كذا في الجوهر النقي، واعترض بأن الدليل أخص من المدعى، فإن المدعى جواز بيع الكلاب مطلقا، والدليل يدلُّ على على جواز بيع كلب الصيد والماشية لا غير، وأجيب بأن ذكره لإبطال شمول العدم الذي هو مدعى الخصم، وأما إثبات المدعى فثابت بحديث ذكره في «الأسرار» برواية عبد الله ابن عمرو ابن العاص اللهم أنه قال: قضى رسول الله الله في كلب بأربعين درهما من غير تخصيصه بنوع. قاله في العناية»، ولكن في البحر» عن «المبسوط» أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم في الصحيح من المذهب، كما في رد المحتار) وما روي من النهي عن ثمن الكلب في الروايات الصحاح فهو محمول على النسخ كان ذلك في الابتداء حين أمر بقتل الكلاب، أو محمول على التنزيه، أو على إرادة الكلب العقور وغير المعلم، أو يخص العام بهذا المخصص. كذا في تنسيق النظام في مسند الإمام».
(1) "Permitted" - This indicates full permissibility. Initially, all dogs were ordered killed, making their sale impermissible. Later, Allah permitted keeping certain dogs (as in Quran 5:4), establishing their lawful sale like donkeys (whose meat is prohibited but usage permitted). [Sharh Ma'ani al-Athar]
(2) "Strong chain" - As noted in Fath al-Qadir and 'Uqud al-Jawahir
Note 1
قوله
(۱) قوله: رخص إلخ : فلفظ الرخصة دال على الاستباحة. كذا في عقود الجواهر المنيفة وتحقيقه: أن الكلاب قد كان حكمها أن تقتل كلها، ولا يحل لأحد إمساك شيء منها، فلم يكن بيعها حينئذ بجائز، ولا ثمنها بحلال فما كان الانتفاع به حراما وإمساكه حراما، فثمنه حرام، فبعد ذلك قد نسخ، فأبيح الانتفاع بالكلاب. فلما ثبتت الإباحة بعد النهي، وأباح الله عَزَّ وَجَلَّ في كتابه ما أباح بقوله: ﴿وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ) (المائدة: ٤) اعتبرنا حكم ما ينتفع به، هل يجوز بيعه ويحل ثمنه أم لا؟ فرأينا الحمار الأهلي قد نهى عن أكله وأبيح كسبه والانتفاع به، فكان بيعه إذ كان هذا حكمه حلالا وثمنه حلالا . قاله في شرح معاني الآثار».
Note 2
قوله
(۲) قوله: هذا سند جيد إلخ : كذا في فتح القدير و عقود الجواهر المنيفة».
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2238 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 2237 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
Prohibited the price of dogs
(1) "Prohibited the price of dogs" - This is a discouragement, not strict prohibition, due to the lowly nature of such trade. [Al-Mirqat]
(2) "Earnings of prostitutes and fortune-tellers" - These are among the foulest earnings, including tattoos and conditional payments to singers. [Ad-Durr al-Mukhtar]
(3) "Price of blood" - Selling blood is prohibited as it is impure. Some interpret this as discouraging payments to bloodletters. [Al-Mirqat]
(4) "Image-makers" - This refers specifically to images of living creatures, as idols were made in such forms. [Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله : نهى عن ثمن الكلب النهي عنه تنزيهي فهو مكروه لا حرام عندنا لدناءته، أخذته من «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: مهر البغي وحلوان الكاهن : أي ما خبث من المكاسب، فلزم منه العار ما يأخذه كاهن وواشمة والمغنية على الغناء، ومهر البغي وأجر الحجام بشرط، الدر المختار و رد المحتار» ملتقط منهما.
Note 3
قوله
(۳) قوله : نهى عن ثمن الدم في شرح السنة: بيع الدم لا يجوز؛ لأنه نجس، وحمل بعضهم نهيه عن ثمن الدم على أجر الحجام، وجعله نهي تنزيه. كذا في «المرقاة».
Note 4
قوله
(٤) قوله: المصور : أراد به الذي يصور صورة الحيوان دون من يصور صورة الأشجار والنبات؛ لأن الأصنام التي كانت تعبد كانت على صور الحيوانات. كذا في «المرقاة».
Note 1
اس حدیث کے راویوں میں اسماعیل ہیں جو جساس کے بیٹے ہیں جن کو ابن حبان نے ثقات
میں ذکر کیا ہے۔
Note 2
ف(1) واضح ہو کہ جن احادیث شریفہ میں کتوں کی قیمت لینے سے منع فرمایا گیا ہے یہ غیر شکاری کتے ہیں
چنانچہ شکاری کتوں کی خرید و فروخت کے جواز کے بارے میں صدر میں کئی احادیث بیان کی گئی ہیں جیسا کہ ابو جعفر اتقی
میں مذکور ہے اور ”تنسیق النظام فی مسند الامام“ میں لکھا ہے کہ کتوں کی قیمت کی ممانعت اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ
رسول اللہ ﷺ نے عام طور پر کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ پھر جب شکاری کتوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی
تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور کتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت مل گئی۔
یہ شرح معانی الآثار میں مذکور ہے۔
ف(2) حدیث شریف میں مصور پر لعنت کا جو ذکر ہے اس سے وہ مصور مراد ہے جو جاندار کی تصویر اتارے
البتہ درخت اور نباتات کی تصویر اتارنے والے سے یہ لعنت متعلق نہ ہوگی، جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3422 (unverified) 96% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1277 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He forbade him
(1) "He forbade him" - This prohibition is discouragement (tanzih) to avoid base earnings and encourage noble work. If it were strictly haram, the Prophet (ﷺ) wouldn't permit feeding slaves from it. [Al-Mirqat]
Additional notes from scholars:
The hadith about "a bloodletter's earnings being foul" is either abrogated or refers to moral repugnance rather than legal prohibition.
Conditional payments for bloodletting are disliked (makruh).
The narration from Rafi' ibn Khadij is weaker than Ibn Abbas's permissive narration. [Al-Jawharah and Rad al-Muhtar]
Note 1
قوله
(۱)قوله: فنهاه هذا نهي تنزيه للارتفاع عن دنئ الإكساب وللحث على مكارم الأخلاق ومعالي الأمور، ولو كان حراما لم يفرق فيه بين الحر والعبد، فإنه لا يجوز للسيد أن يُطعم عبده ما لا يحل. كذا في «المرقاة». وقال في رد المحتار»: وحديث النهي وهو ما ذكره صاحب السنن» بإسناده إلى رافع بن خديج أن رسول الله ﷺ قال: كسب الحجام خبيث، وثمن الكلب خبيث، ومهر البغي خبيث، منسوخ، أي بما روي أنه له قال له رجل: إن لي عيالا وغلامًا حجامًا أفأطعم عيالي من كسبه؟ قال: «نعم»، زيلعي، وأجاب الإتقاني بحمل حديث الخبث على الكراهة طبعا من طريق المروءة؛ لما فيه من الخسة والدناءة. قال علي: إنا نقول رواية رافع ليس كابن عباس في الضبط والإتقان والفقه، فيعمل بحديث ابن عباس دونه. وفي «الجوهرة»: وإن شرط الحجام شيئا على الحجامة كره.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے سینگھی کی اجرت کے استعمال سے جو منع فرمایا ہے وہ نہی تنزیہ
ہی ہے اس لئے کہ حضور ﷺ کا مقصد مبارک یہ ہے کہ ہلکے پیشوں کے ذریعہ معاش نہ بنایا جائے اور اگر یہ کمائی حرام
ہوتی تو اس کو لینے اور غلام کو کھلانے کی اجازت نہ دیتے اس لئے کہ آقا کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ غلاموں کو
حرام مال کھلائے۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2236 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1581a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
Dead animals
(1) "Dead animals" - Only their consumption is prohibited, not using their tanned hides - contrary to Malik's view. Hair, horns, bones, and hooves remain pure according to Abu Hanifa and Malik, as they are not "flesh". The Prophet (ﷺ) used an ivory comb (from inedible elephant bone), proving such materials' purity. [At-Tafsirat al-Ahmadiyyah, 'Umdat al-Qari]
(2) "It is forbidden" - The prohibition refers to selling, not necessarily all uses. Quranic verses about dead animals specifically address consumption. [Al-Mirqat]
(3) "No harm in it" - Sahih hadiths clarify that only the meat is prohibited. Other parts are pure if properly cleaned. [Rad al-Muhtar]
Note 1
قوله
(۱) قوله: الميتة: أي يحرم منها أكلها فقط لا الانتفاع بجلدها بعد الدبغ، خلافا لمالك لله في ذلك، ولا الانتفاع بشعرها وقرنها وعظمها وعصبها وحافرها؛ لأن الآية في بيان حرمة الأكل، كما يدلُّ عليه سياقها، وأن ينسب الحرمة إلى الأعيان مجازا، خلافا للشافعي في جميع ذاك، أخذته من «التفسيرات الأحمدية».
Note 2
قوله
(۲) قوله: هو حرام وقال في عمدة القاري واستدل بالحديث من ذهب إلى نجاسة سائر أجزاء الميتة من اللحم والشعر والظفر والجلد والسن، وهو قول الشافعي وأحمد، وذهب أبو حنيفة ومالك إلى أن ما لا تحله الحياة لا ينجس بالموت، كالشعر والظفر والقرن والحافر والعظم؛ لأن النبي كان له مشط من عاج، وهو عظم الفيل، وهو غير مأكول، فدل على طهارة عظمه وما أشبهه، انتهى. فالضمير في هو حرام يعود إلى البيع لا الانتفاع، وآية إنما حرم عليكم الميتة في بيان حرمة الأكل، كما يدلُّ عليه سياقها، التقطته من المرقاة» و«التفسيرات الأحمدية».
Note 3
قوله
(۳)قوله: فلا بأس به وفي الصحيحين: قوله الله في شاة ميمونة : إنما حرم أكلها، وفي رواية: لحمها، فدل على أن ما عدا اللحم لا يحرم، فدخلت الأجزاء المذكورة، وفيها أحاديث أخر صريحة في البحر» وغيره. قاله في رد المحتار».
Note 1
اس حدیث کی سند میں عبدالجبار بن مسلم ہیں جن کو ابن حبان اپنی کتاب ثقات میں بیان کیا
ہے (اس کتاب میں انہیں راویوں کا ذکر ہے جو ثقہ ہیں) اس وجہ سے یہ حدیث حدیث حسن
کے مرتبہ سے نہیں گرتی۔
Note 2
اس حدیث کی سند میں یوسف بن ابی السفر ایک راوی ہیں اور وہ امام اوزاعی رحمہ اللہ کے
کاتب تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1358 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 2290 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Your children are part of those earnings
(1) "Your children are part of those earnings" - Since they result from marital relations, parents may benefit from children's earnings if needy - otherwise only with their consent. [Al-Mirqat, Al-Hidayah]
(2) "Such additions" - Supplementary narrations that don't contradict stronger chains are accepted, as explained by Ibn Hajar in Sharh Nukhbat al-Fikr. [Badhl al-Majhud]
Note 1
قوله
(۱) قوله : إن أولادكم من كسبكم: أي من جملته؛ لأنهم حصلوا بواسطة تزوجكم، فيجوز لكم أن تأكلوا من كسب أولادكم إذا كنتم محتاجين، وإلا فلا، إلا أن طابت به أنفسهم، هكذا قرره علماؤنا . قاله في المرقاة» وكذا قال في «الهداية».
Note 2
قوله
(۲) قوله: فمثل هذه الزيادة إلخ : هكذا قال الحافظ في شرح النخبة». قاله في بذل المجهود».
Note 1
ف: واضح ہو کہ اگر والدین محتاج ہوں تو ان کا خرچ اولاد پر واجب ہے جب کہ وہ خود کمانے کے قابل نہ ہوں
اور اگر محتاج نہ ہوں یا عاجز بھی نہ ہوں تب بھی اولاد کے مال سے کھا سکتے ہیں اس لئے کہ اولاد کی کمائی والدین کے لئے
ان کی ذاتی کمائی کی طرح ہے۔ ماخوذ از مرقات و ہدایہ۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "From the labor of his hands" – The best means of earning are: Jihad (highest), Trade Agriculture Craftsmanship Some scholars consider trade superior to farming, but the majority hold that agriculture is better due to its widespread benefit for humanity and animals alike. This is mentioned in Al-Ikhtiyar and Al-Wajeez by Al-Kurdi, as cited in Al-'Alamgiriyyah. Imam Nawawi stated that the hadith in Bukhari clearly favors farming and craftsmanship since they involve manual labor, though farming is superior due to its universal benefit. ('Umdat Al-Qari)
Note 1
(۱)قوله: من عمل يديه وأفضل أسباب الكسب الجهاد، ثم التجارة، ثم الزراعة، ثم الصناعة. كذا في الاختيار شرحالمختار»، والتجارة أفضل من الزراعة عند البعض، والأكثر على أن الزراعة أفضل. كذا في الوجيز» للكردري. قاله في العالمگيرية». وقال النووي: وحديث البخاري صريح في ترجيح الزراعة والصنعة؛ لكونها عمل يده، لكن الزراعة أفضلهما؛ لعموم النفع بها للآدمي وغيره عموم الحاجة إليها، كما صرح به في «عمدة القاري».
Note 1
ف: واضح ہو کہ روزی اور معاش کے ذرائع میں سب سے بہتر ذریعہ جہاد ہے جس کے ذریعہ مالِ غنیمت حاصل ہوتا ہے جو سب سے بہتر کمائی ہے۔ اس کے بعد تجارت، پھر زراعت اور اس کے بعد صنعت و حرفت کے ذریعہ مال کا کمانا ہے۔ ”الاختیار شرح المختار“ میں مذکور ہے۔ عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ اکثر ائمہ کے پاس زراعت کو تجارت پر فضیلت ہے، اور امام نووی رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے زراعت اور صنعت و حرفت دونوں کو دیگر ذرائع معاش پر فضیلت حاصل ہے اس لئے کہ ان دونوں میں ہاتھ کی کمائی کو دخل ہے البتہ ان دونوں میں بھی زراعت صنعت و حرفت سے افضل ہے اس لئے کہ زراعت کا نفع عام ہوتا ہے اور ساری مخلوق غلہ کی محتاج ہوتی ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں صراحت کی گئی ہے۔