اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1462
فضالۃ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ایک شخص نے آ کر نماز پڑھی (اور قعدۂ اخیرہ میں اس شخص (یہ
ترجمہ ابوداؤد کی روایت کے لحاظ سے کیا گیا ہے) نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور نہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا) (یہ قید مرقات میں مذکور ہے) اور صرف اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِيْ (یعنی
اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما) کہا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے نماز
پڑھنے والے تو نے جلدی کی ہے، جب تو نماز پڑھے اور قعدۂ اخیرہ میں بیٹھے تو پہلے التحیات کے
ذریعہ (یہ قید مرقات سے ماخوذ ہے۔) اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر جیسا کہ اس کے شایان شان ہے پھر مجھ
پر درود بھیج، اس کے بعد اللہ سے دعاء مانگ۔ فضالہؓ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ایک اور شخص نے
نماز پڑھی تو اس نے (نماز کے قعدۂ اخیرہ میں التحیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور نبی صلی
اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا (اور دعاء نہ کی) تو اس شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے نماز
پڑھنے والے اب دعاء کر تیری دعاء قبول ہوگی۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ابوداؤد و نسائی
نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Qur’an-related source paragraphs
Allah, the Almighty, says: "Indeed, Allah and His angels send blessings upon the Prophet. O you who have believed, send blessings upon him and greet him with peace." (Al-Ahzab: 56)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3476 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1481 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1284 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے نماز میں حمد اور درود کے بعد دعاء قبول ہوتی ہے اسی طرح خارج نماز بھی دعاء کی جائے تو اس ترتیب کے ساتھ کی جانی چاہئے کہ پہلے حمد باری تعالیٰ کی جائے پھر درود پڑھا جائے اور اس کے بعد دعاء کی جائے تا کہ قبولیت کو پہنچے۔