اردو
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم (ایک دفعہ) بنی عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف فرما ہوئے (ایسے میں مغرب کا وقت
ہو گیا تو) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے (سب کو) اسی مسجد میں نماز مغرب پڑھائی، جب لوگ مغرب
کے فرض سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ مسجد ہی میں سنتیں
ادا کر رہے ہیں (اس پر) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ سنتیں ایسی نمازیں ہیں کہ ان کو
گھروں میں پڑھنا چاہئے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور ترمذی اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1300 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ ان حدیثوں سے استدلال کرتے ہوئے درمختار اور مرقات میں لکھا ہے کہ بجز تراویح کے اور معتکف کی سنتوں کے تمام سنن اور نوافل کے بارے میں افضل یہ ہے کہ گھر میں ادا کی جائیں اور بعض آیتوں اور حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع و خضوع ہونا چاہئے اگر گھر میں خشوع و خضوع نہ ہوتا ہو جیسے اس زمانہ میں مشاہدہ ہے تو خشوع کی آیتوں اور حدیثوں پر عمل کرتے ہوئے مسجدوں ہی میں سنتوں کا ادا کرنا افضل ہے۔