بنی سلمہ کے ایک صاحب جن کا نام سلیم تھا ان سے روایت ہے کہ وہ نبی
کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کئے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاذ بن
جبل رضی اللہ عنہ (آپ کے ساتھ مقتدی بن کر عشاء کی فرض پڑھ کر) ہمارے سو جانے کے بعد (ہم
کو عشاء کی نماز پڑھانے کے لئے) آیا کرتے ہیں، اور ہم دن بھر کے کاروبار سے تھکے ہوئے رہتے
ہیں، جب وہ اذان دیتے تو ہم نماز کے لئے (اپنے گھروں سے) نکل آتے ہیں (جابر رضی اللہ عنہ
کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نفل کی نیت سے امامت کرتے تھے اور ساری
جماعت فرض کی نیت سے اقتداء کرتی تھی اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دی گئی تھی،
جب معاذ رضی اللہ عنہ کی یہ شکایت حضور سے پیش ہوئی کہ) معاذ رضی اللہ عنہ طویل قرأت سے نماز
پڑھایا کرتے ہیں (اس وقت یہ بھی ظاہر ہوا کہ نفل کی نیت سے امام ہوا کرتے ہیں) تو حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! تم طویل قرأت پڑھ کر لوگوں کو فتنہ میں مت ڈالو (اب تک
تم نے نفل کی نیت سے جو امامت کی ہے آئندہ کے لئے اس کو منسوخ سمجھو، دو میں سے کوئی ایک کام
کرو) میرے ساتھ فرض کی نیت سے نماز پڑھو تو قوم کو پھر دوبارہ نہ پڑھاؤ۔ اگر قوم کو نماز پڑھاتے ہو
تو (اپنی نماز میرے ساتھ نہ پڑھو اور) قوم کو طویل قرأت سے نماز نہ پڑھاؤ۔
(اس کی روایت امام احمد اور امام طحاوی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ امام کا نفل کی نیت سے قوم کی امامت کرنا اور قوم کا
فرض کی نیت سے اقتداء کرنا ہمیشہ کے لئے ناجائز قرار پایا۔
فرض پڑھنے والے مقتدیوں کا نفل کی نیت سے امام بننا جائز نہ ہونے پر ایک اور دلیل ”صلاۃ
خوف“ ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد کئی بار ادا فرمائی ہے۔ پہلے
”صلاۃ خوف“ کو سمجھئے صلاۃ خوف یہ ہے کہ جب کسی دشمن کا سامنا ہو، اور دشمن کے خوف سے سب
لوگ مل کر جماعت سے بیک وقت نماز نہ پڑھ سکتے ہوں، مثلاً قصر نماز ہو رہی ہو تو مسلمانوں کے دو
حصے کر دیئے جائیں، ایک حصہ دشمن کے مقابلہ میں رہے اور دوسرا حصہ امام کے ساتھ نماز شروع
کر دے، جب امام ایک رکعت ختم کر کے دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہونے لگے تو پہلا حصہ دشمن کے
مقابلہ کے لئے چلا جائے اور دوسرا حصہ جو دشمن کے مقابل تھا وہاں سے آ کر امام کے ساتھ امام کی بقیہ
نماز میں شریک ہو جائے اور جب امام ختم نماز پر سلام پھیر دے تو یہ دوسرا حصہ سلام پھیرے بغیر دشمن
کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور پہلا حصہ جو دشمن کے مقابلہ کو گیا تھا پھر واپس ہو کر اپنی بقیہ نماز لاحق
کی طرح بغیر قرأت کے تکمیل کر لے، پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسرا حصہ واپس ہو کر
اپنی نماز قرأت کے ساتھ مسبوق کی طرح تکمیل کر لے اور سلام پھیر دے۔
صلاۃ خوف کو سمجھنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احوال جو صلاۃ خوف میں ہوئے ہیں
ان پر غور کیجئے کہ آپ نے اکثر غزوات میں جو ہجرت کے بعد ہوئے ہیں، مذکورہ صلاۃ خوف کے
طریقہ پر نماز ادا فرمائی ہے، اگر امام نفل کی نیت سے فرض نماز پڑھنے والوں کی امامت کر سکتا ہے تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصف فوج کو فرض کی نیت سے پوری نماز پڑھا دیتے اور باقی نصف فوج کو
دوبارہ نفل کی نیت سے فرض پڑھاتے اور مقتدی فرض کی نیت سے اقتداء کرتے، اس صورت میں
نماز کے منافی کوئی حرکت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، ایسا نہ کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض
کی نیت سے آدھی فوج کو ایک رکعت اور بقیہ نصف کو جو ایک ایک رکعت پڑھائی، جس سے صاف طور
پر معلوم ہوا کہ امام نفل کی نیت سے فرض پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے
اور اسی کے قائل امام زہری، حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن المسیب، امام نخعی، حضرت ابو قلابہ،
حضرت یحییٰ بن سعید انصاری، حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔
صلاۃ خوف کے واقعات جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے، ہجرت کے بعد آخری زمانہ کے ہیں اور معاذ
رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول فرما لیا تھا اور ابتدا روزانہ میں ایک ہی نماز کو ایک مرتبہ فرض کی نیت
سے ادا کر کے پھر دوبارہ اسی نماز کو نفل کی نیت سے پڑھاتے اور اقتدا کرنے والے فرض کی نیت سے
اقتدا کرتے تھے، چونکہ صلاۃ خوف کے واقعات آخری زمانہ کے ہیں اور حضرت معاذ کا واقعہ ابتدائی
زمانہ کا ہے اس لئے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا نفل کی نیت سے قوم کو فرض نماز پڑھانے کا منسوخ ہونا
صلاۃ خوف سے بھی ثابت ہوتا ہے (طحاوی، عمدۃ القاری اور ابن ہمام)۔
5/1750-1753۔ اسود بن جابر رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت جابرؓ سے روایت
کرتے ہیں (ایک دن کا واقعہ ہے کہ) دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ظہر کی
نماز اپنے اپنے گھر میں اس خیال سے پڑھ لیتے تھے کہ (مسجد میں) لوگ (جماعت سے نماز) پڑھ
چکے ہوں گے، پھر یہ دونوں جب مسجد کو آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز
پڑھا رہے ہیں ان دونوں نے اپنے خیال میں سمجھا کہ (ایک دفعہ تنہا نماز پڑھ لینے کے بعد دوبارہ)
اسی نماز کو جماعت سے پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی لئے یہ دونوں ایک طرف مسجد میں (نماز میں شریک
ہوئے بغیر ہی) بیٹھ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ان
دونوں کو دیکھا کہ (جماعت میں شریک ہوئے بغیر علیحدہ) بیٹھے ہوئے ہیں، اس لئے آپ نے کسی کو
بھیجا کہ ان دونوں کو بلا لائے، وہ دونوں جب خدمت اقدس میں حاضر کئے گئے تو ان دونوں کی
حالت یہ تھی کہ وہ خوف و ہیبت سے کانپ رہے تھے کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی نیا حکم تو نہیں
نازل ہوا ہے؟ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ان سے دریافت فرمایا کہ جماعت میں شریک نہ ہو کر
علیحدہ بیٹھنے کی کیا وجہ ہے؟ تو انھوں نے اپنا سارا قصہ کہہ سنایا (اور ظاہر کیا کہ چونکہ ہم گھروں سے نماز
پڑھ کر آئے تھے اس لئے پھر دوبارہ جماعت میں شریک ہو کر نماز پڑھنے کو ناجائز سمجھے تھے حضور! ہم
اسی وجہ سے علیحدہ بیٹھے ہوئے تھے یہ سن کر) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: سنو! جب تم
نے (فرض کی نیت سے) تنہا نماز پڑھ لی ہو اور پھر جماعت میں شریک ہونے کا موقع آئے تو دوبارہ
جماعت میں شریک ہوجایا کرو، اور پہلے جو نماز پڑھ چکے ہو اس کو ہی فرض سمجھو اور جماعت (جیسا کہ
موطا امام محمد میں مذکور ہے۔12) سے جو نماز پڑھی جائے گی اس کو نفل خیال کرو۔ اس کی روایت
ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کی ہے اور بیہقی، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت
کی ہے اور شرح زرقانی میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ فجر، عصر اور مغرب اس حکم
سے مستثنیٰ ہیں، اس لئے ان نمازوں کو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد پھر دوبارہ جماعت سے نہیں پڑھنا
چاہئے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی فرض نماز کو تنہا پڑھ کر مسجد کو پہنچے
اور دیکھے کہ بعد میں جماعت ہو رہی ہے تو وہ نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہوجائے مگر یہ حکم اُس
شخص سے متعلق ہے جو تنہا نماز پڑھ چکا ہو، اور اگر کوئی شخص کسی مسجد میں جماعت سے نماز ادا کر کے
کسی دوسری مسجد میں ایسے وقت پہنچے کہ وہاں وہی نماز جماعت سے ہو رہی ہو تو ایسے شخص کو
جماعت میں شریک نہ ہونا چاہئے، امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ تینوں اسی کے قائل
ہیں۔ (یہ اعلاء السنن میں مذکور ہیں)
بسر بن محجن رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت محجن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں کہ حضرت محجن (ایک دفعہ) مسجد کے کسی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے
ہوئے تھے (اذان تو ہوچکی تھی اور جب) اقامت (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) کہی گئی تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے، نماز ادا فرمائے اور (نماز سے پہلے) مسجد میں جس جگہ بیٹھے
ہوئے تھے وہیں تشریف لائے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا دیکھتے ہیں کہ محجن (جماعت) میں
شریک ہوئے بغیر ہی وہیں بیٹھے ہوئے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیوں
محجن! مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے تم کو کون سی چیز مانع ہوئی! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ محجن (رضی
اللہ عنہ) نے عرض کیا: حضور! میں مسلمان ہوں، نماز میں شریک نہ ہونے کی یہ وجہ نہیں ہے بلکہ اس
وجہ سے جماعت میں شریک نہیں ہوا کہ میں اپنے اہل و عیال میں (تنہا) نماز پڑھ کر آیا تھا (پھر
دوبارہ نماز میں شریک ہونے کو جائز نہیں سمجھا یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: سنو! محجن جب تم تنہا نماز پڑھ کر مسجد میں آؤ اور دیکھو اقامت ہو رہی ہے تو مسلمانوں کے
ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز میں شریک ہو جایا کرو اگرچہ تم وہی نماز فرض کی نیت سے پڑھ چکے ہو۔
(اس کی روایت امام مالک اور نسائی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ یہ حدیث اور اس کے بعد کی چند حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تنہا نماز پڑھنے
کے بعد مسجد میں جماعت مل جانے سے پانچوں نمازوں کو نفل کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں
ہے بلکہ یہ حکم صرف ظہر اور عشاء سے متعلق ہے، رہا فجر، عصر اور مغرب کو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد پھر
دوبارہ نہ پڑھنے کی حدیثیں دارقطنی، امام مالک اور عبدالرزاق سے آگے آ رہی ہیں۔ جیسا کہ مرقات
میں مذکور ہے۔
قبیلہ اسد بن خزیمہ کے ایک صاحب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب
انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے مکان میں تنہا نماز پڑھ لے، پھر وہ مسجد
آئے اور دیکھے کہ نماز کے لئے اقامت ہو رہی ہے تو کیا وہ ایسی صورت میں (نفل کی نیت سے)
جماعت میں شریک ہو سکتا ہے؟ مجھے تو اس میں شک ہے (کیا جو صورت بیان کی گئی ہے وہ صحیح ہے؟)
تو ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: (شک کی ضرورت نہیں) ہم نے اس مسئلہ میں حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے تحقیق کر لی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسے شخص کو بھی
جماعت کا پورا ثواب ملتا ہے۔ (بشرطیکہ فجر، عصر اور مغرب نہ ہوں اس لئے کہ ان نمازوں کو تنہا پڑھ
لینے کے بعد دوبارہ ان نمازوں کی جماعتوں میں شریک نہ ہونا چاہئے اس کی صراحت دارقطنی کی
حدیث سے آگے آ رہی ہے)۔ (اس کی روایت امام مالک اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے وہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے باہر جو چبوترہ تھا جس کو بلاط کہتے تھے وہاں ابن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے
ہوئے تھے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ادھر مسجد میں جماعت ہو رہی تھی، میں نے ان سے
عرض کیا کہ آپ جماعت میں شریک نہ ہو کر یہاں کیوں بیٹھے ہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا
: میں ایک بار (جیسا کہ تعلیق ممجد میں مذکور ہے۔12) (فرض کی نیت سے جماعت سے) نماز پڑھ
چکا ہوں، اس لئے پھر دوبارہ (فرض کی نیت سے) جماعت میں شریک نہیں ہوا۔ اس لئے کہ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ایک ہی دن میں ایک وقت کی نماز
کو (فرض کی نیت سے) پڑھ کر دوبارہ فرض کی نیت سے نہ پڑھا کرو۔
(اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرض کی نیت سے نماز پڑھ چکے تھے اس
لئے دوبارہ فرض کی نیت سے شریک جماعت نہیں ہوئے تھے تو ان کو چاہئے تھا کہ نفل کی نیت سے
شریک جماعت ہوجاتے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جماعت کے ساتھ فرض کی
نیت سے نماز پڑھ چکے تھے اور جماعت سے نماز پڑھنے والے کو وہی نماز پھر دوبارہ نفل کی نیت سے بھی
جماعت میں شریک ہو کر نہ پڑھنا چاہئے۔ اس لئے آپ نفل کی نیت سے بھی شریک جماعت نہیں
ہوئے۔ مرقات۔
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے
کہ جو شخص مغرب یا صبح کی فرض نماز کو (تنہا) پڑھے (یا جماعت سے) پھر یہ نمازیں کہیں جماعت
سے پڑھی جا رہی ہوں اور اس کو جماعت میں شریک ہونے کا موقع آئے تو ایسے شخص کو (نفل کی
نیت سے بھی) دوبارہ ان نمازوں کی جماعت میں شریک نہ ہونا چاہئے۔
(اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Muwatta Malik 297 (unverified) 30% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ فجر اور مغرب کے فرض ایک مرتبہ پڑھ لینے
کے بعد پھر دوبارہ ان نمازوں کو پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اب رہی عصر کی نماز تو اس کا بھی یہی حکم ہے، اس
کی دلیل یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی روایت جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں صبح
کے فرض کے بعد جیسے نفل کا جائز نہ ہونا مذکور ہے ایسے ہی عصر کے فرض کے بعد بھی نفل کے جائز نہ
ہونے کا ذکر ہے۔ اسی طرح بخاری اور مسلم کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس میں صبح کی نماز
کے بعد جماعت میں شریک نہ ہونے کی جیسے ممانعت ہے ویسے ہی عصر کے فرض کے بعد جماعت میں
شریک ہونے کی ممانعت ہے، اب رہی یہ بات کہ صدر کی حدیث میں جو نافع رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے اس میں عصر کی نماز کا کیوں ذکر نہیں؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے
سامنے فجر اور مغرب کا ذکر آیا تھا اس لئے آپ نے صرف ان دونوں ہی کا حکم بتلایا اور اگر حضرت
ابن عمر کے سامنے عصر کا بھی ذکر آتا تو اس کا بھی یہی جواب ارشاد فرماتے۔
اب رہا یہ کہ جب مغرب کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے تو پھر ایسے شخص کو جس نے
مغرب کے فرض پڑھ لئے ہوں اس کو دوبارہ جماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہونے سے کیوں منع
کیا جا رہا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تین رکعت کا نفل کی نیت سے ادا کرنا بتیر (نفل میں تین رکعت
ہیں) ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اگرچہ کہ ایسا شخص امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت کا
اضافہ کرکے نماز کو جفت ہی کیوں نہ کرلے، اس لئے کہ مقتدی پر امام کی متابعت ضروری ہے اور اس
صورت میں مقتدی کا امام کی نماز پر زیادتی کرنا لازم آتا ہے اسی وجہ سے نفل کی نیت سے بھی مغرب کی
نماز میں دوبارہ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ جب تم نے اپنے گھر میں کوئی فرض نماز پڑھ لی (اس کے بعد مسجد آئے اور جماعت ہو
رہی ہو تو) (نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہوکر) اس نماز کو دوبارہ پڑھ لیا کرو۔ مگر فجر اور
مغرب میں ایسا موقع آئے تو نفل کی نیت سے بھی اس میں شریک نہ ہونا چاہئے۔ (ایسا ہی عصر کی
جماعت میں بھی دوبارہ شریک ہونے کا موقع آئے تو فجر اور مغرب کی طرح عصر میں بھی شریک نہ
ہونا چاہئے جیسا کہ اس کی تحقیق ابھی اوپر گزر چکی ہے)۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب تم نے اپنے گھر
میں کوئی فرض نماز پڑھ لی اور اس کے بعد مسجد میں آئے اور جماعت ہورہی ہو تو نفل کی نیت سے
جماعت میں شریک ہوکر) اس نماز کو دوبارہ پڑھ لیا کرو، مگر فجر اور مغرب میں ایسا موقع آئے تو نفل
کی نیت سے بھی اس میں شریک نہ ہونا چاہئے (ایسا ہی عصر کی جماعت میں بھی دوبارہ شریک ہونے
کا موقع آئے تو فجر اور مغرب کی طرح عصر میں بھی شریک نہ ہونا چاہئے جیسا کہ اس کی تحقیق ابھی
اوپر گزر چکی ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی فرمایا کہ (اگر کوئی نفل کی نیت کی بجائے فرض کی نیت
سے شریک ہونا چاہے تو بھی وہ شریک جماعت نہیں ہوسکتا اس لئے کہ) فجر ہو یا مغرب (یا ان کی سوا
کوئی اور فرض نماز) دن میں دوبار (فرض کی نیت سے) نہیں پڑھی جاتی۔
(اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
ناعم بن اجتل جو امّ المؤمنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ہیں ان سے
روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نماز مغرب کے لئے مسجد میں جایا کرتا تھا تو بعض وقت کیا دیکھتا
ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ (کچھ مجبوریوں کی وجہ ضرورت کی حالت میں)
گھروں میں مغرب کی فرض پڑھ کر مسجد کے آخری حصے میں بیٹھے ہیں اور مسجد میں مغرب کی فرض
ہورہی ہے (اس میں یہ اصحاب فرض یا نفل کی نیت سے شریک جماعت نہیں ہوئے، اس سے معلوم
And the saying of Allah, the Almighty: "So exalt Him, and when the stars disappear." (Quran 50:40)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہوا کہ مغرب کے فرض پڑھنے کے بعد نفل کی نیت سے شریک جماعت نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا ہی فرض
کی نیت سے بھی جماعت میں شریک نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ ایک فرض نماز دن میں دو بار نہیں
پڑھی جاتی)۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دن رات میں (فرائض) کے ساتھ 12 رکعت سنت
بھی ادا کرے گا تو اس کے لئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا وہ بارہ رکعتیں یہ ہیں: چار رکعتیں
ظہر کے فرض سے پہلے اور (2) اس کے بعد، اور دو رکعتیں مغرب کے فرض کے بعد، دو رکعتیں
عشاء کے فرض کے بعد اور دو رکعتیں فجر کے فرض سے پہلے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک روایت میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح
مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے کہ
جو مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے (فرائض کے ساتھ) بارہ رکعتیں سنت پڑھتا ہے تو اللہ
تعالیٰ (اس کے لئے جنت میں) مکان بناتے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 728a (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 415 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہ اور اسی قسم کی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دن رات میں یہ بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ ہیں،
اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر مداومت فرمائی ہے اور کبھی ترک نہیں کیا۔ (مرقات 12)
عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین
عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دن رات میں فرض نمازوں
کے علاوہ) کتنی سنتیں ادا فرمایا کرتے تھے؟ ام المؤمنین فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
میرے گھر میں ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت سنت ادا فرماتے تھے، پھر باہر تشریف لے جا کر
لوگوں کو ظہر کی فرض نماز پڑھاتے، پھر گھر میں تشریف لا کر دو رکعت سنت ادا فرماتے تھے، اور مغرب
کی فرض پڑھا کر گھر میں تشریف لاتے اور دو رکعت سنت ادا فرماتے، پھر عشاء کی فرض پڑھا کر گھر
میں تشریف لاتے اور دو رکعت سنت ادا فرماتے، اور ان کے علاوہ رات میں نو (9) رکعت نماز ادا،
فرماتے تھے جن میں (6 رکعات تہجد کے ہوتے اور 3 رکعت) وتر (کے) ہوتے (تہجد کی یہ تعداد
رکعات اس روایت کے الفاظ سے ہے اور روایاتوں میں جو مختلف تعداد رکعات کا ذکر ہے اس کی تفصیل
اپنے مقام پر آئے گی) اور کبھی کسی رات میں (طویل قرأت کے ساتھ) تہجد کھڑے ہوئے دیر تک
ادا فرماتے اور کبھی کسی رات میں دیر تک بیٹھے ہوئے بھی تہجد ادا فرماتے تھے اور جب قیام کی حالت
میں قرأت فرماتے تو قیام ہی سے جا کر رکوع اور سجدہ ادا فرماتے تھے اور جب بیٹھے ہوئے قرأت
فرماتے تو بیٹھنے ہی کی حالت سے رکوع اور سجدہ میں جاتے تھے اور جب صبح کی نماز کا وقت ہوتا تو
(گھر میں) دو رکعت سنت پڑھتے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے) اور ابوداؤد نے یہ اضافہ کیا
ہے کہ پھر گھر سے نکلتے تھے اور لوگوں کو فجر کے فرض پڑھاتے۔
اور ترمذی کی روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیٹھ کر تہجد پڑھتے تو بیٹھ کر ہی قرأت فرماتے تھے اور جب سورہ کی
تقریباً (30یا40) آیتوں کی قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہوجاتے اور کھڑے کھڑے بقیہ
آیات پڑھ کر (قیام سے ہی) رکوع کو جاتے اور سجدہ فرماتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا
کرتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 730a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He would pray in my house
(1) His statement: "He would pray in my house" – It is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar: "The preferred place for voluntary prayers (other than Taraweeh) is one's home, unless there is a fear of being preoccupied and missing them. The most correct opinion is that what is most humble and sincere is superior."
Note 1
قوله
(۱) قوله : كان يصلي في بيتي: قال في الدر المختار»، والأفضل في النفل غير التراويح المنزل إلا لخوف شغل عنها، والأصح أفضلية ما كان أخشع وأخلص.
Note 1
ف(1): اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر سے پہلے اور عشاء سے پہلے کی سنتیں سنت مؤکدہ
نہیں ہیں لیکن ان کے پڑھنے میں بڑا ثواب ہے، چنانچہ عصر کے پہلے کی چار رکعت سنتوں کے پڑھنے
والے کے بارے میں یہ مذکور ہے کہ ان کو پابندی سے پڑھنے والے کا خاتمہ بالخیر ہوگا ان کی اور فضیلتیں
آگے آرہی ہیں۔
ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتیں گھر میں ادا فرمایا
کرتے تھے، درمختار میں لکھا ہے کہ تراویح تو مسجد ہی میں ادا کرنا چاہئے اور اسی طرح معتکف کو بھی
سنتیں مسجد ہی میں ادا کرنا چاہئے۔ البتہ تراویح کے سوا جملہ سنتوں کے بارے میں افضل یہ ہے کہ گھر
میں ادا کی جائیں، ہاں (اگر گھر میں مشغولیت کی وجہ سنتوں کا ادا کرنا دشوار ہے تو سنتوں کو مسجد میں
ادا کرنا چاہئے، اور صحیح ترین قول یہ ہے کہ خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں جہاں کہیں زیادہ خشوع اور زیادہ
اخلاص پیدا ہو وہیں سنتوں کو ادا کرنا چاہئے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ مرقات میں فرماتے ہیں کہ ابن الملک نے کہا ہے کہ اس حدیث سے سنتوں
کا گھر میں ادا کرنا مستحب معلوم ہوتا ہے لیکن علماء سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ ہمارے زمانہ میں سنن مؤکدہ
کی ادائی مسجدوں میں ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہو، اور انہیں عمل کرنے کی ترغیب ہوسکے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”اِدْبَارَ النُّجُومِ“ سے مراد یہ ہے کہ فجر کے فرض سے پہلے دو رکعت
سنت پڑھا کرو، اور ”اَدْبَارَ السُّجُودِ“ سے مراد یہ ہے کہ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت
پڑھا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں خود رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنی ہوں کہ جو شخص ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعتوں کو
(جو سنت مؤکدہ ہیں ایک سلام سے) پڑھے اور فرض کے بعد چار رکعتوں کو (دو سلام سے) پڑھے
(جن میں سے دو سنت مؤکدہ ہیں اور دو سنت غیر مؤکدہ یعنی مستحب ہیں) ان آٹھوں رکعتوں کو جو
پابندی سے پڑھا کرے تو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ اس پر حرام کر دیں گے۔
(اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ آفتاب ڈھل جانے کے بعد ظہر کے فرض سے پہلے
جو چار رکعتیں سنت پڑھی جاتی ہیں ان کا ثواب نماز تہجد کے ثواب کے برابر ہے اور اس وقت یعنی
زوال کے بعد ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے، پھر حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے (سورہ نحل
پ14ع5 کی) یہ آیت (نمبر:48) تلاوت فرمائی ”يَتَفَيَّؤُا ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ
سُجَّدًا لِلّٰهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ” (ہر چیز کے سائے کبھی ایک طرف کو اور کبھی دوسری طرف کو جھکتے
جاتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (یہ عاجزی کے ساتھ) خدا کے آگے سر بسجود ہیں)۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے)
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم زوال آفتاب کے بعد ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت سنت ادا فرماتے اور یہ
ارشاد فرماتے تھے کہ یہ ایسا وقت ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اس لئے
میں چاہتا ہوں کہ اس وقت کوئی نہ کوئی نیک عمل کروں (چونکہ نماز افضل اعمال صالحہ ہے، اس لئے یہ
چار رکعت سنت پڑھتا ہوں) تاکہ یہ آسمان کے دروازوں سے گزر کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش
ہو جائیں۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فرض ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فرض فجر سے پہلے دو رکعتیں (ہمیشہ پڑھتے تھے اور) انہیں کبھی نہ
چھوڑتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ظہر کے فرض سے پہلے کی چار رکعت سنتوں کے لئے جن کے
درمیان میں سلام نہیں ہے، آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔
(اس کی روایت ابو داؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ کے پہلے چار رکعت سنت ادا فرماتے تھے اور ان چار رکعتوں کے درمیان سلام
نہیں پھیرتے تھے (بلکہ ان چاروں رکعتوں کو ایک ہی سلام سے ادا فرما لیا کرتے تھے)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ اور طبرانی نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم جمعہ کے فرض کے بعد سنت پڑھو گے تو چار رکعت (سنت
مؤکدہ ایک سلام سے) پڑھو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
اور مسلم کی دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے
ارشاد فرمایا کہ جب تم جمعہ کے فرض پڑھ لو تو اس کے بعد چار رکعت (سنت ایک سلام سے) پڑھ لیا
کرو (اور یہ سنت مؤکدہ ہیں)۔ (اس کی روایت ابن ماجہ اور ترمذی نے اسی طرح کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 881a (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 881b (unverified) 97% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 523 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1132 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ ان حدیثوں سے استدلال کر کے فرماتے ہیں
کہ جمعہ کے فرض کے بعد صرف چار رکعت سنت مؤکدہ ایک سلام سے ہیں، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ
آگے آنے والی حدیثوں سے استدلال کر کے فرماتے ہیں کہ جمعہ کے فرض کے بعد (6) رکعت سنت
مؤکدہ اس طرح ہیں کہ پہلے چار رکعت سنت مؤکدہ ایک سلام سے پڑھے پھر دو رکعت سنت مؤکدہ
ایک سلام سے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر عمل درآمد ہے۔ (ملتقیٰ۔ مرقات)
ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ
عنہ نے لوگوں کو تعلیم دی تھی کہ وہ جمعہ کے فرض کے بعد چار رکعت سنت (مؤکدہ ایک سلام سے)
پڑھا کریں، اور جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ نے لوگوں کو تعلیم
دی کہ جمعہ کے فرض کے بعد 6 رکعت سنت (مؤکدہ) پڑھا کریں (ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: حضرت علی
رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد ہم کو بہت اچھا معلوم ہوا اور ہم اسی پر عمل کرنا شروع کر دیئے)۔
(اس کی روایت امام طحاوی اور سعید بن منصور نے کی ہے۔)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ جمعہ کے فرض کے
بعد 6 رکعت سنت مؤکدہ اس طرح پڑھا کرو (کہ 4 رکعت ایک سلام سے، پھر دو رکعت ایک سلام
سے)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کی ہے
ترمذی کی ایک اور روایت میں بھی منقول ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
نے جمعہ کے فرض کے بعد دو رکعت پڑھ کر پھر چار رکعت سنتیں ادا فرمائیں۔ مرقات میں لکھا ہے کہ
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
یہ دو رکعتیں جمعہ کی سنتیں نہیں تھیں بلکہ جمعہ کے فرض اور اس کی سنتوں کے درمیان بجائے کلام کرنے
کے بطور نفل یہ دو رکعت آپ نے ادا فرمائے ہیں، یہ عمل حضرت ابن عمر سے خاص ہے۔ جس پر عمل
درآمد نہیں، اس کے بعد حضرت ابن عمر سے چار رکعت سنت کا پڑھنا مروی ہے، مرقات میں یہ بھی لکھا
ہے کہ یہاں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ چار رکعت سنت کے بعد حضرت ابن عمر نے اور دو رکعت
سنت بھی پڑھے ہوں مگر راوی نے اس کا اس لئے ذکر نہیں کیا کہ حضرت ابن عمر سے جو ایک نئی
کیفیت یعنی چار رکعت سنتوں سے پہلے دو رکعت کا پڑھنا منقول ہے اس کو بتانا چاہئے اور چار رکعت
سنت کے بعد پھر دو رکعت سنت کا ادا کرنا چونکہ مشہور تھا اس لئے راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔
سائب بن یزید بن اخت نمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز ان کے مقام حفاظت میں پڑھی اور امام کے سلام
پھیرنے کے بعد (فرض اور سنت کے درمیان فصل کے بغیر) اسی جگہ کھڑے ہو کر سنتیں پڑھیں جہاں
میں نے جمعہ کی فرض نماز ادا کی تھی، تو حضرت معاویہ نے مجھے اندر بلا کر فرمایا کہ دوبارہ ایسا نہ کرنا،
جب جمعہ کی نماز پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملانا (فرض و سنت کے درمیان فصل کرنا
چاہئے) یہ فصل کلام کر کے ہی کیوں نہ ہو (اگرچہ کہ فرض و سنت کے درمیان کلام کرنا مکروہ تنزیہی
ہے) فرض و سنت کے درمیان بہتر فصل یہ ہے کہ جگہ بدل دی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا تھا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عطا و رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ مکرمہ میں جمعہ ادا فرماتے تو آگے بڑھ کر دو رکعت پڑھتے
اور پھر آگے بڑھ کر چار رکعات پڑھتے۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم (ایک دفعہ) بنی عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف فرما ہوئے (ایسے میں مغرب کا وقت
ہو گیا تو) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے (سب کو) اسی مسجد میں نماز مغرب پڑھائی، جب لوگ مغرب
کے فرض سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ مسجد ہی میں سنتیں
ادا کر رہے ہیں (اس پر) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ سنتیں ایسی نمازیں ہیں کہ ان کو
گھروں میں پڑھنا چاہئے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور ترمذی اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1300 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ ان حدیثوں سے استدلال کرتے ہوئے درمختار اور مرقات میں لکھا ہے کہ بجز تراویح کے
اور معتکف کی سنتوں کے تمام سنن اور نوافل کے بارے میں افضل یہ ہے کہ گھر میں ادا کی جائیں اور
بعض آیتوں اور حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع و خضوع ہونا چاہئے اگر گھر میں
خشوع و خضوع نہ ہوتا ہو جیسے اس زمانہ میں مشاہدہ ہے تو خشوع کی آیتوں اور حدیثوں پر عمل کرتے
ہوئے مسجدوں ہی میں سنتوں کا ادا کرنا افضل ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ پر اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں جو عصر کے فرض سے
پہلے چار رکعت پڑھا کرتا ہے (یہ چار رکعت اگرچہ سنت غیر مؤکدہ ہیں مگر یہ بڑی فضیلت کی نماز
ہے)۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم عصر کے فرض سے پہلے چار رکعتیں۔ (ایک سلام سے) پڑھا کرتے تھے اور ان کے
درمیان دو رکعت کے بعد قعدہ کرتے تھے اور قعدہ میں التحیات (یہ ترجمہ مرقات کے لحاظ سے کیا گیا
ہے۔12) پڑھتے تھے جس میں مقربین فرشتوں اور ان کے تبع صالح مسلمین اور مومنین پر سلام مذکور
ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے فرض سے پہلے (کبھی کبھی) دو رکعتیں بھی پڑھی ہیں (مگر عام طور پر چار
رکعت ہی ایک سلام سے پڑھا کرتے تھے، اس لئے عصر کے فرض سے پہلے چار رکعت پڑھنا مستحب
ہے)۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں (ایک دن کا واقعہ
ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے فرض کے بعد دو رکعت اداء فرمائے، ان دو رکعتوں کے
متعلق تحقیق یہ ہے کہ (اس روز) کچھ مال آ گیا تھا (اور اس کو تقسیم کرنا ضروری تھا، اس لئے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کے فرض کے بعد تقسیم شروع فرمائی تقسیم میں اتنی دیر ہوگئی کہ) ظہر کے
بعد کی دو سنتیں آپ اداء نہ کر سکے (یہاں تک کہ عصر کا وقت آ گیا، عصر کی جماعت تیار تھی اس لئے
آپ عصر کے فرض پڑھا دئے) اور ظہر کے بعد کی جو دو سنتیں رہ گئیں تھیں ان کو آپ نے عصر کے
فرض کے بعد اداء فرمائے (پھر اس دن کے سوا عصر کے فرض کے بعد نہ تو یہ سنت اداء فرمائی اور نہ کوئی
اور سنت، اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے سنت کی کبھی قضاء نہیں فرمائی ہے اور نہ عصر کے بعد کوئی نفل
نماز پڑھی ہے اور یہ جو دو رکعت سنت عصر کے فرض کے بعد آپ نے اداء فرمائے ہیں یہ آپ کا خاصہ
تھا اس لئے کوئی اور عصر کے بعد سنت یا نفل نماز نہیں ادا کر سکتا)
اسی واسطے دارقطنی نے روایت کی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے
کہ پھر کبھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو رکعت عصر کے فرض کے بعد ادا فرماتے نہیں دیکھا۔
(صدر کی اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت
عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ جو بھی عصر کے فرض کے بعد دو رکعت نفل پڑھا
کرے اس کو دُرّے مارا کروں (اس سے معلوم ہوا کہ نماز عصر کے بعد اگر نفل کا پڑھنا جائز ہوتا تو
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کا سخت حکم نہیں فرماتے)۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور امام مسلم اور امام مالک نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ
کے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے دریافت کیا کہ کیا آپ میں سے کسی نے (مغرب کی اذان
کے بعد اس کے) فرض سے پہلے (کبھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو رکعت نماز ادا فرماتے
ہوئے دیکھا ہے؟ تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سوا سب امہات المؤمنین نے متفقہ طور پر
جواب دیا کہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا ہے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک دفعہ میرے پاس (مغرب کے فرض سے پہلے) دو رکعتیں پڑھی ہیں،
میں اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کی کہ یہ کونسی نماز ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج میں عصر کے فرض سے پہلے کی دو رکعتوں کو پڑھنا بھول گیا تھا، انہیں
دو رکعتوں کو میں نے اس وقت ادا کیا ہے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔)
حیان بن عبیداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ إِلَّا الْمَغْرِبُ“، یعنی
ہر نماز کی اذان اور اس کی اقامت کے درمیان نماز ہے مگر مغرب کی اذان اور اس کی اقامت کے
درمیان کوئی نماز نہیں۔ اس کی روایت بزار نے کی ہے اور اس حدیث کی سند حسن ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ امام کا نفل کی نیت سے قوم کی امامت کرنا اور قوم کا فرض کی نیت سے اقتداء کرنا ہمیشہ کے لئے ناجائز قرار پایا۔ فرض پڑھنے والے مقتدیوں کا نفل کی نیت سے امام بننا جائز نہ ہونے پر ایک اور دلیل ”صلاۃ خوف“ ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد کئی بار ادا فرمائی ہے۔ پہلے ”صلاۃ خوف“ کو سمجھئے صلاۃ خوف یہ ہے کہ جب کسی دشمن کا سامنا ہو، اور دشمن کے خوف سے سب لوگ مل کر جماعت سے بیک وقت نماز نہ پڑھ سکتے ہوں، مثلاً قصر نماز ہو رہی ہو تو مسلمانوں کے دو حصے کر دیئے جائیں، ایک حصہ دشمن کے مقابلہ میں رہے اور دوسرا حصہ امام کے ساتھ نماز شروع کر دے، جب امام ایک رکعت ختم کر کے دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہونے لگے تو پہلا حصہ دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور دوسرا حصہ جو دشمن کے مقابل تھا وہاں سے آ کر امام کے ساتھ امام کی بقیہ نماز میں شریک ہو جائے اور جب امام ختم نماز پر سلام پھیر دے تو یہ دوسرا حصہ سلام پھیرے بغیر دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور پہلا حصہ جو دشمن کے مقابلہ کو گیا تھا پھر واپس ہو کر اپنی بقیہ نماز لاحق کی طرح بغیر قرأت کے تکمیل کر لے، پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسرا حصہ واپس ہو کر اپنی نماز قرأت کے ساتھ مسبوق کی طرح تکمیل کر لے اور سلام پھیر دے۔ صلاۃ خوف کو سمجھنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احوال جو صلاۃ خوف میں ہوئے ہیں ان پر غور کیجئے کہ آپ نے اکثر غزوات میں جو ہجرت کے بعد ہوئے ہیں، مذکورہ صلاۃ خوف کے طریقہ پر نماز ادا فرمائی ہے، اگر امام نفل کی نیت سے فرض نماز پڑھنے والوں کی امامت کر سکتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصف فوج کو فرض کی نیت سے پوری نماز پڑھا دیتے اور باقی نصف فوج کو دوبارہ نفل کی نیت سے فرض پڑھاتے اور مقتدی فرض کی نیت سے اقتداء کرتے، اس صورت میں نماز کے منافی کوئی حرکت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، ایسا نہ کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض کی نیت سے آدھی فوج کو ایک رکعت اور بقیہ نصف کو جو ایک ایک رکعت پڑھائی، جس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ امام نفل کی نیت سے فرض پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اور اسی کے قائل امام زہری، حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن المسیب، امام نخعی، حضرت ابو قلابہ، حضرت یحییٰ بن سعید انصاری، حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ صلاۃ خوف کے واقعات جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے، ہجرت کے بعد آخری زمانہ کے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول فرما لیا تھا اور ابتدا روزانہ میں ایک ہی نماز کو ایک مرتبہ فرض کی نیت سے ادا کر کے پھر دوبارہ اسی نماز کو نفل کی نیت سے پڑھاتے اور اقتدا کرنے والے فرض کی نیت سے اقتدا کرتے تھے، چونکہ صلاۃ خوف کے واقعات آخری زمانہ کے ہیں اور حضرت معاذ کا واقعہ ابتدائی زمانہ کا ہے اس لئے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا نفل کی نیت سے قوم کو فرض نماز پڑھانے کا منسوخ ہونا صلاۃ خوف سے بھی ثابت ہوتا ہے (طحاوی، عمدۃ القاری اور ابن ہمام)۔