Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1574

(یہ باب رات کی نماز کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب رات کی نماز کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1574Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1811
حمید بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے فرمایا کہ میں (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا (حضور سفر میں ہونے سے حضور کا ہر فعل میری آنکھوں کے سامنے تھا) اس لئے میں نے مصمم ارادہ کر لیا اور دل میں یہ ٹھان لیا تھا کہ آپ کی نماز تہجد کو دیکھوں کہ آپ کس طرح اداء فرماتے ہیں، پھر میں اس پر خود بھی عمل کروں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز اداء فرما لئے تو دیر تک آرام فرماتے رہے پھر بیدار ہوئے اور افق کی طرف نظر فرمائے اور تاروں پر اور آسمان پر جب نگاہ مبارک پڑی تو فرمانے لگے: (3۔ سورہ آل عمران، پ:4، آیت نمبر:191/194) ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! آپ نے اس (کارخانہ عالم) کو بے کار اور بے فائدہ (تو) نہیں بنایا، آپ کی ذات عالی (ایسے فعل عبث کرنے سے) پاک ہے (اور یہ کارخانہ خبر دے رہا ہے کہ آخرت میں نیکی کی جزاء اور بدی کی سزا ہونی ہے) تو اے ہمارے پروردگار ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھئے۔ اے ہمارے پروردگار جس کو آپ نے دوزخ میں ڈالا اس کو (بہت ہی) ذلیل و رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے ایک منادی کرنے والے یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ وہ ایمان کی منادی کر رہے تھے (اور لوگوں کو سمجھا رہے تھے) کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ بس اے ہمارے پروردگار، ہمارے قصور کو معاف فرمائیے اور ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دیجئے اور نیک بندوں کے ساتھ ہمارا خاتمہ بالخیر کیجئے۔ اور اے ہمارے پروردگار جن جن نعمتوں کے وعدے ہم سے آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ فرمائے ہیں وہ ہم کو نصیب فرمائیے اور قیامت کے دن ہمیں ذلیل و رسوا نہ کیجئے۔ کچھ شک نہیں کہ آپ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتے۔ پھر آپ بستر کی طرف جھکے اور بستر کے نیچے سے مسواک کھینچ لئے۔ پھر چھاگل میں سے ایک بڑے کٹورے میں پانی ڈالے اور دانتوں پر مسواک رگڑے (اس کے بعد راوی خاموش ہیں، صاحب
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1625 (unverified) 55% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

مرقات کہتے ہیں کہ یہاں دو احتمال ہیں: ممکن ہے کہ آپ نے دوبارہ وضوء فرمایا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے سابقہ وضوء ہی سے تہجد ادا فرمائی ہو اس لئے کہ نیند سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضوء نہیں ٹوٹتا تھا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات سے ہے) پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز تہجد شروع فرمائی۔ کیا کہوں کہ آپ نے کس قدر نماز ادا فرمائی۔ جتنی دیر تک آپ آرام فرما رہے تھے، اتنی ہی دیر تک آپ نے نماز ادا فرمائی پھر آپ لیٹ گئے اور جتنی دیر آپ نے نماز پڑھی تھی اتنی ہی دیر آپ آرام فرماتے رہے اور پھر بیدار ہوئے (ابھی آپ نے جو کچھ سنا ہے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ سب پھر ادا فرمائے اور وہ سب اذکار بھی پڑھے جن کو آپ نے پہلی بار پڑھا تھا، پھر صبح صادق طلوع ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین بار اسی طرح سوتے اور جاگتے رہے اور (یہی عمل فرماتے رہے)۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)