اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2211
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں (ایک
وقت) عید الاضحی کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا جوں ہی رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عید پڑھ کر فارغ ہوئے اور سلام پھیرے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان قربانیوں کا
گوشت لایا گیا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ذبح کی گئیں
تھیں (یہ دیکھ کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے جو شخص نماز عید پڑھنے سے پہلے قربانی کر
چکا ہو، وہ اس کی بجائے پھر دوسری قربانی کرے (اس لئے کہ نماز عید سے پہلے جو قربانی کی گئی ہے وہ
قربانی ادا نہیں ہوئی) ایک اور روایت میں ہے کہ جو نماز عید کے پہلے قربانی نہیں کیا ہے تو اس کو معلوم
ہونا چاہئے کہ اب نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا وقت ہے، بسم اللہ اب قربانی کرے اور قربانی کے
وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ کہے (یہاں حضور کے دوبارہ قربانی کرنے کے حکم دینے سے معلوم
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Let them slaughter another in its place." Al-Ala al-Qari said: "This is explicit in indicating obligation."
Note 1
(۱) قوله: مكانها أخرى وقال العلي القاري: هذا صريح في الوجوب.
Note 1
ہوا کہ قربانی واجب ہے، اگر قربانی واجب نہ ہوتی تو حضور دوبارہ قربانی کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)