اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2336
عامر الرام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماریوں کا ذکر فرما رہے تھے (اثنائے ذکر میں بیماریوں کی فضیلت اس طرح
بیان فرمائے) کہ جب کوئی مسلمان بیمار ہو جاتا ہے اور بیماریوں کی سختی جھیلنے کے بعد اس کو شفاء
ہو جاتی ہے تو اس بیماری سے اس کے گزشتہ گناہ مٹا دئے جاتے ہیں اور اس کو نصیحت ہوتی ہے، آئندہ
کے لئے (کہ گناہوں کی شامت سے بیماریاں آئی تھیں اللہ کا شکر ہے کہ بیماری سے شفاء ہوگئی اور
گناہ مٹا دئے گئے، آئندہ مجھے گناہ نہ کرنا چاہئے مسلمان کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اس لئے وہ اس
طرح کی نصیحت لیتا ہے) بخلاف منافق کے (کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں) جب وہ بیمار ہو کر اچھا
ہو جاتا ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے کہ جس کو اس کے مالک نے باندھ کر پھر چھوڑ دیا ہو،
وہ نہیں جانتا کہ اس کو کس لئے باندھا تھا اور کس لئے اس کو چھوڑ دیا) (ایسے ہی منافق کو خبر ہی نہیں کہ
کیوں بیمار کیا گیا اور کیوں شفاء دی گئی، نہ گزشتہ گناہوں پر نادم ہوتا اور نہ آئندہ کے لئے اس کو
نصیحت ہوتی ہے سامعین میں سے) ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آپ بیماری کی
فضیلت تو بیان فرما رہے ہیں مگر) مجھے خبر نہیں کہ بیماری کیا چیز ہے، خدا کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا
(حضور کو کشف نبوت سے معلوم ہوا کہ وہ منافق ہے اس لئے) ارشاد فرمایا: تم ہمارے پاس سے
اٹھ جاؤ، معلوم ہوتا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو (بیماری کی میں نے جو فضیلت بیان کی تم اس کا مذاق اڑا
رہے ہو، مسلمان کی یہ شان نہیں ہوتی۔) اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3089 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.