اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2640
حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے قیس بن سعد
رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ مجھے ابوبکر بن محمد ابن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہم کی وہ تحریر لکھ دیجئے
(جس میں اونٹوں کی زکات سے متعلق احکام ہیں) تو وہ ایک کاغذ پر وہ پوری تحریر لکھ کر میرے پاس
لائے اور کہا کہ اس تحریر کو انہوں نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کی تحریر سے نقل کیا ہے اور یہ بھی بتایا
کہ اس تحریر کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر کے دادا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھوا کر دیا
تھا اور اس میں اونٹوں کی زکات کے احکام درج تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم نامہ میں
یہ صراحت موجود تھی کہ جب کسی کے پاس 90 اونٹ ہو جائیں تو 91 سے لے کر 120 اونٹوں تک
دو حقے (یعنی تین تین سال کی دو اونٹنیاں زکات میں ادا کرنا) واجب ہے (اور جب اونٹ 120
سے بڑھ جائیں تو 120 سے 149 اونٹوں کی زکات کی تفصیل ابھی اوپر عمرو بن حزم کی حدیث کے
تحت گزر چکی ہے اور جب اونٹوں کی تعداد بڑھ کر 150 ہو جائے تو ہر پچاس پر ایک حقہ کے حساب
سے تین حقے زکات میں ادا کرنے ہوں گے اور جب اونٹوں کی تعداد 150 سے زائد ہو جائے تو
اونٹوں کی زکات مذکورہ ابتدائی طریقہ پر ادا کی جائے گی وہ اس طرح سے کہ 150 پر تین حقے اور
اس کے بعد) مزید 25 اونٹوں سے کم یعنی 24 تک ہر پانچ پر ایک ایک بکری زکات میں دی جائے
گی۔ اس کی روایت طحاوی نے شرح معانی الآثار میں کی ہے۔