اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2862
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ (رمضان کا) چاند دیکھنے کے لئے
جمع ہوئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی روزہ رکھے اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیئے۔
اس کی روایت ابوداود اور دارمی نے کی ہے اور حاکم نے بھی اس کی روایت کی ہے اور کہا ہے
کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے موافق ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت کی ہے اور ابن حبان نے اس
حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور امام نووی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2342 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1977 (unverified) 85% confidence
Mishkat (candidate) 1977
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "I had seen it." This also indicates that the testimony of one person is accepted for the crescent moon of Ramadan.
Note 1
(۱) قوله : إني رأيته إلخ فيه أيضًا دل على أنه شهادة الواحد مقبولة في هلال رمضان.
Note 1
ف: مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ہلال رمضان کی گواہی ایک شخص بھی دے دے تو اس کی گواہی معتبر ہے۔ اس بارے میں بدایہ، عالمگیری اور اعلاء السنن میں لکھا ہے کہ آسمان پر ابر ہونے سے یا کسی اور وجہ سے رمضان کا چاند دکھائی نہ دے اور ایک عادل یعنی دیندار، پرہیزگار اور سچے آدمی نے گواہی دی کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے تو ایسے شخص کی گواہی قبول کی جائے گی خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس کے برخلاف عید کا چاند مطلع صاف نہ ہونے سے دکھائی نہ دے تو ایسی صورت میں ایک شخص کی گواہی کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ ایسے دو آدمیوں کی گواہی ضروری ہوگی جو معتبر اور پرہیزگار ہوں اور اگر مطلع بالکل صاف ہو تو ایک یا دو آدمیوں کی گواہی معتبر نہ ہوگی، چاہے وہ رمضان کا چاند ہو یا عید کا، بلکہ ایسی صورت میں ایک بڑی تعداد کا چاند کے دیکھنے کے بارے میں گواہی دینا ضروری ہوگا۔12