اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص بغیر عذر یا بیماری کے رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑ دے تو
ساری عمر کے (نفل) روزے بھی اس کی تلافی نہ کرسکیں گے (یعنی اگر کوئی فرض روزہ بغیر کسی عذر
شرعی کے چھوڑ دے تو تمام عمر بھی روزہ رکھ کر اس فرض روزہ کا ثواب حاصل کرنا چاہے تو حاصل نہیں
کرسکتا۔) اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی ابوداود، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
اور بخاری نے بھی اس کی روایت ترجمۃ الباب میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 723 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2396 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1672 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2013 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 2013
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “Will not make up for it…” Al-Tibi said: “This means he will not attain the virtue of the obligatory fast by voluntary fasting, even if the obligation is fulfilled by fasting one day. This is an exaggeration and emphasis, as indicated by the words, ‘even if he fasts it,’ meaning the full fast. Ibn Al-Malik said: ‘Otherwise, there is consensus that he must make up for it by fasting one day.’ This is mentioned in Al-Mirqat.”
Note 1
(۱) قوله : لم يقض عنه إلخ قال الطيبي : أي لم يجد فضيلة الصوم المفروض بصوم النفل وإن سقط قضاءه بصوم يوم واحد. وهذا على طريق المبالغة والتشديد، ولذلك أكده بقوله: «وإن صامه أي حق الصيام. قال ابن الملك: وإلا فالإجماع على أنه يقضي يوما مكانه. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ فرض روزہ کو بلا عذر چھوڑنے پر اس کے بدلہ میں تمام عمر روزہ رکھ کر بھی اس کی تلافی نہیں کی جاسکتی۔ اس بارے میں علامہ طیبی نے کہا ہے کہ نفل روزہ کے ذریعہ سے فرض روزہ کی فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی اور یہ بطور تاکید اور تہدید فرمایا گیا ہے ورنہ فرض روزہ کی قضاء میں ایک ہی دن کا روزہ رکھنا کافی ہے اور اس سے اس شخص کے ذمہ سے فرض روزہ ساقط ہوجائے گا۔ اور مرقات میں ابن الملک کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اگر کسی نے رمضان کے کسی ایک روزہ کو بغیر عذر شرعی چھوڑ دیا تو اس بارے میں اجماع یہ ہے کہ اس ایک دن کے بجائے ایک دن بطور قضاء روزہ رکھے۔12