اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3147
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں
نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما کو ایک دفعہ سورہ فرقان ایسے طریقہ یعنی قرأت کے خلاف
پڑھتے ہوئے سنا جس طریقہ یعنی قرأت پر میں پڑھا کرتا تھا۔ اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے
(اس قرأت سے) یہ سورت سورہ فرقان پڑھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں اس معاملہ میں ان سے الجھ
پڑوں لیکن میں نے سکون سے کام لیا۔ اور ان کو مہلت دی یہاں تک کہ انہوں نے اس سورت کو ختم
کر لیا (جو نہی انہوں نے اپنی قرأت ختم کی) میں نے ان کے گلے میں ان کی چادر ڈال کر کھینچتا ہوا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ ہشام سورۂ فرقان
اس طریقہ کے خلاف پڑھتے ہیں جس طریقہ سے آپ نے مجھے اس کی قرأت سکھائی ہے یہ سن کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا: ان کو چھوڑ دو اور حضرت ہشام سے فرمایا: پڑھو تو
انہوں نے سورۂ فرقان کی اس طرح قرأت کی جس طرح میں ان سے پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ حضرت
ہشام کی قرأت سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ سورت اسی قرأت پر نازل کی گئی ہے تو
پھر حضور نے مجھ سے ارشاد فرمایا اے عمر! اب تم پڑھو تو میں نے اس سورت کو اس طریقہ سے پڑھا
جس طریقہ سے مجھے حضور نے سکھائی تھی تو حضور نے مجھ سے سن کر یہی فرمایا کہ یہ سورت اسی طرح
اتاری گئی ہے پھر ارشاد فرمایا: سنو! قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے لہذا تم کو ان سات
متواتر قرأتوں میں سے جس قرأت سے پڑھنا آسان ہو پڑھ لیا کرو۔ اس کی روایت بخاری اور
مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور اس حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4992 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 818a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(3) His statement: "So recite, etc." That is, from the types of recitations. This was mentioned in Al-Marqat, compiled from it.
Note 1
(1) His statement: "In seven different modes, etc." It is permissible with the seven narrations, and even with the ten, as stated in Asl al-Usul. However, it is preferable not to recite rare narrations among the common people to safeguard their religion, meaning rare narrations and inclinations, as some fools say what they do not know, falling into sin and misery. Imams should not burden the common people with what diminishes their religion. They should not recite among them like the recitations of Abu Jafar, Ibn Amir, Ali ibn Hamza, and Al-Kisai to protect their religion, lest they mock or laugh, even though all recitations and narrations are correct and eloquent. Our scholars chose the recitation of Abu Amr and Hafs from Asim. This is from Al-Tatarkhaniyyah, from Fatawa al-Hujjah, as mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar. He ordered its writing, but it was scattered on parchments and the like. Abu Bakr ordered its copying from one place to a collected place, like papers found in the Prophet’s house with the Qur'an dispersed, which a compiler gathered and tied with a thread so nothing would be lost. This is in Al-Itqan. Al-Marqat and Umdat al-Qari, compiled from them.
Chapter-heading commentary
(۳) قوله: فاقرؤوا إلخ : أي من أنواع القراءات. «مرقاة» ملتقط منه.
Note 1
(۱) قوله : على سبعة أحرف إلخ: ويجوز بالروايات السبع، بل يجوز بالعشر أيضًا، كما نص عليه أصل الأصول»، لكن الأولى أن لا يقرأ بالغريبة عند العوام صيانة لدينهم، أي بالروايات الغريبة والإمالات؛ لأن بعض السفهاء يقولون ما لا يعلمون، فيقعون في الإثم والشقاء، ولا ينغي للأئمة أن يحملوا العوام على ما فيه نقصان دينهم، ولا يقرأ عندهم مثل قراءة أبي جعفر وابن عامر وعلي بن حمزة والكسائي صيانة لدينهم، فلعلهم يستخفون أو يضحكون وإن كان كل القراءات والروايات صحيحة فصيحة، ومشايخنا اختاورا قراءة أبي عمرو وحفص عن عاصم انتهى من التتارخانية عن فتاوى الحجة، هكذا في الدر المختار» و«رد المحتار».فإنه كان يأمر بكتابته، ولكنه كان مفرقًا في الرقاع ونحوها، وإنما أمر الصديق بنسخها من مكان إلى مكان مجتمعا، وكان ذلك بمنزلة أوراق وجدت في بيت رسول الله ، فيها القرآن منتشرا، فجمعها جامع، وربطها بخيط حتى لا يضيع منها شيء. كذا في «الإتقان». «مرقاة» و «عمدة القاري» ملتقط منهما.
Note 1
ف: واضح ہو کہ قرآن کے سات (7) حروف پر نازل ہونے سے مراد یہ ہے کہ قرآن سات قرأتوں پر نازل ہوا ہے اس لئے اہل اصول نے لکھا کہ قرآن شریف سات متواتر قرأتوں بلکہ دس قرأتوں سے بھی پڑھا جا سکتا ہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ عوام میں انتشار پیدا ہونے کے خوف سے قرآن ان غیر معروف قرأتوں سے عوام کے سامنے نہ پڑھا جائے چنانچہ ہمارے اسلاف نے حضرت عاصم کی قرأت کو حضرت ابوعمرو حفص کی روایت سے لیا ہے اور یہی عوام میں رائج ہے۔ (ماخوذ از: در مختار اور رد المحتار)