اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4708
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو طفیل بن عمرو دوسی نے بھی آپ ﷺ کی طرف ہجرت کی۔ اور
ان کے ساتھ ان کی قوم کا ایک آدمی (بھی) تھا جو بیمار ہو گیا۔ پھر اس نے بیقرار ہو کر اپنے تیر کی
پیکان لی اور اپنی انگلیوں کے جوڑ کو کاٹ لیا۔ اور اس کے دونوں ہاتھوں سے خون بہنے لگا؛ یہاں تک
کہ وہ مر گیا۔ پھر طفیل بن عمروؓ نے اس کو خواب میں دیکھا کہ اس کی حالت اچھی ہے اور دیکھا کہ وہ
اپنے دونوں ہاتھوں کو ڈھانکے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پروردگار نے تمہارے
ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرنے کی
وجہ سے میری مغفرت فرما دی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے میں تم کو اپنے دونوں ہاتھ ڈھانکے
ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ اس شخص نے کہا: مجھ کو کہا گیا ہے جو تم نے اپنے سے بگاڑ دیا ہے ہم اس کو ہرگز درست
نہیں کریں گے۔ چنانچہ حضرت طفیلؓ نے (یہ) قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! اس کے دونوں ہاتھوں کو بخش دے“۔ 13 (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 116 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “O Allah, forgive his hands as well”: Al-Turbashti said: Although this Hadith mentions a dream seen by a companion for reflection on its interpretation, the Prophet’s (ﷺ) statement, “O Allah, forgive his hands as well,” is among the narrations we mentioned indicating that eternity does not apply to one who utters the testimony of faith, even if he kills himself. For the Prophet (ﷺ) prayed for forgiveness for the one who harmed himself, and it is not permissible for him to seek forgiveness for one destined for eternal punishment, as he was prohibited from doing so. So it is in (Al-Mirqat).
Note 1
(١)قوله: اللهم وليديه فاغفر: قال التوربشتي: هذا الحديث وإن كان فيه ذكر رؤيا أريها الصحابي للاعتبار بما يؤولتعبيره، فإن قول النبي ﷺ: (اللهم وليديه فاغفر) من جملة ما ذكرنا من الأحاديث الدالَّة على أن الخلود غير واقع فيحق من أتى بالشهادتين، وإن قتل نفسه؛ لأن نبي اللهﷺ دعا للجاني على نفسه بالمغفرة، ولا يجوز في حقه أنيستغفر لمن وجب عليه الخلود بعد أن نهى عنه، كذا في (المرقاة)