Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 359

(8) بَابُ آدَابِ الْخَلَاءِ (بیت الخلاء کے آداب کا بیان)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(8) بَابُ آدَابِ الْخَلَاءِ (بیت الخلاء کے آداب کا بیان)

Zujajat al-Masabih 359Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 394Noor 395
عبدالرحمٰن بن اسود رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے نکلے اور مجھے حکم دیا کہ تین پتھر لے آؤ، مجھے دو پتھر ملے میں نے تیسرا پتھر تلاش کیا تو نہیں ملا تو میں خشک لید (خشک گوبر یا مینگنی) لے لیا اور تینوں کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دو پتھر لے لئے اور لید کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ نجس ہے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے)۔ طحاوی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت کی ہے اور کہا ہے کہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 42 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں دو پتھر سے طہارت کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

Note 2

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جگہ قضائے حاجت کے لئے تشریف رکھے تھے کہ جہاں پتھر نہ تھے، اسی لئے آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دوسری جگہ سے تین پتھر لانے کے لئے فرمایا تھا اور اگر اس جگہ پر کچھ پتھر ہوتے تو آپ کو اس کی احتیاج نہ ہوتی کہ دوسری جگہ سے پتھر منگوائیں اور جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک خشک لید لے آئے تو لید کو پھینک دیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے دو ہی پتھر استعمال فرمائے اور جس طرح تین پتھر سے طہارت ہو جاتی ہے اسی طرح دو سے بھی ہو جاتی ہے، اور اگر دو پتھر سے طہارت کرنا کافی نہ ہوتا اور تین کا لینا ضروری ہوتا تو آپ دو پر اکتفاء نہ فرماتے، ورنہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ تیسرا تلاش کریں، جب آپ نے تیسرے کی تلاش کا حکم نہیں دیا تو معلوم ہوا کہ دو پر اکتفاء کرنا جائز ہے اور طاق ہونا ضروری نہیں۔12