ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء کو جائے تو قبلہ کی جانب رُخ کرے نہ پشت، بلکہ
مشرق کی طرف یا مغرب کی جانب رُخ کرے۔ (بخاری اور مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔)
اس لئے کہ عطاء بن یزید لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو ایوب رضی اللہ
عنہ نے فرمایا کہ ہم ملک شام کو آئے تو بیت الخلاء ایسے بنے ہوئے پائے کہ جن کا رُخ قبلہ کی طرف
تھا، ہم قبلہ کی طرف سے رُخ پھیر لیتے تھے اور استغفار کیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور
طحاوی نے کی ہے)۔
And the saying of Allah, the Almighty: "In it are men who love to purify themselves, and Allah loves those who purify themselves." (Quran, Surah At-Tawbah, 9:108)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 394 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 264a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
do not face the Qibla nor turn your back to it
(1) The phrase "do not face the Qibla nor turn your back to it" has been a point of difference among scholars regarding whether this prohibition is absolute or conditional. Imam Abu Hanifa (may Allah have mercy on him) held that the prohibition is general, meaning it is not permissible to face or turn one's back to the Qibla, neither in buildings nor in open fields. This view is based on a principle that the rulings of Sharia are generally based on a reason, except in rare cases where no reason is known, although even in those cases, there is usually an underlying reason. Thus, the prohibition against facing or turning one's back to the Qibla is considered to apply equally in both enclosed spaces and open areas.
As for those who disagree with this opinion, they have provided responses to the narrations that go against it. Imam Al-Shafi'i (may Allah have mercy on him) agreed that the prohibition is based on reasoning, but he said that facing or turning one's back is the same, and since the Prophet (peace be upon him) permitted facing the Qibla in some cases, this implies that turning one's back to it should also be permitted in similar circumstances. Therefore, he suggested reconciling the narrations by restricting the prohibition to open fields and permitting it in enclosed spaces, such as buildings. This is based on his principle of restricting the general to the specific.
Imam Ahmad ibn Hanbal (may Allah have mercy on him) did not extend the ruling to other cases, but rather he allowed turning one's back in some situations based on the actions of the Prophet (peace be upon him), while maintaining the prohibition in other cases.
The general principle in Islamic jurisprudence is that rulings should be based on reasoning, and so the prohibition against facing or turning one's back to the Qibla is justified. Imam Shafi'i reconciled the narrations by restricting the general ruling to open areas, while permitting it in buildings, in line with his method of restricting the general ruling.
Moreover, Abu Ayub al-Ansari's (may Allah be pleased with him) actions align with the Hanafi view, as he sought forgiveness when he found latrines facing the Qibla in the Levant. He would not have done so unless he understood the prohibition to be general. His seeking forgiveness was a silent act of repentance, not something verbally stated, as it occurred at the moment he realized the position he was in. This explanation is found in "Al-Kawkab al-Durri."
Note 1
قوله
(۱) قوله: فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها اختلفوا فيما بينهم في كون هذا النهي مطلقا أو مقيدا، فقال الإمام الهمام أبو حنيفة المقدام : إن النهي عام، فلا يجوز الاستقبال والاستدبار مطلقا، لا في البنيان ولا في الفيافي. وهذا مبني على أصل له، وهو أن أحكام الشرع معللة إلا نادرًا؛ حيث لم يعلم لنا علة، وإن كان في نفس الأمر معللا أيضًا، فالنهي عن استقبال القبلة واستدبارها مبني على علة تعم الكنف والفيافي. وأجابوا عن الأحاديث التي وردت على خلاف ذلك بأجوية. والشافعي الله فقد علَّل النهي كما عللنا، غير أنه قال: الاستقبال والاستدبار كلاهما سواء، ولكن النبي ﷺ لما رخص في الاستقبال بفعله لزم الترخص في الاستدبار أيضًا؛ لاستوائهما، فوجب الجمع بين الروايات بحمل النهي على الفيافي، والإجازة على الكنف، فيجوز استقبال القبلة واستدبارها عند قضاء الحاجة في البنيان، فهذا ناشئ على أصله من حمل المطلق على المقيد، ولكنا لما لم نقل به أجرينا المطلق على إطلاقه.
وأما أحمد بن حنبل فلم يتصرف في الحكم بتعديته إلى غيره، بل أخرج الاستدبار عن عموم النهي بفعله ، وأبقى سائر الصور تحت النهي والحاصل أن الأصل في الأحكام لما كان أن يعلل وجب تعليل النهي الوارد في ذلك، فسوينا الاستقبال والاستدبار بين الصحراء والبنيان وفعل الشافعي كذلك، غير أنه حمل المطلق على المقيد، فأخرج الكنف. وكل منا ومنهم يفتقر إلى الجواب عما يخالف مذهبه، ولم يستثن ابن حنبل غير الصورة الواحدة فقط؛ جريا على أصله المذكور من عدم التعليل. وأنت تعلم أن رأي أبي أيوب الراوي يوافق رأي الحنفية؛ حيث استغفر في استقبال مراحيض الشام، ولولا أنه عم النهي عنده لما فعل ذلك. وكان استغفاره لما يقع في أول وهلة من جلوسه من استقبال القبلة. وكان استغفاره هذا بقلبه؛ إذ ليس ذاك بمقام تكلم، أو يكون ثمه بقلبه ، ثم بعد الخروج منه بلسانه. كذا في الكوكب الدري».
Note 1
(یہ مسئلہ خاص مدینہ والوں کے لئے ہے اس لئے کہ ان کا قبلہ رُخ جنوب کی جانب ہے اور ہم
ہندوستانیوں کے لئے حکم یہ ہوگا کہ ہم اپنا رُخ اور پشت نہ مغرب کی طرف کریں اور نہ مشرق کی طرف)
شیخ امام صدر الشریعہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث ہمارے نزدیک عام ہے کہ جنگل اور آبادی دونوں
جگہ قبلہ کی جانب رُخ اور پیٹھ کرنا حرام ہے۔)
Note 2
ف: بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا دونوں حرام ہیں، خواہ گھروں کے اندر بیت
الخلاء ہوں یا جنگل میں حاجت کے لئے بیٹھ رہے ہوں، دونوں کا حکم ایک ہے۔ یہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا
مذہب ہے، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کی جانب رُخ کرنا اور اسی
طرح پیٹھ کرنا جائز ہے جبکہ بیت الخلاء گھروں کے اندر ہو، البتہ اگر جنگل میں رفع حاجت کے لئے
بیٹھیں تو قبلہ کی جانب رُخ کرنا یا پیٹھ کرنا دونوں اس حالت میں جائز نہیں ہیں۔ اور امام احمد بن حنبل
رحمہ اللہ علیہ کے پاس یہ حکم ہے کہ رفع حاجت کے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا جائز ہے گھروں کے بیت
الخلاء میں ہو یا جنگل میں، رہا قبلہ کی طرف رُخ کرنا کسی حالت میں ان کے پاس جائز نہیں، لیکن
درحقیقت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے کلام سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ رفع حاجت
کے وقت قبلہ کی طرف رُخ کرنے یا پیٹھ کرنے کی ممانعت گھروں یا جنگل دونوں صورتوں میں عام نہ
ہوتی تو ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیت الخلاء میں جو قبلہ رُخ تھے رفع حاجت کے لئے بیٹھتے وقت قبلہ
سے نہ تو اپنے رُخ کو پھیرتے اور نہ استغفار ہی کرتے، واضح ہو کہ استغفار دل سے ہوتا تھا کیونکہ ان
مقامات میں زبان سے استغفار نہیں کیا جا سکتا یا یوں ہوتا تھا کہ بیت الخلاء میں دل سے استغفار کرتے
اور نکلنے کے بعد زبان سے استغفار کرتے۔12
رافع بن اسحاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابوایوب انصاری
رضی اللہ عنہ کو انہوں نے مصر میں یہ کہتے سنا کہ بخدا میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان بیت الخلاؤں کو کیا
کروں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء کو جائے یا
پیشاب کو تو قبلہ کی جانب نہ تو منہ کرے اور نہ پیٹھ۔ (اس کی روایت نسائی اور طحاوی نے کی ہے۔)
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قضاء حاجت کے وقت ہم کو
قبلہ رُخ ہونے کی ممانعت کی گئی ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور مسلم نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے۔)
اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
بول و براز کے وقت قبلہ رُخ رہنے سے منع فرمایا ہے۔ (اس کی روایت بزار اور سعید بن منصور نے کی
ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں کہ تمہاری تعلیم اور تربیت کرتا ہوں پس جب تم میں سے کوئی
بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب نہ تو منہ کرے اور نہ پیٹھ کرے اور دائیں ہاتھ سے طہارت نہ کرے۔ (اس
کی روایت امام احمد، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان اور طحاوی نے کی ہے۔)
عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے
روایت کیا ہے کہ ان سے ایک شخص نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تمہارے حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) تم کو تعلیم
دیتے ہیں یہاں تک کہ تم کو اس بات کی بھی تعلیم دی ہوگی کہ تم بیت الخلاء کو کس طرح جاؤ، ان صحابی نے
اس شخص سے کہا کہ ہاں اگرچہ تم اعتراض کرتے ہو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی باتوں کی تعلیم
دیتے ہیں، آپ نے ہم کو منع فرمایا ہے کہ جب ہم میں سے کوئی بیت الخلاء کو جائے تو قبلہ رخ نہ
رہے۔ (اس کی روایت طحاوی، مسلم اور امام احمد نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جو شخص بیت الخلاء میں قبلہ کی جانب نہ رُخ کرے اور نہ پیٹھ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی
لکھی جاتی ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ (طبرانی نے اس کی روایت اوسط میں کی ہے اور
اس کی سند حسن ہے۔)
ابو مجلز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
مسجد کی جانب پیشاب کرنے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں
بطور مرسل کی ہے۔)
مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
مساجد کے دروازوں پر پیشاب کرنے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے اپنی
مراسیل میں بطور مرسل کی ہے)۔
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب
بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو فرماتے ”اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ“۔
اے اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں ناپاک نر اور مادہ جنوں سے۔ (بخاری اور مسلم نے اس کی
روایت کی ہے۔)
زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پاخانے ایسے ہیں جن میں شیاطین حاضر رہتے ہیں لہذا جب تم میں سے کوئی شخص
بیت الخلاء جائے تو یہ دعا پڑھے ”أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ“ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں
ناپاک نر اور مادہ خبیثوں سے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: بِسْمِ اللّٰهِ، جنات کی آنکھوں اور بنی آدم کی شرمگاہ کے درمیان پردہ بسم اللہ کہنے سے پڑتا ہے
،جب کوئی بیت الخلاء میں داخل ہو تو بِسْمِ اللّٰهِ کہے۔(اس کی روایت امام احمد، نسائی نے کی ہے)۔
اور طبرانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلتے تو فرمایا کرتے ”غُفْرَانَكَ“ اے اللہ! تیری مغفرت چاہتا ہوں
۔(اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت
الخلاء سے نکلتے تو فرماتے ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَذْهَبَ عَنِّي الْاَذٰى وَ عَافَانِيْ“ سب تعریف
اللہ کے لئے ہے جس نے مجھ سے تکلیف کو دور فرمایا اور مجھے عافیت دی۔(اس کی روایت ابن ماجہ
نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم علیہ
الصلوٰۃ والتسلیم کا گزر دو قبروں پر سے ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور عذاب
کسی ایسی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے جس کا کرنا دشوار تھا (کیوں کہ اگر وہ بچنا چاہتے تو آسانی سے بچ سکتے
تھے) ان میں سے ایک تو پیشاب سے نہیں بچتا تھا (یعنی اس بات کی احتیاط نہ کرتا تھا کہ پیشاب کے
چھینٹے نہ پڑیں) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ پیشاب سے احتیاط نہ کرتا تھا اور دوسرا چغلخوری
کرتا پھرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک ہری ڈالی منگوا کر اس کے دو حصے کئے اور ہر ایک ٹکڑا ہر قبر پر گاڑ دیا،
لوگوں نے عرض کیا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ارشاد ہوا: اُمید ہے کہ ان کے سوکھنے تک عذاب میں
تخفیف ہو جائے گی۔ (بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر اس کی روایت کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: کہ تم ایسی دو چیزوں کے بارے میں احتیاط کرو جن کے سبب سے لعنت کی جاتی ہے، صحابہ نے
عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کیا ہیں جن کے سبب سے لعنت کی جاتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: وہ جو پیشاب یا پاخانہ کرتا ہے لوگوں کے راستہ میں یا ان کے سایہ لینے کی جگہ میں۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: ان تین چیزوں سے بچو جن کے سبب سے لعنت کی جاتی ہے، پاخانہ کرنا نہر اور چشموں کے
گھاٹ پر یا سڑکوں پر اور سایہ کی جگہ پر۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ پی رہا ہو تو برتن میں سانس نہ لے (بلکہ برتن کو منہ سے علیحدہ کر کے
سانس لے) اور جب بیت الخلاء کو جائے تو داہنے ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہ چھوئے اور نہ اپنے داہنے
ہاتھ سے طہارت کرے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ پیشاب کرتے وقت تم میں سے کوئی شخص ہرگز اپنی شرمگاہ کو سیدھے ہاتھ سے نہ پکڑے اور نہ
سیدھے ہاتھ سے طہارت کرے اور نہ پانی پیتے وقت پانی کے برتن میں سانس چھوڑے۔ (اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب کوئی تم میں سے طہارت کرے تو سیدھے ہاتھ سے طہارت نہ کرے (بلکہ) بائیں ہاتھ
سے طہارت کرے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدھا ہاتھ
، پاک کاموں اور کھانے کے لئے مخصوص تھا اور بایاں ہاتھ طہارت اور دیگر ایسی چیزوں کے لئے
مخصوص تھا جس سے طبیعت کو ناگواری ہوتی ہے۔ (جیسا کہ ناک صاف کرنا وغیرہ۔) (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 33 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مسلمانوں کو چاہئے کہ آداب شریعت سے واقف ہوں، ان کی رعایت رکھیں اور ان سے
غفلت نہ برتیں، اس زمانہ میں لوگوں نے بعض عجیب اطوار اختیار کر رکھے ہیں، جن میں سے ایک یہ
ہے کہ کتاب بائیں ہاتھ میں لیتے ہیں اور جوتی دائیں ہاتھ میں، حالانکہ یہ خلاف سنت ہے۔12
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق مرتبہ لگائے اور جس نے اس طرح کیا تو اس نے (امر) مستحب ادا
کیا اور جس نے طاق مرتبہ نہ لگایا تو کوئی مضائقہ نہیں۔
جو شخص طہارت کے لئے ڈھیلے لے تو طاق عدد ڈھیلے لے اور جس نے طاق عدد ڈھیلے لئے تو
اس نے مستحب (امر) ادا کیا اور جس نے طاق عدد ڈھیلے نہ لئے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
اور جو شخص کھانا کھائے اور خلال کے ذریعہ دانتوں کے درمیان سے کچھ نکالے تو اسے پھینک
دے اور جو کچھ زبان کے ذریعہ سے نکالے تو اُسے نگل جائے جس نے ایسا کیا تو اس نے اچھا کیا اور
جس نے ایسا نہ کیا تو کچھ مضائقہ نہیں۔
اور جو شخص قضائے حاجت کے لئے جائے تو پردہ کرے، اگر کوئی دیوار وغیرہ پردے کے لئے نہ
پائے تو وہ ریت کا تودہ پیٹھ کے پیچھے (ستر کے لئے) جمع کرے، کیوں کہ شیطان انسان کی شرمگاہوں
سے کھیلتا ہے (کہ اگر وہ رفع حاجت کے موقع پر پردہ نہ کریں تو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ
وہ شرمگاہوں کو دیکھیں) جس نے اس طرح کیا تو اچھا کیا اور جس نے ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔
(اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم طہارت کے لئے ڈھیلے لیتے ہو تو طاق عدد لیا کرو (اس کی روایت نسائی
نے کی ہے، نسائی نے کہا کہ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایک پتھر یا ایک ڈھیلے سے بھی طہارت
کرنے کی اجازت ہے۔)
عبدالرحمٰن بن اسود رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے
عبداللہ بن مسعود کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے نکلے اور مجھے
حکم دیا کہ تین پتھر لے آؤ، مجھے دو پتھر ملے میں نے تیسرا پتھر تلاش کیا تو نہیں ملا تو میں خشک لید (خشک
گوبر یا مینگنی) لے لیا اور تینوں کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دو پتھر
لے لئے اور لید کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ نجس ہے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے)۔
طحاوی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت کی ہے اور کہا ہے کہ
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں دو پتھر سے طہارت کرنے کی اجازت ملتی ہے۔
Note 2
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جگہ قضائے حاجت کے لئے تشریف
رکھے تھے کہ جہاں پتھر نہ تھے، اسی لئے آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دوسری جگہ سے تین
پتھر لانے کے لئے فرمایا تھا اور اگر اس جگہ پر کچھ پتھر ہوتے تو آپ کو اس کی احتیاج نہ ہوتی کہ دوسری
جگہ سے پتھر منگوائیں اور جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک خشک لید لے آئے تو لید کو پھینک دیا،
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے دو ہی پتھر استعمال فرمائے اور جس طرح تین پتھر سے طہارت
ہو جاتی ہے اسی طرح دو سے بھی ہو جاتی ہے، اور اگر دو پتھر سے طہارت کرنا کافی نہ ہوتا اور تین کا لینا
ضروری ہوتا تو آپ دو پر اکتفاء نہ فرماتے، ورنہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ تیسرا تلاش
کریں، جب آپ نے تیسرے کی تلاش کا حکم نہیں دیا تو معلوم ہوا کہ دو پر اکتفاء کرنا جائز ہے اور طاق
ہونا ضروری نہیں۔12
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ خشک لید اور ہڈیوں سے طہارت مت کرو، اس لئے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی
غذا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے) اور نسائی نے ”زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ“ یعنی تمہارے
بھائی جنوں کی خوراک ہے کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔
رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے رویفع! میرے بعد تمہاری زندگی دراز ہو تو تم لوگوں سے کہہ دینا
کہ جس نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی (یعنی اس کو تکلف سے گھونگرو والے بنائے یا داڑھی چڑھائی) یا
گھوڑوں (کو نظر بد سے بچانے کے لئے) ان کے گلوں میں تانت ڈالے یا کسی جانور کے پاخانہ سے
یا ہڈی سے طہارت کرے تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس سے بیزار ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور
نسائی نے کی ہے اور نسائی کی سند حسن ہے۔)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب جنوں کا وفد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان جنوں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنی
امت کو فرما دیجئے کہ وہ ہڈی، لید اور کوئلہ سے طہارت نہ کریں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں ہمارا
رزق رکھا ہے، اس بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ان کے استعمال سے منع فرما دیا۔ (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
مینگنیوں یا ہڈیوں کے ذریعہ طہارت لینے سے ممانعت فرمائی ہے۔
(اس کی روایت امام احمد، مسلم، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا اور اس کے بعد مٹی سے طہارت لی
پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ہم کو ایسی ہی تعلیم دی گئی ہے۔
(اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں اور ابونعیم نے حلیہ میں کی ہے۔)
(1) Then he wiped his private part with the dust, and then turned to us and said: "This is how we were taught."
In Nail al-Awtar: From Aisha: The Messenger of Allah ﷺ said: "When any of you goes to relieve himself, let him cleanse with three stones, for this will suffice him." [Narrated by Ahmad, al-Nasa'i, Abu Dawood, and al-Daraqutni] He said: "Its chain of transmission is authentic and good." It also says: "This will suffice him," meaning it is enough, and this is evidence for those who say that using stones alone suffices and that using water is not obligatory. This is the opinion of the Shafi'i and Hanafi schools of thought. It was also said by Ibn Zubayr, Sa'ad ibn Abi Waqqas, Ibn al-Musayyib, and Ataa.
Since it has been established that using stones alone for purification at times of relieving oneself is sufficient, and since the private part after urination also requires purification based on legal proofs, like the saying: "Keep yourselves clean from urine," and there is no mention of washing with water, it is concluded that purifying with stones is also permissible in the case of urination, as stated in the commentary of Ihya' al-Sunan.
Note 2
(2) [Narrated by al-Tabarani, and in it is Ruh bin Junah, who is disputed among scholars. Some have authenticated him, as mentioned in Tahdhib al-Tahdhib and Mizan al-I'tidal, and thus the narration remains unaffected by criticism.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ثم مسح ذكره بالتراب إلخ: وفي نيل الأوطار: عن عائشة: أن رسول الله ﷺ قال: إذا ذهب أحدكم إلى الغائط فليستطب بثلاثة أحجار؛ فإنها تجزئ عنه. رواه أحمد والنسائي وأبو داود والدارقطني. وقال: إسناده صحيح حسن. وفيه أيضًا: وقوله : فإنها تجزئ عنه أي تكفيه، وهو دليل لمن قال بكفاية الأحجار وعدم وجوب لاستنجاء بالماء. وإليه ذهبت الشافعية والحنفية. وبه قال ابن الزبير وسعد بن أبي وقاص وابن المسيب وعطاء. اهـ
ولما ثبت كفاية الاستنجاء بالحجر فقط في موضع الغائط في بعض الأوقات، وكان موضع البول أيضًا نجسا تجب طهارته بالدلائل الشرعية، كقوله :: استنزهوا من البول. ولم يغسله بالماء، ثبت أيضًا جواز طهارة موضع البول الأحجار. قاله في تعليق إحياء السنن».
Note 2
قوله
(۲) قوله: رواه الطبراني وفيه روح بن جناح، وهو مختلف فيه، ووثقه بعضهم، كما في «تهذيب التهذيب» و«ميزان لاعتدال»، فسلم الأثر من الجرح.
Note 1
ف: نیل الاوطار میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کو جائے تو تین پتھروں سے طہارت کرے اور یہ تین پتھر اس کے لئے
پانی کے بدلے کافی ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد، نسائی، ابوداؤد اور دارقطنی نے کی ہے اور نیل
الاوطار میں لکھا ہے کہ اس کی اسناد صحیح حسن ہے۔)
نیل الاوطار میں مزید صراحت کی ہے کہ اس حدیث کے اس قول (فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ أَيْ
تَكْفِيهِ) طہارت کے لئے پانی کے بدلے میں تین پتھر کافی ہیں) حنفی اور شافعی حضرات کی دلیل ہے کہ
ڈھیلوں سے طہارت کافی ہے اور پانی سے طہارت کرنا ضروری نہیں، چنانچہ عبداللہ بن زبیر، سعد بن
ابی وقاص، سعید بن المسیب اور عطاء رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے، جب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاخانہ
کے لئے بعض اوقات صرف ڈھیلوں سے طہارت کافی ہے تو بالکل اسی طرح پیشاب سے طہارت کے
لئے صرف ڈھیلے کا استعمال کافی ہو جاتا ہے کیونکہ ارشاد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم ہے (”اِسْتَنْزِهُوْا مِنَ
الْبَوْلِ“ پیشاب کے بعد طہارت کیا کرو) جب آپ نے پیشاب کے بعد پانی سے طہارت نہیں فرمائی اور
صرف ڈھیلوں پر اکتفا کیا تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ پیشاب کی طہارت کے لئے ڈھیلا کافی ہے۔12
واضح ہو کہ یہ بحث پیشاب اور پاخانہ کی طہارت کے لئے پانی کے بدلے صرف ڈھیلوں کے
کافی ہونے کے ثبوت میں تھی اور مزید پانی سے طہارت کرنے کا تفصیلی بیان آئندہ حدیثوں میں آ رہا
ہے۔
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب
رضی اللہ عنہ، پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد اپنی شرمگاہ کی ’پتھر یا کسی اور چیز سے طہارت کرتے اور
جب وضو کرتے تو شرمگاہ کو پانی سے نہیں دھوتے تھے۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The phrase "do not face the Qibla nor turn your back to it" has been a point of difference among scholars regarding whether this prohibition is absolute or conditional. Imam Abu Hanifa (may Allah have mercy on him) held that the prohibition is general, meaning it is not permissible to face or turn one's back to the Qibla, neither in buildings nor in open fields. This view is based on a principle that the rulings of Sharia are generally based on a reason, except in rare cases where no reason is known, although even in those cases, there is usually an underlying reason. Thus, the prohibition against facing or turning one's back to the Qibla is considered to apply equally in both enclosed spaces and open areas. As for those who disagree with this opinion, they have provided responses to the narrations that go against it. Imam Al-Shafi'i (may Allah have mercy on him) agreed that the prohibition is based on reasoning, but he said that facing or turning one's back is the same, and since the Prophet (peace be upon him) permitted facing the Qibla in some cases, this implies that turning one's back to it should also be permitted in similar circumstances. Therefore, he suggested reconciling the narrations by restricting the prohibition to open fields and permitting it in enclosed spaces, such as buildings. This is based on his principle of restricting the general to the specific. Imam Ahmad ibn Hanbal (may Allah have mercy on him) did not extend the ruling to other cases, but rather he allowed turning one's back in some situations based on the actions of the Prophet (peace be upon him), while maintaining the prohibition in other cases. The general principle in Islamic jurisprudence is that rulings should be based on reasoning, and so the prohibition against facing or turning one's back to the Qibla is justified. Imam Shafi'i reconciled the narrations by restricting the general ruling to open areas, while permitting it in buildings, in line with his method of restricting the general ruling. Moreover, Abu Ayub al-Ansari's (may Allah be pleased with him) actions align with the Hanafi view, as he sought forgiveness when he found latrines facing the Qibla in the Levant. He would not have done so unless he understood the prohibition to be general. His seeking forgiveness was a silent act of repentance, not something verbally stated, as it occurred at the moment he realized the position he was in. This explanation is found in "Al-Kawkab al-Durri."
Note 1
(۱) قوله: فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها اختلفوا فيما بينهم في كون هذا النهي مطلقا أو مقيدا، فقال الإمام الهمام أبو حنيفة المقدام : إن النهي عام، فلا يجوز الاستقبال والاستدبار مطلقا، لا في البنيان ولا في الفيافي. وهذا مبني على أصل له، وهو أن أحكام الشرع معللة إلا نادرًا؛ حيث لم يعلم لنا علة، وإن كان في نفس الأمر معللا أيضًا، فالنهي عن استقبال القبلة واستدبارها مبني على علة تعم الكنف والفيافي. وأجابوا عن الأحاديث التي وردت على خلاف ذلك بأجوية. والشافعي الله فقد علَّل النهي كما عللنا، غير أنه قال: الاستقبال والاستدبار كلاهما سواء، ولكن النبي ﷺ لما رخص في الاستقبال بفعله لزم الترخص في الاستدبار أيضًا؛ لاستوائهما، فوجب الجمع بين الروايات بحمل النهي على الفيافي، والإجازة على الكنف، فيجوز استقبال القبلة واستدبارها عند قضاء الحاجة في البنيان، فهذا ناشئ على أصله من حمل المطلق على المقيد، ولكنا لما لم نقل به أجرينا المطلق على إطلاقه. وأما أحمد بن حنبل فلم يتصرف في الحكم بتعديته إلى غيره، بل أخرج الاستدبار عن عموم النهي بفعله ، وأبقى سائر الصور تحت النهي والحاصل أن الأصل في الأحكام لما كان أن يعلل وجب تعليل النهي الوارد في ذلك، فسوينا الاستقبال والاستدبار بين الصحراء والبنيان وفعل الشافعي كذلك، غير أنه حمل المطلق على المقيد، فأخرج الكنف. وكل منا ومنهم يفتقر إلى الجواب عما يخالف مذهبه، ولم يستثن ابن حنبل غير الصورة الواحدة فقط؛ جريا على أصله المذكور من عدم التعليل. وأنت تعلم أن رأي أبي أيوب الراوي يوافق رأي الحنفية؛ حيث استغفر في استقبال مراحيض الشام، ولولا أنه عم النهي عنده لما فعل ذلك. وكان استغفاره لما يقع في أول وهلة من جلوسه من استقبال القبلة. وكان استغفاره هذا بقلبه؛ إذ ليس ذاك بمقام تكلم، أو يكون ثمه بقلبه ، ثم بعد الخروج منه بلسانه. كذا في الكوكب الدري».
Note 1
(یہ مسئلہ خاص مدینہ والوں کے لئے ہے اس لئے کہ ان کا قبلہ رُخ جنوب کی جانب ہے اور ہم ہندوستانیوں کے لئے حکم یہ ہوگا کہ ہم اپنا رُخ اور پشت نہ مغرب کی طرف کریں اور نہ مشرق کی طرف) شیخ امام صدر الشریعہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث ہمارے نزدیک عام ہے کہ جنگل اور آبادی دونوں جگہ قبلہ کی جانب رُخ اور پیٹھ کرنا حرام ہے۔)
Note 2
ف: بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا دونوں حرام ہیں، خواہ گھروں کے اندر بیت الخلاء ہوں یا جنگل میں حاجت کے لئے بیٹھ رہے ہوں، دونوں کا حکم ایک ہے۔ یہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہے، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کی جانب رُخ کرنا اور اسی طرح پیٹھ کرنا جائز ہے جبکہ بیت الخلاء گھروں کے اندر ہو، البتہ اگر جنگل میں رفع حاجت کے لئے بیٹھیں تو قبلہ کی جانب رُخ کرنا یا پیٹھ کرنا دونوں اس حالت میں جائز نہیں ہیں۔ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ کے پاس یہ حکم ہے کہ رفع حاجت کے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا جائز ہے گھروں کے بیت الخلاء میں ہو یا جنگل میں، رہا قبلہ کی طرف رُخ کرنا کسی حالت میں ان کے پاس جائز نہیں، لیکن درحقیقت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے کلام سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ رفع حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رُخ کرنے یا پیٹھ کرنے کی ممانعت گھروں یا جنگل دونوں صورتوں میں عام نہ ہوتی تو ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیت الخلاء میں جو قبلہ رُخ تھے رفع حاجت کے لئے بیٹھتے وقت قبلہ سے نہ تو اپنے رُخ کو پھیرتے اور نہ استغفار ہی کرتے، واضح ہو کہ استغفار دل سے ہوتا تھا کیونکہ ان مقامات میں زبان سے استغفار نہیں کیا جا سکتا یا یوں ہوتا تھا کہ بیت الخلاء میں دل سے استغفار کرتے اور نکلنے کے بعد زبان سے استغفار کرتے۔12