Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 364

(8) بَابُ آدَابِ الْخَلَاءِ (بیت الخلاء کے آداب کا بیان)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(8) بَابُ آدَابِ الْخَلَاءِ (بیت الخلاء کے آداب کا بیان)

Zujajat al-Masabih 364Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 400
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا اور اس کے بعد مٹی سے طہارت لی پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ہم کو ایسی ہی تعلیم دی گئی ہے۔ (اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں اور ابونعیم نے حلیہ میں کی ہے۔)
Commentary and footnotes (5)

Note 1

This is how we were taught.

(1) Then he wiped his private part with the dust, and then turned to us and said: "This is how we were taught." In Nail al-Awtar: From Aisha: The Messenger of Allah ﷺ said: "When any of you goes to relieve himself, let him cleanse with three stones, for this will suffice him." [Narrated by Ahmad, al-Nasa'i, Abu Dawood, and al-Daraqutni] He said: "Its chain of transmission is authentic and good." It also says: "This will suffice him," meaning it is enough, and this is evidence for those who say that using stones alone suffices and that using water is not obligatory. This is the opinion of the Shafi'i and Hanafi schools of thought. It was also said by Ibn Zubayr, Sa'ad ibn Abi Waqqas, Ibn al-Musayyib, and Ataa. Since it has been established that using stones alone for purification at times of relieving oneself is sufficient, and since the private part after urination also requires purification based on legal proofs, like the saying: "Keep yourselves clean from urine," and there is no mention of washing with water, it is concluded that purifying with stones is also permissible in the case of urination, as stated in the commentary of Ihya' al-Sunan.

Note 2

(2) [Narrated by al-Tabarani, and in it is Ruh bin Junah, who is disputed among scholars. Some have authenticated him, as mentioned in Tahdhib al-Tahdhib and Mizan al-I'tidal, and thus the narration remains unaffected by criticism.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ثم مسح ذكره بالتراب إلخ: وفي نيل الأوطار: عن عائشة: أن رسول الله ﷺ قال: إذا ذهب أحدكم إلى الغائط فليستطب بثلاثة أحجار؛ فإنها تجزئ عنه. رواه أحمد والنسائي وأبو داود والدارقطني. وقال: إسناده صحيح حسن. وفيه أيضًا: وقوله : فإنها تجزئ عنه أي تكفيه، وهو دليل لمن قال بكفاية الأحجار وعدم وجوب لاستنجاء بالماء. وإليه ذهبت الشافعية والحنفية. وبه قال ابن الزبير وسعد بن أبي وقاص وابن المسيب وعطاء. اهـ ولما ثبت كفاية الاستنجاء بالحجر فقط في موضع الغائط في بعض الأوقات، وكان موضع البول أيضًا نجسا تجب طهارته بالدلائل الشرعية، كقوله :: استنزهوا من البول. ولم يغسله بالماء، ثبت أيضًا جواز طهارة موضع البول الأحجار. قاله في تعليق إحياء السنن».

Note 2

قوله

(۲) قوله: رواه الطبراني وفيه روح بن جناح، وهو مختلف فيه، ووثقه بعضهم، كما في «تهذيب التهذيب» و«ميزان لاعتدال»، فسلم الأثر من الجرح.

Note 1

ف: نیل الاوطار میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کو جائے تو تین پتھروں سے طہارت کرے اور یہ تین پتھر اس کے لئے پانی کے بدلے کافی ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد، نسائی، ابوداؤد اور دارقطنی نے کی ہے اور نیل الاوطار میں لکھا ہے کہ اس کی اسناد صحیح حسن ہے۔) نیل الاوطار میں مزید صراحت کی ہے کہ اس حدیث کے اس قول (فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ أَيْ تَكْفِيهِ) طہارت کے لئے پانی کے بدلے میں تین پتھر کافی ہیں) حنفی اور شافعی حضرات کی دلیل ہے کہ ڈھیلوں سے طہارت کافی ہے اور پانی سے طہارت کرنا ضروری نہیں، چنانچہ عبداللہ بن زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن المسیب اور عطاء رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے، جب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاخانہ کے لئے بعض اوقات صرف ڈھیلوں سے طہارت کافی ہے تو بالکل اسی طرح پیشاب سے طہارت کے لئے صرف ڈھیلے کا استعمال کافی ہو جاتا ہے کیونکہ ارشاد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم ہے (”اِسْتَنْزِهُوْا مِنَ الْبَوْلِ“ پیشاب کے بعد طہارت کیا کرو) جب آپ نے پیشاب کے بعد پانی سے طہارت نہیں فرمائی اور صرف ڈھیلوں پر اکتفا کیا تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ پیشاب کی طہارت کے لئے ڈھیلا کافی ہے۔12 واضح ہو کہ یہ بحث پیشاب اور پاخانہ کی طہارت کے لئے پانی کے بدلے صرف ڈھیلوں کے کافی ہونے کے ثبوت میں تھی اور مزید پانی سے طہارت کرنے کا تفصیلی بیان آئندہ حدیثوں میں آ رہا ہے۔