اردو
عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے ہاتھ میں ڈھال تھی اس کو آپ نے (بے
ستری سے حیا کرنے کی غرض سے) اپنے سامنے رکھا پھر بیٹھ کر اس جانب پیشاب کیا، کسی نے کہا: ان
کو دیکھو عورتوں کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: افسوس کیا
تجھے معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص پر کیا آفت آئی تھی، جب ان کو پیشاب لگ جاتا تو اس
حصہ کو قینچیوں سے کتر دیتے تھے اس شخص نے ان کو اس حکم شرعی سے منع کیا تو وہ اپنی قبر میں مبتلا عذاب
ہوا۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
اور اس حدیث کو نسائی نے عبدالرحمن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ سے روایت کی
ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 22 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 350 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: بنی اسرائیل کی شریعت میں نجاست بدن یا کپڑے کو لگ جاتی تو یہ حکم تھا کہ جسم کے اتنے گوشت کو چھیل ڈالیں اور اتنے کپڑے کو کتر ڈالیں تو جس شخص کو ان کے اس حکم شریعت کے منع کرنے پر اگرچہ کہ اس میں عقل کے خلاف جان اور مال کا نقصان تھا، عذاب میں مبتلا کیا گیا۔ تو شرم و حیا کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کو سامنے رکھ کر ستر پوشی فرمائی تو اس کام سے منع کرنے اور مذاق اڑانے پر ایسا شخص بطریق اولیٰ لائق عذاب ہوگا کیونکہ پردہ اور حیا تو شریعت اور عقل دونوں حیثیت سے اچھی چیز ہیں۔12