ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ان کے (مکان میں) وضوء فرمایا اور سر کے بالوں پر اس طرح مسح فرمایا کہ جمے ہوئے بال پراگندہ نہ ہوئیں،
کنپٹیوں اور کانوں کے باہر اور اندر بھی مسح فرمایا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے)۔
ف: اس حدیث میں ”فَمَسَحَ رَأْسَهُ عَلَى مَجَارِي الشَّعْرِ“ ہے مجاری الشعر کے وہی معنی
ہیں جس کو ہم نے ترجمہ میں ظاہر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے جمے
ہوئے بالوں پر بکھیرنے اور پلٹنے کے بغیر مسح فرمایا اور مجاری الشعر کے یہی معنی ہیں۔ چنانچہ بیہقی نے سنن
کبریٰ میں اسی طرح وضاحت کی ہے۔12۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ”فَمَسَحَ رَأْسَهُ عَلَى مَجَارِي الشَّعْرِ“ ہے مجاری الشعر کے وہی معنی ہیں جس کو ہم نے ترجمہ میں ظاہر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے جمے ہوئے بالوں پر بکھیرنے اور پلٹنے کے بغیر مسح فرمایا اور مجاری الشعر کے یہی معنی ہیں۔ چنانچہ بیہقی نے سنن کبریٰ میں اسی طرح وضاحت کی ہے۔12۔